دیکھتے دیکھتے

0

 اسرار الحق جیلانی

 میں دیکھتا ہوں کہ میرے گھر کی دیواریں رس رہی ہیں۔  دیواروں پر چٹخنے کے نشانات مکڑی کے جالوں کی طرح پھیل رہے ہیں،اور ان جگہوں سے پانی کا ہلکا رساؤ ہو رہا ہے۔  پانی اس قدر رس رہا ہے جیسے میرے گھر سے لپٹ کر برسوں اس امید میں تھا کہ کب دیواریں کمزور ہوں اور وہ اپنے مخصوص کردار کو پُر اسرار طریقے سے اپنے اندر جذب کر کے  گھر میں داخل ہو سکے۔  اس خیال سے نہیں کہ اسے کچھ دیر کا قیام چاہئے بلکہ اس لئے کہ وہ گھر میں موجود تمام اشیا کی شکل و شباہت بدل سکے۔  میں دیکھتا ہوں کہ پانی گھر میں بھر رہا ہے اور گھر کی ہر چیز اب تیرنے کے بجائے پانی میں چل پھر رہی ہیں۔  رِساؤ میرے کمرے سے شروع ہوا تھا اور اس قدر خاموش قدم میرے کمرے میں داخل ہو رہا تھا جیسے بس کچھ دیر کا مسئلہ ہے ابھی ختم ہوا چاہتا ہے۔  مگر آہستہ آہستہ گھر کی ہر دیوار پہ رینگتے ہوئے چٹخنے کے نشانات صاف نظر آنے لگے ہیں اور پانی کا  رِساؤ تیز بھی ہو گیا ہے۔  شاید نیچے کی منزل جہاں میرا بیٹاسو رہا ہے، بھر چکا ہے۔  میں فوراً اپنے بستر سے اٹھ کر ُسربھی کو جگایا اور لگ بھگ تیز دوڑتے ہوئے انوبھؤ کی طرف بھاگا۔  پھر کچھ قدم کے فاصلے طے کرنے کے بعد پانی کا بھاری پن اور گدلا پن ہونے کا احساس ہوا،تو رک گیا۔  اس قدر بھاری پانی ہم نے کبھی دیکھا نہیں تھا۔  پھر دیواروں میں اس قدر شگاف بھی نہیں کہ گدلا پانی کے آنے کا راستہ صاف ہو۔ آخر آیا پھر کیسے۔؟

میں کچھ دیر کے لئے بھول جاتا ہوں انوبھؤ کا ٹھکانہ اور سُربھی سے پوچھتا ہوں ”نغمہ کہاں ہے؟“  سُربھی نیند کی غنودگی میں نچلی منزل کی طرف اشارہ کرتی ہے اور سو جاتی ہے۔  میں بھاگتا ہوا نیچے جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں نغمہ کے کمرے میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے۔  مجھے تعجب ہوتا ہے جب کہ گھر کے ہر کمرے میں پانی بھرا ہے تو یہاں کیوں نہیں ہے؟ پانی کا بھاری پن جب سر پہ ہونے کا احساس ہوا تو پھر وہاں سے انُبھؤ کے کمرے میں جاتاہوں تو دیکھتا ہوں انُبھؤ پانی میں ایک مری ہوئی لاش کی طرح تیر رہا ہے۔  میں تیز اس کی طرف بڑھتا ہوں۔  اسے چھونے کے قریب ہوں کہ میری نیند ٹوٹ جاتی ہے تو دیکھتا ہوں سُربھی میری باہوں میں چین سے سو رہی ہے۔ کمرے کی مند روشنی میں سُربھی کے بکھرے ہوئے بالو ں پہ جس طرح روشنی لپٹی ہوئی تھی ویسے ہی میرے پریشان خواب میں بھاری اور گدلا پانی میرے گھر کے اندر موجود ہر شئے سے لپٹا ہواتھا۔  کچھ دیر خواب کا اثر میرے ذہن میں تپتی ہوئی سڑک پر کسی گاڑی کا تیز چلنے کے بعد اڑتی ہوئی دھول کی طرح پھیلا رہا۔  پھر آہستہ آہستہ دل کی دھڑکن کے ساتھ سب کچھ خاموش ہوتا سا دکھا۔  پھر دل کی تسلی کے لئے انُبھؤ اور نغمہ کے کمرے تک گیا۔  ان دونوں کو دیکھ کر تسلی ہوئی مگر حلق جیسے سوکھ رہا تھا۔  سوکھے ہوئے حلق کو تر کرنے کچن کی طرف رخ کیا جہاں گلاس سے پانی تو نکالا مگر ایک نظر دیکھ کر یوں ہی چھوڑ دیا۔  بستر پہ آکر چھت کی طرف تکتے ہوئے چھت پہ کھلی ہوئی آنکھوں سے کسی میلے کی سیر کو نکل گیا اور نیند کا چشمہ ڈھوندنے لگا۔  پھر نہ جانے کب نیند کا چشمہ ملا اور کب نیند لگی،یہ پتا نہیں چلا۔

صبح ناشتے کی ٹیبل پہ جو ایک کمپیوٹر اسکرین کی طرح بھی کام کر رہا تھا  انُبھؤ اور نغمہ ناشتے میں کھانے کے آپشن ڈھوند رہے تھے۔  اسی دورا ن کسی کونے میں ایک خبر کے آنے کی روشنی جل رہی تھی۔  میں نے جب اس خبر کو دیکھنے کے لئے ایک اشارہ کیا تو ناشتے کی پوری ٹیبل پر بڑی اسکرین کی شکل میں یہ خبر آنے لگی کہ الفا لال یونیورسٹی جو دو ہزار سترہ میں پہلے پائدان پر ہو ا کرتی تھی،وہی ادارہ جسے اب بِیٹا سوامی یونیورسٹی کے نام سے جانا جاتا ہے،اس سال پینتیسوے پائیدان پر ہے۔

تبصرے