افسانہ

دیہاتی لڑکا

معراج عالم

(ایم اے، شعبہ عربی جے این یو نئی دہلی)

منیر ایک سنجیدہ سا  بھولا بھالا لڑکا ہے،سب سے جدا،ہر چیز میں الگ، نہ ہی موڈرن نہ ہی نہ ہی قدامت پرست،پڑھنے کا بہت ہی شوقین،نہایت ذہین،مسکراہٹ لبوں پر  ہمیشہ ساتھ لے کے چلتا ہے،چلنے کا انداز نرالا اور سب سے الگ ہے، جب وہ چلتا ہے تو دوست کہتے ہیں آپ مستانہ چال چلتے ہو، آفس ہو یا کالج لوگ اسکے چلنے کے انداز پر فدا ہیں، کالج اور آفس ہر جگہ خاموش رہتا ہے اور سب سے الگ تھلگ رہتا ہے، مگر جب بولنے پے آتا ہے توجادوبیانی کرتا ہے اور لگتا ایسا ہیکہ کوئی ابوالکلام بول رہا ہے یا عربی کا مشہور خطیب سحبان بول رہا ہے،ہاں یہ بھی عجیب بات ہیکہ ظاہری شخصیت سے لگتا ہے کہ لاابالی پن کا شکار  کالج کا کوئی عام اسٹوڈنٹ ہے،مگر جب قریب سے بات کرکے کوئی دیکھتا ہے اور سوچ اور فکر اور اسکے کارناموں سے واقف ہوتا تو یہی کہتا کہ شیر کسی بھی جھاڑی میں چھپا رہ سکتا ہے۔

منیر ایک دن آفس میں خاموش بیٹھا کچھ سوچ رہا ہوتا ہے،ایک دوست  کریم کہتا ہے کہ منیر بھائی آپ دو تین دنوں سے بہت اداس لگ رہے ہیں، کیا سوچ رہے ہیں آپ؟ کیا بتانے کی زحمت کرینگے؟

منیر کہتا ہے، ہم جیسے لوگ اور کیا سوچ ہی سکتے ہیں، بس ٹائم پاس کرنے کیلئے کاغذ قلم کو دوست بنا لیتے ہیں، جو من میں آتا ہے قلم کی سیاہی سے کاغذ کی سفید دیوارکو اپنے افکار سے سجاتا ہیں، بس یہی ایک مشغلہ  ہے میرا اور اچھا بھی لگتاہے، کوئی دوسرا فن بھی نہیں آتا،بس اسی میں دل بہلا لیتا ہوں، اور اسی سے دل۔ لگی بھی کر لیتا ہوں،

کریم :کیا منیر بھائی،آپ کیوں اتنا سوچتے رہتے ہیں ؟گاہے بگاہے کبھی سیر کو نکل جایا کریں، ذہن تازہ ہوجائے گا۔

منیر:ہا ہا ہا،،،،،،،،،،،، کیا مذاق کرتے ہیں جناب،دہلی میں سیر کو کہاں نکلوں ؟پورا شہر اتنا غبار آلود ہے کہ اگر میں دہلی کے کسی تاریخی مقام کی سیر کرنے نکلوں گا تو دوسرے دن آپ کو خود میری سیر کو میرے روم آنا پڑےگا۔ ایک تو آفس سے روم لوٹتے لوٹتے ہی لگتا ہے سانس پھول کے پھٹ جائے گی، اتنا غبار آلود ہے آج کل دہلی، اور دوسرا میں پھر مسلسل دہلی میں پورے ایک دن سیر کو نکلوں تو بتائے کیا سانس بچےگی یا پھول کر پھٹ جائے گی؟

حمید ایک صاحب ذوق لڑکا ہے، اردو لٹریچر سے اسے بہت شغف ہے،حمید گزرتے ہوئے کریم کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے، منیر بھائی سے تم کیا گفتگو کر رہے ہو؟منیر اپنے سامنے سے کریم کو ہٹاتے ہوئے دیکھتا ہے کہ کون بول رہا ہے،تو حمید کو دیکھتے ہے منیر سلام کرتا ہے، حمید جواب دیتے ہوئے منیر کے قریب ہوتا ہے اور ہاتھ ملاتا ہوئے کہتا ہے،اور منیر بھائی کیا حال؟ سب خیریت تو ہے؟ منیر کہتا ہے :بھائی حال مت پوچھو،آج کل جو دلی کا حال ہے وہی میرے دل کا حال ہے،اس ادبی جملہ پر حمید  ہلکا سا قہقہ لگاتا ہے اور کہتا ہے کیا ہوگیا بھائی؟ کوئی دل تو لے نہیں گیا؟ اتنا سنجیدہ لڑکا ہو تم پھر بھی دلی جیسا آپکے دل کا حال؟؟؟ سچ کہا ہے کسی شاعر نے،

کوئی کتنا بھی ہو لیکن یہ ہم نے دیکھا ہے

حضور حسن آکر دستہ بستہ ہو ہی جاتا ہے

کون حسین پری اور ماہ رخ جبیں اور نیک سیرت بندی ہے جو آپ جیسوں کا بھی دل لے گیا، سچ میں وہ  جمالستان سے آئی کوئی پری یا جنت سے آئی کوئی حور ہوگی جس نے آپ جیسوں کے دل پر ڈیرا ڈال رکھا ہے،

منیر سن کر ہلکا سا مسکراتا ہے اور کہتا ہے،میرے بھائی بات حسن کی ہی نہیں ہے،میں نے اس نیک پری کا رخ انور کبھی دیدار نہیں کیا ہے اور نہ اس نیک زاد پری نے کبھی دیدار کرایا ہے۔ بس………

حمید ہلکا سا  دو تین قہقے لگاتا ہے اور کہتا ہے،آپ تو ہر چیز میں سب سے جدا ہیں، آپ سب سے الگ سوچتے ہیں، لیجئے اس میں بھی آپ سب سے جدا ہیں، جسے آپ نے کبھی دیکھا نہیں کیسے اسے اپنا دل دے بیٹھے؟ ہاہاہاہا۔

منیر قہقہ لگاتے ہوئے تھوڑا سا طنزیہ لہجہ میں ایک دو اشعار سناتا ہے،

 رہا نہ جب ہوس و عشق کا کوئی معیار

 تو جرئت گناہ امتیاز کون کرے

نہ عشق بادب رہا نہ حسن میں حیا رہی

ہوس کی دھوم دھام ہے نگر نگر گلی گلی

بھائی صاحب،ہوس بہت بری چیز، مگر محبت پاکیزہ چیز ہے جو مطلوب ہے،ہوس جسم دیکھ کر ہوتا ہے، مگر محبت چال چلن ادا اخلاق دیکھکر ہوتی ہے، ہوس پانی کا بلبلہ ہوتا ہے جو دن میں سینکڑوں بار ہر حسین کے حسن کو دیکھکر پیدا ہوتا ہے پھر پانچ منٹ میں ختم ہوجاتا ہے، مگر محبت بہت آسانی سے جلدی نہیں ہوتی،سالہاں سال گذر جاتے ہیں، پھر کسی کے اخلاق اور الطاف اور توجہات کو دیکھکر پیدا ہوتی ہے،تو پھر یہ محبت زندگی بھر کیلئے ہوتی ہے، وصال ہو نہ ہو مگر محبت جب ایک بار ہوجائے تو زندگی بھر کیلئے دل اور دماغ میں روح بن کر سما جاتی ہے۔

حمید ایک ٹھنڈھی آہ لیتا ہے اور کہتا ہے،منیر بھائی آپ صحیح کہتے ہیں، مگر آپ تو بتائیں کہ آپکا کیا معاملہ ہے؟ محبت؟؟؟؟ یا؟؟؟؟؟ کچھ اور۔

منیر:ظاہر سی بات ہے، مجھے محبت ہے، اور یہ محبت کے جوان ہوتے ہوتے تقریبا چار سال ہوگئے،پہلے اسکا نام ونشاں بھی نہیں تھا، پھر اللہ جانے کیسے اسکی بیج پڑی، پھر ننھا سا پودا ہوا مگر دھیرے دھیرے اب یہ تناور درخت کی شکل اختیار کر گیا۔

حمید :ارے بھائی کیا اشارہ  و کنایہ میں باتیں کر رہے ہیں ؟اب صاف لفظوں میں کہیئے،

اب کھل کے کہو  بات تو کچھ بات بنےگی

یہ دور اشارات و کنایات نہیں ہے

منیر:ارے بھائی رہنے دیجئے،مت چھڑئے درد دل،میں نے یہ درد سر کیسا مول لے لیا؟ نہ سوتے چین نہ جاگتے چین،راتوں میں تارے گنتا ہوں اور دن میں ہر وقت میرے لئے بارہ بجتا ہے،نہ مرتے بنتا ہے نہ جیتے بنتا ہے۔ اب تو حال یہ ہیکہ کسی کام میں من نہیں لگتا،نہ پڑھنے میں نہ لکھنے میں، بس تصور کی دنیا میں رہنا ہی اچھا لگتا ہے۔

حمید:کیوں ؟ کیا فراق ہو گیا؟؟؟

منیر :نہیں بھائی، فراق یا وصال ہوجائے تو ایک تسکین ہو جاتی دل کو، مگر یہاں تو معاملہ یہ ہیکہ نہ ہی وصال ہے نہ فراق۔

حمید:تو آخر معاملہ کیا ہے؟ کچھ تو بتائے۔

منیر:بھائی اصل میں میری ایک بہت پرانی دوست ہے، بہت شریف، بہت نیک، بہت نیک خصلت،بہت ہی علمی اور ادبی شخصیت،ہم دونوں کی دوستی پانچ سالہ پرانی دوستی ہے، اور ہم دونوں علمی سفر میں ایک دوسرے کے دوست ہوئے تھے،ہر گام پر وہ علمی تعاون کرتی تھی،اور ایک خاص بات یہ ہیکہ وہ باپردا رہتی ہے،کالج میں ایڈمیشن کیلئے اور کبھی امتحان کیلئے یہاں وہاں جاتی رہتی ہے مگر بے حجاب کبھی نہیں ہوتی ہے،بس یوں ہماری دوستی قائم تھا،مگر کون جانتا تھا کہ کسی دن وہ میرے دل میں چھا جائے گی؟ ہوا یہ کہ جب اسکے الطاف و عنایات مجھ پر خوب ہونے لگے،اور دیکھا کہ وہ ایک ادیبہ بننے جا رہی ہے،تو دھیرے دھیرے میں زندگی کی سوچنے لگا کہ میں بھی ایک ادیب ہوں وہ بھی ادیبہ ہے،مجھ پر وہ اتنی زیادہ عنایت کرتی ہے،اور اتنا زیادہ خیال رکھتی ہے، میری حد سے زیادہ قدر کرتی ہے، کیا اچھا ہوتا کہ یہ سب ہمیشہ کیلئے برقرار ہوجائے،تو میں بھی ادب کا ایک چمکتا ستارہ بنتا اور وہ بھی،میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ وہ میرے دل میں گھر کر گئی،اب حالت یہ ہیکہ میں اظہار کرنے کی جرئت نہیں کر سکتا،دل میں جو بھی ہے زباں پہ لانے سے ڈرتا ہوں، کیوں کہ ایک تو میں دیہاتی لڑکا ہوں اور وہ ایک شہری لڑکی ہے،کیا کوئی شہری لڑکی ایک دیہاتی لڑکے کو اکسیپٹ کر سکتی ہے یا نہیں میں نہیں جانتا،اس لئے میں اس سے کہ نہیں پاتا ہوں، گرچہ میرے جائداد ہیں اور میرا گھرانہ ایک خوشحال گھرانہ ہے کیوں کہ ہمارے گھر کا انحصار صرف کاشتکاری پر ہی نہیں، بلکہ ایک بہت بڑی تجارت بھی ہے وسیع پیمانہ پر۔ اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

حمید باتوں کو روک کر کہتا ہے، آپ تو اتنی بڑی جائیداد کے مالک ہیں، پھر کیوں ٹینشن لیتے ہیں، اللہ کا نام لیجئے اور کہیے :

عشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہے

پر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے 

منیر رونے لگتا ہے اور کہتا ہے، نہیں میرے بھائی، ہر چند کہ میں بہت محبت کرتا ہوں، میرے پاس وسائل کی کمی نہیں ہے،مگر میں ہوں ایک دیہاتی لڑکا، طرز حیات ہے میرا سادہ، میں اظہار کروں، اور  اگر کہیں شہری انا جگ گیا اور شہری حمیت جوش میں آگئی تو دیہات کا سادہ پن کدھر بھاگے گا،لیکن اگر وہ اللہ کی بندی مان گئی، اور مجھے امید ہے کہ مان جائے گی،کیوں کہ وہ بہت ہی نیک ہے، اور دلوں کے جذبات کو اچھا سے پہچانتی ہے، کیوں کہ وہ ایک ادیبہ ہے،لیکن انکے گھر والے اور خصوصا بڑے بھائی کی تو غیرت مشہور ہی ہے زمانہ میں، دنیا میں عموما ہر بڑا بھائی اپنی  بہن کے انفرادی رائے کو اور اسکے اپنے انتخاب کو بغاوت سمجھتا ہے، اور یہاں تو کریلا نیم چڑھا والا معاملہ ہے، ایک تو بڑے بھائی کی بڑی غیرت اور دوسری ساتھ میں شہری انا، تو بتائے یہ بھیا کی حمیت اور شہری انا کے مرکبات کے سامنے یہ ادیب کا نازک سا کمزور دل ٹھر سکتا ہے؟؟؟ پھر منیر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتا ہے،اور آنسو خوب بہاتا ہے،حمید اسکو تسلی دیتا ہے،کچھ دیر بعد منیر کے آنسو بند ہوتے ہیں اور منیر کہتا ہے، چلو ٹھیک  ہے اس شریف زادی کے گھر والے مان گئے تو پتا ہے نہ گاؤں کا تقلیدی ذہن، اور گاؤں کا مصنوعی اسلام،اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کرنا گاؤں کی شریعت میں ناجائز ہی نہیں حرام کے برابرا ہے،اور اگر لڑکی اپنے پسند کے لڑکے سے شادی کرے تو ہمارا معاشرہ اسے مشکوک سمجھتا ہے،اور ہمیشہ کیلئے اسکے دامن پر دھبہ لگ جاتا ہے،اتنا کہتے کہتے منیر بے ہوش ہوجاتا ہے اور دھم سے منھ کے بل گرتا ہے اور پورے آفس میں آواز گونجتی ہے اور شور ہوجاتا ہے، جلدی سے آفس کے ایمبولینس پر منیر کو ہاسپیٹل لے جایا جاتا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Back to top button
Close