افسانہ

زیست کی منڈیر پر کھڑی محرومیاں

مصروف زیست کی منڈیر پر کھڑی  سسکتی محرومیاں دہائی دیتی رہ گئیں اورہجر کی سیاہی کبھی مصروفیات کا باعث بنی تو کبھی کاتب تقدیر کا

ناہید طاہر

 بیاہ کے  ایک ماہ بعد ہی عبدالرحمن پردیس چلا آیا۔ عالیہ کے ہاتھوں کی حنا   اشکوں  کے سمندر میں دھل گئی۔۔۔۔۔۔ آنسو، آہوں اور ادھورے خواہشات کی منڈیر پر کھڑی عالیہ شوہر کو خود سے جدا ،پردیس جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔۔۔۔۔ ہتھیلیوں سے رنگِ حنا اتر بھی نہ پایا  تھا کہ ظالم سیاں نے جدائی کی طوق پہنا دی  اور ایسی قید با مشقت کے حوالے کیا جس کی کوئی میعاد مقرر نہ تھی۔اس قید کی درو دیواریں  اشکوں کی نمی، ہجر کی تاریکیوں  سے آراستہ  تھیں۔۔۔۔۔یہاں کی فضاء  یادوں  سے معطر تو تھی لیکن ان خوشبوؤں سے عالیہ کا دم گھٹنے لگا تھا۔۔۔!

عبدالرحمن دو سال میں صرف ایک ماہ کی چھٹی پر وطن لوٹتا، ان لمحات کی دونوں مل کر پاسبانی کرتے لیکن وہ ریت کے ذروں کی طرح  ان کی مٹھی سے پھسلتے چلے جاتے۔۔۔۔۔۔۔!!!

 پردیس زیست کو کامیابی کی بلندیاں عطاء  کرتا چلاگیا۔۔۔لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ اس کے عوض ، دونوں کی آنکھوں کو ٹوٹے خوابوں کی کرچیوں سے آباد کیا،ان سے ان کی  معصوم آرزوئیں    چھین لی۔۔۔۔۔۔۔!!!سر پر ڈھکی ردا کے پیوند تو ہٹ گئے ۔۔لیکن  زندگی کے کئی حسین پل و احساسات ریت کے ذروں کی مانند زیست کی مٹھی سے پھسل کر   بکھر تے چلے گئے۔  ان محرومیوں سے دونوں کی زندگیوں میں ایک خلاء سا بن گیا جسے پُر کرنا ان کے بس میں نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔

عبدالرحمن  ہربچے میں اپنی اولادکامعصوم عکس تلاش کرتا ہوا انھیں بےخودی کے عالم میں تکتا چلا جاتا۔۔۔۔ اکثر جیب میں رکھی چاکلیٹ بھی پگھل جاتی۔۔۔۔کیونکہ کوئی بچہ انجان اجنبی سے  چاکلیٹ لینا گوارہ نہ کرتا۔۔۔۔۔اس بےبسی پر وہ تنہا گوشے کی جانب بڑھ کر چاکلیٹ ڈسٹ بِن کے حوالے کرتا ہوا سسک اٹھتا۔

 اکثر سرد ٹھٹر تی راتوں میں پارک کے تنہا گوشے میں بیٹھا ایک ٹک چاند کو تکنے لگتا۔۔۔۔۔۔ چاند میں اپنے محبوب کا عکس جھلملا اٹھتا تب نا ختم ہونے والے شکوے، آنکھوں کو اشکوں سے بھگوتے چلے جاتے۔ان زخموں پر  سگریٹ کے دھوئیں کے مرغولے نما  پھا ئے رکھنے کی کوشش کرتا۔ لیکن دل کی  بےقرار یوں میں کوئی کمی نہ آتی بلکہ وہ اور بڑھ جاتیں۔۔۔۔۔۔ آخر وہ تھک کر ہانپنے لگتا اور بڑی بے بسی کے عالم میں اپنی  زندہ نعش کو  خود کے  کاندھوں پر لادے بوجھل قدموں تلے اپنے کمرے کا رخ کرتا۔

 جب دل شاد ہوتا تو وہ اکثر عمدہ گاڑیوں،عمارتوں اور میک ڈونلڈز،  کے۔ایف۔سی، پیزا کے  بڑے بینرس کے آگے کھڑے ہوکر سلفی لینا نہیں بھولتا اور فیملی  کو بھیج دیتا۔ خوبصورت سلفی دیکھ کر عالیہ اور بچوں کا سر فخر سے تن جاتا۔ ہر کسی  کو تازہ  تصویریں دکھائی جاتیں۔ رشتے دار رشک آمیز نظروں سے تصویریں دیکھتے اور عالیہ کی تقدیر پر رشک کرنے لگتے۔

دکھ کی بات تو یہ تھی کہ عبدلراحمن نے ان نعمتوں کو خریدنے کی  کبھی جرات نہ کی تھی۔ ہر وقت ریال کو روپیوں میں گنتا اور ماتھے کا پسینہ صاف کر کے  وہاں سے لوٹ جاتا۔ اس طرح  وہ ایک ایک ریال جوڑ کر اپنے کنبے  کی خوشیاں خرید لیا۔۔۔۔ساٹھ سال کی عمر میں جب بدن میں کوئی قوت باقی نہ رہی تو کمپنی نے اسے ریٹائرمنٹ سے نوازہ تب  وہ دیس لوٹ آنے کی تیاری کرنے لگا۔ شریکِ حیات بھی کافی بوڑھی اور کمزورہوگئی تھی۔  سٹلمنٹ کی رقم کا ایک بڑا حصہ بیوی کے اکاؤنٹ ٹرانسفر کرنے کے بعد کچھ رقم سے بہت ساری شاپنگ کرلی۔

 وہ کافی خوش تھا۔ شریکِ حیات کے لئے کنگن خریدے۔ جس کی  وہ نہ جانے کب سے خواہش ظاہر کر رکھی تھی۔ بہو اور بیٹے کے لئے  موبائل، گھڑیاں، خریدیں۔۔۔۔ بیٹی کے لئے سونے کی چین اور داماد کے لئے انگلینڈ کا سوٹ۔۔۔۔۔۔۔!!!  ساری تیاری مکمل ہو چکی تھی۔ صبح پانچ بجے کی فلائیٹ بک تھی ۔ دوست احباب نے مل کر ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ اختتامی کلمات کہتے ہوئے وہ بےاختیار رو پڑا۔ دوستوں کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں۔ واپسی پر وہ بہت دیر تک سڑکوں پر بے مقصد گھومتا رہا۔ زندگی کا ایک طویل عرصہ ان راہوں پر تنہا بھٹکتے ہوئے گزرا تھا۔۔۔۔یہ راہیں بھی اس کی راز دار تھیں۔ جنھوں نے  عالیہ سے جدا ہونے پر اپنی با ہوں میں پناہ دی تھی۔۔۔۔ان با ہوں کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ وہ چاہ کر بھی عالیہ کے پاس لوٹ نہ سکا تھا۔۔۔!!!

اب تو اس کے پاس وقت ہی وقت تھا جسے وہ اپنی کمزور مٹھی میں قید کیے  دیس لوٹ رہا تھا۔۔۔۔۔عالیہ کے قریب پہنچ کر  مٹھی کو کھولنا چاہتا تھا تاکہ عالیہ تاعمر کی  محرومیاں بھول کر مسکرا اٹھے۔۔وہ اس خیال کے ساتھ ہی مسکرا پڑا۔۔۔۔ اس نے اپنی رسٹ واچ پر وقت دیکھا گیارہ بج رہے تھے۔۔۔۔۔رات دو بجے ایئرپورٹ جانے کے لئے کمپنی نے ٹرانسپورٹ کا انتظام کر رکھا تھا جس کے لئے اسے کمرے پر دو بجے سے پہلے پہنچنا ضروری تھا۔وہ کافی تھکاوٹ محسوس کرر ہاتھا۔اتنی خوشی کے باوجودپتانہیں کیوں دل بوجھل اور بےچین سا تھا سست قدموں تلے کمرے کا رخ کیا۔۔۔۔۔۔کمرے تک پہنچا تو جسم پسینے میں شرابور ہوگیا۔۔۔۔سینے میں درد کی ٹھیس اٹھتی محسوس ہوئی ،بمشکل خود کو سنبھالا اور کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔۔۔جہاں ہمیشہ کی طرح بوجھل انداز میں قیدی کا استقبال ہوا۔۔۔۔۔۔۔!!! دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں۔۔۔۔۔وہ چکرا کر گر پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 رات ایک بجے اس کے تمام ساتھی اسے ایئرپورٹ پہچانے ایک ایک کرکے کمرے کی جانب آنے لگے۔

مگر

کمرے کا منظر ہی کچھ اور تھا

عبدلراحمن کی دونوں مٹھیاں  بند تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔اور آنکھیں کھلی ۔۔۔!!!

جیسےلگ رہا تھا وہ  کسی کی راہ تک رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔!

سرہانے ترتیب سے رکھا گیا سامانِ سفر منہ چڑا رہا تھا۔۔۔۔۔

اور۔۔۔۔۔۔

وہ دل تھامے  ابدی سفر پر نکل گیا تھا۔۔۔۔۔

مصروف زیست کی منڈیر پر کھڑی  سسکتی محرومیاں دہائی دیتی رہ گئیں اورہجر کی سیاہی کبھی مصروفیات کا باعث بنی تو کبھی کاتب تقدیر کا۔۔۔۔۔۔!!!

مزید دکھائیں

ناہید طاہر

ریاض، سعودی عرب

متعلقہ

Close