افسانہ

سفر- منزل کی طرف رواں دواں

محمد شمشاد                                       

 غریب رتھ نئی دہلی اسٹیشن سے کچھ ہی دیر میں چلنے والی تھی تقریبا بیس منٹ کے بعد، لیکن ساحل ابھی کناٹ پلیس سے ہی گزر کر رہا تھا اسے بار بار اس بات کا اندیشہ ستا رہا تھا کہ کہیں اسکی ٹرین چھوٹ نہ جائے اور وہ اسٹیشن پر پہنچنے کے بعد بھی ٹرین پر سوار نہ ہو سکے اوروہ اسے گزر تے ہو ئے دیکھتا رہ جائے اس کیلئے یہ کوئی پہلا اتفاق نہیں تھا کہ وہ بھاگم بھاگ میں ٹرین کو پکڑا ہو بلکہ وہ اکثر آفس سے سیدھے اسٹیشن جا نے کی تیاری کرتا تھا تاکہ ایک دن کی چھو ٹی اسکی بچ جائے یہ صحیح ہے کہ آج اسے آفس میں کافی دیر ہوگئی تھی اور اسی وجہ کر وہ کافی پریشان ہو رہا تھا لیکن نوکری بھی عجب ہی چیز ہوتی ہے جب آفس چلے جائو تو فائلوں کا انبار پڑا ہوتا ہے اور خاص کر اس دن جب اسے چھوٹیوں پر جانے کی نوبت آجائے اس روز تو نہ جانے کہاں سے اتنی فائلیں منہ کھولے اس کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں جیسے وہ برسوں سے منہ کھولے پڑی ہو ں اس دن بھی اس کے ساتھ ایسا ہی ہوا آخر کار اسی کشمکش میں وہ پلیٹ فارم پر جا پہنچا پلیٹ فارم نمبر 14پر ٹرین کھڑی تھی پلیٹ فارم پر پہنچ کر اس نے تھوڑی سی سانس لیتے ہو ئے اپنے کوچ کا ایک جائزہ لیا اس کا کوچ بالکل انجن کے بعد تھا اور ٹرین کے چلنے کیلئے سگنل ہوچکا تھا اب اسے اپنی کوچ میں پہنچنے کی جلدی تھی لیکن اسے اس بات کا بھی یقین تھا کہ اب ٹرین اس سے کسی بھی حال میں بھی چھوٹنے والی نہیں ہے اگر وہ G -16تک نہیں پہنچ پایا تو وہ کسی اور کوچ میں داخل ہوجائیگا اور اندر ہی اندروہ اپنی کوچ میں جا پہنچے گا وہ جیسے ہی اپنی کوچ کے قریب پہنچا گارڈ نے وسل بجا کراور گرین لائٹ دکھا کر ڈرایئور کو گاڑی چلانے کی اجازت دے دی اور وہ تیزی سے اپنے کوچ میں داخل ہوگیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور گاڑی پلٹ فارم پر رینگنے لگی۔

ساحل نے رینگتے ہوئے ٹرین کے کوچ میں پہلے اپنے ٹرالی کو پھینکاپھر دوڑکر وہ خودسوار ہوا اس کے ساتھ ہی اس نے خدا کا شکر ادا کیا اور چلتی ہو ئی ٹرین سے پلیٹ فارم پر کھڑے چھوٹنے والے مسافروں کو وہ دیکھنے لگا اور سوچنے لگا کہ اگراسے کچھ اور دیر ہوجاتی بس دو منٹ کی بات تھی تو اسے بھی انہیں لوگوں کی طرح پلیٹ فارم پر کھڑے ہوکرٹرین کو جاتے ہوئے دیکھنا پڑتا اب اسے اپنے برتھ کی فکر تھی اس کے ساتھ ہی وہ اپنی برتھ کے جانب چل پڑا وہ پسینے سے شرابور تھا اسوقت اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ سیکنڈکلاس سلیپر میں داخل ہوا ہو سب سے پہلے اس نے اپنے پیشانی کو رومال سے صاف کیا اور پھر اپنے برتھ کے نمبر پر نظر دوڑائی اس کے برتھ پر دولوگ پہلے سے ہی برجمان تھے وہاں پر پہنچتے ہی اس نے پوچھا ’’کیا 16نمبر کی برتھ آپلوگوں میں سے کسی ایک کی ہے ان میں سے ایک نے کہا نہیں بھائی میرا برتھ 18نمبر کی ہے تو دوسر ے نے کہا میرا 17نمبرکا برتھ ہے کیا یہ آپ کا برتھ ہے ‘‘

’’ جی ہاں یہ برتھ میرا ہی ہے اگر آپ مجھے تھوڑی جگہ دے دیں تو میں بھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

’’ کیوں نہیں اگر آپ آرام سے بیٹھنا چاہیں تو میں اوپر والی برتھ پر چلی جاتی ہوں ‘‘اور یہ کہتے ہوئے وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس نے اسے روکتے ہوئے بولا

’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں بس تھوڑی سی زحمت کریں تاکہ میں بھی بیٹھ جائوں اور جب سونے کا وقت ہوجائے تو آپ کو بخوشی اپنے برتھ پر جانے کی اجازت ہے ‘‘اور یہ کہتے ہوئے ساحل اس کے بغل میں بیٹھ گیا اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور

ٹرین پلیٹ فارم پار چکی تھی اور اب فراٹے سے چل رہی تھی اتنے میں ایک سریلی آواز اس کے کانوں تک آئی’’ پلیز اگر آپ کو پیاس لگی ہو تو اس بوتل کے پانی کو استعمال کرسکتے ہیں شاید آپ عجلت میں پانی کا بوتل لینا بھول گئے ہوں ‘‘یہ سنتے ہی اس نے اس پر نظر دوڑائی اس کے قریب ایک نو خیز لڑکی بیٹھی تھی تیکھے نقوش، سفید رنگت جیسے ابھی ابھی دودھ سے دھلی ہو، بڑی بڑی آنکھوں والی یہ لڑکی اپنے سر کو ڈوپٹے سے اس طرح ڈھکے ہوئی تھی جیسے وہ پہلی بار اپنے گھر سے نکلی ہو

’’شکریہ! ‘‘اور یہ کہتے ہوئے ساحل نے پانی کا بوتل اس سے لے لیا اور پانی پینے کے بعداسے دوبارہ شکریہ کہتے ہوئے اسے بغور دیکھا سچ اس وقت اسے شدت کے ساتھ پیاس محسوس ہورہی تھی اس کے بعد وہ اپنے ٹرالی کو برتھ کے نیچے سلیقے سے رکھنے لگا لیکن وہ کسی کتاب کے مطالعہ میں مگن تھی شاید اسی وجہ کر وہ اوپر کی برتھ پر جانا چاہتی تھی تاکہ اس کے مطالعہ میں کوئی خلل نہ ہو کچھ دیرکیلئے وہ اسے اسی حال میں دیکھتا رہا جیسے ہی اس نے کتاب کو بند کی ساحل نے اس سے پوچھا ’’تمہارا نام اورکہا ں تک جا رہی ہو ‘‘

’’ میرا نام عالیہ ہے اور میں رانچی جارہی ہوں ‘‘

’’ رانچی ! کہاں شہر یا دیہات، اور کون سا محلہ‘‘

’’اشوک نگرکے پاس جامعہ نگر میں، اور آپ‘‘

’’ میں ساحل ہوں اور ہند پیڑھی میں میرا گھر ہے اورتم ادھر کہاں سے آرہی ہو ‘‘

’’میں دہلی میں تعلیم حاصل کررہی ہوں اور اسوقت ایک ماہ کی چھوٹیوں میں اپنے والدین سے ملنے جارہی ہوں ‘‘

’’ کہاں تعلیم حاصل کر رہی ہو اور کس سبجیکٹ سے ‘‘

’’میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے شوشل ورک میں ایم فل کررہی ہوں ‘‘

’’شوشل ورک کیوں ؟کوئی اور سبجیکٹ کیوں نہیں منتخب کیا تم نے اسکی کوئی خاص وجہ ہے کیا ‘‘

’’جامعہ کا شوشل ورک ڈپارٹمینٹ بہت ہی معروف اور کامیاب ڈپارٹمینٹ ہے اور اسکی تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوکری کرنے اور خود کا کام کرنے کی بھی بہت ہی زیادہ مواقع اور گنجائش بڑھ جاتے ہیں اگر کوئی اچھی نوکر نہ مل پائی تو خود سے ہی کوئی این جی او(NGO) بنا کر یا کسی این جو اومیں شامل ہو کر اپنے سماج کی خدمت کی جا سکتی ہے اسطرح میں سماج اور قوم کی خدمت کے ساتھ ساتھ اپنے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی کر سکتی ہو ں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی گھر گرہستی بھی آسانی سے چلائی جا سکتی ہے ویسے مجھے امید ہے کہ تعلیم کے فراغت کے بعد مجھے ایک اچھی نوکری ضرور مل جائے گی ‘‘اس طرح اس نے اپنے نظریات اور خیالات کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی تھی اگر وہ ان نظریات پر قا ئم رہتی ہے تو سچ مچ وہ ایک مہان اور حوصلہ مند لڑکی ہے لیکن کسی لڑکی اور عورت کے بارے میں اور ان کے رویہ کے بارے میں کچھ بھی کہنا ناممکن ہوتا ہے ان لڑکیوں کے بارے میں ساحل کی یہ رائے ہے کہ شادی کے بعد اس کے زندگی گزارنے اور اس کے طور طریقے کیا ہونگے اس بارے میں اس کی ماں بھی صحیح نہیں بتا سکتی ہے جو اس کے سب سے قریب ہوتی ہے اور اسے پرورش کرتی ہے

بہر حال ٹرین فراٹے بھرتی ہوئی علی گڑھ، ٹنڈلہ، اٹاوہ کو پار کرتے ہوئے اب کانپور پہونچنے والی تھی اور وہ دونوں محو گفتگو تھے اتنے میں کینٹین والے نے چائے چائے کی آواز لگائی اور ان کے برتھ کے قریب آکر اسکی جانب دیکھنے لگا ساحل نے اپنے جیب سے پرس نکاتے ہو ئے اسے دو کپ چائے دینے کا اشارہ کیا ’’میں ٹرین کی چائے نہیں پیتی ‘‘

’’یہ چائے تھوڑا ہی ہے یہ تو دوری کم کرنے اور وقت گزارنے کا صرف ایک ذریعہ ہے دیکھو کچھ ہی دیر میں ہم ایک دوسرے کے بارے میں کافی کچھ جان چکے ہیں ‘‘ یہ سن کر وہ مسکرائی اوروہ چائے کی چسکیاں لینے لگے

اب ٹرین کانپور آچکی تھی اور اسٹیشن سے ہاکر وں کی آواز آنے لگی تھی ساحل سیٹ سے کھڑا ہوکر بولا ’’میں پانی اور کھانے کیلئے کچھ لے کر آتا ہو ں اگرتمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو بتائو ‘‘

’’نہیں مجھے کسی چیزکی ضرورت نہیں ہے میں اپنے کمرے سے ہی کھانے کیلئے کچھ بنا کر لائی ہوں بس رات کے کھانے کی بات ہے کل صبح سویرے تقریبا دس بجے ہم لوگ رانچی پہنچ جائیں گے ‘‘

اس کے بعد ساحل کانپور اسٹیشن سے کچھ کھانے کا سامان اور ایک بوتل پانی لے کر آگیا اور سبھی مسافروں کی طرح وہ بھی کھانے سے فراغت کے بعد اپنے اپنے برتھ پرسونے کی تیاری کرنے لگے لیکن انکی آنکھوں سے نیند کافی دور تھی چندہی لمحے بعد اس نے عالیہ سے پوچھا ’’ تم کتنے دنوں کیلئے گھر جارہی ہو اور کتنے دنوں پر ‘‘

’’ایک ماہ کی چھٹی پہ میں گھر جارہی ہوں اور تقریبا ہر چھ ماہ پر میں اپنے والدین سے ملنے ضرور چلی جاتی ہوں اور آپ؟‘‘

’’ میں سال دو سال پہ گھر چلا جاتا ہوں اور بس ہفتہ روزکے لئے اس بار جارہا ہوں ‘‘

’’ ایسا کیوں کیا آپ کی فیملی ساتھ میں رہتی ہے ؟‘‘

’’ نہیں ابھی میری شادی نہیں ہوئی ہے ‘‘

’’کیوں ؟ ‘‘

’’ میرے والدین اپنی مرضی سے کوئی رشتہ یا کسی لڑکی کو میری بیوی بنانا چاہتے ہیں جبکہ میں اس کا بالکل قائل نہیں ہو ں اب تم ہی بتائو میں اس لڑکی کے ساتھ کیسے زندگی گزار سکتا ہوں جسے میں نے کبھی ایک بار بھی نہیں دیکھ سکا ہوں اور نہ ہی اس کے بارے میں کچھ جانتا ہوں میں یا وہ لڑکی کسی انجانے کے ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں اکثر وہ مجھے کسی نہ کسی لڑکی کو دیکھنے کے لئے بلایا کرتے ہیں لیکن میں ہر بارکوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اس کے لئے منع کردیتا ہوں دیکھو اس بار بھی وہ کسی لڑکی کو دیکھنے کیلئے کہہ رہے ہیں پہلے تو میں نے اسے دیکھنے سےان کار کردیا لیکن پھر سوچا کہ چلواس بار اپنے والدین کی بات مان کراسے میں دیکھ آتا ہوں تاکہ انکی تمنا پوری کرد یتا ہوں ویسے مجھے پوری امید ہے کہ وہ لڑکی مجھے کسی بھی حال میں پسند نہیں آئے گی اب تم ہی بتائو میں ایسی انجان لڑکی کوکیسے پسند کر کے اس سے شادی کرلوں ؟ ‘‘

’’ یہ بات تو ہے پتے کی لیکن کیا کسی لڑکی یا کلیگ سے چکر وکر ہے کیا ‘‘

’’ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ‘‘

’’اگر میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہوں تو برا تو نہیں مانیں گے، پیار کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ‘‘

’’ ان سوالوں کیلئے وہ بالکل تیار نہیں تھا ویسے پیا ر ومحبت کا میدان بہت وسیع ہے ماں باپ کا پیار، بھائی بہن کا پیار، میاں بیوی کا پیار، اپنے خاندان سے پیار، گھر، گائوں و اپنے علاقعہ سے پیار، صوبہ اور اپنے ملک سے پیار، اپنی زبان اور تہذیب سے پیار اور پھر اپنے مذہب سے پیار وغیرہ وغیرہ مگر دور جدید میں ایک نئے پیار نے جنم لے لیا ہے جسے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا نام دے دیا گیا ہے جو تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے کے بعد پیا ر میں تبدیل ہوجاتا ہے اب فیصلہ تمہیں کرنا ہے کہ تمہارے ذہن میں کون سا پیار ہچکولے لے رہا ہے پیار ہوجانا اور پیار کرنا دو الگ الگ باتیں ہیں اور ان میں دشواریاں بھی ہیں میں کسی کے دکھتی رگوں کو چھیڑنا مناسب نہیں سمجھتا ہوں لیکن جب تم اس بار ے میں جانا چاہتی ہو توایک مشورہ ضرور دونگا کہ تمہارے والدین نے تمہیں دہلی تعلیم حاصل کیلئے بھیجا ہے اس لئے تمہارا مشن صرف تعلیم ہی کی جانب گامزن رہے تو بہتر ہے اس میں نہ صرف تمہاری بلکہ تمہارے والدین اور خاندان کی بھلائی ہوگی تمہارے بھائی بہن کی ڈھیر سار ی امیدیں بھی تم سے وابستہ ہونگی اور تم انکی امیدوں کو جائے تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرو تو بہت بہتر ہے ‘‘

 رات کافی ہوچکی تھی اور انہیں نیند بھی زوروں سے آرہی تھی آخر کار دونوں شب بخیر کہہ کر اور اپنی اپنی چادریں تان کر سوگئے

صبح کے دس بج چکے تھے اورٹرین اب رانچی پہنچنے والی تھی اورسارے مسافر اپنے اپنے سامان سمیٹنے لگے تھے ٹرین کے رکتے ہی وہ ایک دوسرے کو اللہ حافظ کہتے ہوئے جدا ہوگئے اور جب ساحل آٹوپر بیٹھنے لگا تووہ بھی کسی دوسرے آٹو پر بیٹھ کر اپنے گھر کی جانب چل پڑی تھی اس پر نظر پڑتے ہی اسے یاد آیا یہ لڑکی تو اچھی تھی لیکن ہم لوگوں نے کسی سے اپنا موبائل نمبر نہ مانگنے کی خواہش ظاہر کی اور نہ ہی دینے کی زحمت، چلو ایک بار اسے ڈپارٹمنٹ میں جا کر ملنے کی کوشش کرونگا

اور جب ساحل گھر پہنچا تو ہر طرف لڑکی دیکھنے کی باتیں ہورہی تھیں دوسرے ہی دن انہیں لڑکی کے گھر جانے کی بات طے تھی اس نے اپنی ماں سے پوچھا ’’ کیا لڑکی کی کوئی تصویرہے؟ کیا آپ لوگوں میں سے کسی نے اسے دیکھا ہے؟‘‘

 تو انہوں نے کہا کہ’’  وہ لڑ کی دہلی میں تعلیم حاصل کررہی ہے اس وجہ کر اسے دیکھنے کا موقع نہیں ملا ہے ویسے اس کے گھر والے بہت اچھے لوگ ہیں امید ہے کہ لڑکی بھی اچھی ہو گی ‘‘

’’ لڑکی کو دیکھا نہ بوجھا اور رشتہ کرنے کے لئے چل پڑیں، ذرا یہ بھی تو جاننے کی کو شش کی ہوتیں کہ وہ لڑکی دہلی میں تعلیم حاصل کر رہی ہے کہیں اس نے اپنے لئے کوئی بوائے فرینڈ تو نہیں منتخب کرلیا ہے اور آپ لوگ ہیں کہ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

’’ بس دو دن کی بات ہے بیٹے! تم اسے ایک بار دیکھ لو، ہاں یا نہ کہنا تمہارے من کی بات ہے مگر مجھے تسلی ہوجائے گی اگر وہ تمہیں پسند نہ آئی تو بھی مجھے تیرا فیصلہ قبول ہوگا اور اگر وہ تمہیں پسند آگئی تو ہم سارے لوگ اسے خوشی خوشی قبول کرلیں گے اس میں کسی کو ذرا بھی قباحت نہیں ہو گی بس تمہاری ہاں کی دیر ہے بس پندرہ دنوں کے اندر تمہاری شادی کردی جائے گی ‘‘ وہ اس طرح بول رہی تھیں جیسے وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی ہوں

اور جب ماں نے لڑکی کو دیکھا وہ کھل اٹھیں وہ فورا باہر آئیں اور بیٹے کولے کر لڑکی کے کمرے میں پہنچ گئیں ماں نے کہا ’’ دیکھو یہ وہی لڑکی ہے جسے میں تمہیں پسند کرنے کیلئے لائی ہوں ‘‘ اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر چونک گئے ’’ اب ہاں یا نہ کہنا تمہاری مرضی اگر چاہو تو کچھ دیر کیلئے آپس میں باتیں بھی کر لو تاکہ تمہیں ایک دوسرے کے بار میں رائے قائم کرنے میں ٖسانی ہو سکے اب ہم لوگ کچھ دیر کیلئے باہر جا ر ہے ہیں ‘’ اور یہ کہتے ہوئے وہ کمرے سے ڈرائنگ روم میں چلیں گئیں

ان کے باہر جاتے ہی اس نے پوچھا ’’ تم اس طرح سمٹی کیوں لگ رہی ہو ‘‘

’’ اور آپ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ ادھر کیسے ‘‘ اور یہ کہتے ہوئے عالیہ پلنگ سے نیچے اتر کر اس کے قریب آکر کھڑی ہوگئی

’’ تمہارا نمبر لینا میں بھول گیا تھا اب میں ڈرائنگ روم میں جارہا ہوں ‘‘

’’کیوں ؟میرے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے بتا کر تو جائیں ‘‘

اس نے اپنے ہاتھ سے چٹکی بجاتے ہوئے کہا ’’ اب بہت جلد میں ملوں گا ‘‘ اور ساحل مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر چلا گیا اور اپنی ماں کے کانوں میں دھرے سے بولتے ہو ئے کہا امی جان آپکو بہو مبارک ہو ‘‘

 اتنے میں ساحل کی ماں اندر کمرے سے عالیہ کو اپنے ساتھ لے کر آئیں اور وہاں بیٹھے ہوئے تمام لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے اعلان کیا   ’’ آپ سب لوگوں کو یہ رشتہ مبارک ہو ‘‘

مزید دکھائیں

محمد شمشاد

مضمون نگارمصنف ،سیاسی تجزیہ نگاراورسماجی کارکن ہیں رابطہ: +91-9910613313-Email-mshamshad313@gmail.com

متعلقہ

Close