افسانہ

سفید داغ

سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی

(علی گڑھ یوپی)

اس کی عمر یوں تو تیس سال سے زیادہ تھی لیکن جب بھی وہ خاص خاص موقعوں پر بن سنور کر آئینے کے سامنے آتی تو آئینے کا چہرہ کھل اُٹھتا۔ایسا لگتا آئینہ بھی اس منظر کا منتظر رہتا تھا کہ کب وہ دن آئے جس دن’’ سفیدہ‘‘ اپنی بہارِ جوانی دیکھنے کے لئے شوخ اور چنچل انداز میں اس کے روبرو آکر اپنے جسم کے ایک ایک خد و خال کو دیکھے اور ہونٹوں پر مسرت کی لکیر پیوست کرکے ذہن کو مختلف سوالات کے لئے تیار کرے لیکن آئینے کا چہرہ یہ دیکھ کر اتر جاتا کہ مسکراہٹ کے ساتھ اس کی کنول جیسی آنکھیں آنسوئوں کے طائروں کی آمد سے فسردگی کے دریا میں غوطہ زن ہو جاتیں ۔اس کا یہ دیکھ کر دل ٹوٹ جاتا کہ سفیدہ کی لمحے بھر کی مسرت اسے منہ چڑھا کر نہ جانے کس سمت روانہ ہو جاتی اور وہ بیچاری ایک دم بیڈ پر گر کر اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھ لیتی اور دیر تک گم سم بیٹھی رہتی۔جب چہرے سے ہاتھ ہٹتے تو ان میں نمی ہوتی او ر وہ پاس ہی ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے رومال کو اُٹھا کر پہلے ہاتھ پونچھتی اور پھر آنکھوں سے اس کا رشتہ قائم کرتی۔یہ منظر کتنی ہی بار آئینے نے دیکھا تھا اب تو آئینے کو یہ بھی یاد نہ تھا کہ اس نے ایسا کتنی بار کیا۔مگر آج پھر آئینہ خوش تھا کہ اس کے قدِ آدم جسم میں ایک بار پھر سفیدہ کا عکس جلوے بکھیر رہا تھا۔

   اس کا نام یوں تو مہتاب بانو تھا لیکن گھر میں اسے ’’سفیدہ‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔لیکن یہ نام اسے قطعی پسند نہ تھا۔جب کوئی اسے محلے میں یا گھر میں سفیدہ کہہ کر مخاطب کرتا تو اس کی روح کو تکلیف ہوتی۔وہ سوچتی یہ کیسا نام مجھے گھر والوں کی طرف سے ملا ہے؟۔کبھی کبھی وہ اپنی والدہ جواس کے خیال میں اس سے گھر کے دوسرے افراد کے مقابلے میں تھوڑی زیادہ مروت رکھتی تھیں سے پوچھتی۔

’’امی۔۔۔۔یہ میرا نام۔۔۔‘‘

’’ کیا تیرا نام؟؟؟‘‘۔

’’ میں یہ پوچھ رہی تھی۔۔۔میرا نام ۔۔۔سفیدہ کس نے رکھا؟؟؟‘‘۔

’’ کیا برائی ہے اس نام میں ؟؟؟۔۔جب تیرے بھائی کا نام ۔۔۔کلو۔۔ہو سکتا ہے۔۔۔تیری بہنوں کا نام ۔۔۔فرّو۔۔۔نجّو۔۔۔ اور خوشّو ہو سکتا ہے تو تجھے۔۔۔سفیدہ ہونے میں کیا پریشانی ہے؟؟؟۔

   اس کی والدہ اس انداز میں کہتیں کہ اگرگھر میں کوئی پڑوسن آئی ہوئی ہوتی تو پان چباتے چباتے ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جاتی۔لیکن سفیدہ کے دل پر کیا گزرتی یہ وہی جانتی۔وہ خون کا سا گھونٹ پی کر کہتی ۔

’’ امی میرا نام ۔۔۔مہتاب بانو ہے ۔۔۔تو مجھے مہتاب کہہ کر پکارا کرو۔۔۔یہ سفیدہ کیا ہوتا ہے؟؟؟‘‘۔

اس پر اس کی والدہ کہتیں۔

’’اب یہ تو تمہارے دادا جان جانیں ۔۔۔اﷲ مرحوم کے درجات بلند کرے۔۔۔پیدا ہوتے ہی جب انھوں نے تجھے دیکھا تو تیرا نام سفیدہ تجویز کیا۔۔۔وہ تو تیری دادی نے کہا تھا کہ اس کا نام’’ مہتاب بانو‘‘ رکھوں گی۔۔۔کتنی خوبصورت بچی ہے۔۔۔اگران کی قبر پر جانا نصیب ہو تو ان سے پوچھوں کیا خاک خوبصورت بچی ہے۔۔۔کب سے پرائے گھر کا دھن ہمارے یہاں ہماری چھاتی پر مونگ دل رہا ہے‘‘۔

   یہ سن کر سفیدہ اپنے کمرے میں قید ہو جاتی اور دیر تک واپس نہ آتی۔کوئی نہ جانتا وہ کیا کر رہی ہے ۔اس کے عمل کا گواہ تو وہ قدِ آدم آئینہ ہوتا جو اس کی والدہ کے جہیز میں آیا تھا۔

  آج پھر وہ موقع آگیا تھا کہ ایک بار اسے پھر سجنا اور سنورنا تھا۔اس کی والدہ نے اس کو کل شام ہی بتا دیا تھا کہ تمہیں دیکھنے کے لئے کچھ لوگ آرہے ہیں ۔اس لئے اپنی اداسی کو تھوڑی دیر کے لئے طاق میں سجا کر چہرے پر دکھاوٹی خوشی کا رنگ مل کر وقت کے تقاضے کو نبھانا۔سفیدہ سمجھ گئی تھی آج بھی اس کا امتحان ہے اور ایسا امتحان جس میں سو فیصد اسے ناکام ہونا ہے لیکن امی ابا کا حکم تھا اس لئے آج بھی اسے اپنے ماضی کو حال بناناتھا۔آج اتوار کا روز تھا شام پانچ بجے اس کی ملاقات پھر نئے چہروں سے ہونی تھی۔اسے معلوم تھا آج بھی انھیں چہروں کا سامنا ہوگا جو اس کو دیکھتے ہی ناک بھوں سکیڑیں گے یا پھر ان کے ماتھے پر بل پیدا ہوجائیں گے یا پھر برجستہ قہقہہ لگائیں گے۔لیکن والدین کا حکم تو ماننا ہی تھا۔

    سفیدہ نے کپڑے تبدیل کرکے ایک بار پھر آئینے کی جانب رُخ کیا ۔آئینہ بھی اسے دیکھ کر خوش ہوگیا۔اصل میں آئینہ ہی اس کا محبوب تھااور آئینے کو وہ محبوب تھی۔اسے معلوم تھا آئینہ اس کا سچا ہمدرد ہے وہ جیسی ہے آئینہ اسی طرح اسے اس کا عکس دکھاتا ہے۔وہ ایسا نہیں کہ مہتاب بانو عرف سفیدہ کی محبت میں اس کی ایسی تعریف بیان کرے کہ جس کی وہ مستحق نہ ہو اور دل میں اس کے لئے یہ جذبہ رکھے کہ سفیدہ جلد از جلد اس کی نگاہوں سے دور ہو جائے۔سفیدہ نے اوڑھنی سر پر ڈال کرآئینے کو گھور کر دیکھنا شروع کیا اور پھر بے ساختہ مسکرانے کا عمل انجام دینے لگی۔ابھی اس کی آنکھوں میں آنسو آنے ہی والے تھے کہ اس نے اپنا رومال اُٹھا کر پھینک دیا۔وہ آج رونا نہیں چاہتی تھی۔اس نے کل تہجد کی نماز میں جو دعا کی تھی اس کو یقین تھا کہ وہ آج ضرور پوری ہوگی۔

  شام کے پانچ بجنے ہی والے تھے کہ شاکر حسین کے گھر پر دق الباب ہوا۔سفیدہ اپنے کمرے میں موجود اپنے نئے خوابوں سے گفتگو کر رہی رہی تھی کہ اچانک اس کو اس کے والد کی آواز نے حقیقی دنیا کا ایک بار پھر راہی کر دیا۔

’’آئیے ۔۔۔۔آئیے۔۔۔۔شکور بھائی۔۔۔۔‘‘

’’ ہم تو آپ کا شدت کے ساتھ انتطار کر رہے تھے‘‘۔

اسی دوران سفیدہ کی والدہ جمیلہ نے بھی  شکور صاحب کو مخاطب کیا۔

’’ارے بھابھی ۔۔۔ہم تو مقدر  والے ہو گئے کہ آپ اور ہمارا ۔۔۔ہمارا ۔۔۔انتظار؟؟؟‘‘۔

    اس وقت گھر میں کئی مہمان موجود تھے ۔ٹیبل پر ناشتہ بھی سجا دیا گیا تھا۔آنے والوں میں ایک شکور صاحب تھے۔یہ شاکر حسین کے محلے کے ہی تھے قریب ہی دس قدم پر ان کا گھر موجود تھا۔چوراہے پر ان کی بڑی سی پر چون کی دکان تھی جس پر کبھی وہ نظر آتے تھے اور کبھی ان کا بیٹا’’ لیاقت‘‘۔ان کی دکان کی خاص بات یہ تھی کہ وہاں ہر قسم کا سودا ملتا تھا۔ہر قسم کے لوگ وہاں آتے جاتے رہتے تھے۔ان کا ادھار بھی کئی لوگوں سے چلتا تھا ۔کبھی کبھی ادھار کے تقاضے کے لئے وہ فحش گالیوں سے اپنے اخلاق اور مزاج میں چار چاند لگا لیتے تھے۔ان کا اکلوتا بیٹا ’’لیاقت‘‘ ان سے بھی دو ہاتھ آگے تھا۔اکثر پولس والوں سے محلے کی مخبری کرتا تھا۔قدرت نے اسے توانہ و تندرست بنایا تھا لیکن پولیو کی وجہ سے اس کی دونوں ٹانگیں بے کار ہو چکی تھیں ۔چہرے پر تھوڑے سے چیچک کے نشان پھول کی طرح کھلے ہوئے تھے اور ذرا مزاج میں کڑوا تھا۔تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔سفیدہ کو اس نے خود ہی پسند کیا تھا۔ہاں مگرذرا سی بات یہ تھی کہ وہ ہائی اسکول میں تین بار فیل ہوکر کارو بارِ حیات میں مبتلا تھا اور سفیدہ یعنی مہتاب بانو شعبۂ اردو اے ایم یو علی گڑھ سے پی ایچ ڈی کر رہی تھی۔

    شکور صاحب کے قریب ہی ایک خاتون تشریف رکھتی تھیں جن کی عمر کوئی پچپن برس کے قریب تھی لیکن لگتا تھا ان کا بچپن ابھی تک نہیں گیا تھا۔بار بار میز پر رکھے ہوئے بسکٹ اُٹھاتیں اور ایک کے بجائے دو اپنے پوپلے منہ میں رکھ لیتیں ۔یہ بھی کردار میں اعلیٰ تھیں ۔بس جوانی میں تھوڑا بہک گئیں تھیں اور شکور صاحب کے پاس اپنے شوہر سے رشتہ منقطع کر کے آگئیں تھیں ۔ان کے یہاں بس تھوڑا یہ لالچ تھا کہ یہ چاہتی تھیں کہ ان کی بہو ان کی اتنی سیوا کرے کہ اپنے گھر والوں کو بھول جائے اور جب وہ بلائیں تو ایک آواز میں آجائے۔کیونکہ وہ بخوبی جانتی تھیں کہ بہو کا کام ساس سسر کی غلامی ہے۔قریب ہی دوسری کرسی پر دو اور خوتین نعیمہ اور حلیمہ بیٹھی چائے کی چسکیاں لے رہی تھیں ۔ان دونوں نے بڑا کارنامہ انجام دیا تھا دونوں اپنے شوہروں سے لڑ کر اور ساس سسر کو گالیاں بک کر اپنے میکے میں ٹھاٹ سے رہ رہی تھیں ۔یکایک اس فضا کے سینے پر خنجر چلاتے ہوئے شکور صاحب نے کہا۔

’’ارے بھابی جی!سفیدہ کو بلائیے۔۔۔اس سے کہئے ہم رسم کرنے آئے ہیں ۔۔۔آج سے وہ ہماری بہو ہے‘‘۔

’’ کیوں صحیح کہا نا میں نے شاکرہ؟؟؟۔

’’ حضور آپ غلط کہاں کہتے ہیں ‘‘۔

شکور صاحب کی بیوی نے جواب دیا۔

   سفیدہ سمجھ چکی تھی کہ کیا ماجراء ہے۔اس کی آنکھوں میں تین روز پہلے کا واقعہ رقص کرنے لگا جب وہ ڈپارٹمنٹ سے لوٹ رہی تھی تو شکور صاحب کی دکان پر ان کا وہی بیٹا بیٹھا ہوا تھا جس کے رشتے کے لئے گھر میں اہتمام کیا گیا تھا۔اس کے ساتھ کچھ اوباش لڑکے بھی موجود تھے۔کہیں سے اس کی جانب کسی نے جملہ پھینکا۔

’’ بھئی ۔۔۔واہ کیا انداز ہے۔۔۔‘‘

ایک نے کہا۔

’’پڑھا لکھا انداز ہے‘‘

’’ نہیں ۔۔۔شاعرانہ انداز ہے‘‘

’’کچھ بھی ہو ہے تو سفیدہ‘‘

اچانک کئی قہقہے ایک ساتھ آواز میں آواز ملا کر اس کے کانوں میں زہر گھول گئے‘‘۔

اس سے برداشت نہ ہو سکا اور اس نے بغیر سوچے سمجھے دکان دار کے بیٹے اور اس گروہ کے سردار’’ لیاقت ‘‘کے منہ پر لگا تار کئی طمانچے ثبت کر دئیے‘‘۔اور گھر کی راہ لی۔کئی گندی گالیوں نے اس کا پیچھا کیا لیکن اس نے مڑ کر نہ دیکھا‘‘۔

  اچانک اس نے سر سے اوڑھنی پھینکی اور ایک بار پھر آئینے کے سامنے آگئی اور اپنے خدو خال دیکھنے لگی۔

’’ کیا کمی ہے مجھ میں ؟؟؟‘‘ وہ بڑبڑائی۔اس کی خود کلامی میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔

’’کب تک۔۔۔آخر کب تک؟؟؟‘‘ ۔

’’کب تک۔۔۔۔میں اذیتوں میں گرفتار رہوں ؟؟؟‘‘۔

’’کیا قصور ہے میرا؟؟؟‘‘۔

’’ کیا میں خوبصورت لڑکی نہیں ؟؟؟۔۔۔کیا میں جاہل ہوں ؟؟؟۔۔۔بس اتنی ہی سی تو کمی ہے کہ میرے چہرے پر قدرت کی جانب سے پیدائشی سفید داغ ہے۔۔۔جس کی وجہ سے میرا نام سفیدہ رکھ دیا گیا‘‘۔

’’لیکن!!!! کیا میرے جذبات نہیں ؟؟؟۔۔۔میں انسان نہیں ؟؟؟۔۔۔مجھ سے چھوٹی میری بہنوں کی شادی ہوگئی۔۔۔جب کہ وہ حسن میں میرے برابر نہیں ۔۔۔سانولا رنگ ہے ان کا۔۔۔بلکہ کالی کلوٹی ہیں ۔۔۔کالا رنگ بھی کوئی رنگ ہوتا ہے؟؟؟۔میرے لئے رشتے آئے اور ان کو لوگوں نے پسند کیا۔۔۔ان کی شادی ہوگئی۔۔۔‘‘‘۔

’’ کیا میں گھر والوں کے لئے بوجھ ہوں ؟؟؟ جو جان بوجھ کر مجھے جہنم میں جھونک رہے ہیں ۔۔۔۔کیا لڑکی ہونا گناہ ہے؟؟؟ ۔

’’ ہاں !!!! لڑکی ہونا گناہ ہے۔۔۔۔ وہ بھی ایسی لڑکی جس کے چہرے پر بڑا سا سفید داغ ہو ۔۔۔جس کا نام سفیدہ ہو۔۔۔‘‘۔

’’نہیں مجھے نہیں کرنی شادی۔۔۔۔میں بغاوت کرتی ہوں دنیا کی ہر بندش اور ہر ظلم سے۔۔۔‘‘۔

      سفیدہ اچانک بغیر دوپٹے کے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔آج اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہیں بلکہ گالیاں تھیں ۔گھر میں ایک ہنگامہ بپا تھا۔آئینے کو لگا کہ سفیدہ کے چہرے کا داغ اب سفیدہ کے چہرے سے اتر کر اس کے دل میں پیوست ہو گیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close