افسانہ

سُرخ تاج

پروفیسرصغیر افراہیم

          عامرپیدائشی فنکار تھا۔ پینٹنگ سے اُس کو خصوصی لگائوتھا ۔ اُس نے اپنے فن اورشوق کی تکمیل کے لیے آرٹس کالج میں داخلہ لیا۔ عامرؔ کالج پہنچا تو صفیہؔ کو دیکھتا ہی رہ گیا۔حسین و جمیل صفیہ قدرت کا ایسا شاہکار تھی کہ جو اُسے دیکھتا، دیوانہ ہوجاتا۔ اس میں عامر کا کوئی قصور بھی نہ تھا۔ اُس کودیکھنے والی نگاہیں بھر پور دیکھتیں اورپھربھی دیکھنے کی تمنّا باقی رہتی۔ عجب طرح کا حُسن اورعجیب سادگی صفیہ کو قدرت کی جانب سے ملی تھی۔ بھولا پن اور پاکیزگی ایسی کہ پوجا کرنے کو دل چاہے۔ نگاہِ بد کا تو گزر ہی نہ تھا۔

          اتفاق کہ صفیہؔ بھی پینٹنگ کی طالبہ تھی۔ اِس طرح عامرکو اُس کی قربت کے کچھ زیادہ ہی مواقع حاصل تھے اور اس لیے بھی کہ عامرنے جلدہی اپنا ایک مقام بنالیاتھا۔ اساتذہ بھی اُس کا لحاظ کرتے اورساری ہم جماعت لڑکیاں اور لڑکے خالی اوقات میں اکثر اُس کو گھیرے رہتے اورزیادہ سے زیادہ اُس کے قریب پہنچنے کی کوشش کرتے ۔ صفیہؔ بھی عامر کی جانب کچھ زیادہ توجہ دینے لگی تھی۔

          شروع شروع میں عامرؔ اورصفیہؔ کے درمیان صرف فن اور پینٹنگ کا ہی رشتہ بنا رہا لیکن کچھ ہی دنوں میں دونوں بے تکلف ہو گئے ۔ اب اُن کی گفتگو میں فن کے علاوہ اوردیگر موضوعات زیرِ بحث آنے لگے۔ کبھی اپنوں کا ذکر ہوتا کبھی غیروں کا اورکبھی بے اطمینانیوں پرشکوہ وشکایت کاسلسلہ چلتا۔ وقت گزرتا رہا ۔ لکھنؤ جیسی جگہ ، گومتی کا کنارہ ، کبھی شہید اسمارک کے گرد وہ دونوں اکٹھے ہوتے تو کبھی ریزیڈنسی میں ملاقاتیں ہوتیں ۔ کوئی شام گنج کی نذر ہوتی تو کوئی حضرت محل پارک میں گذرتی۔گزرتے اوقات، ملاقات، محبت اور پھر عشق میں بدلنے لگے۔ دونوں تمام عمر ساتھ رہنے ، جینے مرنے کی قسمیں کھانے لگے ۔

          صفیہ ؔ کی قُربت کے بعد عامر کے فن میں نکھار اور پختگی آگئی تھی اوروہ امتیازی حیثیت سے کامیاب ہوتا ہوا اب آخری سال میں پہنچ چکاتھا۔ عامرؔ کی بھرپور کوشش اورمدد سے صفیہؔ بھی اپنا ایک مقام بناچکی تھی اوراس کا بھی آخری سال تھا۔ توقع تھی کہ دونوں ہی امتیازی حیثیت سے کامیاب ہونگے۔ عامرؔ کے بعد صفیہؔ کاشمار بہترین طالب علم کی حیثیت سے ہوتا تھا ۔

          آخری سال کے طلبا کا ایک ٹور ہرسال باہر بھیجا جاتا اور اُن کو وہ مقامات دکھائے جاتے جوفنِ تعمیر یا آرٹ کے اچھے نمونوں کے لیے مشہور ہوتے ۔ اس بار پروگرام تھا کہ طلبا کو آگرہ، فتح پورسیکری اورسکندرہ کے تاریخی مقامات کامشاہدہ کرانے کا۔ عامرؔ کی دیرینہ خواہش تھی کہ وہ مغل فنِ تعمیر کو اپنی نگاہوں سے دیکھے، اس کامطالعہ کرے اور پھر اپنے فنِ مصوّری میں حقیقی رنگ بھرے۔

          طالبات کے لیے ٹور پر جانالازمی نہیں تھا۔ صفیہ نے اِس چھوٹ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے نہ جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ نازک مزاجی اس کی فطری کمزوری تھی اور پھر سفر کی دقتیں جھیلنا اُس کے بس سے باہر تھا۔ بہ حالتِ مجبوری عامر کو بنا صفیہ کے ٹور پر جانا تھا۔ باوجود اس کے عارضی جدائی کے اوقات اس کے اوپر گراں گزرتے۔ صفیہؔ نے عامرؔ سے سنگ مرمر کا ایک تاج محل لانے کی فرمائش کی تاکہ وہ عظیم اورلافانی محبت کی یادگار کو بطور علامت اپنے پاس رکھ سکے ۔

          روانگی سے شاید دوایک روز قبل عامرؔ کو اس کے ابّوکا خط ملا کہ اس کی بہن، بہنوئی مع بچوں کے پاکستان سے آئے ہوئے ہیں ۔اُن سے ملاقات کے لیے وہ گھر چلا آئے ۔اُس نے طے کیا کہ ٹو ر سے واپسی پر وہ سیدھا گھر چلاجائے گا۔ اِس کی اطلاع اُس نے صفیہؔ کو بھی دے دی ۔

          تاریخی مقامات کا سفراچھا اوردلچسپ رہا ۔ لیکن صفیہؔ کی کمی اُس کے دل میں خلش کی طرح چُبھتی رہی۔ پورے سفر اُس کے اوپر اُداسی چھائی رہی جیسے اس کی کوئی قیمتی شئے کھو گئی ہو۔ اس سفر سے جتنا اُس کو لطف اندوز ہوناچاہئے تھا اورجس حدتک فنِ تعمیر اورآرٹ کا مشاہدہ ضروری تھا وہ نہ کرسکا ۔ آگرہ میں اُس نے تاج محل کے بے شمار ماڈلوں میں سے ایک کا انتخاب کیا۔ ہرزاویے سے اس کو پرکھا اورپھر خریدلیا۔ ماڈل بلاشبہ تاج محل کا اچھا نمونہ تھا ۔ خوبصورت ، سُبک سا، سنگِ مرمر کابنا، شیشے کے فریم میں رکھا ہواتھا ۔ جب ٹور اپنے اختتا م کو پہنچا تواُس نے اپنے سپروائزرسے اجازت لے کر گھر کی راہ لی۔

          عامرؔ گھر سے چلاتو عُجلت میں مرمریں تاج گھر ہی بھول گیا۔ وہ صفیہؔ کو دیکھنے اوراُس سے بات کرنے کے لیے بے چین تھا۔ یہی بے چینی اس کی زندگی کا مقدر بن چکی تھی۔ملنے کی بے چینی پھر ملنے کے بعد بے چینی۔ عشق بھی ایک بلا ہے ایسی بلا کہ چُھٹکارا ناممکن! ملاقات کے بعد محبت سے لے کر دیگر موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔

          ’’میرا تحفہ کہاں ہے‘‘ اچانک اس نے سوال کیا۔

          ’’میں لایا ہوں ، لیکن عجلت میں گھر بھول آیا۔‘‘اُس نے افسوس و شرمندگی کے ملے جلے احساس میں جواب دیا۔

          صفیہ کا اندازِ گفتگو بڑا ہی دلچسپ تھا۔اس کے حُسن اور ذہانت کی دُور دُور شہرت تھی۔ حسن کی شراب میں ذہانت کی خوشبو مل جاتی ہے تو قیامت آجاتی ہے۔ایک آئی اے ایس نوجوان افسر کی اس پر نظرپڑی۔۔۔۔۔۔ تو گھر میں جیسے قیامت آگئی۔ ایسی قیامت جو خوشیوں کے ساتھ خوش آئند مستقبل بھی لائی۔ والدین کی مسرتوں کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔

          ’’بیٹا تمہاری تعلیم بھی پوری ہونے جا رہی ہے۔ ایک اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ہمارا ایک اور بھی فرض ہے۔۔۔۔۔۔‘‘ صفیہ کے والد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

          ’’پاپا۔۔۔۔۔۔میں سمجھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صفیہ نے انجانے میں جواب دیا۔

          ’’دراصل۔۔۔۔۔۔ہم کہنا یہ چاہتے ہیں کہ تم پینٹنگ کا کورس مکمل کر چکی ہو‘‘ والد نے کہا۔

          ’’جی پاپا‘‘

          ’’ایک آئی اے ایس آفیسر کا تمہارے لیے رشتہ آیا ہے۔ لڑکا اعلیٰ منصب کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ اسمارٹ بھی ہے۔۔۔۔۔۔گھرانہ بھی ہمارے معیار کا ہے۔۔۔۔۔۔۔‘‘ والد نے سمجھاتے ہوئے کہا۔

 صفیہ خاموش رہی۔

          ’’بیٹا ہمیں تمہاری مرضی چاہیے۔ کوئی دباؤ نہیں ہے۔ تمہاری رضا کو ترجیح دی جائے گی‘‘

صفیہ کچھ اس انداز میں شرمائی جیسے اُسے بن مانگے مُراد مل گئی ہو۔۔۔۔۔جو خواب اُس نے سجا رکھے تھے۔۔۔۔۔اُن کی تعبیر اُسے پوری ہوتی ہوئی نظر آرہی تھی۔ ایک روشن مستقبل دور سے اس کو آواز دے رہا تھا۔

          وہ شرما کر کمرے سے اٹھ کر چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔

          والد مسکرانے لگے۔۔۔۔’’سنتی ہو‘‘

          ’’جی کیا کہہ رہے ہیں ‘‘؟ والدہ کچن سے نکل کر آنگن میں آگئیں ۔

          ’’تمہاری بیٹی کو رشتہ پسند ہے‘‘ والد نے خوش خبری دی۔

          باہمی اتفاقِ رائے سے شادی کی تاریخ طے ہو گئی۔۔۔۔۔۔

          ایک دن صفیہؔ نے عامرؔ کو اپنی شادی کے بارے میں بتایا۔ یہ خبر کیاتھی ایک قیامت تھی جو اُس پر پھٹ پڑی ۔ سارے ہوش وحواس جاتے رہے ۔ سکتے کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔ وہ گو مگو حالت میں اس کودیکھتا ہی رہ گیا۔ صفیہؔ نے اس کو بتایا کہ وہ کس قدر مجبور اور بے بس تھی۔ اپنے والدین کی مخالفت کس طرح کرتی۔ بغاوت کرنا کیونکر ممکن ہوتا۔ اس کا انجام کیاہوتا ،اوروہ سماج میں کس طرح کاموضوع بنتی۔ اُسے یقین تھا کہ عامرؔ کی محبت سچی ہے اس لیے وہ کسی قیمت پر بھی یہ پسند نہیں کرے گا کہ صفیہؔ بدنام ہویا اُس کے کردار پر کوئی حرف آئے۔ صفیہؔ نے بڑے خلوص اور معصومیت سے اپنی صفائی عامرؔ کے سامنے پیش کی۔’’ اب جو کچھ ہوناتھا ہوچکا ، زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ اس نے کہا۔۔۔۔۔۔اور اپنا خیال رکھنا۔

          امتحانات قریب آچکے تھے۔ سارے طالب علم اپنی تیاریوں میں مصروف تھے۔ صفیہؔ بھی دل وجان سے لگی ہوئی تھی لیکن عامرؔ سب سے دُور، اپنی ایک الگ کیفیت میں گم تھا ۔جہاں زندگی کے لیے نہ کوئی چاہت تھی، نہ زندہ رہنے کی کوئی تمنا، نہ کوئی امنگ۔ وہ زندہ تھا لیکن مُردے کی طرح، ایک بے جان ڈھانچہ۔ کئی کئی دن گذرتے کہ پلک بھی نہ مارتا۔ ایک آگ تھی جس کی لپٹ میں وہ سُلگ رہاتھا ، ہربات سے بے خبر ، کھانا ،پانی ، سوناجیسے وہ بھول ہی سا گیا تھا ۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ امتحان کب شروع ہوئے اور کب ختم ہو گئے۔ چند دنوں بعد اُسے ہوش آیا تواُس نے خود کو میڈیکل کالج کے بیڈ پرپایا ۔

          صحت یاب ہونے کے بعد عامرؔ اپنے گھر آگیا تھا لیکن اب اس میں نمایاں تبدیلی آچکی تھی۔ کسی چیز کی نہ اس کو چاہت تھی،نہ رغبت۔ سارا رکھ رکھائو ختم ہو گیا تھا۔ نہ کپڑوں کا خیال، نہ کھانے پینے کا ہوش۔ تنہا پسندی کی اس کی عادت ہو چکی تھی۔ سب سے الگ تھلگ رہنا ، کہیں آنا نہ جانا، کسی سے ملنا نہ جلنا۔اُس کی زندگی ایک کمرے میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔ گھر کے سارے افراد اُس کے لیے فکرمندلیکن خاموش تھے اور وہ ماحول و ارد گرد سے بے خبر اپنی دُنیا میں گم تھا کہ اچانک اُسے صفیہؔ کی شادی کا دعوت نامہ کے ساتھ ایک خط بھی ملا۔ خط کیا تھا ایک ہدایت نامہ تھاگزشتہ واقعات کو بھول جانے کا۔اس نے سوچا کہ وہ ضرور صفیہ کی شادی میں شرکت کرے گا۔

          بارات آچکی تھی۔ ایجاب و قبول کی رسم بھی ادا ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔ اس کی زندگی رخصت ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہی لمحہ میں رشتے بدل جاتے ہیں ۔ موسم بدل جاتے ہیں ۔۔۔۔جو اُس کی زندگی کی بہار تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کسی اور کی زندگی بن چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس کچھ ایسا ہوا اِدھر خزاں اُدھر بہار کے موسم کی آمد نے اس کی آنکھوں میں برسات کا اعلان کر دیا تھا۔

          بہار کے پھولوں کی سیج پر بیٹھی ہوئی صفیہ تحائف کو کھول رہی تھی۔ اس کی نظر سنگِ مرمر کے علامتی تاج پر گئی جس کی بیک گراؤنڈ پر سُرخ شفق آنسوؤں کی برسات سے ہلکی ہو رہی تھی۔

           صفیہؔ اُس کو دیکھتی ہی رہ گئی اورپھر نہ جانے کس جہاں میں کھوگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید دکھائیں

صغیر افراہیم

پروفیسر، شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ مدیر ’’تہذیب الاخلاق‘‘

متعلقہ

Close