افسانہ

سپرہٹ

سالک جمیل براڑ

گپتاجی نے مایوس نظروں سے گھڑی پرنظرڈالی۔ سوا دس بج رہے تھے۔ وہ تقریباً ایک گھنٹے سے نارائن شنکرکے آفس میں مخملی صوفے میں دھنسے بیٹھے تھے۔ انتظارکاہرلمحہ ان پربہت بھاری پڑرہاتھا۔ انھیں ایسا محسوس ہورہاتھاجیسے وقت تھم گیاہو۔ آر۔ پی گپتاہندی فلم انڈسٹری کے اعلیٰ درجے کے ڈائریکٹروں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے کئی بڑی فلمیں انڈسٹری کودی تھیں اورشاید آج بھی وہ کسی فلم کے سلسلے میں ہی نارائن صاحب کے پاس آئے تھے۔ نارائن شنکر جنھیں پورا شہر بھائی کے نام سے جانتاتھا۔ بھائی کے بغیر اس شہرمیں ہونے والاہرکام ادھوراہی مانا جاتا تھا۔ چاہے وہ کسی فلم کا مہورت ہو یا پھرکسی ہوٹل، ریسٹورنٹ شوروم وغیرہ کی اوپننگ سیریمنی ہی کیوں نہ ہو۔ بھائی ہرسال لاکھوں روپے شہر کے خیراتی اسپتالوں، اسکولوں اور آشرموں کودان میں دے دیتے۔ غرض یہ کہ بھائی اس شہرکے کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی سب کچھ تھے۔ گپتا جی شاید بیٹھے بیٹھے تھک جانے کی وجہ سے اٹھے اور ریسیپشن کاؤنٹرکی طرف بڑھے۔

’’آ پ تو کہہ رہے تھے کہ بھائی دس بجے آئیں گے۔ مگراب توسوئی گیارہ پرپہنچنے والی ہے۔ ‘‘گپتاجی نے وہاں پربیٹھے نوجوان سے کہا۔

’’جی ان کے پروگرام میں تویہی طے تھا…………بس آتے ہی ہوں گے… …… پلیز، آپ تشریف رکھیں۔ ‘‘

بھائی سے ملنے والوں کی اب اچھی خاصی بھیڑجمع ہوچکی تھی۔ آخر چند منٹوں کے بعدبھائی نمودارہوئے اورگپتاجی کی انتظارکی گھڑیاں ختم ہوگئیں۔ جس انسان کو بھائی کے نام سے پُکاراجاتاہے۔ اسے دیکھنے کے بعد دل سے ایک آہ سی نکلتی ہے کہ یہ آدمی بھائی ……… ناممکن ………کیاواقعی یہ وہ آدمی ہے جس کانام سن کر اچھّے اچھّے کانپ اٹھتے ہیں۔ درمیانہ قد، کلین شیو، دبلاپتلاجسم، گندمی رنگت، قابلِ برداشت شکل وصورت، سفید قمیص اور دھوتی پہنے ہوئے بھائی زیڈ سیکورٹی میں گھرے، دفتر میں جمع لوگوں کو ہاتھ جوڑکروش کرتے ہوئے آفس کی طرف بڑھے۔ پھر کچھ ہی منٹوں کے بعد بھائی کے سیکرٹری اوم پرکاش نے گپتا جی کو اندرجانے کے لیے کہا۔

’’آئیے آئیے گپتاجی پدھاریے……مبارک ہو……اس بارتوآپ نے بازی مارلی۔ بھئی کمال کردیاواہ ……پہلے ہفتے ہی فلم ہٹ‘‘بھائی نے کرسی پربیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کا۔

’’جی………بھائی………وہ آپ سے کیاچھپانا۔ یہ سب تو دکھاوا ہے۔ وہ…… …میں نے پبلیسٹی کے لیے سبھی ٹی۔ وی چینل خریدلئے ہیں۔ ‘‘گپتانے اُداسی بھرے لہجے میں کہا۔

’’واقعی……آج مجھے پورایقین ہوگیاہے کہ آپ کے سرکے بال ایسے ہی نہیں اُڑے۔ ‘‘ بھائی نے گپتا کے گنجے سر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’بھائی کچھ کیجیے، نہیں تو………میرے اوپرفلاپ کا لیبل لگ جائے گا۔ یہ لگاتارمیری تیسری فلم ڈوبنے والی ہے۔ اس کے بعد کون مجھے فائینانس کرے گا۔ ‘‘ڈائریکٹرگپتا نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔

’’گپتا……آخر تم کیاسوچ کر یہ بے ہودہ سی فلمیں کرتے رہتے ہو۔ بس زیادہ سے زیادہ سال میں ایک فلم……اب ان پریم کتھاؤں کو ماروگولی……کچھ نیا، کچھ ایساجوپہلے کبھی نہ ہوا ہو، سبجیکٹ ایساہوکہ دیکھنے والاسوچنے پرمجبور ہوجائے……کہ ایسابھی ہوسکتا ہے۔ ‘‘

’’بھائی……مگراس فلم کا آئیڈیاآپ ہی نے تودیاتھا۔ اورآپ نے کہاتھاکہ دیکھنا یہ فلم بہت بڑے بڑے ریکارڈ قائم کرے گی۔ ‘‘

’’میں ……اورفلم کاآئیڈیا……گپتاکیوں مذاق کرتے ہو۔ ‘‘’’بھائی نے کان کھجاتے ہوئے کہا۔

’’جی……آپ یادکیجیے۔ سال پہلے ہی کی توبات ہے۔ ‘‘

’’اچھّا اچھّا………ٹھیک………یادآیا۔ کہیں یہ وہی کہانی تونہیں۔ جومیں نے تمہیں سُنائی تھی جس میں ہیروئن ایک مسلم لڑکی اورہیروہندولڑکا۔ ‘‘

’’جی جی……بھائی……وہی‘‘ گپتاجی نے حاضر جوابی دکھائی۔

’’ہوں ……………میں تواب بھی تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ یہ فلم ہٹ یا سپرہٹ توکیا گولڈن جوبلی اورڈائمنڈ جوبلی کے دروازے تک پہنچے گی۔ بھئی ایوارڈ ہم نے ہی تودینے ہیں۔ ‘‘

’’بات ایوارڈوں کی نہیں ……بات توپبلک رسپونس کی ہے۔ اس گلی ڈنڈے والی فلم نے توہمیں پانی تک نہیں مانگنے دیا۔ بھائی بس………اب آپ ہی امیدکی آخری کرن ہیں۔ میرے لیے توآپ ہی بھگوان……‘‘

کمرے میں مکمل خاموشی چھاگئی اوربھائی آرام کرسی سے اٹھ کر ٹہلنے لگے۔ آخر بھائی نے کچھ دیرسوچنے کے بعداس خاموشی کو توڑا۔

’’جاؤ گپتا، آرام کرو……بس تمہارا کام ہوگیا۔ میرے دماغ میں ایک ایسا طریقہ ہے۔ جس سے پورے دیش کے لوگ حیران ہواٹھیں گے کہ آخر اس فلم میں ایساکیاہے جویہ سب ہوا۔ دیکھنا بھگوان کی کرپا سے اگلے ہفتے تمہاری فلم کا ہرشہر، ہر محلّے، ہرمحفل میں چرچا ہوگا۔ پبلک کا سوفیصد رسپونس ملے گا۔ ‘‘

’’مگر بھائی مجھے……کیاکرناہوگا؟‘‘گپتاجی نے بے چینی سے پوچھا۔

’’تمہیں کچھ نہیں کرنا……یہ سب میڈیا والے کریں گے۔ اچھّا پہلے میرے ایک سوال کا جواب دو۔ ‘‘

’’جی……کیساسوال؟‘‘گپتا نے حیران ہوکرپوچھا۔

’’اگر تمہیں کوئی گالی دے تو تم کیاکروگے؟‘‘

’’جی……میں ……میں اس سے پہلے پوچھوں گا بھئی گالی کیوں دے رہے ہو؟میں نے تمہارا کیا بگاڑاہے۔ ‘‘گپتا نے اس بے تکے سوال کاحیران ہوکرجواب دیا۔

’’اگر کوئی تمہارے دھرم کو گالی دے تو؟‘‘

’’میں ……اس حرامی کا منہ نوچ لوں گا؟‘‘

’’بس……بس گپتا……ہم لوگوں کو اسی بات کافائدہ اٹھاناہے۔ اس دیش کے لوگ بڑے دھارمک ہیں، اور یہی ان کی کمزوری ہے۔ ‘‘

پھربھائی نے کال بیل بجائی اور اپنے چپڑاسی سے رگھونام کے کسی آدمی کوبھیجنے کے لیے کہا۔ کچھ دیربعدلمبے لمبے بال، موٹی موٹی مونچھوں والا، ہٹاکٹا نوجوان اندرداخل ہوا۔

’’پائے لاگوں بھائی‘‘اس نوجوان نے آتے ہی جھک کر بھائی کے پاؤں کوچھوا۔ ’’بھائی کیسے یادکیا‘‘اس نوجوان نے پوچھا۔

’’رگھوکل صبح کوگپتاجی کی فلم جن جن سنیما گھروں چل میں رہی ہے۔ پانچ بڑے شہروں میں ان سنیماگھروں میں توڑ پھوڑکرکے پوسٹر وغیرہ کوآگ لگوادو۔ کام بڑی صفائی سے ہو۔ اور دنگے کرنے والوں سے یہ ظاہرہو کہ وہ کسی خاص سمودائے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔ ‘‘

مزید دکھائیں

سالک جمیل براڑ

نوجوان افسانہ نگار و شاعر سالک جمیل براڑ کا تعلق پنجاب کے شہر مالیرکوٹلہ سےہے۔ آپ نے بچوں کے لیےکہانیوں کی متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ سالک کی کہانیوں پر انہیں بھاشاوبھاگ کی طرف سے ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔ ان دنوں سالک پنجابی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔

متعلقہ

Close