افسانہ

سیّدہ نکہت فاروق کے افسانے

صفدرامام قادری

اردو شاعروں اور ادیبوں نے ہر دور میں کشمیر کو اپنے فن کا حصّہ بنایا ہے۔ متعدّد شعرا نے کشمیر کی خوب صورتی کو اپنی نظموں میں ابھارا ہے۔ کرشن چندر کے افسانے کشمیرِ جنّت نشاں کے مناظر کی تصویر کشی کے لیے مشہور ہیں۔ لیکن ان سب میں اکثر انسانی زندگی دکھائی نہیں دیتی۔ قدرتی مناظر اپنی جگہ مگر انسان کن حالات میں جی رہا ہے، اس کے بارے میں بھی صاف صاف پتا ہونا چاہیے۔ سیّدہ نکہت فاروق کے افسانوی مجموعے کا یہ خاص پہلو ہے کہ پچھلے بیس پچیس برسوں میں کشمیر کی زندگی سے سکون اور امن کا جو حصّہ غائب ہوا اور تشدّد، ظلم، عدم تحفّظ جیسے مسئلوں نے حلقۂ کشمیر کو جس طرح ڈس رکھا ہے، اس کی نہایت حقیقت پسندانہ ترجمانی اِن افسانوں میں ہوئی ہے۔
سیّدہ نکہت فاروق حلقۂ کشمیر سے آنے والی نئی ادیبہ ہیں، جن کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’قہر نیلے آسماں کا‘‘ ابھی ابھی منظرِ عام پر آیا ہے۔ کہتے ہیں کہ جو ادیب اپنے ماحول سے غافل ہو کر ادب کی تخلیق کرتا ہے، اس کا ادبی اعتبار قائم نہیں ہو پاتا۔سیّدہ نکہت فاروق کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب کا ایک ایک صفحہ اپنے آس پاس کے ماحول کی نذر کر رکھاہے۔
اِس مجموعے کی خاص بات یہ ہے کہ زندگی کو پھیلانے یا ہمہ گیری عطا کرنے کے لیے مصنّفہ اس قدر دور نہیں گئی ہیں جس سے ایک اجنبی پن کا احساس پیدا ہوجائے۔ اردو افسانے کا ہم عصر منظرنامہ علاقائی زندگی کی پیش کش کے لیے زیادہ ہموار نہیں ہے۔ عام طور پر علاقائی ٹوپوگرافی کو قومی یا بین الاقوامی موضوعات کی پیش کش کے مقابلے کم تر اور ہیچ سمجھا جاتا ہے۔ نہ جانے ہمارے فکشن کے نقّادوں کو یہ کیا ہوا جس سے انھوں نے علاقائی زندگی کی پیش کش کو پسند نہیں فرمایا۔ یہ غور کرنے کا مقام ہے کہ پریم چند ہوں یا راجند سنگھ بیدی، ان کے افسانوی سرماے کے ایک بڑے حصّے میں علاقائی تصویروں کی پیش کش کو اہمیت حاصل ہے۔ اتّرپردیش اور پنجاب کی دیہی زندگی اُن کے افسانوں کے خاص مراکز ہیں۔ لیکن آزادی سے پہلے یہ سوال شاید ہی کسی نے اٹھایا ہو کہ پریم چند یا راجندر سنگھ بیدی علاقائیت کے اسیر ہوگئے ہیں، اور اسی وجہ سے انھیں قومی اہمیت کا لکھنے والا نہیں مانا جانا چاہیے۔ ممکن ہے بعض سوالات قائم کیے گئے ہوں۔ بیدی کی زبان پر توایسے اعتراضات شاہ سرخیوں کے ساتھ سامنے آئے۔ لیکن اس کے باوجود انھیں شروع کے زمانے میں ہی قومی اہمیت عطا کردی گئی۔
آزادی کے بعد بہار، بنگال، کشمیر اور جنوبی ہندستان کی بعض ریاستوںکی زندگی کو خاص طور سے پیشِ نظر رکھنے والے ادیبوں پر یہ فردِ جرم عاید ہوئی۔ انھیں قومی دھارے سے کٹاہوا مانا گیا۔ چونکہ وہ علاقائی تصویریں پیش کررہے تھے، اس لیے ان کے ذہن اور نقطۂ نظر کو محدود تسلیم کرلیا گیا۔ یہ شاید ہندستانی سیاست اور سماج پر اپنی ٹھوس گرفت نہ قائم کرنے کی وجہ سے بھی ہوا ہو۔ آپ یقین مانیے کہ سیاست کے فیصلے بار بار ادب پر بھی نافذ ہوتے رہتے ہیں، ورنہ یہ کیسے ممکن ہوگا کہ اتّرپردیش یا پنجاب کی زندگی میں جو افسانہ نگار قید ہے، وہ علاقائیت زدہ نہیں ہے اور جو بہار، کشمیر یا جنوبی ہندستان کی زندگیوں کو اپنی تخلیقات میں سمیٹنا چاہتا ہے تو وہ علاقائی قرار دے دیا جاتا ہے۔
اس تناظر میں مجھے سیّدہ نکہت فاروق کے افسانے ایک للکار کی طرح معلوم ہوتے ہیں؛ جہاں صدفی صد علاقائی ٹوپو گرافی پر انحصار کیا گیا ہے۔ تخلیق کار نے تو علاقائی تصویروں کی بنیاد پر پورا صحیفہ تیار کردیا۔ اب مسئلہ ناقدین کا ہے کہ وہ کس طرح اپنے نقطۂ نظر کو معروضی اور حقیقت پسندانہ بناتے ہیں۔ افسانہ نگار نے تو اپنا طَور واضح کردیا کہ جس زندگی اور موضوع سے میں واقف ہوں، اسی کے ارد گرد مجھے رہنا ہے۔ جن باتوں کی تہہ درتہہ سے میں واقف ہوں، انھی کو اپنے افسانوں میں پیش کروں گی۔ اب یہ کام نقّاد کا ہے کہ وہ اپنا نظریہ بدے اور علاقائی زندگی کے بھی قومی اور بین الاقوامی اشارے یا جواز کے لیے اپنے ذہن کی پرواز کو آزادی دے۔
ایسے موقعے سے مجھے کنّڑ زبان کے معروف ادیب اور گیان پیٹھ انعام یافتہ فن کار یو۔ آر۔ اننت مورتی سے کی گئی ایک ادبی بات چیت یاد آتی ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ اپنے ناولوں اور افسانوں کے موضوعات کی تلاش کے لیے انھیں اپنے گانو کے آس پاس دس میل سے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں محسوس ہوئی۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جب وہ برطانیہ میں اعلا تعلیم کے لیے کئی برسوں تک مقیم تھے، اس زمانے میں بھی جو ناول لکھا، وہ بھی اپنے آبائی گانو کی زندگی سے متعلّق تھا۔ دنیا کی اکثر وبیش ترمعتبر زبانوں میں فکشن کی موضوعاتی جست علاقائی نوعیت کی ہی ہوتی ہے۔ پتا نہیں، ہماری اپنی زبان کس اشرافیہ تعصّب میں پہلے دیہی مسائل سے آزاد ہوئی اور اب علاقائی زندگی کی ترجمانی سے اپنا دامن خالی کرنا چاہتی ہے۔ اب جوبچ جائے گا، وہ شہر کا گُھٹن بھرا ماحول، سائبرورلڈ، سیکس اور قتل وغارت گری کے احوال رقم کرے گا۔ بتائیے، اس سے کس معیار کا افسانہ اور ناول لکھا جائے گا اور اسے کوئی جی لگا کر کیوں پڑھے۔ نہ تخیّل کی اڑان، نہ ماضی اور حال کو جوڑتا کوئی جذباتی رشتہ اور نہ ہی ہر زمانے کی ہمارے آس پاس کی زندگی کی تفصیلی پیش کش۔ اردو افسانے اور ناول کے قاری کیوں نہ کم ہوتے جائیں گے؟ نکہت کے افسانوں کو اردو کے عمومی منظرنامے پر ایک اصولی پہل اور پیش قدمی کے طور پر میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ کاش، ہمارے نقّاد اور دیگر افسانہ نگار بھی اس بات کو سمجھ لیتے!
قصّہ گوئی کے مرحلے میں نکہت نے اپنی زبان کی روایت پر پورا بھروسہ کیا ہے۔ برسوں سے آزمایا ہوا بیانیہ انھیں راس آیا۔ باتوں کے سلسلے کو اُن کی عمومی ترتیب کے ساتھ پیش کرکے کہانی مکمّل کرلینا نکہت کا عام انداز ہے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ مضمون نویسی کا بنیادی دستور ہے۔ باتوں کے تسلسل کو افسانوی تسلسل مان لینا کسی بھی فکشن لکھنے والے کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے، کیوں کہ پڑھنے والے اِسے مضمون یا اخبار کی کسی تازہ خبرکے طور پر بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ خاص طور سے یہ مشکل اُن لکھنے والوں کے لیے جان لینے والی بن جاتی ہے جن کا موضوع ہم عصر زندگی کے مسائل سے متعلّق ہو۔ نکہت کے تقریباً تمام افسانوں میں قریب کی زندگی موجود ہوتی ہے لیکن ان کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ بیان کی حدود سے وہ واقف ہیں۔ انھیںمعلوم ہے کہ ایک جملے سے کب افسانہ مضمون بن جاتا ہے، اور کیسے مضمون کو نکال کر فکشن کے حصار میں ڈالا جا سکتا ہے۔ بے شک، ان کے افسانوں میں واقعات بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ یوں بھی بہت کم ایسے افسانے لکھے جاتے ہیں جن کی پشت پرواقعات کی طاقت ور رسد شامل نہ ہو۔ نکہت نے اپنے افسانوں میں بُنتے ہوئے واقعات پر انحصار ضرور کیا لیکن واقعات کو مقصود بالذات نہیں رہنے دیا اور نہ ہی واقعات کو اُن کی اپنی رفتار سے آزادانہ طور پر چلنے دیا ۔ ایک ماہر فن کار کی طرح انھوں نے اپنی تخلیق میں جس قدرمحسوس ہوا، اتنا ہی واقعے کا استعمال کیا ہے۔ اسی لیے اس مجموعے کے سارے افسانے واقعات کی حدود سے نکل کر فکشن کا واضح نمونہ بن جاتے ہیں جو مصنّفہ کی بھرپور کامیابی کی ضمانت ہیں۔
چند باتیں نکہت کی دل فریب زبان کے تعلّق سے بھی ملاحظہ کریں۔ پہلے، اُن کے چند جملے :
٭ وقت اپنی پوری رفتار سے چلتا رہا۔ بس …..بجلیاں ٹوٹتی رہیں اور آشیانے اُجڑتے گئے۔ (ایک خواب ادھورا سا؍58)
٭ جلتے سورج کے عکس کو اپنے من کے کینوس پر اُتارنے کی کوشش مت کرنا….. دیکھنا، جل جاؤ گی۔ (شفق رنگ شباب؍102)
٭ شفق کی آنکھیں امڈتی جھیل بن گئیں لیکن اس نے اپنی لمبی پلکوں کو کنارا بناکر امڈتی جھیل سے ایک قطرہ بھی چھلکنے نہ دیا۔(شفق رنگ شباب؍104)
٭ جو پہاڑوں کے اُس پار چلے گئے، وہ زمانے کی گرم ہواؤں میں جھُلستے رہے اور جو ڈل کا دامن تھامے رہے، وہ اپنے کاندھوں پر سفید رنگ کا کپڑا لیے موت کے بے صدا قدموں کی آہٹ کا انتظار کرتے رہے۔ (ایک خواب ادھورا سا؍۵۹۔۵۸)
٭ نرم نرم قالین پر کھُردرے ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ عجیب سی مسرّت محسوس کررہا تھا۔ کیا رنگ نکھرآئے ہیں قالین کے……کیا ہماری بے رنگ زندگی بھی اتنی رنگین ہو سکتی ہے؟ (قہر نیلے آسمان کا؍32)
٭ اُن کا کہنا ہے کہ یہ زمین بنجرہوگئی ہے…..بنجر……. لیکن میں کہہ رہا ہوں کہ برسوں سے اس زمین نے ہمارا پیٹ پالا ہے۔ یہ بنجر کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ تو بس روٹھ کے بیٹھ گئی ہے۔ (اور زمین جاگ اٹھی؍50؍49)
یہ جملے انشاپردازی کی قوت دکھانے کے لیے وضع نہیں ہوئے ہیں۔ قصّہ گوئی کے عمومی بہاو کے دوران یہ رقم ہوئے ہیں۔ ان کا ایک لفظ، ایک استعارہ اور ایک تشبیہہ افسانوی بیان کے تقاضوں سے الگ ہو کر نہیںسامنے آتا۔ یہ راجندر سنگھ بیدی کا انداز ہے کہ قصّے کی عمومی فضا کے مطابق جانے انجانے استعارات اپنے آپ وضع ہوتے چلتے ہیں۔ پریمی رومانی نے نکہت کے افسانوں سے چند مثالیں جمع کی ہیں : سانسوں کے چراغ کا ٹمٹمانا، آفتاب کی تپش سے بادل کا ٹکڑا پگھل جانا، ہوا کے پَروں پر سوار کائنات، جذبوں کی ننّھی موجیں، قربتوں کے ٹھہرے ہوئے لمحے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ سب تراکیب یا علامتیں آزادانہ حیثیت نہیں رکھتیں بلکہ افسانوی زندگی میں شیرو شکر ہو کر اپنا مجموعی تاثر پیدا کردیتی ہیں۔ زبان کے سلسلے سے سیّدہ نکہت کا یہ طَور ان کی افسانوی بالغ نظری کی دلیل ہے۔ ورنہ ایک کشمیری کے لیے یہ کون سی مشکل بات ہوتی کہ وہ خود کو منظر نگاری میں قید کرکے افسانے کو ظاہراً خوب صورت بناتا چلے۔ لیکن نکہت نے اس آسان راستے کو چُننے کے بجاے زبان کے زیادہ معتبر اور مشکل راستے کو منتخب کیا۔ اسی لیے اُن کے افسانوں میں مناظر کی پیش کش براے نام ہے۔ ایک یا دو جملے میں وہ مختصر اور کبھی اشاراتی تصویریں بناکر آگے بڑھ جاتی ہیں۔ یہ ارتکاز، اختصاص اور ضبط ان کے بہترین مستقبل کی ضمانت ہے۔
نکہت کوئی مشّاق ادیبہ نہیں۔ فنِ افسانہ نگاری کے باریک دھاگوںکو جوڑنے میں انھیں بڑے افسانہ نگاروں کی طرح مہارت حاصل نہیں ہے۔ باتیں کہاں تک پھیلیں اور دنیا جہان کے مسئلوں سے اشارے کنایے میں ہی سہی،ہمارا افسانہ ’ جُڑتا جائے‘ اس کے لیے نکہت کے ہاں کوئی شعوری کوشش دکھائی نہیں دیتی۔ زندگی کے تجربوں کو پیش کرتے ہوئے واضح فلسفیانہ لَے، ہمہ جہت نقطۂ نظر اور ماضی کا بھرپور تجزیہ یا مستقبل کی مکمّل سوجھ بوجھ کا امتحان مقصود ہوتو نکہت زیادہ کامران نہیں ہوپائیں گی۔ اس طرح کوئی سفّاکانہ تنقیدی تبصرہ کرے تو کہہ اٹھے گا کہ افسانہ نگاری کا ہے کوہے، ایک کارِ زیاں ہے۔ جب اس تجزیے کو اردو افسانے کی مہتم بالشان تاریخ کے تناظر میں رکھا جائے گا تو معلوم ہوگا کہ واقعی انصاف سے کام لیا گیا ہے۔ پریم چند، منٹو، بیدی، کرشن چندر، عصمت، قرۃالعین حیدر سے لے کر آج کے اہم افسانہ نگاروں اقبال مجید، سلام بن رزّاق اور شوکت حیات وغیرہ کے سامنے سیّدہ نکہت کی کوئی حیثیت نہیں۔ موجودہ عہد کی خواتین فکشن لکھنے والیوں میں زاہدہ حنا، ترنّم ریاض، ذکیہ مشہدی، غزال ضیغم، ثروت خاں، نگار عظیم کے مقابلے نکہت نے کم ہی لکھا ہے اور شہرت کے معاملے میں بھی انھیں ابھی میلوں چلنا ہے۔
اس کے باوجود سیّدہ نکہت کے افسانوں کا واضح جواز ہے۔ وہ کارِ زیاں نہیں کررہی ہیں بلکہ نہایت سنجیدگی اور بھرپور سوجھ بوجھ کے ساتھ شعرگوئی کے پہلو بہ پہلو افسانہ نگاری کے نشیب وفراز سے گزر رہی ہیں۔ پہلے مجموعے کی اشاعت کے موقعے سے مشق اور تجربے کا آکاش طلب کرنے کے بجاے ہمیں مصنّفہ کے متوقّع آفاق کی تلاش وجستجو کرنی چاہیے۔ کیا اُن کی تخلیقات ایسے اشارے فراہم کرتی ہیں جن کی بنیاد پر یہ سمجھا جا سکے کہ اُن کا مستقبل روشن اور تابناک ہے؟ کیا نکہت خلا میں کوئی روشنی کی لکیر یا معقول تخلیقی مداخلت کررہی ہیں؟ انھوں نے جو کاغذ سیاہ کیے ہیں، ان کے مناسب نتائج نکلے یا نہیں؟ ایسے تمام سوالوں کے جواب نکہت کے پہلے مجموعے ’قہر نیلے آسمان کا‘ سے حاصل ہو جاتے ہیں۔ یہ کارِ بحث نہیں۔ مصنّفہ نے پختگی، تجربے کا استحکام، ٹھوس علم، مبسوط مطالعۂ کائنات کے مقابلے میں تخلیقی تازہ کاری، جوش و جذبے کی فراوانی اور حسبِ ضرورت نرم گرم ردعمل کو زیادہ اہمیت دی ہے۔ ’صبروضبط‘ جبرِمشیّت اور زندگی کی عمومی رفتار پر قناعت پسندی کے بَرخلاف شکوۂ چرخ، بے اطمینانی اور غم وغصّہ نکہت کا افسانوی طَور ہے۔ یہ انداز سوچا سمجھا ہوا اور دل وجان کی بھٹّی میں تپ کر سفید کاغذ کے ٹکڑوں پر اُتر کر صیقل ہوا ہے۔ اس لیے نئے اور پرانے لکھنے والوں کے درمیان امتیاز کی لکیر کھینچتے ہوئے نقّاد کو اپنے فیصلے سنانے چاہئیں۔
اس مجموعے کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے مصنّفہ کے دردمند دل اور ملول طبیعت سے آشنائی ہوتی ہے۔ افسانہ کسی مرد کو مرکز میں رکھ کر لکھا گیا ہو یا عورت کی مرکزیت ہو لیکن بالآخر سب کے دُکھ بھرے چہرے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی کردار اگر مُسکرانا بھی چاہتا ہے تو وقت اُس کے چہرے سے ہنسی چھین لیتا ہے۔ کوئی دوشیزہ نازو ادا کی جلوہ سامانیوں سے افسانے کی دنیا کو بدلنا چاہتی ہے لیکن اس کے مقدّر میں بھی اداسی اور مایوسی ہی ملتی ہے۔ برفیلے پہاڑوں اور خوب صورت وادیوں کے ہر کردار کی مُٹھّی میں ریت کے علاوہ کچھ نہیں۔ سیّدہ نکہت فاروق ان معنوں میں بہت کامیاب ہیں کہ کشمیر کی ہم عصر زندگی کی ہر دھڑکن کو انھوں نے اپنے لفظوں میں سمیٹ لیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سب کی سانسیں اکھڑی ہوئی ہیں اور زندگی کسی طور پر بھی خوش نما نہیں رہ گئی ہے۔ بار بار ایک خوف ناک دنیا سے ہمارا سابقہ پڑتا ہے۔ تمام افسانوں میں شکست خوردگی اور اضمحلال کی وجہ سے ایک ہیبت ناک صورتِ حال سے ہمارا سامنا ہوتا ہے۔ زندگی کے ٹوٹے آئینوں کی کرچیاں افسانہ نگار نے غم زدہ ہاتھوں سے سمیٹی ہیں۔ میرؔ کی شاعری میں ایسے ہی دُکھی دل کی کہانیاں سمٹ آئی تھیں جس سے ان کی شاعری لازوال ہوگئی۔ سیّدہ نکہت فاروق نے زندگی کے اس دائمی رنگ کو ملک کی سب سے خوب صورت سرزمین کی زندگی کے پردے میں رکھ کر زندگی کے تضادات کو اُبھارا ہے۔
ــ’قہر نیلے آسماں کا‘ کی تمام کہانیاں جبرِ مشیّت کی کہانیاں ہیں۔ ’باغ وبہار‘ کی طرح، سب خدا کی مرضی کے سامنے مجبور اور بے بس ہیں۔ کہیں کوئی جاے اماں نہیں۔ واقعات کی پیش کش میں مصنّفہ بھی اس مرضیِ مولا کی قائل معلوم ہوتی ہیں لیکن زندگی کے نشیب وفراز کے بیان میں اپنے کرداروں کے ساتھ جس طرح وہ جو جھتی دکھائی دیتی ہیں، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ حالات کے بگاڑ میں وہ انسانوں کے رول سے غافل نہیں ہیں۔ یہیں ان کے ہاں ایک امید افزا صورتِ حال ابھرتی ہے۔ مقابلہ جو ئی اور زندگی سے سنگھرش کی قوت سامنے آتی ہے۔ یہ تمام باتیں کبھی فکروفلسفہ کے حوالے سے اور اکثر جذباتی افتاد کے توسّط سے افسانے میں داخل ہوتی ہیں۔ حقیقت اور گمان، سچ اور جھوٹ، حق اور باطل، نیک اور بد کے درمیان ایک ایسی مبارزت قائم ہوتی ہے کہ افسانہ ڈرامے کے گھماسان میں بدل جاتا ہے۔ سیّدہ نکہت یہاں ماہر فن کار کی طرح واقعات کے بیان میں اَصرافِ الفاظ سے بچ کر اکثر علامات یا پیکروں کو وضع کرکے افسانے کو ایک معقول منطقی موڑ تک پہنچا کر اپنا کام ختم کردیتی ہیں۔ یہ فن کارانہ ہوش مندی نہ ہوتی تو ان کے بعض افسانے بالخصوص ’اور زمین جاگ اٹھی‘ یا ’شفق رنگ شباب‘ یا ’قہر نیلے آسماں کا‘ واقعتاً قصۂ طولانی بن جاتے اور اپنا تاثر زائل کردیتے۔
سیّدہ نکہت نے اس مجموعے کا عنوان جس افسانے کو بنایا ہے، وہ غالباً ان کا پسندیدہ افسانہ ہوگا۔ مجموعے میں اس سے بہتر افسانے بھی موجود ہیں لیکن مصنّفہ ’قہر نیلے آسمان کا‘ کو سرنامہ بناکر اپنے عمومی موضوع اور زندگی سے تعلّق کو واضح کردینا چاہتی ہیں۔ کم وبیش تمام کہانیوں میں آسمان کا قہر جاری رہتا ہے لیکن مصنّفہ کو یہ قومی امید ہے کہ ہماری زمین ضرور جاگے گی۔ زمین بس روٹھ گئی ہے۔ کتنی معصومیت سے افسانہ نگار کہتی ہیں : ’اب آپ آئے ہو تو ہماری روٹھی ماں کو منالو۔ گان￿و والوں کو روک لو۔ ماں سے رشتہ توڑ کر کہاں جائیں گے یہ۔‘ یہ جملے نہیں، خونِ جگر کی فسوں کاری ہے۔ کیوں نہ ہم دعا کریں کہ اس معصوم تمنّا کی فصل لہلہائے گی اور آسمان کا قہر تمام ہوگا۔

مزید دکھائیں

صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

متعلقہ

Back to top button
Close