افسانہ

شہرت کے بدلے

سالک جمیل براڑ

شام کے چھ بج چکے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی ایل۔ سی۔ چودھری اپنے دفتری کاموں میں مصروف ہیں۔ چودھری ہندی فلموں کے مشہور معروف ڈائریکٹرہیں۔ انہوں نے کئی بڑی فلمیں انڈسٹری کودی ہیں۔ ان دنوں بھی وہ ایک نئی فلم پرکام کررہے ہیں۔ وہ جلدہی فلم شروع کرناچاہتے ہیں۔ اسی لیے وہ دن رات کام میں لگے ہوئے ہیں۔

اچانک ایک نقاب پوش لڑکی ان کے دفتر میں داخل ہوئی۔ اندرآتے ہی اس نے چودھری صاحب پر پستول تان لی۔

’’ک ک کون ہوتم؟‘‘ چودھری صاحب نے کانپتے ہوئے سوال کیا۔

’’اوہ بڈھے!……… زیادہ چالاکی کرنے کی کوشش کی تو کھوپڑی کھول کررکھ دوں گی۔ ‘‘ چودھری کاہاتھ میزکی دراز کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر اس نے کہا۔

’’تم کیاچاہتی ہو؟ میری تم سے کیادشمنی ہے؟‘‘چودھری نے لڑکی سے پوچھا۔

’’بے شک تمہاری مجھ سے کوئی دشمنی نہیں ……مگرمیں تیرے جیسے سماج کے دشمن کو زندہ نہیں چھوڑ سکتی۔ ‘‘ لڑکی اب چودھری کے بالکل قریب آچکی تھی۔

’’میں اورسماج کا دشمن…………آخر میں نے کون سا گناہ کیاہے؟‘‘چودھری نے اپناجرم پوچھا۔

’’میری نظرمیں تم سماج کے بہت بڑے دشمن ہو۔ تم لوگ لگاتارجرائم کے لیے سامان تیارکرہے ہو۔ اس قسم کی فلمیں بنارہے ہو۔ جنھیں دیکھ کرنوجوان نسل میں دن بدن جرائم بڑھ رہے ہیں۔ اورنشہ کازہربھی پھیلتا……یقینا تمہاری وجہ سے دیش کامستقبل خطرے میں پڑگیاہے۔ تم لوگ نوجوان نسل کو ان کے راستے سے بھٹکارہے ہو۔ وہ اپنا بیش قیمت وقت تمہاری بے ہودہ فلمیں دیکھنے میں گزاررہے ہیں اور عشق جیسی بیماری کا شکارہورہے ہیں۔ کھلے عام عورت کے جسم کی نمائش کرتے ہو۔ جب کوئی پوچھتاہے کہ یہ کیاہے؟………توکہتے ہوکہ یہ تو آرٹ ہے۔ اب یہ کالے دھندے چھوڑنے کے لیے تیارہو جاؤ‘‘۔ یہ کہتے ہو ئے لڑکی نے پستول چودھری کی کن پٹی پررکھ دی اور کمر ے میں مکمل خاموشی چھاگئی۔

’’ایک کاغذ لواورلکھو‘‘وہ تحکمانہ اندازمیں چیخی۔

’’دیکھویہ ………غلط ہے………میں ایک عزت دار شہری ہوں۔ ‘‘

’’زیادہ بک بک کی تو……… ‘‘لڑکی نے پستول اُس کے چہرے پرپھیرتے ہوئے کہا۔

’’ہاں جلدی لکھو……میں اپنی زندگی سے بے زار ہوچکا ہوں۔ میں نے اِس سماج کوبے حدآلودہ کیاہے۔ میں نے قوم کی راہ میں کانٹے بوئے ہیں۔ میری فلموں کے ذریعے جرائم میں بے حد ترقی ہوئی ہے۔ غنڈے اور غلط قسم کے لوگ میری فلموں کے ذریعے جرائم کے نئے نئے طریقے سیکھ رہے ہیں۔ نوجوان نسل نئے نئے نشوں کی عادی ہورہی ہے۔ اورلوگ اپناقیمتی وقت میری فلمیں دیکھنے میں گزاردیتے ہیں۔ میری فلموں کے ذریعے سیکس کو بڑھاوا مل رہاہے۔ نئی نسل جنسی بے راہ روی کا شکارہورہی ہے۔ ‘‘

’’میرے پاس وقت نہیں، تیزتیزلکھو‘‘لڑکی غصّے میں چلّائی۔

’’ایک اداکارہ بننے آئی لڑکی کو ہم پہلے طرح طرح سے استعمال کرتے ہیں۔ پھر کہیں جاکر فلم میں رول دیتے ہیں۔ اس شرط پر کہ یہ فحش قسم کی ڈریس پہنے۔ اگروہ انکارکردیتی ہے۔ توہم اسے کئی طریقوں سے تنگ کرتے ہیں۔ اسے دھمکیاں دیتے ہیں۔ کہ اگروہ ایسانہیں کرے گی تو اسے فلم سے نکال دیاجائے گا۔ ساتھ ہی اُسے رنگیں خواب دکھائے جاتے ہیں کہ اگر یہ فلم ہٹ ہوگئی تووہ راتوں رات سٹاربن جائے گی۔ وہ بے چاری اپنے سپنوں کامحل چورچور ہوتے دیکھنا نہیں چاہتی۔ مجبوری میں وہ سب کچھ کرگزرتی ہے۔ اِس طرح ہم لوگ شہرت کمانے آئی لڑکیوں کو طوائف کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ اب میں اپنے گناہوں کابوجھ برداشت نہیں کرسکتا…… میں پاپی ہوں اور خودکشی کرنے جارہاہوں۔ ‘‘            ’’دستخط کرو‘‘

یہ کہتے ہوئے لڑکی نے کاغذ چھین لیااورریوالور چودھری کی کھوپڑی پررکھ دی۔

’’مجھے مت مارو، مجھے مارنے سے تمہیں کیاملے گا ‘‘چودھری نے ہاتھ جوڑتے ہوئے التجاکی۔ لڑکی زورزورسے ہنسنے لگی۔

’’سر……آپ توگھبراگئے۔ ‘‘یہ کہتے ہوئے اس نے اپنانقاب اتاردیا۔

لڑکی بلاکی حسین تھی’’سرکیسی لگی میری ایکٹنگ؟‘‘کھلکھلاکر بولی۔

’’ایکٹنگ……کیسی ایکٹنگ؟‘‘انہوں نے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے حیران ہوکرپوچھا۔

لڑکی نے ایک اخبار کی کٹنگ نکال کران کے سامنے رکھ دی۔ جس پرلکھاتھا۔

’’ایل۔ سی۔ ویڈیو کمپنی اپنی نئی فلم کے لیے نئے اداکاروں کا انتخاب کرنا چاہتی ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس باربھی نئے چہرو ں کو موقع دیاجائے گا۔ فلم ایک ڈاکولڑکی پر مشتمل ہے۔ جوکوئی بھی اپنے اندرٹیلینٹ رکھتاہے……تاریخ کو نیچے لکھے پتے پراپنی سبھی ڈگریاں لے کر پہنچ جائے۔ انتخاب سکرین ٹیسٹ لے کرکیاجائے گا۔ ‘‘(ایل۔ سی۔ ویڈیوکمپنی، اندھیری ویسٹ، ممبئی)

’’سرمیں اتنااچھّا موقع گنوانانہیں چاہتی تھی۔ میرے پاس اپنی قابلیت دکھانے کا اور کوئی راستہ بھی نہ تھا۔ سرمیں اِس کے لیے معافی چاہتی ہوں۔ ‘‘لڑکی نے نظریں جھکاتے ہوئے معافی مانگی۔

’’اِس میں معافی کی کیابا ت ہے؟یہ توتم نے اپناٹیلینٹ دکھایاہے۔ کہ تم یہ رول بخوبی نبھاسکتی ہو‘‘چودھری نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’تمہارے پاس کوئی ڈگری………‘‘انہوں نے لڑکی سے پوچھا۔

’’جی سر……میں نے سانگ ڈرامہ کا ڈپلومہ کیاہے اور ۲۰ ڈراموں میں اہم رول نبھائے ہیں۔ ‘‘

’’تمہارا نام؟‘‘چودھری نے لڑکی کے جسم پرگہری نظر ڈالتے ہوئے پوچھا۔

’’جی……سنگیتارانی۔ ‘‘

’’لیکن آج سے تمہارانام لکشمی بائی ہے۔ کیوں کہ فلم کی ہیروئن کا نام لکشمی بائی ہے۔ ‘‘

’’توسر……آپ نے مجھے سلیکٹ کرلیا۔ ‘‘وہ اچھل کر بولی۔

’’ہاں اب تم میری اگلی فلم کی ہیروئین ہو۔ تم کل صبح دس بجے آکر میر ے سیکریٹری سے مل لینا۔ اورسکرین ٹیسٹ کے لیے فوٹوشیشن میں حصّہ لینا اور بعد میں کنٹریکٹ بھی تیارکرلیں گے۔ ‘‘

’’تھینک یو……سر‘‘یہ کہتے ہوئے وہ تیزی سے گیٹ کی طرف بڑھی۔

’’سنگیتا……نہیں نہیں ……لکشمی ………ذرا ٹھہرو!‘‘چودھری نے کہا۔

’’یس سر؟‘‘

’’بیٹھو‘‘انہوں نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

’’دیکھو…………لکشمی تم خودسمجھ دارہو۔ میں سمجھتاہوں۔ تمہیں کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کہ ایک کامیاب ایکٹریس بننے کے لیے لڑکی کو کیاکچھ کرناپڑتاہے۔ تم حسین ہو، جوان ہو اور ذہین بھی…………آج رات ہوٹل شان میں روم نمبر۵۰۰ میں ذراسیکسی ڈریس پہن کرآنا۔ ایسے ہی چنددوستوں کے ساتھ ڈنرہے۔ اوربس………!!!

مزید دکھائیں

سالک جمیل براڑ

نوجوان افسانہ نگار و شاعر سالک جمیل براڑ کا تعلق پنجاب کے شہر مالیرکوٹلہ سےہے۔ آپ نے بچوں کے لیےکہانیوں کی متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ سالک کی کہانیوں پر انہیں بھاشاوبھاگ کی طرف سے ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔ ان دنوں سالک پنجابی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔

متعلقہ

Close