افسانہ

صحیح داؤ

سالک جمیل براڑ

اگلے مہینے ہونے والی علی پورکے دنگل کااعلان ہوچکاتھا۔ ویسے توہرروزکہیں نہ کہیں چھوٹے موٹے دنگل ہوتے ہی رہتے تھے جو صرف مقامی پہلوانوں پرمشتمل ہوتے۔ لیکن علی پور کا دنگل کوئی عام دنگل نہیں بلکہ رستم ہندکی حیثیت رکھتا تھا جس میں دیش بھرکے چوٹی کے پہلوان اپنی طاقت اورمقدرآزمانے آتے۔ ہر کشتی بھاری رقم پرلڑی جاتی تھی۔ دس ہزار، بیس ہزار، تیس ہزار سے ہوتے ہوتے آخری کشتی ایک لاکھ روپے اور سونے کی گرزتک پہنچ جاتی تھی۔ اس آخری کشتی میں جیتنے والے کوشیرِہندوستان کا خطاب دیاجاتا۔ قصبہ علی پورنے دیش کے لیے ایک سے بڑھ کر  ایک پہلوان پیدا کئے تھے جنھوں نے دوسرے ممالک میں بھی جاکر دیش کا نام ورشن کیا۔

سبھی نامی گرامی اکھاڑوں کی سرگرمیاں تیزہوچلی تھیں۔ پہلوانوں نے دن رات ایک کردیاتھا۔ اُس وقت علی پوراوراس کے نزدیکی علاقوں کا سب سے نامور پہلوان شمشیرسنگھ ہی مانا جاتاتھاجس کی ٹکرکاپورے علاقے میں کوئی پہلوان نہیں تھا۔ شمشیر سنگھ چھوٹے دنگلوں میں سبھی بڑے مقامی پہلوانوں کو پچھاڑکراپنی طاقت کالوہامنواچکاتھا۔ اس سال شمشیر نے ایشیائی کھیلوں میں اپنے ویٹ میں گولڈ میڈل جیت کر کافی نام کمایا تھا۔ اس طرح علاقائی پہلوانوں میں وہ شیرِ ہندوستان کے خطاب کا اہم دعویدارتھا۔ وہ پہلے بھی اس اعزاز کے لیے دوبارلڑچکاتھا۔ مگربدقسمتی سے اب تک کامیاب نہیں ہوسکاتھا۔ پچھلے سال وہ رستم ہندکالی چرن سے مسلسل15منٹ لڑنے کے بعد ہارگیا تھا۔ اب دیکھنایہ تھا۔ کہ ہر سال کی طرح اس سال شمشیرکے مخالف کسے اُس کے مقابلے میں لاتے ہیں۔

شمشیر سنگھ بہت امیرگھرانے سے تعلق رکھتاتھا۔ جس کے سینکڑوں بیگھے زمین کے علاوہ اور دوسرے کاروباربھی تھے۔ جس سے روپے پیسے کی ریل پیل تھی۔ غرض یہ کہ وہ پیسے کے لیے نہیں صرف شہرت کمانے کیلئے کشتی لڑتاتھا۔ انعامات میں ملی رقم وہ اکثر غریبوں میں تقسیم کردیتا۔ لگاتار دوبار ہارنے کی وجہ سے اب جیتنااُس کے لیے زندگی سے بھی ضروری ہوگیاتھا۔ اورپھرپورے علی پور کی نگاہیں بھی اُسی پرٹکی ہوئی تھیں۔

شمشیر تیس (30) کاہوچلاتھا۔ بڑھتی ہوئی عمرکے ساتھ ساتھ اس کے تجربات میں بھی اضافہ ہواتھا۔ لگاتارہارنے کی وجہ سے اس کے حوصلے میں ضرور کمی آئی تھی۔ ساتھ ہی اس نے بہت کچھ سیکھاتھا۔ اوراپنی کمزوریوں کودورکرنے کی کوشش کی تھی۔ اگر اس باروہ یہ خطاب نہ جیت سکاتو شایدکبھی نہیں جیت پائے گا۔ کیونکہ ہرکھلاڑی کی ایک عمرہوتی ہے، اپنا دورہوتاہے اورپھرپچھلے دو سالوں میں کئی نئے چہرے ابھرکرسامنے آئے تھے۔ جنھوں نے مقامی دنگلوں میں اُسے بھرپور ٹکر دی تھی۔ اس طرح شمشیرپرکافی دباؤ بناہواتھا۔

اکھاڑوں کی رونقیں بڑھ گئی تھیں۔ خلیفہ حضرات اپنے پٹھوں کو محنت کروانے میں جٹے ہوئے تھے۔ اس طرح جہاں یہ دنگل نئے پہلوانوں کے لیے اپنی پہچان بنانے اورکچھ کر دکھانے کے لیے تھا۔ وہیں بڑے پہلوانوں کے لیے اپنا خطاب برقرار رکھنے اور نئے ریکارڈ بنانے کاموقع تھا۔

جیسے جیسے دن گذررہے تھے۔ ہرروزنئی نئی خبریں سننے میں آرہی تھیں۔ آج جوبات سننے میں آئی۔ اس نے توپورے علی پور کے لوگوں اورکشتی ماہرین کو حیران کردیا۔ خبریہ تھی کہ شمشیر نے اپنا گوروبدل لیاہے۔ اپنے بیس سال پرانے گوروہری سنگھ کی جگہ مدن لال کو اپنا نیاگورو بنالیا۔ ہری سنگھ نے شمشیر کواپنے بچّوں سے بھی بڑھ کر چاہا تھا۔ یہ اسی کی محنت کا صلہ تھا کہ آج شمشیراس مقام تک پہنچ پایاتھا۔ ہری سنگھ اور مدن لال اپنے زمانے کے مشہورپہلوان رہ چکے تھے۔ دونوں نے ہی بے شمارایسے شاگردپیداکئے تھے۔ جن پر پورے دیش کو نازتھا۔ جہاں ہری سنگھ بہت گرم وہیں مدن لال بہت ٹھنڈی طبیعت کے مالک تھے۔ ہری سنگھ کی قابلیت اور تجربے کودیکھتے ہوئے سرکار کی طرف سے انھیں کشتی ایسوسی ایشن کا چیئرمین بنایاگیاتھا۔ لیکن انہوں نے اتنا بڑا عہدہ صرف اس وجہ سے چھوڑ دیاتھا کہ وہ سرکاری مہرہ بن کرنہیں رہناچاہتے تھے۔ وہ اپنے کام میں دخل اندازی بھی پسندنہیں کرتے تھے اورپھروہ بے ایمانی، ناانصافی  سے کسی کا حق نہیں چھین سکتے تھے۔ لیکن مدن لال جی آج بھی اس ایسوسی ایشن کے ممبرتھے۔ اب دیکھناتویہ تھا کہ شمشیرکو اپنے نئے گوروسے کوئی نیاداؤ سیکھنے کو ملتاہے یانہیں ؟ کیاوہ کامیاب ہوتاہے یانہیں ؟

آخر جس دن کاپورے علی پورکوانتظارتھا آہی گیا۔ قصبے سے باہربابافرید میدان جومیلوں میں پھیلاہواتھا۔ میں ہزاروں کی تعداد میں تماشائی جمع تھے۔ دنگل کے اردگرد بڑے بڑے پنڈال لگے ہوئے تھے۔ دیش بھر سے لوگ آئے تھے۔

دوپہر کے تقریباً دوبج رہے تھے۔ آسمان بالکل صاف تھا۔ سورج پہلوانوں کاسنہری کرنوں کی بارش سے استقبال کررہاتھا۔ اپریل کاپہلا ہفتہ، موسم درمیانہ تھا۔ نہ زیادہ گرمی نہ زیادہ سردی، ہاں البتہ دوپہر کوکچھ گرمی ہوجاتی تھی۔ سب سے پہلے حصّہ لینے والے سبھی اکھاڑوں نے ایک ایک کرکے سلامی لی۔ پھرپہلی کشتی دس ہزارکی جھنڈی پرلڑی گئی۔ اس کے بعد بیس تیس ہوتے ہوتے پچاس ہزارتک پہنچ گئی۔ اس دوران تماشائیوں کو کئی بہترین مقابلے دیکھنے کوملے۔ لوگ پہلوانوں کے ہراچھّے داؤ کوتالیوں کے ساتھ داد دئے۔ پورامیدان پنجابی ڈھول سے گونج رہاتھا۔

لگ بھگ ساڑھے چاربج رہے تھے۔ گرمی میں کچھ کمی آگئی تھی۔ تماشائیوں میں لگاتار اضافہ ہورہاتھا۔ بہت سے لوگ توصرف شیرِ ہندوستان کے خطاب کے لیے لڑی جانے والی کشتی دیکھنے آرہے تھے۔ اسی بیچ مائیک پراعلان ہوا۔

’’دوستو! اب آخری کشتی شیرِ ہندوستان کے خطاب کے لیے لڑی جائے گی۔ یہ کشتی ایک لاکھ روپے اورسونے کے گرزپرمشتمل ہے۔ انتظامیہ کے ایک ممبرنے جھنڈی اَکھاڑے کے ایک طرف گاڑدی۔ شمشیر اٹھااورتیزی سے جھنڈی کی طرف دوڑا۔ لمبا قد، پہاڑجیساجسم، چوڑی چھاتی، ہلکی ہلکی داڑھی اور مونچھیں، سفید کلی دار قمیض اور سفید چادرا، پاؤں میں پنجابی جوتا جیسے ہی شمشیرنے جھنڈی اٹھائی۔ ایک زبردست ڈیل ڈول والے پہلوان نے اسے آگھیرا۔ پورامیدان تالیوں اورسیٹیوں کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ اس بارکاشی ناتھ شمشیرکے مقابلے میں اتر اتھا۔ کاشی ناتھ کوئی نیاچہرہ نہیں تھا۔ ٹیلی ویژن پراسے سبھی کشتی پریمیوں نے دیکھا ہوگا۔ کاشی کاشماربھارت کے چوٹی کے پہلوانوں میں ہوتاتھا۔ وہ بھارت کی طرف سے ایشیائی اور اولمپک کھیلوں میں مقابلے کے لیے جاچکاتھا۔ کاشی ناتھ جسمانی لحاظ سے اور تجربے کے لحاظ سے شمشیرسے آگے تھا۔ شمشیرسنگھ نے لنگوٹ کسا، وارم اپ ہونے کے لیے اکھاڑے کے دوتین چکر لگائے۔ تماشائیوں نے پرجوش تالیوں کے ساتھ اپنے ہیروکاحوصلہ بڑھایا۔ کاشی ناتھ کے ساتھ کشتی لڑناشمشیرکے لیے نیاتجربہ تھا۔ اسے کاشی کی طاقت اورکمزوریوں کاکوئی اندازہ نہیں تھا۔ شمشیرنے جھک کر اکھاڑے کو ماتھاٹیکا۔ اورکاشی کی طرف بڑھا۔ ریفری نے دونوں پہلوانوں کے ہاتھ ملوائے۔ پھر رسمی طور پر دونوں نے ایک دوسرے کے کندھوں پر مٹی ڈالی۔ ریفری نے سیٹی بجائی اور کشتی شروع ہوگئی۔ سب کی سانسیں رک گئیں، دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں اور نظریں ایک جگہ ٹھہر گئیں۔

دیکھتے ہی دیکھتے شمشیرنے کاشیؔ کونیچے دبالیا۔ سارامیدان تالیوں سے گونج اٹھا۔ دونوں گتھم گتھا ہوگئے اور ایک دوسرے کوپچھاڑنے کی کوشش کرنے لگے۔ ایسالگ رہاتھا۔ جیسے دو ریل انجن ہٹ ہٹ کرآپس میں ٹکرارہے ہوں۔ جب پانچ منٹ ہوگئے اور کوئی نتیجہ نہ نکلاتوریفری نے پانچ منٹ اوردینے کااشارہ کیا۔ کانٹے کی ٹکرتھی۔ کشتی چلتی رہی دس منٹ پورے ہوگئے۔ اسی بیچ ریفری نے پانچ منٹ اور دینے کا اشارہ کیا۔ دونوں پہلوان ٹھنڈے دماغ سے کشتی لڑ رہے تھے۔ اسی بیچ پہلوان اکھاڑے سے باہر نکل گئے۔ ریفری نے سیٹی بجائی اور کشتی بندکرکے اکھاڑے کے درمیان میں سے دوبارہ شروع کروادی۔ کشتی شروع ہوئے بارہ منٹ ہوچکے تھے۔ لیکن دونوں کے چہروں سے کسی قسم کی تھکاوٹ نہیں جھلکی تھی۔ وہ ابھی بھی ایک دم تازہ اورچست نظر آرہے تھے۔ اسی بیچ شمشیر نے کاشی کو نیچے دبالیااوراگلے ہی لمحے ایسے پلٹی ماری کہ کاشی ناتھ چاروں شانے چت پڑاآسمان کوگھورہاتھا۔ شمشیرسنگھ کھڑاہوکرخوشی سے اچھل پڑا۔ ریفری نے اس کا بازو بلند کر دیا۔ پورا میدان تالیوں اور شوروغل سے گونج اٹھا۔ لوگ دوڑتے ہوئے میدان کے اندر آگئے۔ شمشیر کے چاہنے والوں نے اسے اپنے کندھوں پراٹھالیا۔

پھرشمشیر نے خوب دھوم دھام کے ساتھ علی پور میں قدم رکھا۔ آگے ڈھول بج رہے تھے۔ پیچھے شمشیر سنگھ بہت بڑے جلوس کے ساتھ اپنے گھرکی طرف بڑھ رہاتھا۔ لوگ اپنے چمپین کا گلے مل کر نوٹوں اورپھولوں کے ہاروں، مٹھائی کی ٹوکریوں کے ساتھ استقبال کررہے تھے۔

سورج کب کاڈوب چکاتھا۔ چاروں طرف اندھیراچھاگیاتھا۔ خوشی کی شہنائیاں، ڈھولوں کی گونج آہستہ آہستہ مدھم ہوتے ہوتے ختم ہوگئی تھی۔ دن بھرکے تھکے ہوئے لوگ آرام اورسکون کی نیندسورہے تھے۔ ایسے میں شہر سے بہت دورشمشیرسنگھ کے فارم ہاؤس کے پچھلے گیٹ سے ایک کا رداخل ہوئی۔ کارمیں سے شمشیر سنگھ اورکوچ مدن لال باہرنکلے۔ شمشیرکے ہاتھ میں ایک بیگ تھا اوروہ ایک کمرے میں داخل ہوئے۔ کمرے میں پہلے ہی سے کاشی ناتھ بیٹھا شراب سے دل بہلارہاتھا۔ پاس ہی پڑے میزپرایک پلیٹ میں کچھ تندوری مرغ کے ٹکڑے پڑے تھے۔ شمشیرسنگھ اس کے سامنے والی کرسی پربیٹھ گیا۔ اوربیگ کاشی کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔ ’’دولاکھ روپئے انعام کے اور دولاکھ روپئے میری طرف سے تحفہ‘‘۔

’’شکریہ‘‘کاشی ناتھ نے شمشیر سے بیگ پکڑتے ہوئے کہا۔

’’اچھّاتوگوروجی، اجازت دیں ‘‘کاشی نے کوچ مدن لال کے پاؤں چھوتے ہوئے کہا اوربیگ اٹھاکرکمرے سے باہرنکل گیا۔

شمشیر سنگھ دور اندھیرے میں دیکھتے ہوئے سوچنے لگا کہ کاش اس نے یہ صحیح داؤ بہت پہلے سیکھ لیاہوتا۔

مزید دکھائیں

سالک جمیل براڑ

نوجوان افسانہ نگار و شاعر سالک جمیل براڑ کا تعلق پنجاب کے شہر مالیرکوٹلہ سےہے۔ آپ نے بچوں کے لیےکہانیوں کی متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ سالک کی کہانیوں پر انہیں بھاشاوبھاگ کی طرف سے ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا ہے۔ ان دنوں سالک پنجابی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔

متعلقہ

Close