افسانہ

غریب کی روٹی

کسی مجبور، بے سہارا، بے بس، لاچار کی ضرورت کو اپنی خواہشات پر مقدم کرنے اور جہاں تک ہوسکے اس کی فکری اور مالی امداد کرنے کی صورت کیا ہونی چاہئے؟

محمد حسن

دوپہر کے بارہ بج رہے تھے، وہ اپنے کام میں مصروف تھا، بھو ک کا احساس ہوا تو اسے یاد آئی کہ صبح آفس جلدی نکلنے کے چکر میں میں ناشتہ کرنا بھول گیا تھا اور کام میں زیادہ مصروف ہونے کی وجہ سےدرمیان میں کچھ کھانے پینے کا خیال بھی نہ رہا لیکن جب معدہ خالی ہوا تو کھانے کی سخت ضرورت محسوس ہوئی اور اندر سے بے چینی بڑھنے لگی، معمولات کے مطابق اکثر صبح جلدی ہی نکلنا ہوتا اس لئے صبح اور دوپہر کے کھانے کا انتظام رات میں ہی کر لیتا اور نکلنے سے پہلے ناشتہ بقدرِ بادام ہی سہی کر ہی لیتااور کبھی کبھار غفلت اور کاہلی کی صورت میں اگر ایسا نہیں کرپاتا تو آفس کے نزدیک ترکی، شامی، انڈین، چائنی اور دیگر ریسٹورنٹ کا سہارا لیتا، بسا اوقات وہاں خردونوش کے بعد کافی اطمینان اور تشفی محسوس کرتا، دلی خوشی حاصل ہوتی، طبیعت ہشاش بشاش لگتی اور ذہنی سکون محسوس کرتالیکن یہ کیفیت جب ہوتی کہ وہ بہت دنوں سے باہر نہ کھا رہا ہوتااور مسلسل آرام گاہ میں معیاری پکوان سے اپنے پیٹ کی تڑپ اور من کا پیاس بجھا رہا ہوتا ورنہ شدیدبھوک کی صورت میں بھی اگر وہ اپنے آرام گاہ کا کھانا چھوڑ کر یا کسی وجہ سےوہاں نہ جاسکنے کی حالت میں ترکی، شامی یا انڈین ہی کھانا کھاتا تو اسے اندر سے کافی اضطراب، دکھ و افسوس اوررنج و ملال ہوتا، بجائے فرحت محسوس کرنے کہ وہ غمگین اور اداس ہوجاتا، اس کا خیال بجائے کام میں دلجمعی کے نہ جانے کن چیزوں میں بٹ جاتا، زیادہ نہیں تو کم سے کم وہ دن جب تک اگلی صبح نہ ہو اور نئے دن کی شروعات نہ ہو اسی سوچ و فکر میں گزرتا۔

 اس کے اندر ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ ہر شام ایک جدید فکر کے ساتھ سوتااور ہرصبح ایک نئی امید اور نیا حوصلہ لے کر بیدار ہوتا، ہمشہ اسے نئے دن کے آنے کی خوشی ہوتی اورکل کے گزرنے کا افسوس اسلئے ہوتاکہ زندگی کے ایام سے ایک دن کی کمی ہوگئی اور کچھ حاصل نہ ہوسکا، ایسا بالکل نہیں تھا کہ وہ متاع دنیا اور حرص مال کے پیچھے بھاگ رہا ہو لیکن اس تلخ حقیقت سے قطعی انکار نہ تھا کہ زندگی گزارنے اور اچھی زندگی گزارنے میں بہت فرق ہوتا ہے، جہاں وہ منطقیانہ اور فلسفیانہ خیال رکھتا تھا وہی اس کے اندر کچھ بچکانہ بھی تھی جس سے اکثر ناتجربہ کار اس کے تئیں خام خیالی اور غلط فہمی کا شکار ہوجاتے لیکن اسے ان چیزوں کا قطعی خیال نہ رہتا، وہ اپنے اصولوں کا پابند تھا اور اس کے اصول انسانی تھےیعنی انسانیت پر مبنی تھے، چاہے امر شناس اسے تلف کار سمجھیں یا جذباتی اسے پرواہ نہ رہتی۔ یہاں یہ سوال پوچھ لینا مناسب ہی ہوگاکہ کسی مجبور، بے سہارا، بے بس، لاچار کی ضرورت کو اپنی خواہشات پر مقدم کرنے اور جہاں تک ہوسکے اس کی فکری اور مالی امداد کرنے کی صورت کیا ہونی چاہئے؟

وہیں یہ بھی جاننا بے جا نہ ہوگا کہ کسی ناتواں کے ساتھ ہورہے ظلم یا اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اسے سیاست عملی کا نام دئے جانے کے خلاف اقدام کی مناسب صورت کیا ہوسکتی ہے؟ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ پہلی صورت میں ہم صرف اپنی فکر کریں اپنے مستقبل کے جگنوں جگمگائیں اور ایک بے بس کو نا امیدی کی تاریکی میں ڈھکیل کر اپنے لئے تخت سازی کریں اور دوسری صورت میں صرف اپنے مفاد کی فکر کریں، اپنے حالات کو نظر میں رکھیں اور ماحول کو رواں چھوڑدیں صرف یہ سوچ کر کہ قدرت سب کا مالک ہے، کہاں تک درست ہے؟

اس کے بھو ک کا احساس بڑھ رہا تھا وہ جھٹ پٹ کام سمیٹا اور آرام گاہ کی طرف چل دیا اس سے قبل کہ وہ اپنے آرام گاہ پہونچ کر اپنے پیٹ کی آگ پر پانی ڈالتا اور اپنے بھوک کا گلا دباتا، بیسمنٹ کی لفٹ سے ہوکر گزرا تو اسےوہ جگہ نظر آئی جہاں سے صبح میں گزرتے ہوئے اس نے ایک منظر دیکھا تھا، اس وقت اسے بہت جلدی تھی اس کی آنکھوں نے صرف وہ منظر دیکھا اور ذہن نے محفوظ کر لیا اور دل اس کے احساس سے محروم رہا اسلئے کہ وہ اس وقت کسی اور چیزکے لئے دھڑک رہا تھا، وہ چاہے اس کی شروع ہونےوالی مصروفیت ہو یا وہ شخص جس کے ساتھ وہ چلتے ہوئے گفتگو میں مشغول تھا اور اچھا بچہ، سوپر بچہ، بدمعاش بچہ جیسے الفاظ اپنی زبان کو ہلا کر اپنے سر کو جھٹک کر ادا کئے جا رہا تھا۔

وہ منظراس کے ہار ڈ ڈسک کی میموری میں فائل بن کر اسٹور ہوگیا تھا جس کو کھولنے کے لئے ایک کرسر کلک کی ضرورت تھی۔ یہ ایک بہت بڑا اور پریشان کن منظر لگتا ہے جس سے جڑ ے کئی سوال اپنا حل مانگ رہے ہوں لیکن دیکھیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی اور ہو بھی نہیں سکتی ہے بھلا ہو بھی تو کیوں ہو؟

نسل انسانی کا پہلا مقصد روزگار اور اس سے حاصل شدہ معاوضے سے زندگی کی گاڑی میں پیٹرول ڈال کر اسے دوڑانا ہوتا ہے وہ چاہے صحرا، بیاباں اور پانی میں ننگے پاؤں یا سمند ر کے کنارے ریت کے پہاڑ وں پر چڑھتے اترتے لینڈ کروزر کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو۔ اس وقت صبح کے تقریبا سات آٹھ بج رہے ہوں گے جب وہ اس جگہ پہونچا، اس نے دیکھا کہ تین، چار کام کرنے والے مزدور زمین پر بیٹھے اپنے ایک ہاتھ میں ٹفن پکڑے دوسرے ہاتھ سے نوالے منہ کے اندر لے جارہے تھے جو ( خبز)سوکھی روٹی (خبز، عرب میں دستیاب مخصوص قسم کی روٹی جسے ہندوستان جیسے ملکوں میں گائے، بھینس، اور دوسرے جانوروں کو معمول کے ساتھ کھلایا جاتا ہے) معمولی قسم کی سبزی کے شکل میں تھے۔ اس کے لئے پریشانی کی وجہ یہ نہیں تھی کہ یہ غریب کی روٹی کھارہے تھے بلکہ یہ تھی کہ یہ لوگ کس وقت کام شروع کرتے ہوں گے؟ کب تک اپنے آرام گاہ پہونچتے ہوں گے؟ ان کے کھانے پینے کا روزمرہ کا معمول کیا ہوتا ہوگا؟ ان کی رہائش کیسی ہوتی ہوگی؟ ان کے ذاتی حالات کیسے ہوں گے؟ ان کا سماجی رتبہ کیا ہوگا اور ان کا معاوضہ بروقت ملتا ہوگا یا نہیں؟

 اس لئے کہ کھانے پینے کا انتظام تو انسان کے خود اپنے اختیار میں ہوتا ہے لیکن سماج ہر انسان کو وہ رتبہ نہیں دیتا جو ہر انسان کو درکار ہے، ان کے معاشی حالات اور سالہا سال کی کمائی سماج کی ہیرا پھیری میں الجھ کر اس کے گندے پانی میں بہ جاتے ہیں، جسے زور و ظلم اور جبر و اکراہ کا نام دیا جاسکتا ہے جس کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں اور جن میں میں سماج کے نچلی سطح کے غنڈوں سے لے کر اعلی ذمہ داران مکھیا، پرمکھ، سرپنچ اور بلاک سطح کے افسران جیسے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔ وہ یہ سوچ رہا تھا اور قدم خود بخود آگے بڑھتے جارہے تھے۔

تھوڑے فاصلے پر اس کا آرام گاہ تھا جہاں وہ پہونچ کر پہلے اپنے پیٹ کی تڑپ کو دور کرتا اورمعمولات کے مطابق اپنی سرگرمیوں کو انجام دیتا اور پھر واپس لوٹ کراپنی ذمہ داریوں میں مصروف ہو جاتا، اس کے ذہن میں ان کے کھانے رہنے اور کام کو لے کر طرح طرح کے سوالات اور سماجی حالات گردش کررہے تھے جیسے ہی اسے لگا کہ وہ اپنے آرام گاہ کے اندر ہے اس نے بدستور فریج میں رکھا ہوا کھانا نکالا، تھوڑا گرم کیا اور کھانے میں مصروف ہوگیا، اس کا کھانا کچھ اور نہیں وہ روٹیا ں تھیں جسے اس نے رات کو بنائے تھے جو اب تک اتنی سخت ہوگئی تھیں کہ دانت سے کاٹنے میں کافی تکلیف ہورہی تھی اور وہ دال جسے اس نے فریج سے نکال کرگرم کیا تھا اس کا ذائقہ بھی قدرے بدلا ہوا لگ رہا تھا، وہ کھائے جارہا تھا اور بھوک ختم ہوتا ہوا محسوس کررہا تھا وہیں اس کے ذہن میں برابر وہ منظر گردش کر رہا تھا جسے اس نے صبح دیکھا تھا اور اسے پوری طرح احساس ہورہا تھا کہ یہی وہ غریب کی روٹی ہے جسے کھا کر ایک غریب اپنی زندگی کے ایام مکمل کرتا ہےاور جس کی مثالیں دی جاتی ہیں، جس پر ڈرامے پیش کئے جاتے ہیں، فلمیں بنائی جاتی ہیں، جس کی بہتری کے لئے پانچ ستارہ ہوٹلوں میں سیمینار، کانفرنس منعقد ہوتے ہیں اور جس کی وجہ سے سونے کا میڈل جیتا جاتا ہے اور جس کے بدولت محل بنائی جاتی ہے۔

مزید دکھائیں

محمد حسن

گدیانی۔ پوسٹ۔ گوکھولہ۔ نرکٹیا گنج، مغربی چمپارن۔ بہار۔ 845451

متعلقہ

Close