افسانہ

غیاث احمد گدّی- ایک منفرد افسانہ نگار 

احمد علی جوہر

آزادی کے بعد جو منفردوممتاز افسانہ نگار اُبھر کر سامنے آئے ان میں جوگیندرپال، اقبال مجید، قاضی عبدالستار، عابدسہیل، رتن سنگھ، جیلانی بانو، واجدہ تبسم اور اقبال متین کے علاوہ، غیاث احمد گدی بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ اقبال متین ان کی تحریروں کو بے حد پسند کرتے تھے۔ وہ اپنی کتاب ’’باتیں ہماریاں ‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ’’میری نسل کے لکھنے والوں میں قاضی عبدالستار و غیاث احمد گدی کی اہمیت میں نے دل ہی دل میں محسوس کی تھی۔ ‘‘ (1) غیاث احمد گدّی 27/فروری 1928ء کو جھریا، بہار کے گدّی (گوالہ) خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن بھی اسی ماحول میں گذرا۔ وہ رسمی تعلیم سے محروم رہے البتہ انھوں نے اردو، عربی کی ابتدائی تعلیم گھر پر اور گدّی مدرسہ میں حاصل کی۔ انھوں نے کرشن چندر سے متاثر ہوکر افسانہ نگاری کا آغاز کیا۔ مرزا حامد بیگ کے مطابق ان کا اوّلین مطبوعہ افسانہ ’’جواربھاٹا‘‘ ہے جو دسمبر، 1945ء میں ’’عالمگیر‘‘ لاہور میں شائع ہوا۔ (2) شاہد تسلیم رقم طراز ہیں : ’’ان کا پہلا افسانہ ’ہمایوں ‘ لاہور میں ’دیوتا‘ کے نام سے 1947ء میں چھپا۔ ‘‘ (3) ان کی تخلیقات میں ان کے افسانوں کے تین مجموعے ’’بابالوگ‘‘ 1969ء، ’’پرندہ پکڑنے والی گاڑی‘‘ 1977ء، ’’سارادن دھوپ‘‘ 1985ء اور ایک ناولٹ ’’پڑائو‘‘ ہے۔

غیاث احمد گدّی نے اس وقت لکھنا شروع کیا جب ترقی پسند تحریک عروج پر تھی۔ وہ اس تحریک سے متاثر بھی تھے۔ آگے چل کر وہ جدیدیت سے بھی خاصے متاثر ہوئے۔ ان دونوں کا اثر ان کے افسانوں پر دیکھا جاسکتا ہے۔ انھوں نے سیدھے سادے اندازمیں بھی افسانے لکھے ہیں اور علامتی واستعاراتی انداز میں بھی۔ ان کی کہانیوں کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ استعاراتی وعلامتی انداز بیان کے باوجود ان میں کہانی پن موجود ہے۔ انھوں نے اپنی افسانہ نویسی کی ابتدا خاص قسم کے معاشرتی افسانوں سے کی جن میں معاشرہ کے مختلف پہلوئوں کو مختلف زاویوں سے پیش کیا۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں عام انسانوں کے جذبات واحساسات کو لطیف پیرایہ میں بیان کیا ہے اور انسانی نفسیات کی عکاسی بڑی چابکدستی سے کی ہے۔ غیاث احمد گدّی سماج کے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ اس طبقے سے انھیں بڑی ہمدردی تھی۔ وہ سماج کو ظلم واستبداد کے پنجے سے آزاد دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ زندگی کے بے ڈھنگے پن سے نالاں تھے۔ سماج کے رستے ہوئے ناسوروں نے انھیں بے چین کردیاتھا۔ چنانچہ انھوں نے ہم عصر سماجی مسائل کو اپنے افسانوں میں بڑی خوبصورتی سے پیش کیا۔ سماجی موضوعات پر لکھے گئے ان کے افسانوں میں ’’کیمیاگر‘‘، ’’قیدی‘‘، ’’کالے شاہ‘‘، ’’دیمک‘‘، ’’افعی‘‘ اور ’’پرندہ پکڑنے والی گاڑی‘‘ قابل ذکر ہیں جن میں معاشرہ کی بدحالی، اخلاقی زوال، طبقاتی کشمکش، انسانی اقدار کی بے قدری، نچلے طبقے کی محرومیت وحق تلفی کو موثر پیرائے میں بیان کیا گیاہے۔

 ’’پرندہ پکڑنے والی گاڑی‘‘ غیاث احمد گدّی کا نمائندہ افسانہ ہے۔ اس میں حالات کے جبر، عام لوگوں کی بے ضمیری اور باضمیر افراد کی بے بسی ولاچاری کو موضوع بنایا گیا ہے۔ افسانہ میں پرندہ پکڑنے والی گاڑی کو دکھایا گیا ہے جو شہر کے پرندوں کو پکڑ کر لے جاتی ہے اور قید کرلیتی ہے۔ یہ پرندہ پکڑنے والی گاڑی دراصل ضمیر اور فکروشعور کی آزادی کو چھیننے والی طاقت کی علامت ہے اور پرندہ سے مراد عام انسانوں کا ضمیر اور فکروشعور کی آزادی ہے۔ اس کہانی میں اس حقیقت کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ظالم وجابر حکمراں لوگوں کے ضمیر اور فکروشعور کی آزادی کو چھین رہے ہیں مگر لوگوں کا ضمیر احتجاج نہیں کرتا۔ اگر چند باضمیرافراد احتجاج کرتے ہیں تو سکّوں اور نوٹوں کے عوض انھیں بھی خرید لیا جاتا ہے۔ تعجُّب کی بات یہ ہے کہ یہ عمل اس خوش اسلوبی سے انجام دیا جارہا ہے کہ لوگوں کو یہ عمل بُرا لگنے کے بجائے اچھا لگنے لگتا ہے۔ افسانہ کا مرکزی کردار واحد متکلم باضمیر افراد کا نمائندہ ہے۔ اسے ضمیر اور فکروشعور کی آزادی کی اہمّیت کا بے حد احساس ہے۔ یہ ضمیر ہی ہے جو کسی بھی معاشرہ میں ظلم واستحصال کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے۔ یہ کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہے۔ ضمیر کا لُٹنا اور فکروشعور کی آزادی کا سلب ہونا کسی بھی قوم ومعاشرے کے زوال اور ہلاکت وتباہی کی علامت ہے۔ اس تباہی پر افسانہ کا مرکزی کردار بے حد متفکر ہے۔ وہ معاشرہ کے دوسرے افراد کو بیدار کرنا چاہتا ہے مگر المیہ یہ ہے کہ لوگ بیدار نہیں ہوتے۔ اس حالت کو دیکھ کر اسے بڑا صدمہ ہوتا ہے۔ افسانہ کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’دُوسرے دن میں بازار کے سارے لوگوں سے کہتا پھرا۔ جوتے گانٹھنے والے موچی سے، کپڑے بیچنے والے بزاز سے، بھیڑ میں گھرے رہنے والے ڈاکٹر سے، روٹی اور دال بیچنے والے سے، راہ گیروں سے، سفید پتلون والے سے، تیزرفتار بابو سے، بوجھ ڈھونے والے قلی سے، رنگین دوپٹّے والی خاتون سے، جو سڑک پر ہولے ہولے یوں چلتی ہے گویا سارے زمانے کو روند کر گذر جانے کا فیصلہ کرچکی ہے، دونوں سیاستدانوں سے، جو آپس میں سازشی انداز سے گفتگو میں مصروف لپکے چلے جارہے تھے۔ میں ایک ایک آدمی سے پوچھتا پھرا، تیزرفتار گاڑیوں کو روکنے کی ناکامیاب کوشش کی کہ دس سالہ بچّے کی جوان بہن لقوہ کی مریض ہے اور حکیم جی نے دوائوں کے ساتھ لقا کبوتر کے پروں کی ہوا کے لئے کہا ہے۔ اگر یہ گاڑی والے، بچّے کے کبوتر کو بھی لے گئے تو پھر کیا ہوگا؟

مجھے کسی نے جواب نہیں دیا۔ سب اپنی اپنی دنیا میں مصروف رہے۔ اس لئے میں دس سالہ بچّے کے سوال کو پی گیا اور کوئی جواب نہیں دے سکا۔ مجھے افسوس تھا۔ اُداس، سر جھکائے چلا جارہا تھا، میرے پائوں تھک گئے تھے۔ ‘‘ (4)

 پرندہ پکڑنے والی گاڑی شہروں میں گشت کرکے آزادپرندوں کو توپکڑتی ہی ہے، گھریلو پرندوں کو بھی پکڑ کر لے جاتی ہے۔ وہ اس لقا کبوتر کو بھی لے جاتی ہے جس کے پروں کی ہوا کو حکیم جی نے دس سالہ بچّے کی جوان اور لقوہ میں مبتلا بہن کے لئے دوائوں کے ساتھ تجویز کیا ہے۔ یہاں افسانہ نگار نے معاملہ کی سنگینی کو بیان کرنا چاہا ہے۔ انھوں نے دکھانا چاہا ہے کہ حالات اس قدر گمبھیر ہیں کہ عام لوگوں کے جینے کے وسائل تک کو موجودہ سماجی وسیاسی نظام اپنے قبضہ میں لینے کی کوشش کررہا ہے مگر موجودہ معاشرہ اس قدر میکانکی زندگی جینے کا عادی ہوچکا ہے کہ اسے اس کا احساس ہی نہیں ہے۔ دیکھئے اس بے حسی وبے ضمیری کے منظر کو افسانہ نگار نے کس خوبی سے اُبھارا ہے:

’’شام ڈھلے، درختوں پر بسیرا لینے والی چڑیوں کی چہکار سنائی نہیں دیتی۔ لاجوردی آسمان پر سفید بگلے، توازن سے اُڑنے والے بگلے بھی دکھائی نہیں دیتے، بھری دوپہر کی خاموش فضا میں چیلوں کی دردبھری چیخ بھی سنائی نہیں دیتی۔ کبوتر کی غٹرغوں، پپیہے کی پی کہاں، مینا کی ٹوئیں ٹوئیں کی آواز سے کان محروم ہوجاتے ہیں۔ حتّی کہ مولوی صاحب کے مرغ کی اذان بھی کہیں کھوگئی ہے۔ ‘‘

’’لیکن بازار اور رونقِ بازار میں کوئی فرق نہیں آتا۔ خریدوفروخت جاری ہے۔ شور شرابہ، یکّے والوں کی کھٹ کھٹ، ٹم ٹم والوں کے گھوڑوں کی گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں، لمبی اور خوبصورت کاریں زوں زوں کرکے گذرتی جاتی ہیں، آمدورفت جاری ہے۔ کاروبار بدستور ہے، خریدنے والے اُسی طرح بازار کی دوکانوں پر جمے رہتے ہیں اور بیچنے والے اُسی انہماک سے سوداسلف بیچ رہے ہیں۔ ایک ہنگامہ ہے کہ جاری ہے۔ ایک دوڑ ہے کہ رُکنے کا نام نہیں لیتی۔ ‘‘

’’پھر دن ڈھلتا ہے، رات آتی ہے اور اپنے تمام چھوٹے بڑے، کھرے کھوٹے، سچّے جھوٹے بچوں پر آرام کی، سکون کی چادر تان دیتی ہے۔ پھر رات بھی چلی جاتی ہے، صبح نمودار ہوتی ہے اور خلقت بیدار ہوتی ہے۔ ‘‘ (5)

  اس افسانہ میں غیاث احمد گدّی نے موجودہ معاشرہ کے لوگوں کی مفادپرستی، بے حسی، بے ضمیری، ان کی میکانکی زندگی، حالات کی سنگینی اور باحس افراد کی لاچاری وبے بسی کو بڑی خوبی سے بیان کیا ہے۔ اسی سے ملتا جُلتا افسانہ ’’تج دوتج دو‘‘ ہے۔ اس میں معاشی اور سیاسی بددیانتی کی گرم بازاری کو دکھا یا گیا ہے۔ افسانہ کا مرکزی کردار خود افسانہ نگار ہے جو حسّاس اور باضمیر ہے۔ وہ ظلم واستبداد اور ناانصافی وبددیانتی کے خلاف احتجاج کرتا ہے مگر معاشرہ کا کوئی فرد اس کا ساتھ نہیں دیتا ہے۔ ایسے میں افسانہ نگار موجودہ مسائل کا حل تج دینے میں بتاتا ہے کیوں کہ معاشرہ کے لوگوں میں حس اور جذبئہ الفت ومحبت نہیں ہے جس سے وہ جدّوجہد کریں اور مسائل کو حل کریں۔ اس افسانہ میں افسانہ نگار نے سماج کی بددیانتی وبے ایمانی کو بھی اُجاگر کیا ہے اور اپنے عہد کی بے حسی اور بے ضمیری کی صورت حال پر بھی طنز کیا ہے۔ اپنے عہد کی المناک سماجی وتہذیبی صورت حال سے متاثر ہوکر غیاث احمد گدّی نے اور بھی کئی افسانے لکھے ہیں جن میں ’’ناردمُنی‘‘، ’’ایک خون آشام شام‘‘ وغیرہ ہیں۔ ان دونوں افسانوں میں بھی سماج کے تاریک پہلوئوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

 غیاث احمد گدّی کے افسانوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا مطالعہ وسیع نہ سہی مگر ان کا مشاہدہ عمیق ہے اور حیات وکائنات کے اسرارورموز سے انہیں گہری واقفیت ہے۔ انھوں نے اپنے افسانو ں کے لئے اپنے اردگرد پھیلی زندگی اور اس کی مختلف صورتوں سے مواد حاصل کیاہے۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں انسان کے نفسیاتی رشتوں کی عکاسی بڑی فنکاری سے کی ہے۔ اس سلسلہ میں وہ راجندر سنگھ بیدی سے متاثر معلوم ہوتے ہیں۔ کردارنگاری میں بھی انھوں نے اپنی فنی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے کردار جس ماحول ومعاشرے سے تعلق رکھتے ہیں اس کے سارے اوصاف ان میں پائے جاتے ہیں اور ان کے کرداروں کی زبان اور ان کا لب ولہجہ فطری معلوم ہوتا ہے۔

 غیاث احمد گدّی اس اعتبار سے منفرد حیثیت کے حامل ہیں کہ ان کے افسانوں کا ایک خاص تہذیبی پس منظر ہوتا ہے اور اسی پس منظر میں ان کے کردار اپنے خدوخال ظاہر کرتے ہیں۔ غیاث احمد گدّی جدید افسانہ کی ایک اہم کڑی ہیں۔ ان کے موضوعات ان کے اردگرد کی انسانی زندگی کے مختلف مسائل سے گہری مطابقت رکھتے ہیں۔ فرد اور معاشرے کی کشمکش، جنسی تھکن، نفسیاتی رشتوں کی پیچیدگی وغیرہ مسائل کی پیش کش اور روایتی وعلامتی اسلوب بیان، شعور کی رَو کی تکنیک کا استعمال وغیرہ ان کی تخلیقات کے اہم جز ہیں جن سے ان کی منفرد شناخت قائم ہوتی ہے۔ مشہورافسانہ نگار حسین الحق رقم طراز ہیں :

’’میرے خیال میں غیاث احمد گدی پر غور کرتے ہوئے چند اہم نکات کو پیش نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اول تو یہ کہ غیاث صاحب کے افسانے مسلمہ افسانوی ڈھانچے کی شکست کا نہیں بلکہ توسیع کا نشان ہیں۔ جن کہانیوں پر جدید رجحان کے اثرات ہیں مثلاََ ’’پرندہ پکڑنے والی گاڑی‘‘، ’’تج دو تج دو‘‘، ’’آخ تھو‘‘ ان میں بھی کہانی کا فارم ٹوٹتا نظر نہیں آتا۔ پھر یہ بھی کہ غیاث کے افسانوی ماحول کے بارے میں ایک مفروضہ پہلے تو یہ وضع کیا گیا کہ ان کے یہاں اینگلوانڈین ماحول کی عکاسی ہے، پھر دوسرا مفروضہ پیش کیا گیا کہ ’’گدیوں ‘‘ (یعنی مسلمان گوالوں ) کا ماحول ان کی کہانی کے لئے خام مواد کا کام کرتا ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ یہ دونوں مفروضے ادھوری صداقت پیش کرتے ہیں۔ پورا سچ یہ ہے کہ ماحولیاتی پیش کش میں غیاث احمد گدی کے وسیع تر مشاہدے اور ہمہ جہت تخلیقی عمل نے بہت معاونت کی ہے۔ ’’خانے تہہ خانے‘‘، ’’ڈوب جانے والا سورج‘‘، ’’پرندہ پکڑنے والی گاڑی‘‘ جیسے افسانے وسیع مشاہدے اور ہمہ جہت تخلیقی عمل کا ثبوت ہیں۔ البتہ گدی کی کہانیوں پر بنگلہ کہانیوں کی جزئیات نگاری، تاثرآفرینی اور حزنیہ کیفیت کے اثرات ضرور نظر آتے ہیں۔ مزیدبرآں یہ کہ گدی کی جزئیات نگاری بیدیؔ کی یاد بھی دلاتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ راجندرسنگھ بیدی کھردرے سے کھردرے الفاظ اور ازحد غیرمتوازن بلکہ بے ڈھنگی صورت حال کے درمیان سے بھی ایک خوب صورت تخلیقی آہنگ تلاش کرلیتے ہیں جب کہ غیاث احمد گدی منصہِ شہود پر نمایاں ہونے والے آہنگ کو نمایاں ہونے سے پہلے ہی شاید محسوس کرلیتے ہیں اور اسی مناسبت سے الفاظ اور صورت حال کا انتخاب کرتے ہیں، یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان کا تخلیقی آہنگ اپنے لئے صورت حال اور آہنگ کا خود ہی انتخاب کرتا ہے۔ ‘‘ (6)

 غیاث احمد گدّی نے اگرچہ کم لکھا ہے مگر انھوں نے افسانہ نگاری کے میدان میں جس فکری وفنّی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے اس کی بنا پر وہ ایک منفرد وممتاز افسانہ نگار کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔ ترقی پسند افسانہ نگاروں کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی اور حیات اللہ انصاری وغیرہ کے بعد افسانہ نگاروں کی جو دوسری نسل سامنے آئی، اس میں غیاث احمد گدّی اہم مقام رکھتے ہیں۔

حوالے

(1) اقبال متین، باتیں ہماریاں، گونج پبلیکیشنز، اردوگھر، احمدی بازار، نظام آباد، 2005ء، ص: 120۔

(2) مرزا حامد بیگ، اُردوافسانے کی روایت، ص: 1034۔

(3) شاہدتسلیم، تعارفی خاکے، مشمولہ، نمائندہ اُردوافسانے، مرتّب، پروفیسر قمررئیس، ص: 420۔

(4) غیاث احمد گدّی، افسانہ، پرندہ پکڑنے والی گاڑی، مشمولہ، برصغیر میں اردوافسانہ، مرتب، خالد اشرف، ناشر، مرتب، 2010ء، ص: 683، 684۔

(5) ایضا، ص: 689، 690۔

(6) حسین الحق، استعارہ ساز گدّی، مشمولہ، اردوفکشن ہندوستان میں، (جلداوّل) ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، دہلی، 2014ء، ص:106، 107۔

مزید دکھائیں

احمد علی جوہر

ریسرچ اسکالر، ہندوستانی زبانوں کا مرکز جواہرلعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی

متعلقہ

Close