افسانہ

فطرت

شہلاکلیم

فجر کو آئے  ہوئے ابھی دو دن ہو ئے تھے اور دوسرے ہی دن اسکی رازدار سہیلی نتاشا اس سے ملنے آ دھمکی چائے  ناشتے کے دوران ڈھیروں باتیں ہوئیں۔۔۔ نتاشا اس سے ساس نندوں کے رویے، سسرال کے حالات اور طور طریقوں کے بعد شریک حیات کے عادات و اطوار پر ڈھیروں سوال کرتی رہی اور فجر ایکزام ہال میں بیٹھے کسی ذہین طالب علم کے رٹے ہوئے مضامین کی طرح بغیر اٹکے جواب دیتی رہی۔۔۔۔ وقار ایک ایسا شریک حیات ثابت ہوا تھا جسکے متعلق گفتگو کرتے وقت اٹکنے کی گنجائش ہی نہیں تھی۔۔۔۔ جب کبھی وہ وقار کے حسن اخلاق پہ غور کرتی تو اپنی قسمت پہ ناز کرتی اور اسے اپنے ماضی سے نفرت ہونے لگتی۔۔۔۔ اپنی ایک بھول پہ شدت سے پچھتاوا ہوتا اور وہ شرمندگی کی گہری کھائی  میں گرنے لگتی۔۔۔

ڈھیروں باتیں کرنے اور خوب وقت ایک ساتھ گزارنے کے بعد نتاشا نے اجازت طلب کی اور جاتے جاتے ایک شوشہ چھوڑ گئی۔۔۔۔

”جناب آجکل نئی معشوقہ کو لیے پھرتے ہیں۔۔۔“

نتاشا تو چلی گئی مگر اسکا آخری جملہ فجر کیلئے ایک بوجھ سا بن گیا۔۔۔۔ وقار جیسے ہم سفر کے باوجود نتاشا کی یہ اطلاع اسکے اندر عجیب سی ٹیسیں پیدا کر رہی تھی۔۔۔۔

اس نے تھکے ہوئے مسافر کی طرح اپنا وجود بیڈ پر گرایا اور سرہانے سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔۔۔۔۔

اور پھر تخیل کی دنیا میں گم ہوکر اسنے عالیان کا گریبان پکڑا اور اسے زور زور جھنجھوڑ کر سوالات کی جھڑی لگا دی۔۔۔

    ”میں اب محبت کر ہی نہیں سکتا، مجھے اب محبت نہیں ہوسکتی، تم میری پہلی اور آخری محبت ہو“

یہی کہا کرتے تھے نا تم، لیکن دیکھو نا تمہیں محبت ہو گئی، دوسری بار بھی۔۔۔۔ہو سکتا ہے تیسری بار بھی ہو، اور بار بار ہو، جانتے ہو کیوں۔۔۔۔؟؟؟ کیونکہ تم مرد ہو۔۔۔۔اپنی فطرت سے مجبور ہو۔۔۔۔!!!

لیکن ایک سوال ہے تم سے۔۔۔۔ کہ اگر یہ محبت ہے تو وہ کیا تھا جس کا اظہار تم مجھ سے کرتے تھے، اور اگر وہ محبت تھی تو یہ کیا ہے جو تم اب کرتے پھر رہے ہو۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اگر تم کسی انجان کو جاننے کا تجسس اور اس انسانی فطرت کو محبت سمجھتے ہو تو ہو سکتا ہے تم غلط ہو کیونکہ یہ وقت گزاری ہو سکتی ہے محبت تو ہرگز نہیں۔۔۔۔۔

کیا واقعتاً تم دوبارہ محبت کے دعویدار ہو۔۔۔۔؟؟؟ تو بتائے نا۔۔۔۔!! کیا اس کے نزدیک آنے پر اس کی سانسوں کی گرمی سے تمہاری دھڑکنیں ویسے ہی بڑھ جاتی ہیں جیسے میرے نزدیک آنے پر تمہاری سانسیں ڈولنے لگتی تھیں۔۔۔۔کیا اسکا ’لمس ‘پاکر تمہارا ’وجود ‘ویسے ہی سرشار ہو جاتا ہے ، جیسے میرا ’لمس ‘پاکر تم ساری دنیا سے ’بیزار ‘ہوجایا کرتے تھے۔۔۔۔کیا اسکے ’گالوں ‘پہ مچلتی زلفوں کو اپنی ’انگلیوں ‘سے ویسے ہی پیچھے کر دیتے ہو جیسے میری ’سیاہ لٹیں ‘اپنی انگلیوں سے ’کانوں ‘کے پیچھے کردیا کرتے تھے۔۔۔۔کیا تمہاری پیشانی پہ بکھرے بالوں کو وہ ویسے ہی سمیٹ دیتی ہے جیسے میں سمیٹ دیا کرتی تھی۔۔۔۔بتائے نا۔۔۔۔کیا تمہاری نگاہوں کی تپش سے اسکے ’رخساروں ‘کا رنگ بھی تبدیل ہو جاتا ہے جیسے تمہاری ’سرمگی نگاہوں ‘کی تپش سے میرے رخساروں پر ہزاروں رنگ اتر جایا کرتے تھے۔۔۔۔کیا اس کی ’معصوم شوخیوں ‘پر بھی تمہیں ویسے ہی ٹوٹ کر ’پیار ‘آتا ہے جیسے مجھ پر آیا کرتا تھا۔۔۔۔کیا ناراضگی میں اسکی پیشانی پہ پڑنے والی شکن کو بوسہ دے کر ٹھیک ویسے ہی دور کر دیتے ہو جیسے میری کردیا کرتے تھے۔۔۔۔بتاؤ نا۔۔۔۔کیا اس پر بھی عیاں کردئیے وہ سارے راز  جو صرف مجھ پر عیاں تھے۔۔۔۔کیا سرد لمبی راتوں میں تم دونوں بھی دیر رات تک باتیں کرتے ہو جیسے ہم دونوں ایک دوسرے کے وجود میں گم رہا کرتے تھے۔۔۔۔خدارا بتاؤ نا۔۔۔۔کیا اس سے بھی وہ سارے وعدے کر ڈالے جو مجھ سے کئے تھے۔۔۔۔کیا چاند کی مدھم روشنی میں اس کے ساتھ بھی وہ سارے ’سپنے ‘دیکھ لئے جو کبھی میں نے تمہاری ’بانہوں ‘میں دیکھے تھے۔۔۔۔کیا کبھی نہ بچھڑنے اور ساتھ مرنے جینے کی قسمیں بھی کھالیں جو ہم نے بھی شدت جذبات میں کھائیں تھیں۔۔۔۔بتاؤ نا۔۔۔۔کیا جدائی اور موت جیسے الفاظ کی ادائیگی کو اسکے لبوں پہ انگلی رکھ کر ویسے ہی روک دیتے ہو جیسے مجھے روک دیا کرتے تھے۔۔۔۔تم کچھ بولتے کیوں نہیں؟؟؟۔۔۔۔خدارا بتاؤ نا۔۔۔۔سچ سچ بتاؤ۔۔۔۔کیا واقعی محبت کر بیٹھے ہو۔۔۔۔؟؟ یا صرف دل لگی!!!!  ہاں شاید۔۔۔۔شاید تمہیں محبت ہو گئی۔۔۔۔!! کیونکہ تمہارے لیےعورت نام ہے ’ضروریات ‘کا، وقت گزاری کا، خواہشات کی تکمیل کا، اور اور صرف ہوس پرستی کا۔۔۔۔سنو!! جسے تم صنف نازک کہتے ہو نا۔۔۔۔اس کی طاقت کی کیا مثال دوں۔۔۔۔بڑی عجیب ہے صنف نازک اس کا اپنا کوئی گھر نہیں ہوتا، اپنی خواہشات نہیں ہوتیں اور نا اپنے لیے جیتی ہے۔۔۔۔کبھی بیٹی، کبھی بہن، کبھی بیوی، کبھی ماں بن کر وہ صرف اپنی خواہشات کا قتلِ عام کرتی ہے، اور بدلے میں جانتے ہو وہ کیا چاہتی ہے۔۔۔؟؟؟ صرف محبت۔۔۔۔۔بنا تقسیم کے۔۔۔۔بنا بٹوارے کے۔۔۔۔بنا کسی کی ساجھے داری کے، کیونکہ ایک محبت ہی تو ہے جس کا وہ بٹوارہ نہیں چاہتی۔۔۔۔ایک محبت کا  ہی تو رشتہ ہے جس میں وہ خلوص، وفا، اور ایثار کا سنگم دیکھنا چاہتی ہے۔۔۔۔مگر ”فطرت“ کہاں بدلتی ہے جاناں۔۔۔۔۔!!! تمہیں محبت ہوگی، پھر ہوگی اور باربار ہوگی آخر تم ’مرد ‘جو ہو۔۔۔۔۔لیکن سن لو وہ محبت نہیں دل لگی ہوگی۔۔۔۔محبت پاکیزہ جذبہ کے رشتہ کو کہتے ہیں۔۔۔۔محبت کسی اصول اور سمجھوتے کی رہین منت نہیں ہوتی۔۔۔محبت میں تو کسی دوسرے کا تصور بھی شرک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگ اپنی ’حرص ‘مٹانے کے جذبے کو محبت کا نام کیوں دیتے ہیں۔۔۔۔محبت تو مقدس ہوتی ہے۔۔۔۔کسی ’آسمانی صحیفے ‘کی طرح ،قرآنی آیت کی طرح جسے دیکھا بھی پاک نظروں سے جاتا ہے۔۔۔۔۔۔جسم حاصل کرنا اصل نہیں دل پالینا محبت کی فتح ہے۔ محبت نیک نیتی کا نام ہے۔۔۔۔۔اور پیار خالص ہوتا ہے بنا کسی غرض، بنا کسی مطلب کے۔۔۔۔عشق روح سے ہونا چاہئے جسم سے نہیں۔۔۔۔سنو جاناں۔۔۔۔۔۔ایک محبت ہی ہے جو انسان کو جینے کے حوصلہ دیتی ہے.۔۔۔۔۔ وہ حوصلہ جو وقار کو فجر کی محبت سے ہے۔۔۔۔اور وہ محبت جو میرے شریک سفر کو مجھ سے ہے۔۔۔۔۔“

وقار کے نام پر فجر نے ایک جھٹکے سے آنکھ کھولی اپنے اطراف کا جائزہ لیا۔ وہاں کوئی عالیان نہ تھا۔۔۔

ماضی کی تلخیوں کو مٹانے اور ان یادوں سے فرار پانے کے لیے اس نے بک شیلف کی طرف ہاتھ بڑھا کر ایک کتاب نکالی اور اوراق الٹنے پلٹنے لگی یکایک اسکی نظر منٹو کے ایک افسانے پر ٹھہرجسکا عنوان تھا ”الو کا پٹھا“۔۔۔۔

فجر نے منٹو کے اس عنوان میں لفظ ”محبوب“ کا اضافہ کرکے ایک جملہ ترتیب دیا اور من ہی من کئی بار بڑبڑایا۔۔۔۔

”الو کا پٹھا محبوب“

پھر نا جانے کیوں ایک زہر آلود طنزیہ مسکراہٹ اسکے لبوں پہ دوڑ گئی۔۔۔۔۔مگر یہ مسکراہٹ عالیان کے لیے ہرگز نا تھی۔۔۔ شاید وہ مرد کی فطرت بےنقاب کرتے کرتے عورت کی فطرت سے بھی واقف ہو چکی تھی۔۔۔۔!

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close