افسانہ

فیصلہ

شہلا کلیم

 کسی سیمینار میں شرکت کے لئے اعظم گڑھ سے ممبئی تک ٹرین سے سفر کے دوران ایک بوگی میں مسلم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سوار تھی۔

ان نوجوانوں میں دو قسم کے افراد تھے۔ ایک تو وہ جنکے بارے میں کہا گیا۔۔۔”گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا۔۔۔۔“

دوسرے وہ جو جدت پسند اور آزادانہ سوچ رکھنے والے تھے۔جن میں کچھ تو بڑی بڑی یونیورسٹیوں  میں رسرچ اسکالرتھے اور کچھ تعلیم سے فراغت کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھ چکے تھے۔۔۔ دوسری قسم کے نوجوانوں میں انجینئر، سائنٹسٹ،وکیل ،تاریخ داں اور جرنلسٹ سے لیکر ادیب، شاعر اور مصنف تک موجود تھے۔۔۔۔

المختصر یہ وہ کثیر العلم اور کثیر المطالعہ جدت پسند افراد تھے جنھوں نے دنیا جہان کی کتابیں چاٹ ڈالیں تھیں۔ اور انکے علم و مطالعہ اور ذہانت و ذکاوت کے سامنے یہ دقیانوسی اور قدامت پسند اہلِ مدرسہ ٹک نہیں سکتے تھے۔۔۔۔

سفر کی بوریت سے بچنے کے لیے کچھ افراد کتابوں کی ورق گردانی میں مشغول تھے، کچھ موبائل میں جھکے ہوئے تھے ، کچھ اونگھ رہے تھے اور کچھ گروپ کی شکل میں گفتگو میں مگن تھے۔ گفتگو کرنے والوں کے بیچ ”علم و مطالعہ کی اہمیت“ زیرِ بحث تھی۔۔۔۔

علم و مطالعہ کی اہمیت پر اچھی خاصی روشنی ڈالنے کے بعد اب وہ کسی بحث میں الجھ چکے تھے۔۔۔۔

”علم و مطالعہ اور ذہانت و ذکاوت کی زیادتی انسان کو الحاد کے پُر فریب راستے پر گامزن کر دیتی ہے۔ کثیر المطالعہ افرادکی اکثریت ذہنی دیوالیہ پن کا شکار ہے اور یہ دنیاوی مقاصد میں الجھ جاتے ہیں۔۔۔۔“

ایک دقیانوسی طالبِ علم نے شوشہ چھوڑا۔۔۔ایک طالب علم جو اہلِ مدرسہ ہونے کے ساتھ ساتھ آزاد خیال بھی تھا اس نے اسکی بات کی تردید کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

”میں اس بات سے متفق نہیں یہ محض اپنی ذہنیت کا فطور اور انسان کے فہم و فراست پہ منحصر ہے کہ وہ علم کو کس رو میں بہا لے جائے کیونکہ علم، مطالعہ اور ذہانت و ذکاوت نے ہی جہاں ایک طرف انسانوں کے رخ الحاد کی طرف موڑ دی، وہیں دوسری طرف اولیا ٕ بھی پیدا کر دی ۔ البتہ کثیر العلم لوگوں کا ’ولی ـ‘ہو جانا یا ’ملحد ‘بن جانا ایمان کی پختگی یا کمزوری کی دلیل ہے۔ جسکی بہترین مثال یہ شعر ہے۔۔۔

علم ایک شبنم بھی ہے، موتی بھی ہے، تارا بھی ہے۔۔۔

غلط ہاتھوں میں پڑ جائےتو انگارا بھی ہے۔۔۔۔“

”تم اہلِ مدرسہ ہمیشہ ہمیشہ قدامت پسند رہوگے۔۔۔۔۔ “موبائل والے نے اسکرین سے نظریں ہٹا کر دخل دیا۔۔۔”علامہ نے درست فرمایا ہے۔۔۔

گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا۔۔۔

کہاں سے آئی صدا لا الہ الا اللہ۔۔۔۔“

”صدا تو دن بھر میں پانچ مرتبہ کافر کے کانوں میں بھی پڑ ہی جاتی ہے۔۔۔کیا تم صدا سن کر اس پر غور و فکر میں لگ جانے والے اور صدا سن کر بلا تامل لبیک کہنے والے کو برابری کے درجے میں رکھتے ہو۔۔۔؟؟

  ایک اہلِ مدرسہ نے سوال داغ دیا۔۔۔

”تم ملّائوں کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ تم مکالمہ کی بجائے مناظرہ پہ آمادہ ہو جاتے ہو دراصل تمہاری پرورش جس ماحول میں ہوتی ہے وہاں مکالمہ کی گنجائش کم ہی نکلتی ہے۔۔“

پھر کیا تھا بحث نے طول پکڑا اور سب اس گروپ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اونگھنے والے پوری طرح بیدار ہو گئے، موبائل اور کتاب والوں نے اپنی اپنی چیزیں سائیڈ میں رکھ دیں۔۔۔۔اور اہلِ مدرسہ پر لعن طعن کی بوچھاڑیں ہونے لگیں۔۔۔

”علامہ جیسے مفکرِ قوم پر بھی تمہیں سوال ہیں جنھوں نے قوم کو بیدار کرکے انکے اندر جزبہ ٕ ایمان اور جوش و ولولہ کی روح پھونک دی۔۔۔“

”اوہ۔۔ یعنی تم نرم بستروں پر آرامدہ کمروں میں بیٹھ کر قوم کے غم میں گھلنے والے مفکروں کو اس خالد بن ولید جیسی شخصیتوں پر فوقیت دینا چاہتے ہو جنکے جسم کا کوئی حصہ تلواروں کی ضربوں سے خالی نہ تھا۔۔۔“

ایک قدامت پسند تقریباً پھٹ پڑا۔۔۔۔

”ضرورت اس بات کی ہے کہ رہبانیت اختیار نہ کرتے ہوئے دنیا سے با خبر رہا جائے، ملک و بیرون ملک کے حالات سے واقفیت رکھی جائے، اپنے مذہب کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کی معلومات بھی حاصل ہوں، صرف قوم قوم کا نعرہ نہ لگا کر ہر قوم کے خیالات کا علم ہو اور انکا احترام کیا جائے، قومی ادب کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کو بھی پڑھا جائے اس سے فکر و نظر کے نئے زاویے سامنے آتے ہیں اور دنیا کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے کا موقع فراہم ہوتا ہے۔۔۔۔“

ایک آزاد خیال جرنلسٹ جو بہت دیر سے خاموش تھا اس نے نصیحتیں کیں۔۔۔۔

”میاں تم تو رہنے ہی دو ایک بنیا اپنی دکان پہ ہر فرد کو صرف گراہک کی نظر سے دیکھتا ہے۔۔ ملک، قوم، خیالات اور مذاہب اسکے لئےکو ئی معنی نہیں رکھتے ورنہ پھر اسکی دکان کیسے چلےگی۔۔۔“

پھر وہی دقیانوسی خیال۔۔۔

ابھی گفتگو جاری تھی گتھی الجھتی ہی جا رہی تھی طرفین میں کسی کی بھی ہار جیت کا فیصلہ نہ ہو سکا کہ اسی دوران ٹرین ایک اسٹیشن پر رک گئی اتفاقاً اذان کی آواز سنائی دی۔۔۔

تمام اہلِ مدرسہ اسٹیشن پہ کود پڑے وہ بھی جو آزادانہ خیالات رکھنے والے اہلِ مدرسہ تھے اور اب مدرسہ سے فراغت کے بعد یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم تھے اور وہ بھی جو دقیانوسی قسم کے قدامت پسند تھے، وہ بھی جو ملّا تھے اور وہ بھی جو زاہد تھے۔

البتہ کچھ لوگوں کے علاوہ کثیر العلم مفکروں کا ٹولہ صدا سن کر لبیک کہنے کی بجائے اب ’ملّا اور زاہد کی اذان ‘میں فرق تلاش کرنے میں مصروف ہو گیا تھا۔۔۔

ایک طالبِ علم جو گھنٹوں سے خاموشی کے ساتھ ان سب کی گفتگو سن رہا تھا اور ابھی تک ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا۔ وہ رکا اور آہستہ آہستہ کہنے لگا۔۔۔۔۔

”ان جدت پسندوں سے میں ۹۹‘فیصدی متفق ہوں اور جو ایک فیصد اختلاف ہے وہ دراصل اختلاف نہیں بلکہ انکی زندگی کی اصل حقیقت اور کھوکھلے پن پر افسوس ہے۔۔۔۔

جدت پسند اور آزاد سوچ رکھنے والے، عمل سے کورے یہ کثیر العلم مفکر برستی بارشوں میں قومی اور عالمی ادب کے انباروں کے درمیان کھڑکی کے پاس گرم چائے کی پیالیوں کے ساتھ آرام دہ کرسیوں پہ بیٹھ کر اہلِ مدرسہ کی دقیانوسی اور قدامت پسندی پہ افسوس کرتے ہوئے قوم کی فکر میں گھلے جاتے ہیں۔۔۔۔لیکن جب قریبی مسجدوں سے لا الہ الا اللہ کی صدا بلند ہوتی ہے تو یہ بلا تامل لبیک کہنے کی بجائے  ملّا اور زاہد کی اذانوں میں فرق تلاش کرنے بیٹھ جاتے ہیں اور آخر کار اپنے کثیر علم کی روشنی میں اپنے لئے کو ئی نہ کوئی ’عذر ‘تلاش کر ہی لیتے ہیں۔۔۔۔

یہ کثیر المطالعہ کے دعوےدار، ذہانت و ذکاوت کے وہ علمبردار ہیں جنھوں نے کائنات کے کونے کونے سے لا کر تمام تر علم کو اپنے ذہن کے وسیع و عریض دامن میں سمیٹ لیا۔۔۔صرف اس ایک آیت کے۔۔۔۔

’’وَمَا خَلَقْتُ الجِنَّ وَ الاِنْسَ  اِلَّا لِیَعْبُدُون‘‘۔۔۔۔اور ہم نے انسان اور جنات کو صرف اپنی عبادت کےلیے پیدا کیا ہے۔ القرآن۔

  اتنا کہہ کر وہ بھی اسٹیشن کی طرف دوڑ پڑا۔۔۔۔

مزید دکھائیں

شہلا کلیم

مرادآباد، انڈیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close