افسانہ

قیمتی انڈے

عزیز اعظمی

میرے کانوں میں جیسے ” انڈا بیچو” کی آواز پہونچتی میں دوڑ کر گلی میں آتا اور اقبال بابا کا ہاتھ پکڑ کر گھر لے جاتا، نانی پان کھاتی تھیں وہ اقبال بابا سے انڈے کے بدلے پان لیا کرتیں، اس وقت مودی جی گجرات سے دہلی نہیں آئے تھے انڈیا ڈیجیٹل نہیں ہوا تھا، علاج معالجہ، بجلی، پانی فری نہیں تھا، نہ سڑکیں شیشے کی تھیں نہ گلیاں ماربل کی، نہ کسی کے پاس بینک نہ کھاتہ، نہ لاکھ نہ پندرہ لاکھ، نہ آدھار نہ اُدھار، نہ جملہ نہ حملہ، نہ  ھَتّیا نہ آتم ھَتّیا اس لئے کِسان بدحال نہیں خوشحال تھا  گھر میں مٹی کی بنی کُوٹھی میں رکھا اناج ہی اس کا بینک اور بیلینس تھا، دیہات کی کھیتی باڑی پر منحصر زندگی میں روز مرہ کی چیزیں پیسے کے بجائے غلے سے خریدی جاتیں کہیں اناج کے بدلے انار تو کہیں انار کے بدلے اناج، کہیں سرسوں کے بدلے سبزی تو کہیں سبزی کے بدلے صابن ہر چیز اناج سے ہی لی جاتی، بس اقبال بابا اس وقت کے ایسے تاجر تھے جو اناج کے بجائے انڈے کے بدلے پان دیا کرتے، کیونکہ جب سے علاقے میں نسواں اسکول قائم ہوئے، بچیوں میں تعلیمی بیدارای آئی، گھروں میں پڑھی لکھی بہوویں آئیں، سلیقہ آیا، نفاست عام ہوئی تو مرغی کے دربوں کی جگہ پھول کے گملوں نے لے لی، دیسی انڈوں کی جگہ فارمی انڈوں نے لے لی  مرغیاں گھر سے باہر تو گئیں لیکن انڈوں کی قیمت بڑھ گئی، ایسے میں اقبال بابا کو اناج کے بدلے پان دینے سے زیادہ منافع انڈے کے بدلے پان دینے میں تھا اس لئے وہ انڈے کے بدلے پان بیچا کرتے، نانی کے گھر میں ابھی کوئی اعلی تعلیم بہو نہیں آئی تھی اس لئے نانی آج بھی اپنے من مطابق مرغیاں پالتیں اور انڈے کے بدلے اقبال بابا سے پان لے لیا کرتیں۔

اقبال بابا قریب کے ہی کسی گاؤں کے رہنے والے تھے اس لئے ہفتے میں ایک بار ہمارے گاؤں کا بھی چکر لگا لیا کرتے، جھکی کمر، کمزور بینائی، ننگے پاؤں، سر پر ٹوکری اٹھائے اقبال بابا کو جب آتے ہوئے دیکھتا تو یہی دل کرتا کہ انکی ٹوکری اپنے سر پررکھ لوں، اس عمر میں انکی ہمت، محنت، جدوجہد  دیکھ کر بڑا ترس آتا، انکی ضیف العمری دیکھ  کر ایک دن نانی نے کہہ دیا کہ بابا آپ اکیلےمت آیا کریں کسی بچے کو ساتھ  لے لیا کریں اب آپ بہت کمزور ہو گئے ہیں۔

بی بی ! آپ کی بات صحیح ہے لیکن کیا کروں مجبوری ہے گھر پہ بیگم اکیلی ہیں، کوئی بیٹی ہے نہیں، دو بچے ہیں دونوں اسکول رہتے ہیں کسے لیکر آؤں، بچے پڑھتے ہیں انھیں اپنے ساتھ کیسے لاوں، کیا کہا آپ نے ؟ بچے پڑھتے ہیں ! بابا آپ بھی کمال کرتے ہیں، عمر کے اس حصے میں جب آپ کو سہارے کی ضرورت ہے، کمزور ہوچکے ہیں، کمر جھک چکی ہے، بینائی کمزور ہے، مفلسی اور تنگ دستی کے اس حالت میں آپ اپنی جان پر ظلم کیوں کر رہے ہیں، بابا پڑھائی لکھائی خوشحال لوگوں کے لئے ہے، مفلوق الحال، تنگ دست لوگوں  کے لئے نہیں اپنی جان پر اور ظلم مت کریئے، بچوں سے کہیئے کہ آپ کا ہاتھ بٹائیں، آپ نے ساری عمر سر پر ٹوکری اٹھائے گزار دی اب آپ آرام کریئے، نانی کی باتیں سن کر بابا کی آنکھوں میں آنسو آگئے، بھیگے لہجے، خشک زبان، کانپتی آواز میں کہنے لگے کہ بیٹا اگرآج میں نے اپنی جان پر ظلم کرکے انھیں صحیح راستہ نہیں دکھایا تو کل وہ اپنی جان پر ظلم کریں گے، بغیر علم و ہنر نہ تو انھیں جینے کا سلیقہ ہوگا اور نہ ہی کچھ کرنے کا طریقہ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ میرے بچے بھی سر پر ٹوکری اٹھائے میری طرح انڈے کے بدلے پان بیچیں اور پھر انکی آنے والی نسلیں بھی۔ ۔۔۔۔ بیٹا غربت و افلاس کے اس اندھیرے سے نکلنے کے لئے کسی نہ کسی کو تو قربانی دینی ہوگی تو کیوں نہ میں ہی قربانی دیکر انکو اور انکی آنے والی نسلوں کو بچا لوں۔

نہیں بابا ! اللہ نہ کرے کہ وہ آپکی طرح مشقت بھری زندگی گزاریں اللہ انھیں خوش رکھے میں تو آپکی عمر اور کمزوری دیکھ کر کہ رہی تھی کہ کچھ کام کرتے تو آپکو سہارا ملتا پڑھنے کے بعد پتہ نہیں اس زعفرانی دور میں نوکری ملے نہ ملے، اس دور حکومت میں گائے کا مستقبل تابناک تو ہے لیکن مسلمانوں کا نہیں، بیٹا ! تعلیم کا مطلب نوکری ہرگز نہیں اگر تعلیم نوکری اور پیسہ نہ بھی دے تو زندگی  جینے کا سلیقہ ضرور دے جاتی ہے، رزق کا تعلق قابلیت وصلاحیت سے نہیں بلکہ اللہ کی حکمت پر منحصر ہے، میں سالوں سے اس علاقے میں پان بیچتا ہوں نہ جانے کتنے ایسے صاحب ثروت دیکھے جنکی دولت کے خاتمے کے بعد آج انھیں کوئی نہیں جانتا اور نہ جانے کتنے ایسے مفلوق الحال تعلیم یافتہ لوگوں کو دیکھا جن کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے وہ مر کے بھی زندہ جاوید ہیں، اور وہ جی کر بھی گمنام، میں اپنے بچوں کو ان زندہ جاوید لوگوں میں دیکھنا چاہتا ہوں۔  بابا۔ ۔۔۔۔ اللہ آپکی خواہش پوری کرے، آپکو صحت دے، آپکو ہمت دے، آپکے بچوں کو کامیب کرے، بابا میری باتوں کو برا مت مانیئے گا میں اپنے تلخ لہجے پر شرمندہ ہوں۔

کوئی بات نہیں بیٹا آپ شرمندہ نہ ہوں مجھے برا نہیں لگا میں تو ایسی باتیں سننے کا عادی ہو چکا ہوں اورآپ تنہا نہیں ہیں جنھوں نے مجھے یہ مشورہ دیا کہ بیٹے کام کرتے تو آپ کا سہارا بنتے، سیکڑوں لوگوں نے کہا بلکہ کچھ لوگ تو یہاں تک کہ گئے کہ دو وقت کی روٹی کو محتاج ہیں اور خواب اتنے اونچے، میرے کام اور غربت کی وجہ سے  میرے اکثر رشتے، ناطے مجھ سے منھ موڑ گئے، کچھ  رشتہ توڑ گئے تو کچھ  گھر آنا، جانا بھول گئے، اور کچھ  اونچی ناک والے ایسے بھی ہیں جو مجھے اپنا کہنے سے بھی انکار کر گئے، رشتے، ناطے، معاشرے کی اس بے رخی نے میرے دل کو ٹھیس تو پہونچایا، میری روح کو زخمی تو کیا لیکن میں اپنے ارادے اور سوچ سے پیچھے نہیں ہٹا، کیونکہ مجھے اپنوں بچوں کی محنت اور اللہ پر یقین کامل ہے کہ اللہ میری اس قربانی کو رائیگاں نہیں ہونے دیگا، بیٹا حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے، وقت بدلتا ہے آج برا وقت ہے کل اچھا ہوگا، آج ناسازگار ہے کل سازگار ہوگا مجھ سے منھ موڑنے والے، مجھے حقیر و بے وقوف سمجھنے والے کل قصیدے پڑھینگے۔  کیونکہ دنیا اس قدر مطلب پرست اور مفاد پرست ہے کہ صرف عزت، دولت، مرتبت کے پیچھے بھاگتی ہے انسانیت، شرافت، صداقت کے پیچھے نہیں۔  معاشرے کی اسی تلخی اور تنگ خیالی سے بچانے کے لئے میں نے اپنے حصے کی کچھ  جائداد بیچ کر اپنے بچوں کو ہاسٹل میں ڈال دیا اور لوگوں کے طنز و تعریض کی پرواہ کئے بغیر، کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے بغیر اپنے گزر بسر کے لئے گلیوں میں ” انڈا بیچو، انڈا بیچو کی ہانک لگا کر اپنے حصے کا رزق کما لیتا ہوں، جو ہم میاں، بیوی کے لئے کافی ہوتا ہے، بیٹا بس بچوں کی پڑھائی میں ایک سال اور بچے ہیں اللہ سے دعاء کرئیے گا اللہ انکو کامیابی دے اور مجھے عزت۔

بابا کی حوصلہ بخش باتیں سن کر نانی بڑا متاثر ہوئیں اور مجھ سے کہنے لگیں بیٹا جاوید دیکھ رہے ہو اقبال بابا کو کتنی مشقت اٹھا کر اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں میری تو دل سے دعاء ہے اللہ انکو کامیاب کرے اور دنیا و آخرت دونوں جہاں میں سرخ رو کرے۔

بیٹا جاوید تم بھی محنت سے پڑھو اقبال بابا جب اتنی تنگی میں اپنے بچوں کو پڑھا سکتے ہیں تو تمہارے پاس تو اللہ کا دیا سب کچھ ہے انکی طرح تنگ دست تو نہیں کل ہی میں تمہارے والد سے کہتی ہوں کہ تمہاری پڑھائی پر دھیان دیں اور بیٹا تم بھی اقبال بابا کے بیٹوں کی طرح محنت سے پڑھو، محلے کے امیر زادوں اور سیاست بازوں جیسا بننے کا خواب چھوڑ کر اقبال بابا کے بچوں جیسا بننے کی کوشش کرو اللہ تمھیں بھی کامیاب کرے گا۔  اقبال بابا کی ہمت اور نانی کی باتوں نے اس دن مجھے بڑا حوصلہ دیا میرے سینے کو عزم و حوصلے سے بھر دیا، اور ارادہ کیا کہ میں بھی اقبال بابا کے بچوں کی طرح محنت سے پڑھونگا اور کچھ بن کرد کھاونگا۔

گرمی کی چھٹیاں ختم ہو گئیں ہم دیلی واپس چلے گئے، ابو سال میں ایک بار گاوں آتے لیکن میں اپنی ایکسٹرا کلاسییز کی وجہ سے گاوں نہیں جا پاتا، پانچ سال بعد خالہ کی شادی پر جب دہلی سے گاوں گیا تو پہونچتے ہی نانی سے پہلے یہی پوچھا کہ کیا اقبال بابا آج بھی پان بیچنے آتے ہیں، نانی کہنے لگیں نہیں بیٹا اقبال بابا سرخ رو ہو گئے انکے سنہرے دن  لوٹ آئے   بچے پڑھ لکھ کر بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو گئے، ایک بیٹا امیریکہ رہتا ہے دوسرا علی گڑہ یونیورسٹی میں پروفیسر ہے  اب وہ مستقل علی گڑھ ہی رہتے ہیں، لیکن سال میں ایک بار گاوں آتے ہیں تو مجھ سے ملنے ضرور آتے ہیں، ماشاء اللہ اب صحت مند بھی ہیں، آج کل بڑے بیٹے نے امیریکہ بلا لیا ہے پانچ مہینے سے وہیں ہیں، اپنے گاوں کے پاس  ہی مین روڈ پر ایک پولیٹیکنک  بنوا رہے ہیں، اگلے مہینے اس کا  افتتاح  ہے اس موقعے پر بچوں کے ساتھ آینگے تم تو چلے جاوگے ورنہ انکے لائق و فائز اور مہذب بیٹوں سے تمہیں ضرور ملاتی ان سے مل کر دل خوش ہو جاتا ہے، اللہ سب کو اقبال بابا جیسی اولاد عطاء کرے .

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close