افسانہ

لازوال محبت

حسن عسکری

آج پردیس سے بیٹا گھر واپس آرہا ہے ایک دن پہلے سے ہی ماں بیٹے کے انتظار میں راہ تک رہی ہے۔ ۔ہاجرہ اپنے پیارے شوہر کی خاطر و خیر مقدم کی تیاریوں میں مصروف ہے بچہ کو نیا لباس پہناکر دروازے پہ کھڑی راہ تک رہی ہے بار بار بچہ کو پیار کرتی اور چھاتی سے لگاتی اور خوش ہوتی کہ وہ اس پیارے بچے کو پیارے شوہر کی گود میں دیدے گی وہ بے انتہا خوش ہوجائیں گے اس طرح کا خیال دل میں رکھ کروہ پھولے نہ سمائی تھی آتے ہی آتے وہ اسے گود میں اٹھالیں گے اور پیار کر یں گے اور کہیں گے ہاجرہ تم نے مجھے یہ پھول دے کر پردیس کی ساری سختیوں کو ختم کردیا۔

پردیس کی ساری سعو بتیں بچے کین توتلی باتوں میں بھول جائیں گے اس کی ایک طفلانا معصوم سی نگاہ میں سارے دکھ ختم ہوجائیں گے ….وہ سوچتی تھی سارے پردیسیوں کی طرح یہ بھی اپنے ہمراہ بہت سے سامان اور پیسے لائیں گے جس وقت گھر کے پاس آئیں گے ایک بڑی سی گاڑی ہوگیجس کے اندر بہت سے کھلونے ہوں گے اور کھانے پینے کی اشیاء ہو گی ۔

ادھر کونے میں پڑی ایک ضعیفہ ہے جو بڑی بے صبری سے اپنے بیٹے کا انتظار کر رہی ہے ایسا لگتا ہے کہ جیسے فراق یوسف میں یعقوب منتظر ہوں۔ جدائی کے لمحات ختم ہورہے تھے صبر کا سیلاب اپنے شباب پہ تھا ہاجرہ اپنے پیارے شوہر کے لئے کھانا بنا کر تیار تھی بار بار منتظر نگاہوں سے دروازے کی طرف دیکھتی تھی شوہر کی صورت بار بار نگاہوں میں پھر تی تھی ان کی وہ باتیں بار بار یاد آتی تھی جو چلتے وقت ان کی زبان سے نکلی تھیں بچے کا کھیلنا اور اسکا تبسم جو لبوں کو شگفتہ کر دے۔

کونے میں بیٹھی ضعیفہ جو تسبیح کے دانے گن رہی تھی بیٹے کی یاد آتے ہی ماں کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ جاتی تھی یہی وہ سہارا ہے جو عصائے موسی کا کام کریگا یہی وہ سہارا ہے جس نے ان گزرے ہوئے عرصوں کی سخت آزمائشوں میں اسکے دل کو تقویت دے رہی تھی دن فاقوں میں گزرا رات تنہائی میں اکثر اندھیری کوٹھری میں بھوکے پڑے رہنے کی نو بت آتی تھی مگر حرف التجا ء کبھی اس کی زبان پر نہیں آیا آج ان ساری مصیبتوں کا خاتمہ ہوجائیگا آج بیٹے کو سینے سے لگاکر وہ سارے مظالم ہنس کر بھول جائیگی اس لازوال دولت کو پاکر اسے پھر کسی چیز کی آرزو نہ رہے گی۔

سورج غروب ہورہا تھا دن کی روشنی اپنی جاہ تلاش کر رہی تھی جہان افق نے ایک سنہرا فرش بچھا رکھا تھا اسی وقت منتظر نگاہو ں نے مکان کے سامنے ایک شخص رکشہ پر سوار آتا دکھائی دیا۔ ہاجرہ کی نگاہیں تلاش کر رہی تھی کہ رکشہ سے آنے والا دروازہ پر آکر کھڑا ہوگیا حیرت و استعجاب میں ٹکٹکی باندھے ہاجرہ تکتی رہ گئی نہ بڑی سی گاڑی تھی نہ اس کے اندر بہت سارے سامان۔
ہاجرہ کی انگلی پکڑے اس کا پھول سا بچہ جس کا انتظار اس کو بڑی بے صبری سے تھا ہاجرہ کی نگاہ سامان اور بچے کے کھلونے پر تھی اور باپ کی نگاہ اپنے پھول سے بچے پر۔ باپ نے پھول سے بچے کو گود میں اٹھاکر اپنی آنکھوں سے لگاکر منھ پہ منھ رکھ کر پیار کرنا شروع کیا اندھیرے کونے بیٹھی کمزور نگاہ ضعیفہ نے بیٹے کی آواز سنی اور نحیف سی آواز میں نام لیکر کہا۔ اسماعیل۔ اسماعیل اسماعیل………..

اسماعیل کے کانوں تک یہ آواز آئی اندھیری کوٹھری کی طرف متوجہ ہوا کیا دیکھا کہ اک ضعیفہ ہے جو عصا کا سہارا لئے ہوئے اس کی طرف آرہی ہے اتنی کمزور کی قدم قدم پر رک جا تی ہے اور کھانسنے لگتی ہے سر جھکا ہوا تھا اسماعیل اس کاچہرہ نہ دکھ سکا۔ اچانک ہاجرہ نے آواز دی اجی چلئیے کھانا لگا ہوا ہے پہلے کھانا کھالیجئے اسماعیل کی توجہ ادھر سے ہٹی بیوی کے حکم کی تعمیل کر نے لگا اور دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا تناول فرمانے لگا اور بچّے کو پیار کرنے لگا۔

ہاجرہ اسماعیل کو کھانا کھلا رہی ہے کھانا کھانے کے بعد شوہر نے بیوی سے کہا چلو بچے کا سامان نکال کر بچے کو دیدو اسماعیل نے بچے کاسامان بچے کو دیا اور بیوی کے سامان کو اس کے حوالے کیا بچہ اپنے سامان کو لیکر بہت خوش ہوتا ہے کھیلتے کھیلتے اچانک باپ سے پونچھ دیتا ہے بابا دادی اماں کے لئے کھلونے نہیں لائے اسماعیل خاموش۔ ۔کچھ دیر خاموش رہا کچھ جواب نہ دیا اسماعیل کے چہرے سے ایسا لگتا تھا کی اسے معلوم ہی نہ کہ اس کے ماں بھی ہے بچہ کھیلتا ہوا دادی اماں کے پاس پہونچا معصوم سی زبان سے توتلاتا ہوا بولا دادی اماں بابا میرے لئے کھلونے لائے اور اماں کے لئے کپڑے دادی پوتے کی توتلی آواز کو سن کر خوش ہوتی اور لبوں کو جنبش دیتی ہے نحیف سی آواز میں پوتے سے کچھ کہ رہی ہوتی ہے ماں اسماعیل کے دیدار کو بے تاب تھی ایسا لگتا تھا بیٹا کچھ لمحہ اور رک جائے تو ضعیف ماں کے جسم سے روح نکل جائے۔

محبت کا یہ ایک ایسا بندھن ہے جسکو جدا نہیں کیا جاسکتا جب کسی کو کسی چیز سے انسیت ہوجاتی ہے تو وہ اس کو اپنے سے جدا نہیں کرتا تو پھر ماں کی محبت کا اندازہ کوئی کیا لگائے اسماعیل کی ماں کا عالم کچھ ایسا ہوگیا تھا کہ ضعیفی ہے اور ایسے عالم میں کہ جب سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور بیٹا اس کی طرف سے بے نیاز ہوجائے۔

اسماعیل شادی سے پہلے اپنا سارا وقت ماں کے پاس اٹھنے بیٹھنے میں گزارتا تھا ماں کے ساتھ کھانا کھا تا تھا رات کو ماں کے پلنگ کے پاس پلنگ بچھاکر کہانیا ں سنتا طرح طرح کی باتیں کرتا اپنا دکھ سناتا اور سکون سے سوجاتا تھا ہر کام کرنے سے پہلے ماں سے کہتا ماں کی ہر بات سنتا اور اس پر عمل کرتا تھا ۔

اگر کسی وجہ سے کبھی ماں پریشان خاطر یاداس ہوتی تھی یا اسے کوئی جسمانی تکلیف ہوتی تھی تو اسماعیل ان کو خوش کرنے کی ان کی جسمانی تکلیف کو رفع کرنے کی پوری کوشش کرتا تھا اگر کبھی کسی وجہ سے ما ں کا جی کھانا کھانے کو نہیں چاہتا تھا تو اسماعیل ان کو مخاطب کرکے کہتا تھا’’دیکھو ماں اگر تم نہ کھاؤ گی تو میں بھی نہ کھاؤ ں گا۔ یہ سن کر مامتا بے چین ہوجاتی تھی اور جس طرح بھی ہوتا تھوڑا بہت کھانے کی کوشش کرتی تھی پہلے اسماعیل جو کچھ کماتا تھا لاکر ماں کے ہاتھ پر رکھ دیتا تھا اور جب کبھی خرچ کی ضرورت ہوتی تھی اس سے مانگ لیتا تھا۔

مگر شادی کے بعد اسکے فرصت کا بیشتر حصہ ہاجرہ کے ساتھ گذرنے لگا جب اسماعیل کھانا کھا نے بیٹھتا تو ہاجرہ مارے محبت کے خود اسکے پاس بیٹھ جاتی اور اپنے شوہر کو کھانا کھلاتی ایسی حالت میں ماں وہاں بھلا کس لئے جاتی اور اسے پیار کرکے کھا نا کھلاتی۔

شادی کے بعد اسماعیل جو کچھ کماتا نصف حصہ بیوی کودیتا اور تھوڑا ساماں کو دیتا۔ پہلے اسماعیل کی صلاح کار ماں ہوا کرتی تھی مگر اب بیوی اسکی صلاح کار اور مشیر ہے اب ماں کو اگر جسمانی تکلیف ہوتی ہے تومعمولی طور سے خدمت گذاری ہوتی ہے اب وہ پہلے کی سی محبت کی گرمی نہیں پائی جاتی۔ اب اگر ماں کسی وجہ سے کھانا نہیں کھاتی تو اسماعیل ایک دو بار پوچھ کر خود کھا لیتا ہے وہ محبت کے اس میں شرابور والی بات نہ رہی کہ ’’دیکھو ماں اگر تم کھانا نہ کھاؤ گی تو میں بھی کھانا نہ کھاؤگی ‘‘۔
انسان کی یہ خصلت ہے کہ وہ اپنا دکھ درد اپنے عزیزوں سے بیان کرکے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرلیتا ہے مگر ضعیف ماں اپنا غم کس سے بیان کرے دنیا میں اولاد ماں باپ کے لئے عصاء کا کام کرتے ہیں بڑھاپے کا سہارا بنتے ہیں مگر افسوس ضعیف ماں کیلئے ایک بیٹا تھا جو عصا کاکام کرتا وہ ایسے دلدل میں پھنسا ہوا ہے کہ جہاں آخرت کے سامان کو ٹھکرا کر فانی ہوجانے والی شے کو گلے سے لگا ئے ہوئے ہے۔

بچہ کھیلتا ہوا دادی اماں کے پاس پہونچا کافی دیر تک بچہ دادی اماں کہکر پکارتا بچہ کو دادی نے پیار نہ کیا تو روتا ہوا ماں کے پاس پہونچا ماں نے بچے کے دادی سے دور رہنے کیلئے کہا اور بابا کی آغوش میں کھیلتے ہوئے کہہ پڑا بابا دادی اماں کچھ بول نہیں رہی ہیں اور مجھ کو پیار نہیں کرتی۔

اسماعیل کے ذہن میں مامتا جاگ اٹھی۔ بیوی سے دور ہوکر ماں قریب پہونچا تو کیا دیکھا کہ ماں ایک گوشے میں پڑی ہوئی ہے اسماعیل قریب پہونچکر ندامت کے پسینے میں ڈوب کے لرزتے ہوئے ہاتوں سے ضعیف ماں کو پکڑ کے زبان سے لفظ ماں کہا …..ماں …..ماں …..ماں
جس زبان سے ماں سننے کے لئے ماں زندہ تھی وہ اب اس دنیا سے گذرگئی اسماعیل کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگا اسنے ماں کہکے ماں کے گلے میں باہیں ڈال دی آنسو بہتا رہا ندامت کا پسینہ عرض الٰہی پر جاری تھا۔

مزید دکھائیں

حسن عسکری

مبارک پور ، اعظم گڑھ

ایک تبصرہ

  1. ماشا اللہ عسکری مبارکپوری صاحب بہت عمدہ لا جواب حقیقت پر مبنی افسانہ لکھا ہے ۔ آپ کی تحریر کی تعریف آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے ۔

متعلقہ

Close