افسانہ

لکیروں کے راستے

سفینہ بیگم

            مسالہ پیستے پیستے اور برتن مانجھتے مانجھتے اس کے ہاتھوں کی لکیریں بالکل سیاہ ہوگئی تھیں اور اپنے ان کھردرے اور خشک ہاتھوں کو دیکھ کر اکثر مسکراجایاکرتی تھی۔ اس کو اپنے ہاتھوں کے خراب ہونے کا افسوس نہیں بلکہ ایک خوشی کا احساس ہوتا جو ان ہاتھوں کے ذریعہ وہ اس گھرکے مکینوں کے لئے کیا کرتی تھی۔ کپڑے دھونے سے لیکر، کھاناپکانے، مسالہ پیسنے، گھر کی صفائی اس کے سجانے، سنوارنے، صبح سے شام تک گھر کے ایک کونے سے لیکر دوسرے کونے تک کے کاموں میں جٹی رہتی۔ یہی اس کی چھوٹی سی کائنات تھی۔ جس میں رہ کر اسے محسوس ہوتاکہ وہ اسی چھوٹے سے گھر کی سربراہ ہے اور بعض اوقات اس کا سب سے کمزورحصّہ بھی۔

            برجوسے اس کی شادی ہوئے تقریباً 20 سال گزرچکے تھے۔ اور ان 20 سالوں میں اس کو چھ لڑکیوں کا تحفہ مل چکاتھا۔ جن کی پرورش وہ برجوکی کم آمدنی میں بھی ایک سگھڑ بیوی اور بہترین ماں کی طرح انجام دیتی۔ برجوسے اس کی شادی 17 سال کی عمر میں ہی ہوگئی تھی۔ جب اس کے دل میں پڑھنے کی بے پناہ خواہش تھی لیکن جس طبقے سے اس کا تعلق تھا۔ وہاں پڑھائی کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ اس کے وہ سارے سپنے چکناچور ہوگئے تھے جو اس نے دیکھے تھے۔ شادی کے بعد جب اس گھرمیں بیاہ کر آئی تو ساس کو حاکم کی طرح پایا۔ اس کو اپنے سسرال میں وہ ذہنی اور جسمانی سکون نہیں ملاجوہر لڑکی بیاہ کے بعد اس کی طلبگار ہوتی ہے۔ لیکن اپنے آنگن میں پہلاپھول کھلتے ہوئے اسے سرشاری کا احساس ہوا۔

            اس کی ساس اس کو اکثر طعنہ دیاکرتی۔

            ’’چھ کی چھ لڑکیاں جن دیں۔ اگرلڑکاجنتی تو اس گھرکاہی پھائداہوتا‘‘……بے چارا برجو……‘‘

            برجو خاندانی مزدورتھا۔ 11 سال کی عمر میں باپ کا انتقال ہوگیاتھااور ساری ذمہ داری برجوکے ناتواں کاندھوں پر آگئی۔ اس کی وہ خواہشیں جو اس کی اپنی تھیں اپنی نہ رہیں بلکہ ایک اجنبی شخص کی طرح اس کے سامنے کھڑی ہوگئیں۔ اور وہ فرائض کو انجام دینے کے لئے جٹ گیا۔ نہ بیوی سے غرض نہ بچّوں سے۔ صرف کام اورکام کملاکبھی چاہ کر بھی اس کو وقت نہ دے پاتی اور برجو چھ لڑکیوں کا یہ جُھمگٹادیکھ کر خودہی خاموش ہوجاتا۔

            ’’تم بہت دنوں سے کچھ پریسان لگ رہے ہو‘‘

            کملانے رات کے کھانے کے بعد برجوسے پوچھا۔

            ’’ناہی……بس کام کابوجھ ہے‘‘

            اس نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے جواب دیا

            ’’میں سردبادوں ‘‘ یہ کہہ کر کملانے برجوکے سر پر اپناہاتھ رکھ دیا۔

            ’’ارے تمرے ہاتھ……تمہار ہاتھوں کو کا ہوا‘‘……

            ’’میرے ہاتھوں کو‘‘……اس نے اُلٹ پلٹ کر اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔

            ’’ویسے ہی تو میں ‘‘……ہمار بیچ اک لمباوکھت گجرچکاہے‘‘

            کملانے برجوکو بغور دیکھتے ہوئے کہا

            ’’اچھاتم سوجاؤ……مجھے بھی صبح جلدہی کھیت پر جاناہے‘‘

            کملاکو اپنے دل پر اچانک ایک بوجھ سا محسوس ہواوہ ٹکٹکی باندھے بہت دیر تک برجوکو دیکھتی رہی۔ جو کروٹ بدل کر کب کاگہری نیندمیں ڈوب چکاتھا۔ وہ خودکو بہت عجیب لگی۔ اپنے جسم کے ایک ایک حصّہ پر ہاتھ پھیرکر وہ اس بات کی تصدیق کرنے لگی کہ یہ وہی جسم تو ہے……جسے برجوبیاہ کر اس گھرمیں لایاتھا……

            وہی ہاتھ……وہی پیر……وہی……

            ’’ماں جی میں بھی کام کروں گی‘‘……

            صبح اٹھتے ہی اس نے برجواور اپنی ساس کے سامنے اپنی بات کہہ دی۔

            ’’ہائیں ……کیوں ری‘‘

            ’’لڑکیاں بڑی ہورہی ہیں ……ان کی سادی بیاہ کاکھرچ……پھر کسی نے کچھ پڑھا لکھابھی نہیں ……میں سوچ رہی تھی کہ تھوڑا‘‘……

            ’’بڑی جلدی کھیال آگیا‘‘……

            ساس نے ہاتھ نچاتے ہوئے کہا……برجوچونکہ خاموش مزاج تھاصرف اتناہی کہہ پایا۔

            ’’گھر میں دن بھر کام……اور پھر کروگی کا ؟ ……اوپر سے بچوں کی جمے داری‘‘……

            ’’لیکن کھرچااتنابڑھ رہاہے……دن بدن مہنگائی نے جان لے رکھی ہے‘‘

            کملانے جواب دیا۔

            برجونے حالات کو دیکھتے ہوئے ہامی بھردی تو ساس بھی کچھ نہ بولی اور خاموش رہی۔ اور وہ برجوکے ساتھ کھیت پر اس کاہاتھ بٹانے کے لئے جانے لگی۔ دھان کو چھان پھٹک اور کوڑا کرکٹ سے اس کو صاف کرنا کملاکاکام تھا۔ جس کے ذریعہ تھوڑے بہت پیسے اسے مل جاتے اس کے ساتھ ہی وہ قریب موجودنہر میں سے مچھلیاں بھی پکڑلیاکرتی جس کو برجوشام کے وقت بازار میں بیچ آیاکرتا۔

            کچھ دن سے برجوکام کی زیادتی کی وجہ سے بیمار رہنے لگاتھا۔ لیکن اس کے باوجوداس نے کام پر جانانہ چھوڑا۔ کملااس کو بہت سمجھاتی۔ ماں بھی اصرارکرتی کہ اتنی طبیعت خراب میں جانے کی کیاضرورت ہے۔ کملااکیلی ہی چلی جائے گی۔ اب تو یارواتنی بڑی ہوگئی ہے کہ گھرکے کام سنبھال لیتی ہے اور ننھی بھی اس کا ہاتھ بٹادیتی ہے۔ لیکن برجوکا دل کملاکو تنہا بھیجنا گوارانہیں کرتا۔

            برجوکی بیماری طول پکڑتی گئی لیکن اس نے کام پر جانانہ چھوڑا۔ ایک دن کملاکے بہت سمجھانے پروہ گھر میں رک گیا۔

            ’’تم جلد لوٹ آنا……موسم بھی ٹھیک نہیں ……لگ رہاہے برسات ہونے والی ہے‘‘

            برجونے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا۔

            ’’تم پھکرناہی کرو……میں جلدہی مچھلیاں پکڑ کر لوٹ آؤں گی‘‘

            کملاکو محسوس ہونے لگاتھاکہ جب سے وہ برجوکے ساتھ کام میں ہاتھ بٹانے لگی ہے برجو اس پر زیادہ توجہ دینے لگاہے، عمر کے اس موڑ پر عورت کا سب سے بڑا سکون شایدیہی احساسات ہوتے ہیں ……جو اس کو ہمت دلاتے ہیں۔

            دواکھانے کے بعد برجوکی آنکھ لگ گئی اور وہ کئی گھنٹے سوتارہا۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو کافی تیز بارش ہورہی تھی۔ وہ گھبراکر اٹھ بیٹھا تو دیکھاکہ ماں بہت پریشان ہے اور بچّے بھی

            ’’کاہوا ماں ……کملاابھی تک نہیں آئی‘‘……

            ’’ہاں برجو اسی لیے……اور پھر تجھے اٹھانا……مجھے ٹھیک نالگا‘‘……

            برجو گھبرایاہواگھر سے باہر نکل گیا۔ بارش جھماجھم برس رہی تھی۔ جیسے کب سے نہ برسی ہو۔

            ’’کملا……کملا‘‘ اس نے نہر کے پاس جاکر تیز تیز آواز لگاناشروع کردی۔ لیکن سب بے کار

            وہ اپنا سر پکڑکر وہیں پیڑکے نیچے ٹِک گیا

            ’’اے چاچا……تم اتنی برسات میں یاں کاہے بیٹھے ہو‘‘

            ایک لڑکابھاگتاہواآیا۔

            ’’تونے……تونے……یہاں کسی عورت کو دیکھا‘‘

            برجو پرگھبراہٹ طاری تھی۔

            ’’ہاں تھی تو ایک عورت……بہت دیرسے مچھلی پکڑنے کی کوسس کررہی تھی……میں نے کہاگھرجاؤ تو بولی…… 8 مچھلیاں پکڑلی ہیں ……بس نویں اور مل جائے چڑھاواچڑھاناہے……

            کہتے ہیں کہ……بیمارکے نام ے چڑھاواچڑھاو تو……بیماری دور ہوجاتی ہے‘‘……

            یہ کہہ کر وہ لڑکابھاگتاہوادور نکل گیا۔

            ’’کیا‘‘……

            برجو نہر کی دوسری طرف گیا……پانی سے لبالب بھری نہر کے باندٹوٹ چکے تھے اور پانی چاروں طرف کھیتوں میں بھرگیاتھا۔

            ’’یہ ٹوکری ……

            برجونے وہ ٹوکری اٹھائی تو اس میں آٹھ مچھلیاں موجودتھیں

            ’’کملا……اور وہ نویں مچھلی‘‘……وہ بڑبڑایا۔ بارش اب ہلکی ہوگئی تھی۔

            اچانک نہر میں کوئی ہلچل محسوس ہوئی……وہی لکیروں بھراہاتھ……جس کے داہنے ہاتھ کے انگوٹھے میں کانٹے کا دھاگہ پھنساہواتھااور ایک چھوٹی مچھلی اس میں پھڑپھڑارہی تھی۔

مزید دکھائیں

سفینہ بیگم

ریسرچ اسکالر(شعبۂ اُردو)، مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ

متعلقہ

Back to top button
Close