افسانہ

واشنگ مشین (قسط 1)

واشنگ مشین بالکل نہ لینا، ورنہ بہت پچھتاؤ گے اور قسطوں پر سوچنا بھی نہیں۔

ادریس آزاد

اور آج اُس نے میری سن لی کتنی سہولت ہوگئی ہے،” تیلی جلاؤ اور’’ بھڑک‘‘ ـ…یوں کرکے شعلہ اُوپر کو اُٹھتا ہے، جیسے ہاتھ پیچھے نہ ہٹایا تو پکڑ لے گا”۔

وہ ایسا ہی بولتی تھی، سلنڈر سے پہلے وہ چولہے میں گوبر کے اُپلے اور کیکر کی خشک لکڑی ڈالا کرتی تھی۔ لیکن اُسے حسرت تھی کہ اُس کا سلنڈر ہو۔ اپنا سلنڈر، پڑوسیوں کے ہاں ’’واک گیس‘‘کا سلنڈر تھا۔ وہ جب کبھی اُن کے گھر سے آتی تو اپنے چولہے پر آکرکھڑی ہو جاتی، طرح طرح کے منہ بسورتی، چولہے میں پڑی راکھ کو دیکھتی اور راکھ تلے دَبی چنگاری کی طرح سلگنے لگتی۔ اُس کا سلنڈر کیوں نہیں تھا۔ اُس کا شوہر…تھوڑے پیسے کیوں کماتا تھا۔ کاش!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھڑک کرکے چولہا جلاتی۔

وہ ایک ٹھنڈی سانس لے کر چولہے کے پہلو میں بیٹھ جاتی۔ اُس کا دماغ اپنی بے بسی پر سنسا رہا ہوتا تھا، ساتھ پڑی اَدھ جلی لکڑی کو اُٹھاتی اور چولہے میں پڑی راکھ پر دے مارتی، چھک کی آواز سے راکھ اُڑتی اور اَدھ جلی لکڑی کا کالا منہ، سفید ہوجاتا۔ لیکن اُس کے تو بال تک سفید ہو جاتے۔ پلکوں پہ چولہے کی راکھ یوں جم جاتی گویا آئی لیشز کو شیڈ دیا گیاہو۔ چولہا روز جلتا تھا۔ لیکن وہ صرف چولہا جلنے پر راضی نہ تھی۔ اُس کے شوہر کو لکڑیوں اور اُپلوں کی آنچ پر پکا ہو ا،تانبے کے رنگ کا دودھ پسند تھا۔ لیکن وہ پھر بھی سلنڈر لے آیا۔

سلنڈر گھر میں آیا تو وہ خوشی سے پھولے نہ سمائی۔ بار بار سلنڈر کے پاس جاتی اور اسے کسی بچے کی طرح سہلانے لگتی۔

اے ذرا سنیے!…اسے سیڑھیوں والی دیوار کے نیچے نہ رکھ دیں۔ یہاںبرا لگتا ہے، یہ جگہ صحن کا حصہ ہے۔ وہ تو دھوئیں کی وجہ سے میں نے یہاں چولہا چوکا بنا دیا۔ اب تو خیر سے سلنڈر گھر میں آگیا ہے۔ اب اس منہ کالے چولہے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘

اس نے شام تک مٹی کا چولہا اُکھیڑ دیا۔ تمام لکڑیاں جمع کرکے ایک دیوار کے ساتھ ٹکا دیں، سارے گھر کی نئے سرے سے صفائی کی تاکہ نئے مہمان کو اس کا گھر برا نہ لگے۔ گویا سلنڈر کے لیے اس نے یوں کام کیا جیسے گھر میں گیس کا سلنڈر نہیں بلکہ پردیس سے اس کا بھائی آیا ہو۔ بلکہ اپنے بھائی کے آنے پر بھی وہ اتنی خوش نہ ہوتی تھی۔

سلنڈر تو آگیا۔ لیکن ’’واشنگ مشین‘‘ابھی تک نہیں آئی تھی، جو سلنڈر کے بعد ا س کی سب سے بڑی حسرت تھی۔ اس کا شوہر اس سے بہت پیار کرتا تھا وہ چاہتا تھا کہ…اپنی بیوی کو ہر آرزو پوری کرے، وہ اس کی حسرت دیکھتا تو خود کو کوسنے لگتا۔

’’واہ!…میں بھی کیسا خاوند ہوں، اپنی بیوی کی ایک چھوٹی سی خواہش بھی پوری نہیں کرسکتا۔ اے اللہ! ہمیں ایک واشنگ مشین دے دے۔‘‘

ایک دن اس کے شوہر نے اپنے سکول کے ایک استاد کے ساتھ بات کی۔

’’ممتازصاحب!…کیا واشنگ مشین سچ مچ منٹوں میں سارے کپڑے دھو دیتی ہے؟‘‘

ممتاز نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا۔ وہ سوچنے لگا، یہ واشنگ مشین کہاں سے آگئی۔ وہ سکول کے پیپرز چیک کررہے تھے۔ کیا’’مظہر‘‘…کے دل میں واشنگ مشین کی آرزو تھی؟ اسے مظہر کے ساتھ ہمددردی سی ہونے لگی۔

’’ہاں ہاں !…واشنگ مشین تو فٹافٹ سارے کپڑے شیشے کی طرح چمکادیتی ہے…کیا تم واشنگ مشین خریدنا چاہتے ہو؟‘‘

مظہر کھسیانی ہنسی ہنسنے لگا۔

وہ دراصل میری مسسز کو واشنگ مشین ……۔۔۔”
وہ اچانک کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ اس نے سوچا ممتاز کیا کہے گا کہ اس کے گھر میں واشنگ مشین بھی نہیں؟…اس نے بے دلی سے جھوٹ بولا:۔

’’ نہیں !…وہ دراصل مشین تو ہے لیکن وہ کافی دنوں سے خراب ہے۔ میں نے سوچا کیوں نہ نئی ہی خرید لیں؟‘‘

ممتاز زیر لب مسکرا دیا۔ اس نے سوچا ابھی تو …یہ پوچھ رہا تھا کہ کیا مشین سچ مچ منٹوں میں کپڑے دھو دیتی ہے؟ … ممتاز نے اسے شرمندہ نہ کیا۔ البتہ مشورہ دے دیا۔

’’مظہر !…میں تمہیں واشنگ مشین خریدنے کا طریقہ بتاتا ہوں تم قسطوں پر لے لو، بس ہر مہینے تھوڑے سے پیسے دینے پڑیں گے، اور مشین تمہاری ہو جائے گی۔ ‘‘

وہ دل ہی دل میں بے حد خوش ہوا۔ ممتاز نے اسے بالکل صحیح مشورہ دیا تھا۔ لیکن رحیم صاحب کی بات سن کر اسے بہت برا لگا۔ وہ بزرگ اور تجربہ کار استاد تھے، کہنے لگے۔

’’مظہر!…واشنگ مشین بالکل نہ لینا۔ ورنہ بہت پچھتاؤ گے اور قسطوں پر سوچنا بھی نہیں۔ ایک مشین مصیبت اوپر سے قسطیں مصیبت، یہ قسطیں بھی تو ایک طرح سے ’’سود‘‘ ہی ہیں۔ اصل قیمت سے زیادہ قیمت دینی پڑتی ہر مہینے۔‘‘

اسے عبدالرحیم صاحب کی باتیں بری نہیں لگتی تھیں۔ وہ سب سے زیادہ رحیم صاحب کے قریب تھا۔ لیکن آج تو رحیم صاحب اسے بہت کھِل رہے تھے۔ اس نے اچانک ایک خیال کے تحت رحیم صاحب سے پوچھا:۔

’’رحیم صاحب!کیا آپ کے گھر میں واشنگ مشین نہیں ہے؟‘‘

رحیم صاحب نے پیپر سے سر اٹھائے بغیر جواب دیا:۔

’’اب تو ہے کیونکہ اب گھر میں…بہوؤں کی چلتی ہے۔ وہ اپنے جہیز میں لائی تھیں۔‘‘

مظہر رحیم صاحب کے ذومعنی جملے سے مسکرادیا۔ اسی اثناء میں رحیم صاحب نے عینک ناک سے ہٹا کر سر پر دھر لی اورسر اوپر اٹھاتے ہوئے کہا:۔

’’دیکھو!…دوستو!…میری ایک بات پلے باندھ لو!…انسان محنت کم کرنے والی مشینیں خریدنے کے لے ساری عمر محنت کرتے کرتے گزار دیتا ہے…لیکن اس کے گھر میں مشینوں سے سہولت آنے کی بجائے اور زیادہ دشواری آجاتی ہے۔ اگر میری بات کا اعتبار نہیں تو خود تجربہ کرکے دیکھ لو۔ ہاتھ کنگن کو آر سی کیا۔‘‘

وہ گھر آیا تو اس نے ساری باتیں بیوی کو بتا دیں :۔

’’دیکھو! بھاگوان!…تم مشین کا خیال چھوڑ دو، یہ اچھی چیز نہیں ہے۔ ابھی تم روز کے روز ہاتھوں سے کپڑے دھو لیتی ہو۔ صبح صبح کتنا اچھا لگتا ہے۔ تمہارے پندرہ بیس منٹ بھی نہیں لگتے، زیادہ سے زیادہ دو جوڑے ہوتے ہیں، دیر ہی کتنی لگتی ہے؟‘‘

لیکن وہ کہاں ماننے والی تھی۔ اپنی بات پر اڑی رہی۔ رحیم صاحب کو پرانے دور کا آدمی کہہ کر شوہر کوقائل کرنے لگی کہ مشین ایک نعمت ہے۔

اگلی صبح سکول سے چھٹی تھی۔ مظہر گھر پر ہی تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کی بیوی علی الصبح نماز اور تلاوت سے فارغ ہوتے ہی ’’ نور جہاں ‘‘ کی کیسٹ لگا دیتی تھی:۔

’’یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے
محبت کرکے بھی دیکھا محبت میں بھی دھوکا ہے‘‘

آج صبح اسے یوں لگا جیسے وہ نور جہاں کے الفاظ اسے ہی سنارہی ہے۔ وہ سوچنے لگا۔

’’کاش !میں اپنی بیوی کے لیے واشنگ مشین خرید سکتا۔‘‘

گانا اچانک بند ہوگیا اور دور کہیں سے گھررگھرر کی آواز سنائی دینے لگی۔ وہ ابھی بستر میں ہی تھا۔ اس کی بیوی دوڑتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی۔

’’دیکھو دیکھو!!کتنی پیاری آواز ہے …پڑوسیوں کے گھر میں واشنگ مشین چل رہی ہے۔ یہ اسی کی آواز ہے۔ میں کہتی ہوں پورا گھر سوہنا لگتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے چاندی کے کٹورے گھسیٹے جارہے ہوں۔ ‘‘

وہ اپنی بیوی کی تشبیہ سن کر دنگ رہ گیا۔ استغفراللہ، اسے لتا کی کوئل جیسی آواز سے زیادہ واشنگ مشین کی گھرر گھرر پسند تھی۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔

’’مشین تو خریدنی ہی پڑے گی، چاہے قسطوں پر ہی کیوں نہ لینی پڑے ’’سود‘‘والی بات ٹھیک ہے، لیکن مجبوری بھی تو کوئی چیز ہے، آخر بھوک سے مرتے ہوئے شخص کو سوؤر کھانے کی بھی تو اجازت ہے۔‘‘

اگلے لمحے پڑوسیوں کی مشین نے گھنٹی بجائی ……

’’بززز……بززز‘‘

یہ کپڑے دُھل جانے کا اعلان تھا۔ تھوڑی دیر بعد مشین خاموش ہوگئی۔ گھنٹی کی آواز سے تو جیسے اس کی بیوی جھوم اٹھی۔

’’ہاے اللہ!…کتنی سریلی ہے۔ میں تو کہتی ہوں کانوں میں زندگی بھر اِس گھنٹی کی آواز گونجتی رہے…دیکھو! دیکھو! …اب مشین چلنے کی آواز نہیں آرہی ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں اب سکینہ مشین کو بند کرکے اس میں سے کپڑ ے نکال رہی ہوگی……

اَرے مظہر!…میں تمہیں بتاؤں، مشین میں کپڑے کیسے دھوتے ہیں ؟‘‘

وہ مظہر کی چارپائی پر سرہانہ ہٹا کر بیٹھ گئی۔

’’سب سے پہلے مشین کا سوئچ لگاتے ہیں۔ لیکن بٹن نہیں دباتے، کیونکہ بٹن دبانے سے پہلے مشین میں پانی اور صابن ڈالنا ہوتا ہے…اور صابن وہ نہیں، جوہم استعمال کرتے ہیں۔ پتھر کا پتھر، اتنا نرم ہوتا ہے کہ برفی کی طرح کھا جانے کو جی چاہتا ہے۔

صابن کو چھری سے کتر لیتے ہیں، تاکہ مشین میں جلدی حل ہوجائے، پھر کترا ہوا صابن مشین میں ڈال کر اوپر سے بہت سے کپڑے ڈال دیتے ہیں۔ لیکن ایک دھیان رہے۔ شروع شروع کے صاف پانی میں مردوں کے سفید اور سوتی کپڑے ڈالنے چاہییں، اور بعد میں، میلے پانی میں بچوں کے جانگیے، بنیانیں اور بستر کی چادریں وغیرہ ڈالنی چاہییں۔ اس طرح صابن کی بھی بہت بچت ہو جاتی ہے۔

ایک دھیان کرنا پڑتا ہے کہ کپڑا مشین کی چکی میں پھنسنے نہ پائے۔ ایک بار کپڑا پھنس گیا تو سمجھو کپڑا گیا۔ سکینہ کادوپٹہ چور چور ہوگیا تھا۔ اچھا!…تو پھر اوپر سے ڈھکن بند کرکے بٹن دبا دیتے ہیں۔ لیکن پتہ ہے مشین پھر بھی نہیں چلتی جب تک وہ چھوٹا سا گول پہیہ نہ گھمایا جائے، جو چر چر کی آواز کے ساتھ واپس آتا ہے۔

اسے جتنے نمبر تک چاہو، لے جاکر چھوڑ دو، اور وہ جب اپنی جگہ پر واپس آئے گا تو گھنٹی بجنے لگے گی۔ بس… سمجھو کپڑے دُھل گئے۔‘‘

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close