افسانہ

واشنگ مشین (قسط 2)

اس کی بیوی چھٹی کے دن کالی کلوٹی اور ٹوٹی پھوٹی واشنگ مشین میں کپڑے ڈالتی تو مشین بچوں کے میلے کپڑوں کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیتی۔

ادریس آزاد

مظہر حیرت سے آنکھیں پٹپٹاتا اس کے چہرے کی جانب دیکھ رہا تھا، وہ ایک سکول میں ٹیچر تھا۔ اس کی تنخواہ میں مشکل سے گھر چلتا تھا۔ لیکن اس کی بیوی مشین چلانا چاہتی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ وہ واشنگ مشین لے آیا تو اس کی بیوی پانی کی ٹینکی بنوانے کی بات کرے گی۔

ظاہر ہے ٹینکی پر پانی چڑھانے کے لیے الیکٹرک واٹر پمپ بھی چاہیے ہوگا۔ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ گھر میں واشنگ مشین تو ہو لیکن پانی واٹر سپلائی کی ٹوٹی سے صبح کے پانچ بجے آئے۔لوگ کیا کہیں گے۔ واٹر ٹینکی کے بعد اِئیر کولر، فریج، ٹی وی، وی سی آراور نہ جانے کیاکیا۔ اچانک اسے علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آنے لگا، جو اس نے اپنی طالب علمی کے دور میں پڑھا تھا۔

اس نے بڑے پیار سے اپنی بیوی کو مخاطب کرکے وہ شعر سنایا:۔

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات

اس کی بیوی منہ بسور کر اٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد پھر لتا کا وہی گانا بج رہا تھا :۔

’’یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے
محبت کرکے بھی دیکھا محبت میں بھی دھوکا ہے‘‘

مظہر کا دل رنجور ہونے لگا۔ اس نے سوچا وہ جیسا کیسا بھی کرے گا اپنی بیوی کو مشین ضرور خرید کر دے گا۔

اسی روز وہ قسطوں پر چیزیں بیچنے والی دکان پر گیااور نیشنل کی ایک چمکتی ہوئی مشین گدھا گاڑی پر لدوا کر گھر لے آیا۔ اس کی سٹیل باڈی شیشے کی طرح شفاف تھی۔

گدھا گاڑی کے پیچھے پیچھے سائیکل چلاتے ہوئے وہ سٹیل کے اندر اپنا عکس دیکھتا آرہا تھا۔ نہ جانے کیوں مشین کے آئینے میں دکھائی دینے والا اس کا عکس، ٹیڑھا میڑھا اور اُلٹا پلٹا تھا۔ اس نے اپنی نظریں دوسری طرف گھما لیں۔

گھر کے دروازے پر مشین اُتاری جانے لگی تو سکینہ کا خاوند آگیا۔ اس کے چہرے پر حیرت کے ساتھ ساتھ کرختگی بھی تھی۔

’’تم نے مشین کیوں خریدی؟ تم دو ہی تو ہو…، بھلا کتنے کپڑے ہوتے ہیں تمہارے ؟…اگر مشین چلانی ہے تو پہلے اپنا ذاتی میٹر لگاؤ، ہم نے تمہیں بجلی دے رکھی ہے۔ اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم جو چاہو کرو۔ آج مشین لائے ہو کل اے سی چلاؤگے، پرسوں ہیٹر چلاؤ گے۔جانتے ہو واپڈا کا میٹر کیسے گھومتا ہے…ایسے……یوں یوں کرکے۔‘‘

اس نے اپنی دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی گول گول دائرے میں گھمائی۔ مظہر نے سر جھکا لیا۔یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ اس کے گھر میں پڑوسیوں کے میٹر سے بجلی لگی ہوئی تھی۔ اب تو مشین آگئی تھی۔ اب تو میٹر لگوانا ہی پڑتا۔ وہ پریشان ہوگیا۔ آج کی چھٹی غارت ہوگئی تھی۔

حالانکہ اس نے سوچا تھا کہ وہ آج کا دن اپنی بیوی کے ساتھ پیار کی اٹھکیلیاں کرتے ہوئے گزارے گا۔لیکن ایسا نہیں ہوا تھا۔

اس کی بیوی واشنگ مشین دیکھتے ہی پاگل ہوگئی تھی۔ مارے خوشی کے اسے کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا کہ وہ کیا کرے، کبھی وہ مشین کو دیکھتی اور کبھی اپنے گھر کو۔ نہ جانے اچانک اسے کیا ہوا کہ وہ مشین کو چھوڑ کر تیزی سے لوٹے کی جانب لپکی …اگلے لمحے وہ وضو کرکے آئی اور مشین کے قریب ہی فرش پر جائے نماز بچھا کر شکرانے کے نفل پڑھنے لگی۔ وہ دو نفل پڑھ چکی تو مظہر کو خیال آیا کہ زوال کے وقت میں تو نماز پڑھنا جائز ہی نہیں، لیکن اب وہ مزید سر کھپانے کی بجائے اندر جانا چاہتا تھا۔ آج پھر وہ ٹینس ہو گیا تھا۔

مشین گھرآگئی تھی، دھیرے دھیرے دوسری چیزیں بھی گھر میں آگئیں۔ اب مظہر کا گھر ایک مکمل گھر تھا۔ پہلے ایک بچہ ہوا، جس کے لیے وہ بے بی ڈال لایا، پھر دوسرا، دوسرے کے لیے وہ باربی ڈال لایا، پھر تیسرا، تیسرے کے لیے وہ چائنا ڈال لایا، پھر چوتھا، چوتھا ہوا تو وہ اپنے لیے …پیناڈال…لایا، اور پانچواں ہوا تو، مظہر ہائپر ٹینشن کی اَدویات کا عادی ہوچکا تھا۔

ایک 0.5 کی زینکس
ایک 10 ایم جی کی انڈیرال
اور ایک زینٹیک، جو معدے کے لیے تھی۔

ڈاکٹر کہتے تھے…’’تمہارا معدہ خراب ہے۔‘‘ لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کا کیا خراب ہے؟ اس کا چہرہ پچک چکا تھا۔ چہرہ 35 سال اور جسم 25 سال کا تھا۔ اور اس طرح کل ملا کر اس کی عمر بنتی تھی 60 سال۔
اور اب تو وہ چھٹی کا دن گھر میں نہیں گزارتا تھا۔ کھیتوں میں نکل جاتا تھا۔ جہاں واشنگ مشین کی گھرر گھرر نہیں ہوتی تھی۔

اس کی بیوی چھٹی کے دن کالی کلوٹی اور ٹوٹی پھوٹی واشنگ مشین میں کپڑے ڈالتی تو مشین بچوں کے میلے کپڑوں کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیتی۔ وہ اتنا شور مچاتی کہ آسمان سر پر اٹھا لیتی۔ مظہر واشنگ مشین چلتے ہی بیدا ر ہوجاتااور اسے پتہ چل جاتا کہ آج اس کی بیوی ہفتے بھر کے کپڑے دھونے والی ہے۔ بچوں کی یونیفارم، مظہر کے کپڑے، اس کے اپنے دوپٹے اور سوٹ، بستر کی چادریں، رضائیوں اور تکیوں کے غلاف۔

اسے معلوم تھام کہ چھٹی کا دن، اس کی بیوی کے غصے کا دن ہوتاہے۔ ہفتہ بھر اتر نے والے کپڑے، پورا ہفتہ اکھٹے ہوتے رہتے، ہر میلا سوٹ اترنے کے ساتھ ساتھ ’’بھاگوان‘‘کے ڈپریشن میں اضافہ ہوتا رہتا۔ ہفتے کے بعد درجنوں کپڑے جمع ہو جاتے، جب واشنگ مشین نہیں تھی تو وہ روز کے روز صبح ایک دو سوٹ دھو کر فارغ ہو جاتی تھی۔ اور یوں ان کا چھٹی کا دن کسی کام آجاتا تھا، لیکن اب تو اس کی بیوی چھٹی کے دن والی رات کروٹیں بدلتے گزار دیتی۔ اس کے ذہن پر ایک ہی بات سوار رہتی کہ صبح اتنے سارے کپڑے دھونے ہیں۔

وہ اب بھی صبح صبح ہی بیدا ر ہونے کی عادی تھی۔ لیکن اب اُس کے گھر میں سب مشینیں آچکی تھیں۔ اب نماز پڑھنے اور دعائیں مانگنے کی ضرورت نہ رہی تھی۔ چنانچہ وہ نماز پڑھے بغیر ہی مشین گھسیٹنے لگتی تھی۔ واشنگ مشین کے پہیے اتنے سالوں میں جام ہو چکے تھے۔ سارا دن بچے اسے گدھا گاڑی بنا کر برآمدے میں کھیلتے رہتے۔

پانی نکالنے کا پائپ جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جھاگ اور میل سے بھرا پانی کسی فوارے کی طرح چاروں طرف بکھر تا رہتا تھا۔ مشین کا کوئی بٹن سلامت نہیں تھا۔ چر چر والا بٹن بھی نہیں۔ سٹیل باڈی کے اوپر مستقل لکیریں پڑ چکی تھیں۔ اب اس میں منہ تو کیا پیر بھی
دکھائی نہیں دیتے تھے۔

نیشنل کا لیبل بری طرح زخمی ہوچکا تھا۔ صرف اے ایل کے الفاظ بچے تھے، نیشن ختم ہوچکی تھی۔

وہ مشین میں کپڑے ڈال کر ایک پل کے لیے بھی وہاں سے نہ ہٹتی تھی۔ اس کا سب سے چھوٹا لڑکا جو ابھی دو سال کا تھا۔ سٹیل باڈی کو تھپتھپاتا تو مظہر کا کلیجہ کانپنے لگتا۔ اگر کبھی مشین شارٹ ہوئی تو…وہ اندر سے ہی چلاتا:۔

’’شازو!…نعیم کو ہٹاؤ!…یہ مشین کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ اگر یہ شارٹ ہوئی تو مر جائے گا۔ ‘‘

وہ نعیم کو شانے سے پکڑ کر یوں پرے پھینکتی جیسے وہ بچے کی بجائے ذبح شدہ مرغی ہو۔ نعیم کی چیخ و پکار مشین کی گھر رگھرر میں شامل ہو جاتی۔

مشین کا ’’شو‘‘ ٹوٹ کر کب کا ختم ہو چکا تھا۔ وہ کبھی بھی شو نہ لگاتی۔ دونوں تاریں چھیلی ہوئی تھیں۔ وہ مروڑ کر پلگ کی ساکٹ میں باری باری ڈالتی اور ماچس کی دو تیلیاں سوارخوں میں ٹھونک دیتی۔ مظہر نے کئی بار شو بدلا تھا، لیکن وہ ہر روز پھر سے ٹوٹ جاتاتھا۔

کبھی کبھی مشین میں کپڑا پھنس جاتا تو وہ رک جاتی۔ اب وہ بوڑھی ہوچکی تھی۔ کپڑے کی دھجیاں بکھیرنے کی بجائے رک جاتی تھی۔ تب اس کی بیوی خود اسے مرمت کرتی تھی۔

ہفتہ پھر برآمدے میں دھکے کھاتی واشنگ مشین میلے کپڑوں سے بھری رہتی۔ کبھی کسی چیز کی تلاش میں مظہر اس کا ڈھکن اٹھاتا تو میلے کپڑوں کی بدبو اسے مشین میں ہاتھ مارنے سے منع کر تی۔ لیکن معلوم ہوتا کہ اس کی کتاب یا قلم بالآخر مشین سے ہی نکلے گا۔ کبھی کبھی تو قلم یا کتاب کی جگہ کوئی چوہا یا چھپکلی نکل آتی۔ ایک روز توایک چھپکلی کپڑوں کے ساتھ دُھل گئی۔

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close