افسانہ

وہ خواب

پروفیسرصغیر افراہیم

        ایسا محسوس ہوا کہ پہاڑ کی بلندی سے اُسے کسی نے نیچے ڈھکیل دیا ہو۔ وہ گرتی چلی جا رہی تھی۔ زمین پر لگنے سے پہلے ہی اُس کی آنکھ کُھل گئی۔ اپنے بھاری پپوٹوں کو دھیرے دھیرے کھولتے ہوئے اُس نے دیکھنے کی کوشش کی۔ چاروں طرف گہرا اندھیرا تھا۔ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ کیا وہ خواب دیکھ رہی تھی؟ اُس نے اپنے بدن کو ہلانا چاہا مگر وہ اکڑ چکا تھا۔ باتھ پیر سُن تھے، عجیب سی بے بسی اور تکلیف میں وہ کچھ دیر ایسے ہی لیٹی رہی۔ یہ کیسا خواب تھا؟؟؟ اُس نے جُھرجُھری لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ہاتھ کو دھیرے سے اُٹھا کر اپنی آنکھوں پر رکھا۔ ہاتھ اُسے کچھ کُھردرا سا محسوس ہوا۔ اُس نے دوسرے ہاتھ سے اُسے چُھوا تو اُس پر بھی کوئی چیز چپکی ہوئی تھی۔ ذہن دھیرے دھیرے بے دار ہوا۔ اُسے یاد آیا کل اُس کی شادی ہے۔ رات مہندی کی رسم تھی۔ اُس کے ہاتھ پاؤں میں مہندی لگادی گئی تھی۔ پھر تکیے تلے اُپر رکھ کر دونوں پیر اس طرح رکھے گئے تھے کہ وہ بستر سے باہر لٹکے رہیں،  کلائی کے نیچے بھی ایک ایک تکیہ رکھ دیا گیا تھا اور وہ پھر اسی حالت میں سو گئی تھی۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ اُس کا جسم سُن ہو گیا تھا۔ مگر وہ خواب۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے پھر خواب یا د آگیا۔ اُس کے بدن کے روئیں کھڑے ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیسا خواب تھا۔ اُس نے کروٹ لینے کی کوشش کی۔ جسم کی اکڑن کی وجہ سے منہ سے تیز کراہ نکل گئی۔کیا بات ہے؟ قریب لیٹی شہلا جلدی سے اٹھی اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹیوب لائٹ جلا ئی۔ اُسے بے چین دیکھ کر شہلا نے اُس کے پیروں اور ہاتھوں کے نیچے سے تکیے یہ کہتے ہوئے نکال دیے۔

         ’’ اب مہندی سوکھ چکی ہے، چھوٹے گی نہیں ‘‘۔

 اُس نے کچھ آرام محسوس کیا اور دوسری جانب آسانی سے کروٹ لے لی۔

        ’’مجھے ایک گلاس پانی لادوگی۔‘‘

        ’’کیوں نہیں آج تو تم مہارانی ہو۔ جو حکم رانی صاحبہ کا‘‘

وہ ڈرامائی انداز میں جھکی اور ہنستے ہوئے پانی لینے چلی گئی۔

        اُس کا ذہن ماضی میں بھٹکنے لگا۔ پانچ سالہ بچی اپنے اسکول کا چھوٹا سا بیگ ٹانگے اپنی ماں سے سوال کر رہی تھی۔

        ’’امّی راکشس کیا ہوتا ہے؟‘‘

        ’’ابھی بتاتی ہوں،  بیگ رکھو، کپڑے بدلو۔ ‘‘امّی نے سمجھاتے ہوئے کہا۔

وہ بھاگتی ہوئی اندر گئی اوردالان میں بیٹھی ہوئی دادی ماں کی گود میں اُچک کر بیٹھ گئی۔

        ’’دادی ماں راکشس کیا ہوتا ہے؟‘‘

        ’’بیٹا تمھیں یہ سب کس نے بتایا؟‘‘ دادی امّاں نے سوال کیا۔

        ’’ آج ہماری ٹیچر نے ایک کہانی سنائی کہ ایک راکشس ایک بہت پیاری راجکماری کو اُٹھا کر لے گیا اور بہت اونچے پہاڑ پر بنے محل میں قید کر دیا۔ وہ جب باہر جاتا محل کے دروازے بند کر جاتا تاکہ راجکماری باہر نہ نکل سکے۔ اُس کی لال لال آنکھیں تھیں۔  لمبے لمبے دانت تھے اور سر پر بڑے بڑے سینگ بھی تھے۔ ‘‘

اس نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ سر پر لگائے۔

        ’’دادی ماں کیا آپ اُسے جانتی ہیں ؟ وہ کہاں رہتا ہے؟ ‘‘

دادی نے مسکرا کر محبت سے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا۔

        ’’بیٹی یہ سب کہانیوں کے کردار ہیں جنھیں بُرائی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ در حقیقت ان کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ دنیا میں تو انسا ن بستے ہیں یہاں راکشس کا کیا کام۔‘‘

وہ مطمئن ہو گئی اور دادی کو پیار کرکے کپڑے بدلنے چلی گئی۔

        ’’کہاں کھو گئیں رانی جی، لو پانی پی لو۔ ‘‘ شہلا نے اسے سہارا دے کر اُٹھایا اور گلاس اُس کے منہ سے لگا دیا۔

پانی پی کر وہ آرام سے بستر پر لیٹ گئی اور اپنے ہاتھوں کو غور سے دیکھنے لگی، جن پر مہندی کے خوبصورت نقش و نگار بنے ہوئے تھے جو اُس کے گورے اور گداز ہاتھوں کو اور بھی حسین بنا رہے تھے۔ شہلا نے بتّی بجھائی تو اُس نے آنکھیں پھر بند کر لیں۔  بند آنکھوں کے دریچے پھر کُھل گئے وہ ہزار کوشش کے باوجود اپنا ذہن خواب سے نہ ہٹا سکی۔ جیسے یہ خواب اُس کے ذہن میں چسپاں ہوگیا ہو۔ اُس نے بے چینی سے کروٹ بدلی۔

        ’’ کیا بات ہے نیند نہیں آرہی‘‘ شہلا نے اندھیرے میں اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

 اُس نے گہری سانس لی اور شہلا کی طرف کروٹ لے لی۔

        ’’شہلا کیا خواب سچ ہوتے ہیں ؟‘‘

        ’’ہاں۔  ہاں کیوں نہیں۔  اب دیکھو تم نے بھی تو ہمیشہ ایک خوبرو شہزادے کا خواب دیکھا تھا اور اب عامر جیسا ہینڈ سم دولہا تم کو لینے آرہا ہے۔کیوں سچ ہوگیاناتمہارا خواب۔‘‘شہلا نے اُس کی پیٹھ پر ایک دھپ ماری۔

اس کے چہرے پر پریشانی اور بے چینی کی جو لکیریں اُبھر آئی تھیں،  اگر شہلا اُنھیں دیکھ پاتی تو شاید خود بھی پریشان ہو جاتی۔

        اُس کی شخصیت کیا تھی دھنک کے مانند۔اُس میں مختلف رنگ موجود تھے۔ اُس کے اندر کچھ کر دکھانے کا جذبہ تھا۔ اُس کے کچھ خواب تھے۔ وہ زندگی میں کچھ کرنا، کچھ بننا چاہتی تھی۔لیکن اقتصادیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کرتے ہی گھر والوں نے اُس کی شادی کا فیصلہ صادر کردیا کہ باقی کام اپنے گھر جاکر کرنا اور وہ اپنے خوابوں کو سمیٹ کر عامر کے ساتھ جانے کو رضا مند ہو گئی۔

        دوسرے دن شادی کا ہنگامہ تھا۔ بارات کی آمد، نکاح، طعام، رخصتی۔ کسی کو اپنا ہوش نہ تھا۔ عامر سے پہلی ملاقات نے ہی اُس خواب کا اثر زائل کر دیا۔ تمام اندیشے پانی کے بلبلوں کی طرح بیٹھ گئے۔ وقت کب کس کے لیے رُکا ہے۔ ایک مہینے کی چھٹیاں دبے قدموں گزر گئیں۔  عامر واپس اپنی نوکری پر جا رہا تھا۔ وہ بھی اُس کے ساتھ تھی۔ ٹرین کی کھڑکی سے باہر کا منظر اتنی تیزی سے تبدیل ہو رہا تھا کہ اُن پر نگاہ ٹھہرانا مشکل تھا۔ اُس نے سوچا عورت کی زندگی میں شادی وہ مرحلہ ہے جب اُس کے سامنے سے مناظر بالکل اِسی طرح یک لخت تبدیل ہو تے ہیں۔

        وہ چھوٹے شہر سے ایک مہا نگر میں آگئی۔ نیا شہر، نیا گھر، نیا ماحول، اجنبی چہرے ، عامر نے ڈیوٹی جوائن کی اور اُس نے گھر کو سنبھالا۔ عامر صبح آٹھ بجے گھر سے نکل جاتا کہ دوریاں یہاں کے لوگوں کا مقدر بن چکی تھیں۔  اُس کی واپسی بھی دیر سے ہوتی اور کبھی کبھی تو گھر پہنچتے پہنچتے رات ہوجاتی۔ وہ گھر کے کاموں میں خود کو مشغول رکھتی۔ دھیرے دھیرے زندگی کی یکسانیت بوجھ بن گئی۔ گھر اُسے قید خانہ لگنے لگا۔ جہاں وہ تن تنہا دن گزارتی۔ اُس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ زندگی اس طرح ایک جگہ ٹھہر جائے گی۔ اُس نے کئی بار عامر سے کہا کہ وہ بھی کچھ کرنا چاہتی ہے۔ مگر عامر نے ہر بار ٹال دیا۔ ماحول کی یکسانیت اور خالی پن نے اُسے ذہنی الجھنوں میں مبتلا کر دیا۔ آخر ایک دن اخبار میں خالی اسامیوں کو دیکھ کر درخواست لکھی اور عامر کو دکھائی۔ درخواست دیکھ کر عامر کا موڈ خراب ہو گیا۔ اُس نے نہایت تُرش لہجے میں اُسے گھر میں رہنے کی تلقین کی۔ وہ سہم کر خاموش ہو گئی۔

        وہ ٹیرس پر تنہا کھڑی تھی۔ رات کے تقریباً ڈیڑھ بجے تھے۔ تمام شہر سناٹے کی دبیز چادر اوڑھے سو رہا تھا۔ خاموشی نے شہر کے گرد اپنا حصار قائم کر رکھا تھا کبھی کبھی اکّا دکّا گاڑی اپنی مدھم آواز کے ساتھ گزر جاتی تو اندھیرے میں روشنی کی ایک لکیر کھنچتی چلی جاتی اور انجن کا شور دیر تک سنائی دیتا رہتا۔ کچھ دنوں سے اس وقت لائٹ چلی جاتی تھی اور شہر پر اندھیرا مضبوطی سے اپنے قدم جما لیتا ، ہوا بند تھی۔ اندر جانے کو اُس کا دل نہیں چاہا۔ اندر جاتی تو کمرے کا حبس اور بے چینی اُسے اپنے وجود میں بھرتی نظر آتی۔ وہ کچھ دنوں سے اضطرابی کیفیت میں مبتلا تھی۔ دن بھر خالی گھر، کام کرتے ہاتھ اور سوچتا ہوا ذہن۔ آخر وہ اتنا کیوں سوچتی ہے۔ وہ اپنے آپ پر جھنجھلاجاتی۔ کام ختم کرنے کے بعد پورا دن گھر میں ادھر اُدھر ٹہلتے گھومتے گزر جاتا۔ کام میں بھی در اصل اُس کا دل نہیں لگتا۔ ایسا محسوس ہوتا کوئی پیچھے سے اُسے ڈھکیل رہا ہے۔وہ مجبوری میں اٹھ کر کھانا پکاتی،کپڑے دھوتی یا چیزوں کو اِدھر سے اُدھر کرتی۔ ٹی۔ وی۔ کے چینل بدلا کرتی اور بور ہوکر اخبار لے کر بیٹھ جاتی۔پھر لا پرواہی سے اخبار تہہ کرتے ہوئے میز کے نیچے ڈال دیتی۔ تھوڑی دیر میں پھر اخبار اُٹھاتی روز گار والا صفحہ کھول کر دیکھتی کچھ نشانات لگاتی اور پھر رکھ دیتی۔ ایک آدھ درخواستیں لکھتی پھر پھاڑ کر ڈبّے میں ڈال دیتی اور بے چین ہوکر ٹیرس پر نکل جاتی۔ عامر اپنی زندگی سے خوش تھا۔ وہ اُس کے گھر کی ایسی ضروری چیز بن گئی تھی جو ضرورت پر کام آتی اور ضرورت پوری ہوجانے کے بعد گھر کے دوسرے سامان میں شامل ہو جاتی۔ گھنی آبادی سے بھرے اس دشتِ بے کراں میں تنہا اور اداس خود کو لمحہ بہ لمحہ پگھلتے ہوئے دیکھنا کتنااذیت ناک تھا اُس کے لیے۔ عامر کے پاس وقت نہیں۔  وقت جس نے اُسے اچانک بے مایہ اور بے وقعت بنا ڈالا۔ اُس سے اُس کی شناخت چھین لی۔

        ایک دن اُس نے ایک درخواست لکھی اُسے لفافے میں بندکیا اور پتالکھ کر نیچے چوکیدار کو پوسٹ کرنے کو دے آئی۔ پندرہ دن بعد اُس کا جواب آگیا اُس کو انٹر ویو کے لیے بلایا گیا تھا۔ وہ خوش ہو گئی یہ سوچ کرکہ ادارہ اس کے گھر سے چند فر لانگ کے فاصلے پر تھا۔ اُسے یقین تھا کہ اس بار عامر کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔۔ اُسے لگا کہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا خدا نے اُسے ایک اچھا موقع عطا کیا ہے۔ وہ بے چینی سے رات ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ گھنٹی کی پہلی آواز پر ہی دوڑ کر دروازہ کھولا۔۔۔۔۔۔۔۔

        ’’ آج بہت خوش نظر آرہی ہو‘‘

 عامر کے سوال پر اُس نے فوراً وہ کاغذ سامنے کر دیا اور پُر امید نظروں سے اُسے دیکھنے لگی۔ عامر نے صوفے پربیٹھ کر کاغذ کو پڑھنا شروع کیا۔ اُس کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا۔ آخری سطر پر پہنچنے سے پہلے ہی اُس نے کاغذ کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور چلّا کر کہا کہ

        ’’ مجھ سے پوچھے بغیر تم نے درخواست دینے کی ہمت کیسے کی۔‘‘

 اُسے بھی غصّہ آگیا۔ اُس نے تیز آواز میں کہا۔

        ’’میں یہ نوکری ضرور کروں گی‘‘۔

اتنا کہنا تھا کہ عامر کا چہرہ غضب ناک ہو گیا۔ وہ آگے بڑھا اور ایک زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر جڑ دیا۔ اس غیر متوقع عمل پر اُس کی آنکھوں کے آگے ستارے چمکنے لگے۔ وہ کچھ سمجھ نہ سکی۔ نظریں اٹھا کر دیکھا تو سامنے جو شخص کھڑا تھا اس کی آنکھیں لال انگارہ ہو رہی تھیں۔  دانت بڑے بڑے تھے اور سر پر دو سینگ تھے۔ یہ بھیانک شکل دیکھ کر اُس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ اُس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور دیوار کے سہارے نیچے بیٹھتی چلی گئی۔ اُسے محسوس ہوا جیسے کسی نے اُسے پہاڑ کی بلندی سے نیچے ڈھکیل دیا ہو اور وہ گرتی چلی جا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔

مزید دکھائیں

صغیر افراہیم

پروفیسر، شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ مدیر ’’تہذیب الاخلاق‘‘

متعلقہ

Close