افسانہ

ٹفن

عبدالکریم شاد

دس منٹ سے انتظار کر رہا ہوں کہ کب وہ ٹفن کھولے اور میں اس کا رد عمل دیکھ سکوں لیکن۔ ۔ ۔

وہ سارے برتن ایک ایک کر کے صاف کر رہی تھی اور میں کھڑکی سے چپکے چپکے سارا نظارہ دیکھ رہا تھا۔ اس نے ٹفن اٹھایا ہی تھا کہ میں چوکنا ہو گیا مگر یہ کیا؟ اس نے ٹفن کو اٹھا کر ایک کنارے رکھ دیا، میں مایوس ہو گیا اور ٹکٹکی لگائے دیکھتا رہا۔

 وہ دوسرے برتن صاف کرنے میں مصروف تھی، اس کے چہرے پر اداسی کے اثرات نمایاں تھے، وہ کسی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ آج میں جب آفس سے آیا تو اس نے مسکرا کر میرا استقبال نہیں کیا، ٹھیک سے بات بھی نہیں کر رہی تھی، منہ پھولا ہوا تھا اور آنکھوں میں غصہ نظر آ رہا تھا، ہر بات کا ٹیڑھا جواب دے رہی تھی، میں سمجھ گیا کہ ضرور اس کو کسی بات سے تکلیف پہنچی ہے اور اس کا مزاج برہم ہے۔

میں سوچ رہا تھا کہ اس کا موڈ بھی آج ہی خراب ہونا تھا، آخر میرے پلان کا کیا؟ میں نے تو اسے خوش کرنے کا اچھا خاصا انتظام کر رکھا تھا، جس پیار اور انہماک سے وہ روز میرے لیے ٹفن تیار کرتی ہے آج اسی ٹفن میں بڑی محبت سے میں ایک چونکا دینے والا تحفہ لایا تھا۔

آفس میں دوپہر کا کھانا کھاتے وقت اچانک خیال آیا کہ اس کھانے میں میری بیوی کے ہاتھوں کا لمس، اس کا اخلاص اور کچھ ازدواجی جذبات بھی شامل ہیں جس نے کھانے کا ذائقہ کچھ اور ہی بڑھا دیا ہے، کیوں نہ آج اس ٹفن کو خالی لے جانے کی بہ جائے اس میں شکریہ ادا کرنے کا سامان بھی رکھ لیا جائے۔

حالانکہ ٹفن بنانا اس کے روز مرہ کے کاموں میں سے ایک عام سا کام ہے جسے وہ اپنا فرض سمجھ کر انجام دیتی ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس عام سے کام میں محبت اور ایثار کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ وہ میری پسند کا ہمیشہ خیال رکھتی ہے، میں کون سی سبزی کے ساتھ کتنی روٹیاں کھاؤں گا یا چاول کھانا پسند کروں گا، اسے سب معلوم ہے۔ کھانا پیک کرتے وقت اسے ضرور یہ خیالات آتے ہوں گے کہ پتا نہیں کھانا اچھا بن سکا ہے یا نہیں، کہیں میں کم نہ کھاؤں، کہیں میں ناراض نہ ہو جاؤں وغیرہ۔ ایک ٹفن میں کھانے کے ساتھ ہی ٹفن بنانے والے کے احساسات بھی موجود ہوتے ہیں، ہمیں ان احساسات کی قدر کرنی چاہیے اور بیوی کی دل جوئی کے لیے کبھی کبھار تحفے تحائف بھی دیتے رہنا چاہیے پھر چاہے وہ کسی ڈش کی شکل میں ہو یا زیورات کی شکل میں۔ میں تو اکثر اپنی بیوی کے لیے میٹھی بُندی اور سیو لے جاتا ہوں جو اسے بہت پسند ہے لیکن آج تو میں کچھ خاص ہی لے کر آیا تھا۔ راستے بھر سوچتا رہا کہ پتا نہیں اس کا کیا رد عمل ہوگا، خیالی پلاؤ بنا بنا کر مسکراتا رہا، راستا تو طے ہو گیا مگر ابھی تک وہ لمحہ میسر نہیں ہوا. ایک تو اس کے بگڑے مزاج نے میرا پلان چوپٹ کرنے کی ٹھانی تھی اور دوسرے اس خیال نے مجھے پریشان کر رکھا تھا کہ اس عجیب سے تحفے کو وہ قابل التفات سمجھے گی بھی یا نہیں۔

ایک مدت کے انتظار کے بعد آخر وہ گھڑی آ ہی گئی۔ اس نے ٹفن صاف کرنے کی ٹھانی اور میں کھڑکی سے ٹکٹکی لگائے اس کے چہرے اور ٹفن کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے ٹفن کا پہلا خانہ کھولا اور اچانک رک گئی، جیسے اس نے کوئی غیر متوقع چیز دیکھ لی ہو، ذرا توقف کے بعد اس نے دوسرا خانہ کھولا جس کے اندر دیکھتے ہی اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی، اتنا دیکھنا تھا کہ میں تو پھولے نہیں سما رہا تھا، ذرا سنبھل کر میں اس کے رد عمل کا لطف اٹھانے لگا۔ وہ کچھ سوچنے لگی، شاید اسے میرے ارادے کا پتا چل گیا تھا، اس کی پر لطف آنکھیں ادھر ادھر دیکھنے لگیں، شاید وہ مجھے ڈھونڈ رہی تھی۔ جب میں کہیں دکھائی نہیں دیا تو اس نے بڑے شوق سے تیسرا خانہ کھولا اور حسب توقع چیز دیکھ کر مسکرا اٹھی۔ اشتیاق و نشاط کا وہ عالم تھا کہ فورا اس نے چوتھا خانہ بھی کھول دیا۔ وہ تھوڑی دیر تک بڑے پیار سے دیکھتی رہی، سر اٹھا کر کچھ سوچتی، دانتوں میں انگلی دبا کر متعجب ہوتی اور مسکرا مسکرا کر اپنی خوشی کا اظہار کرتی۔ ادھر یہ پر کیف نظارہ دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہو رہا تھا۔ دل کر رہا تھا کہ ابھی جا کر اسے گلے لگا لوں لیکن مجھے تو بس اس نظارے کا لطف لینا تھا۔

کچھ دیر بعد اس نے پورا برتن صاف کر لیا اور میں بھی گھر میں آ گیا۔ میں انجان بنا رہا اور اس نے بھی مجھ سے کچھ نہیں کہا بل کہ جھوٹی برہمی کا دکھاوا بھی کرنے لگی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

رات کو کھانے کے بعد اس نے بستر لگایا اور غسل خانے میں چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد دیکھتا ہوں کہ وہ میری پسند کے لباس میں میرے سامنے کھڑی ہے, اس کی آنکھوں میں چمک تھی اور بڑی قاتلانہ نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی ۔ میں سمجھ گیا کہ تیر بالکل نشانے پر لگا ہے۔ اس نے دیر نہ کرتے ہوئے میری بانہوں میں بانہیں ڈال دیں اور میرے کان میں دھیرے سے بولی، آئی لو یو ٹو جان!

دوستو! چونکہ میں کبھی کبھار اس کے لیے کھانے کی چیزیں لاتا رہتا تھا تو ظاہر ہے ٹفن میں کوئی مٹھائی تو نہیں رہی ہوگی۔ تو آخر وہ کیا چیز تھی جس نے میری بیوی کے مزاج میں انقلاب برپا کر دیا۔ کوئی زیور؟ نہیں، کوئی قیمتی گھڑی؟ نہیں، کوئی عجیب و غریب تحفہ؟ نہیں۔ ۔ ۔ پھر کیا؟

جواب تو تحریر میں ہی ہے۔

جی ہاں، شکریے کا سامان اور احسان مندی کا اقرار۔ چند چھوٹے چھوٹے الفاظ جن کی تاثیر سے بڑے بڑے نتائج نکلتے ہیں۔

ٹفن کے پہلے خانے میں *آئی* ، دوسرے میں *لَو* ، تیسرے میں *یو* اور چوتھے میں *مائی سویٹ وائف ….* لکھا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close