افسانہ

پورٹریٹ

پروفیسرطارق چھتاری

’آج وہ اس پہاڑ کی سب سے اونچی چوٹی پرجاکر تصویربنائے گا۔ وہ برسوں سے بھٹک رہاہے۔ کبھی نالندہ کے کھنڈروں میں اورکبھی بودھوں کے پرانے مندرکے اردگرد۔ اس نے راجگیرکے برھما کنڈمیں اشنان کرتی دوشیزائوں کی تصویریں بنائی ہیں توکبھی کشمیرکی پہاڑیوں سے گرتے جھرنوں کی۔ اس کابرش اجنتا کی خوبصورت وادیوں سے بھی آشناہے اور وہ ایلوراکی پتھریلی زندگیوں میں بھی رنگ بھرچکاہے۔ ‘

اس نے تھیلے میں سامان رکھا، ڈرائنگ بورڈہاتھ میں لیااور گھرسے نکل کرپہاڑکی چوٹی کی طرف نظراٹھاکر دیکھنے لگا۔

’چوٹی پرجمی برف کودیکھنے بہت سے لوگ اوپرچڑھ رہے ہیں۔ راستے میں جگہ جگہ پکوڑوں کے خوانچے اورچائے کی دکانیں ہیں۔ اوپرایک چھوٹاسامیلالگتاہے، جہاں چیزیں بہت مہنگی ملتی ہیں لیکن لوگ سستی چیزیں زیادہ داموں میں خریدکرخوش ہوتے ہیں۔ ‘

اب وہ چوٹی پرپہنچ گیاتھا۔ اس نے دیکھاکہ جہاں لوگ اپنااپناقیمتی سامان بیچ رہے ہیں اس سے ذراپہلے ایک بوڑھا فقیر پرانااوورکوٹ پہنے، جوجگہ جگہ سے پھٹ کرگدڑی کی شکل اختیارکرچکاہے، ایک پیڑکے نیچے بیٹھا ہاتھ پھیلائے بھیک مانگ رہاہے۔

’’بابوکچھ دیتاجا۔ ‘‘

فقیرہرایک سے سوال کررہاہے مگرلوگ اس کودیکھے بغیرہی برابرسے گزرجاتے ہیں اور وہ ان کے چہروں کواس طرح تکتاہے، جیسے کہناچاہتاہو۔

’’بابو۔ اے بابوادھردیکھ تولے۔ ‘‘

اس نے اپنی جیب کوٹٹولا۔ حالانکہ اسے یقین تھاکہ جیب خالی ہے۔ جیب خالی تھی۔ یہ اس کے لیے کوئی نئی بات نہیں لیکن آج فقیر کوکچھ دینے کی خواہش دل میں رہ ر ہ کر اٹھ رہی تھی۔

لمبی داڑھی اورسفید گھنی بھنویں۔ لمبی لمبی انگلیاں اوران پرابھری نیلی نسیں۔ ’یہ کتنی آرٹسٹک لگ رہی ہیں۔ آرٹسٹک ! نہیں۔ ۔ ۔ مجھے یہ نہیں سوچناچاہیے۔ آخرکتنی مصیبتیں جھیلی ہوں گی اورکتنے فاقے کیے ہوں گے اس بوڑھے فقیرنے، تب اس کی یہ حالت یعنی آرٹسٹک حالت بنی ہوگی۔ کاش اسے کچھ دے سکتا۔ جن کی جیب میں بہت کچھ ہے وہی کون سادے رہے ہیں۔ پھریہ دردمیرے ہی دل میں کیوں۔ میری جیب خالی ہے شایداس لیے۔ ‘

وہ بازارسے گزرتے ہوئے اکثرسوچتاکہ جب اس کی جیب میں پیسے ہوں گے تویہ ڈرائنگ بورڈخریدے گا۔ وہ برش، گھنے بالوں والابرش بھی لے گا۔ اب اس کے سینڈل بھی پرانے ہوگئے ہیں اوریہ پینٹ کاکپڑا کتناخوبصورت ہے۔ لیکن جب کوئی پینٹنگ بکتی اورجیب بھری ہوتی تو پرانے ڈرائنگ بورڈ اورگھسے ہوئے برش سے ہی کام چل جاتا۔ ’سینڈل اوریہ پینٹ، سب تو ٹھیک ہے ابھی۔ ‘وہ دل میں کہتا اورسینہ چوڑاکیے دکانوں کی طرف بغیردیکھے ہی بازارسے گزرجاتا۔

’توکیا آج بوڑھے فقیرکوکچھ دینے کی خواہش بھی……؟نہیں ……‘ اس کے دل میں چبھن سی ہوئی شایدکوئی وارہواتھا۔ اس کے قدم اچانک رُک گے اوروہ بوڑھے فقیرکے سامنے سڑک کے اس پارایک بڑے پتھر پربیٹھ گیا۔

’یہ توکچھ اچھے لوگ معلوم ہوتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ اس فقیر کوضروردیں گے۔ ‘

ان کے ساتھ ایک سولہ سترہ سال کی معصوم سی لڑکی بھی تھی۔

’کسی انگریزی اسکول کی اسٹوڈنٹ معلوم ہوتی ہے۔ کتنادردہے اس کی آنکھوں میں اورکتنے غورسے بوڑھے فقیرکو دیکھ رہی ہے۔ ہاں ہاں دیکھو، وہ فقیر کے قریب سے گزرنا چاہتی ہے۔ ضرورکچھ دے گی۔ ‘لیکن جب وہ اس کے قریب سے گزری توناک پررومال رکھتے ہوئے کانوینٹیئن اندازمیں بولی۔

’’اُف ڈیڈی، انڈیاسے یہ بھک منگے کب ختم ہوں گے۔ ‘‘

ڈیڈی نے فقیرپرحقارت بھری نظرڈالی اورکہا۔ ’’چلوبیٹی یہ سب ڈھونگی ہوتے ہیں۔ ‘‘

فقیرکی داڑھی اورمونچھوں میں چھپے ہونٹوں میں جنبش ہوئی۔ شایدبوڑھے نے مسکرانے کی کوشش کی تھی۔

اس نے بورڈپرڈرائنگ شیٹ لگائی اورایک کٹوری میں بوتل سے پانی نکال کر برش شاف کرنے لگا۔ پھراس نے پوری شیٹ کونیلارنگ دیا۔ ’میں نے شیٹ کو نیلاکیوں رنگا؟‘وہ سوچنے لگا۔

’کیااس لیے کہ نیلارنگ آسمان کی وسعت اورسمندرکی گہرائی کی علامت ہے؟نہیں ——توپھر؟زہر……‘

اس نے نظریں اٹھاکرسامنے بیٹھے فقیرکی جانب دیکھاتولگاکہ بوڑھے کاچہرہ نیلاپڑچکاہے۔ شیٹ پرنیلارنگ کچھ خشک ہواتواس نے سب سے پہلے بوڑھے فقیر کے چہرے میں دھنسی آنکھیں بنائیں۔

’کتنی گہرائی ہے ان آنکھوں میں۔ ‘

اس نے فقیر کی آنکھوں میں جھانک کردیکھا توکتنے ہی مفکر، فلسفی اوردانش ورنظر آئے جواس کی گہری آنکھوں کی تہ میں کچھ تلاش کررہے تھے۔

’آنکھوں سے سب کچھ کھرچاجاچکاہے اوراب وہ دھندلی ہوگئی ہیں۔ ‘

بوڑھی پیشانی پرابھری بے جان شکنیں کسی بلندی پر لے جانے والی سیڑھیاں معلوم ہورہی تھیں۔

’سینکڑوں آرٹسٹ ان سیڑھیوں پربیٹھے تصویریں بنارہے ہیں اورزمانہ ان کے فن پردادلٹارہاہے۔ ‘

’’بابوکچھ دیتاجا…‘‘فقیرنے جاتے ہوئے ایک شخص کی طرف دونوں ہاتھ بڑھائے۔ بڑھے ہوئے موٹے موٹے ناخنوں میں بھرامیل، سفیدرونگٹے، ابھری ہوئی نیلی نسیں اورچھپکلی کے پیٹ کی طرح ہتھیلی کی زردکھال۔ محسوس ہواکہ فقیر کے دونوں ہاتھ کسی خوبصورت سفیدشاہی عمارت کے نقش ونگار بنانے میں مصروف ہیں۔

’کتنی کاریگری ہے ان بوڑھے اورلاغرہاتھوں میں۔ ‘

اسے لگاکہ بوڑھے فقیرکے دونوں ہاتھ کاٹ لیے جائیں گے۔

’نہیں۔ ۔ ۔ ‘

اوراس نے جلدی سے بوڑھے کے دونوں ہاتھوں کومٹیالے رنگ سے ڈرائنگ شیٹ پربنادیا۔

’چہرہ مکمل ہونے بھی نہ پایاکہ ہاتھ بنابیٹھا!‘

احساس ہواکہ وہ بوڑھے فقیرکی تصویر بڑی بے ترتیبی سے بنارہاہے۔ بوڑھے کی گردن میں اودے رنگ کے پتھروں کی مالاپڑی تھی۔ اس کابرش اودے رنگ میں سن چکاہے، مگراب پتھراپنارنگ بدل رہے تھے۔ اس نے غورسے دیکھا۔ ’پتھر پھول بنتے جارہے ہیں اورکوئی شخص پھولوں سے لدابوڑھے کے نزدیک کھڑاہے اوربارباربوڑھے کی طرف اشارہ کرتاہے۔ مجمع پھولوں سے لدے شخص کی جے جے کاربولتاہے، اورجب لوگ اسے اپنے کندھوں پربٹھالیتے ہیں تووہ شخص اس بوڑھے فقیر کی جانب ایک نظربھی نہیں ڈالتا۔ ‘اس کاگدڑی نمااووَرکوٹ عین ناف کے اوپرسے پھٹاہواتھا۔ کھال سوکھ کرچمڑاہوگئی تھی اور پیٹ کنویں کی طرح اندردھنس گیاتھا۔ اس نے سوچا، دھنسے ہوئے کنویں کورنگوں سے اٹادے مگرلگا کہ اگررنگوں کے گودام بھی خالی ہوجائیں توبھی یہ کنواں نہیں اٹ سکتا۔

’’بابوکچھ دیتاجا——‘‘

تصویر بناتے بناتے اس نے آنکھیں موندلیں۔ اپنی ہی آواز گونجی۔ ’پیسا…پیسا…ایک پیسا…‘اسے یاد آیا پچپن میں جب وہ آنکھیں میچ کرپیسے مانگنے والاکھیل کھیلتا توہمیشہ کوئی بچہ اس کے ہاتھ پرتھوک دیتا۔ اس نے دیکھاکہ بوڑھے فقیر کے پاس سے کوئی بچہ گزررہاہے۔ نہ جانے کیوں لگاکہ بچہ ضروربوڑھے کے ہاتھ پرتھوک دے گا۔ دل دھڑکنے لگااور رگوں میں دوڑتے خون کی رفتارتیز ہوگئی۔ ’خون ——سرخ خون——‘اب اس نے شیٹ پرچاروں طرف سرخ رنگ پوت دیاتھا۔ رنگ کچھ اس طرح بکھرا کہ شیٹ پربے شمار لال جھنڈے لہراتے نظرآئے۔ اسے لگاکہ بوڑھے فقیرکے دکھ درد کاحل ڈھونڈلیاگیاہے۔ تصویر کوغورسے دیکھا۔ تصویر، بوڑھے لاغر اوربے بس فقیرکی تصویرسرخ رنگ کے دائرے میں کچھ سہم سی گئی تھی۔ آرٹسٹ کی رگوں میں دوڑتے خون کی رفتار دھیمی پڑگئی اوراب اس کے برش کاسرخ رنگ زرد پڑچکاتھا۔ بوڑھے نے پیچھے ہٹ کردرخت کے تنے سے کمرٹکالی۔ درخت پر پھل لٹک رہے تھے۔ اس نے ڈرائنگ شیٹ پر درخت بنایا اورپھلوں کی جگہ بے شمارسکے لٹکادیے۔ ایک سکہ درخت سے ٹوٹا، لیکن جب وہ بوڑھے کے پاس آکر زمین پرگرا، توسکہ نہیں کسی پرندے کا کتراہواکچاپھل تھا۔

اب تصویرمکمل ہوچکی تھی——

’’کتنی خوبصورت پورٹریٹ ہے۔ ‘‘کسی نے کہا۔

’’………‘‘

’’جی ہاں آرٹسٹ نے کلر کمبینیشن پربہت زوردیاہے۔ ‘‘دوسرابولا۔

’’یہ آپ کے نئے بنگلے کے ڈرائنگ روم میں ……‘‘

’’ہاں ہاں، میں بھی یہی سوچ رہاتھا۔ مگرآئل پینٹنگ ہوتی توزیادہ اچھاتھا۔ ‘‘

’’لیکن صاحب آئیڈیا دیکھیے۔ وہ دیکھیے وہاں سے کچھ نیچے آکر پیٹرسے ٹوٹاہواسکہ کسی پھل کی سی شکل اختیار کرنے لگا ہے اور زمین پرآتے آتے…‘‘

’’ہاں بھئی پینٹنگ توبہت اچھی ہے۔ کتنے کی ہے یہ پورٹریٹ؟‘‘

’کتنے بتائوں۔ ۔ ۔ ۔ جومانگوں گاوہی ملے گاآج تو۔ ‘

وہ ذہن میں جودام مقررکرتاوہ کبھی زیادہ لگتے کبھی کم۔ دونوں شخص سامنے کھڑے اس کے جواب کاانتظار کررہے تھے کہ اچانک اس نے کچھ کہا۔ کیاکہا؟یہ وہ خود نہیں سن سکالیکن جب سامنے والے شخص نے اطمینان کی سانس لیتے ہوئے اس کی بتائی ہوئی رقم دہرائی تواس نے سوچا——

’ایں یہ کیا!میں نے صرف اتنے ہی مانگے!اس سے زیادہ میں سوچ بھی تونہیں سکتاتھا۔ خیراتنے ہی کافی ہیں۔ یہ سب پیسے بوڑھے فقیرکودے دوں گا۔ اسے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانانہیں پڑے گا۔ ان پیسوں سے وہ کوئی چھوٹاموٹادھنداکر سکتاہے۔ کچھ نہیں توپتھرکی مورتیاں اورمورتیوں کی مالائیں بیچنے لگے گا۔ ‘

’’یہ لو…‘اس سے زیادہ نہیں۔ ابھی توفریم بھی بنواناہے۔ ‘‘

’نہیں صاحب اس سے کم نہیں۔ ‘اس نے کہناچاہامگرمنہ سے کچھ نہ نکلااورچپ چاپ دی ہوئی رقم ہاتھ میں تھامے اٹھ کرکھڑاہوگیا۔

’کتناخوش ہوگا بوڑھافقیر۔ اتنی بڑی خوشی زندگی میں پہلی بارملے گی۔ ‘

جب وہ بوڑھے کے پاس پہنچاتواس نے ہاتھ پھیلاکرسوال کیا۔

’’بابوکچھ دیتاجا—— کچھ دیتاجابابو——‘‘

چاہاکہ جھک کراس کے ہاتھ پرسارے روپیے رکھ دے مگر اس نے دیکھاکہ کچھ لوگ قریب سے گزررہے ہیں۔

اس نے ہاتھ روک لیا۔

’کیاسوچیں گے یہ لوگ۔ سمجھیں گے میں کوئی پاگل ہوں۔ ‘

وہ وہیں کھڑالوگوں کے گزرجانے کاانتظارکرتارہا۔

’میں یہاں کھڑاہوں۔ لوگ دیکھ رہے ہیں۔ میں اس طرح کیوں کھڑاہوں شایدوہ سوچ رہے ہوں گے۔ ‘

وہ دوچارقدم ٹہلتاہواآگے بڑھااورپھرپیچھے لوٹ آیا۔ بوڑھاحیرت زدہ نظروں سے دیکھنے لگا۔

’بوڑھاحیرت زدہ ہے، شاید میں نے فقیرکے ہاتھ پرنوٹوں کی موٹی گڈّی رکھ دی ہے۔ ‘

اس نے مسکرانے کی کوشش کی اورفقیرکی طرف دیکھا۔ فقیربھی مسکرارہاتھاگویاوہ فقیرنہ ہو قدآدم آئینہ ہو۔

آئینے میں کسی احمق کاچہرہ دکھائی دیا۔

’فقیر پھرمسکرارہاہے، دل ہی دل میں ہنس رہاہے گویاسوچ رہاہوکہ عجب سرپھرا شخص ہے۔ ‘

اب آرٹسٹ کاحلق خشک ہوگیاتھا۔ بوڑھے نے کھنکاراتواسے لگاکہ بوڑھافقیرقہقہہ مارکرہنس پڑاہے۔

’’بابوکچھ دیتاجا——‘‘

فقیر نے ہاتھ بڑھایا۔ ہاتھ خالی تھا۔ آرٹسٹ نے اپنے ہاتھ پرنظرڈالی، اس کے اپنے ہاتھ میں نوٹوں کی موٹی گڈّی تھی۔ اسے محسوس ہواکہ بوڑھے نے اس کی ذہنی حالت پر ترس کھاکر پیسے لوٹادیے ہیں۔ پل بھرکے لیے لگاکہ وہ خودفقیرکی جگہ بیٹھا بھیک مانگ رہاہے۔ ہاتھ خود بخود پیٹ پرپہنچ گیا۔

’بھوک لگ رہی ہے۔ ‘

بھوک تو اس وقت بھی لگ رہی تھی جب وہ گھرسے نکلاتھا۔

’پہلے چل کر کچھ کھالیاجائے۔ ‘اس نے سوچااورسامنے چائے کے ہوٹل میں گھس گیا۔

ہوٹل کابل چکانے کے بعدباقی روپیوں کوہاتھ میں تھامے ٹہلتاہواپھربوڑھے فقیر کے قریب آن پہنچا۔ فقیرنے کنکھیوں سے دیکھا اورتارتاراوورکوٹ کی جیب کوگھٹنوں میں دباکرمحفوظ کرلیا۔

’کمبخت سوچ رہاہے میں کچھ چھین کربھاگ جائوں گا۔ ‘

اس نے نفرت سے فقیرکی طرف دیکھا۔ ’وہ اوندھے منہ پڑاتھااوربہت سارے چاندی کے سکّے فرش پربکھرے ہوئے تھے۔ پولیس والوں نے تلاشی لی توگدڑی سے نوٹوں کی گڈیاں نکلنے لگیں۔ اخباروالوں نے فوٹوکھینچے۔ پلیٹ فارم پر بھیک مانگتاتھا۔ نحیف ونزارفقیر —اس بوڑھے سے بھی بدترحالت تھی اس کی۔ ‘

اب آرٹسٹ کے ہاتھ میں چندروپیے تھے۔ باقی ڈرائنگ شیٹ اوررنگ خریدنے کے لیے جیب میں رکھ لیے تھے اور گھوم کرفقیر کے پیچھے آگیاتھا۔ بوڑھاپہلوبدلنے لگا اوربیساکھی بھی کھسکا کرقریب کرلی۔

’نہ جانے کیاسمجھ رہاہے۔ مگرمجھے اس سے کیاغرض۔ مجھے تواس کی مددکرنی ہے۔ اگرمجبوری نہ ہوتی ہوتوپورے پیسے ہی دے دیتا۔ خیراتنے بھی اس کے لیے کافی ہیں۔ ‘

بوڑھاکھانساتولگاکہ بوڑھاپھرزورسے قہقہہ مارکرہنس پڑاہے۔ اس کاوہ ہاتھ جس میں روپیے تھے لرزگیا۔ یادآیا کہ جب اس نے دودن سے کھانانہیں کھایاتھااوراپنے ایک امیردوست سے کچھ پیسے ادھارمانگنے گیاتھاتوکتنی دیرتک یوں ہی بیٹھا رہا۔ کئی بارمانگنے کی کوشش کی مگرکوئی سہاراہی نہیں مل پایا کہ کس طرح بات شروع کرے۔ کسی امیرسے کچھ مانگنا کتنامشکل ہے۔ کیسی عجیب کیفیت تھی وہ۔ مگرآج کسی غریب کواتنے روپیے دینا، ٹوٹے سینڈل اورپھٹی پتلون پہن کر اتنے روپیے دینااس مانگنے سے کہیں زیادہ مشکل ہوگیاتھا۔ ایک بارپھر فقیرکوپیسے دینے کی کوشش کی مگرلگاکہ اس کے چاروں طرف بھیڑجمع ہے اور سر پر راجاہریش چندرکامکٹ باندھے اسٹیج پرکھڑاکوئی کرتب دکھارہاہے۔ وہ اپنے آپ سے کشتی لڑرہاتھاکہ اسے ادّی پہلوان یاد آگیا۔

’ادّی پہلوان نے اس رکشے والے کو، جس سے ایک لالاچندپیسوں پرجھگڑا کررہاتھا، کس شان سے ایک بڑانوٹ دیاتھا۔ ’’کیوں جھگڑرہاہے بے۔ یہ لے۔ یہ عزت دار لوگ کیادیں گے۔ انہیں توغریبوں کودیتے ہوئے شرم آتی ہے۔ بے عزتی ہوتی ہے ان کی۔ دینے کے لیے ادّی کادل چاہیے۔ ‘‘سچ ہی کہاتھاادّی نے۔ دینے کے لیے ادّی کادل چاہیے۔ علاقے کے بدمعاش ادّی کا—‘

ادّی پہلوان نے راجاہریش چندرکواٹھاکر زمین پرپٹخ دیاتھا۔ چاروں خانے چت۔ اس نے گھبراکر اپنے چاروں طرف دیکھا۔ سامنے سے کچھ لوگ آرہے تھے۔

’ارے یہ تووہی لڑکی ہے—‘

لڑکی نے اسے فقیرکے قریب کھڑادیکھا تومسکرادی۔

’یہ کیوں مسکرارہی ہے۔ کیااسے معلوم ہے کہ میں فقیرکواتنے پیسے ……کیامیں شکل سے احمق معلوم ہوتاہوں ؟‘

آرٹسٹ نے نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرانے کی کوشش کی، پھربھنویں سکوڑیں اوربولا۔

’’نہ جانے انڈیا سے یہ بھک منگے کب ختم ہوں گے۔ ‘‘

اب اس کانوینٹیئن لڑکی کے رومال کی خوشبوآرٹسٹ کے جسم میں اترگئی تھی۔ اس نے اپنی مٹھی کے سارے نوٹ جیب میں رکھے اورایک سکہ نکال کربوڑھے فقیرکے ہاتھ پراس طرح ڈال دیاجیسے سکہ نہ ڈالاہوبلکہ تھوک دیاہو۔ فقیر کاہاتھ سکے کے بوجھ سے کپکپانے لگا——

’’بابوتیرابھلاہو—‘‘

اس نے دیکھاکہ لڑکی کے ڈیڈی اب بھی اس کی طرف دیکھ کرمسکرارہے ہیں۔ وہ اس طرح چونکاجیسے ابھی کچھ اور کہنا باقی ہے، اوربول پڑا۔

’’صاحب یہ لوگ کیساڈھونگ رچائے رہتے ہیں ——‘‘

اوریہ کہتاہوا تیزتیز قدموں سے آگے بڑھ گیا——

کچھ دورجانے کے بعداس نے مڑکردیکھا۔ وہ دونوں شخص، جنہوں نے اس کی پورٹریٹ خریدی تھی، بوڑھے فقیرکے وجودسے بے خبر، ہنستے ہوئے اس کے سامنے سے گزررہے تھے اوربوڑھاہاتھ پھیلائے بھیک مانگ رہاتھا۔

’’بابوکچھ دیتاجا——‘‘

٭٭٭

مزید دکھائیں

طارق چھتاری

شعبہ اردو، اے ایم یو علی گڑھ

متعلقہ

Close