افسانہ

پہلا نکاح

عبد الواحد وفاؔ کمایونی

نقشہ قابل رشک، پیازی رنگ،غزالی سیاہ آنکھیں جن میں چاہت کی چمک نمایاں خوش نظر صورت سیب کے مانند رخسارخار کی مثل۔ ۔ ۔ ۔ لمبی ناک اور عمر تقریباً پونے سولہ سال۔ ایسے پیکر حسن کو دیکھ کر کوئی مومن ضرور اس مصور کا شکر ادا کئے بغیر نہ رہے گا کہ اس نے ایسی مصوری کر کے انسان کو حیرت زدہ کر دیا اور وہ کہنے پر مجبور ہو ا کہ ؎

کچھ ایسی دلکش ہے صورت میں آدمی کی

گویا بنانے والا بیٹھا ہے آدمی میں

دہلی سے علی گڑھ جانے والی ڈیلکس بس کا ٹائم ساڑھے پانچ بجے کا تھا۔ اور صرف دس منٹ ہی باقی تھے۔ جام کی وجہ سے اس کا دل دھڑک رہا تھا کہ بس نکل نہ جائے۔ خدا خدا کر کے جام ہٹا۔ آٹو رکشا سے اتری اور طے شدہ اجرت دے کر وہ سیدھی بس کی طرف بڑھی۔ ایک سیٹ پر اس کو جگہ بھی مل گئی مگر کھڑکی کی طرف نہیں بلکہ گیلری کی طرف۔ وہ کھڑکی کی طرف بیٹھنا چاہتی تھی مگر اس پر سواری بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی پرستائی بھی قابل رشک تھی۔ چھ فٹ قد، گورا رنگ،کالے خوبصورت جاذب نظر بال، آنکھیں شرمیلی سی اور وضع قطع۔ آخر بڑی ہمت کر کے وہ لب کشائی پر آمادہ ہوئی۔ بولی کیا آپ اپنی سیٹ مجھے دے سکتے ہیں ؟معصوم مسافر نے اخلاقی فرض ادا کرتے ہوئے اپنی سیٹ سے اٹھا اور اسکو عنایت کر دی اور گیلری کی طرف سیٹ پر بیٹھ گیا۔

  گردن کو آرام دینے کے لئے اس مسافر نے جب رخ کھڑکی کی طرف کیا تو لڑکی نے کہا شکریہ آپ کا کہ آپ نے زحمت فرمائی۔ جواب میں لڑکے نے کہا شکریہ تو مجھے آپ کا ادا کرنا چاہئے کہ آپ نے سیٹ قبول کر لی۔ وہ بولی نہیں شکریہ کے مستحق تو آپ ہی ہیں کہ آپ نے میری التجا کو حیات بخشی۔ یہ سن کر لڑکی کے لب پرتبسم کی چاندی بکھر گئی۔ دوسرے مسافر بس میں اپنے اپنے شغل میں مصروف تھے کوئی ناول تو کوئی اخبار پڑھ رہا تھا۔ کچھ ایسے بھی تھے جو اس حسین جوڑے کو دیکھ کر دل ہی دل میں خوش تھے اور کچھ ایسے مسافر بھی تھے جو گھریلو پریشانی کی وجہ سے غمگین تھے۔

 نازنین نے کہا میں اپنے محسن کا نام معلوم کر سکتی ہوں۔ اس نے نیچی نظر کئے کہا جی مجھے احسن ؔکہتے ہیں۔ اور آپ کا محبوب نام ؟۔ جواب میں اسے کہا۔ مجھے منجو ؔکہتے ہیں۔ کچھ خاموش رہ کر بولی میں ایم۔ یو کی طالبہ ہوں۔ ایم کام فرسٹ ایئر۔ اور آپ۔ اس مسافر نے کہا میں بھی ایم۔ یو کا طالب علم ہوں ایم کام سکینڈ ایئر۔ م۔ آپ کہاں کو بلونگ کرتے ہیں۔ الف۔ آپ؟۔ م۔ دہلی

 باتوں باتوں میں سفر پورا ہو گیا انہیں تب پتہ چلا جب سواریاں اپنی سیٹ خالی کرنے لگیں۔ ’’اچھا منزل آگئی ‘‘منجوؔ نے کہا۔ احسن ؔنے کہا ہاں۔ اور ہاں آپ مجھے اپنا نمبر دیں اگر مناسب سمجھیں۔ م۔ لیجئے 998877 ہے اور آپ کا؟الف۔ میری موبائل خریدنے کی استطاعت نہیں ہے۔ اور دونوں اپنی اپنی منزل کی طرف چل دیے۔

  پھر موبائل کے ذریعہ گفتگو کو سلسلہ شرو ع ہوگیا۔ ملاقاتیں بھی ہونے لگیں۔ منجوؔ کے دل میں احسن کی محبت گھر کر گئی۔ دراصل وہ ایمبسڈر کے خواب دیکھا کرتی تھی۔ اس کے فادر دبئی میں اچھی سروس میں تھے۔ اس کی والدہ بھی دو تین بار دبئی دیکھ آئی تھیں اس لئے وہاں کے اسلامی کلچر سے متاثرتھیں اور تھیں بھی وہ خود علیگ۔ اس لیے انہوں نے منجوؔکو انٹر تک اردو کی پڑھائی بھی کروائی تھی اور احسن نے بھی تعاون دیا تھا۔ کبھی کبھی کوئی اچھا شعر بھی سنا دیا کرتا تھا۔

 ایک دن منجو اپنی سہیلی کی بات سناتے ہوئے کہنے لگی کہ اس پر پورا بھروسہ کرتی تھی۔ مگر اس نے مجھے ایک دن اپنے گھر نہ لے جا کر اپنے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا منشا مجھے رسوائے زمانہ کرنے کا تھا۔ مگر بھگوان نے میری عزت رکھ لی۔ میرا دل وہاں گھبرانے لگا اس لیے بہانہ کر کے وہاں سے چلنے کے لئے اٹھی کہ وہ لڑکا جسے میں بری نظر سے گھورتا ہوا کبھی کبھار دیکھا کرتی تھی میرے قریب آیا اور مجھے روکنے کی کوشش کرنے لگا۔ میں پھرتی سے بچ کر نکل کر بھاگی تو اس نے میرا دو پٹہ پکڑ لیا۔ میں دوپٹہ چھوڑ کر اپنی عزت بچانے کی غرض سے دوڑتی ہوئی اپنے گھر آ گئی۔ احسن نے کہا نیک لوگوں کی خدا ایسے ہی مدد کرتا ہے۔ اس نے آپ کی بھی مدد کی اور اس لڑکے کی سازش ناکامیاب رہی۔ ایسے ہی موقع پر کسی شاعر نے یہ شعر کہا ہوگا   ؎

غیروں کو کیا پڑی تھی رسوا کریں مجھے

ان سازشوں میں ہاتھ کسی آشنا کا ہے

منجو شعر سن کر کہنے لگی مجھے اس شعر کو نوٹ کرنا ہے۔ دوبارہ سنایئے۔ احسن نے دوبارہ شعر سنایا۔ منجو نے ڈائری میں نوٹ کر لیا۔ احسن کی گفتگو اور اس کے حسین اخلاق سے اور سب سے زیادہ اس کے کردار سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ اس لئے ملاقاتوں کا سلسلہ اور آگے بڑھتا رہا۔ آخر منجو کو احسن سے ایک والہانہ محبت ہوگئی۔ ایسی محبت جس کو پاکیزہ محبت کہہ سکتے ہیں۔ ایک روز منجوؔنے احسن کے ہاتھ میں ایک کتاب دیکھی۔ سرورق پر لکھا تھا ’’آداب زندگی‘‘وہ احسن سے لے کر دیکھنے لگی اور پھر بولی احسن صاحب !یہ کتاب تو بہت اچھی ہے۔

احسن نے کہا۔ آپ کو پسند ہے تو اسے رکھ لیجئے۔ منجو نے لے لی۔ اب وہ روز اسکو پڑھتی اور ویسا ہی کردار بننے کی کوشش کرتی۔ کچھ دنوں میں وہ ایک ایسی لڑکی ہو گئی جس پر کوئی بھی با کردار مسلمان لڑکی فخر کر سکے۔ ’’آداب زندگی‘‘پڑھ کر وہ کبھی کبھی احسن سے مذاق بھی کر لیتی۔ ایک دفعہ وہ قرآن کا مطالعہ کرنے بیٹھی۔ سورۃ الانشقاق کی ابتدائی آیات کا ترجمہ دیکھنے لگی:’’اے انسان !تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے ‘‘۔ یہ قرآنی جملہ اس نے منہ زبانی یاد کر لیا۔ احسن سے جب ملاقات ہوئی تو کہنے لگی میں نے قرآن میں ایک جگہ ایسا لکھا دیکھا کہ انسان کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے۔ احسن نے کہا تو۔ منجو کہنے لگی۔ ۔ اور میں۔ اور تم۔ !میں بھی کشاں کشاں آپ کی طرف بڑھتی چلی آرہی ہوں۔ کیا آپ محسوس نہیں کرتے؟۔

احسن منجو کے ارادے کو سمجھ گیا۔ اس نے کہا’’آپ میری طرف کشاں کشاں بڑھتی چلی آرہی ہیں ‘‘وہ صحیح نہیں ہے۔ م۔ (منجو نے کہا)کیوں ؟

الف(احسن نے کہا)کیوں کا جواب کیا دوں ؟۔

م۔ کیا آپ مجھے پسند نہیں کرتے ؟

الف۔ پسند نا پسند کی بات نہیں، بلکہ۔ ؟

م۔ بلکہ کیا ؟صاف بتایئے۔

الف:بلکہ کا مطلب یہ ہے کہ ہم دونوں علیحدہ علیحدہ کلچر کے ہیں۔ آپ ہندو ہیں اور میں مسلمان۔ آپ سناتن دھرم کی ماننے والی ہیں اور میں اسلام کو اپنا دین مانتا ہوں۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ اپنا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کیا جائے۔

م:تو کیا اسلام ایسی تعلیم دیتا ہے کہ کوئی انسان محبت سے پیش آئے اور محبت کو اپنا شعار بنائے تو دوسرا انسان بجائے خندہ پیشانی کے ملنے کے نفرت کا اظہار کرے اور دوسروں کے خلوص کو کوئی اہمیت نہ دے۔

الف:نہیں، ایسا نہیں ہے۔ کیا آپ مجھے نہیں دیکھ رہی ہیں کہ میں آپ سے کتنی انسیت رکھتا ہوں اور آپ کو ایک آئیڈیل تصور کرتا ہوں۔ مگر۔ !

م:مگر کیا؟

الف:میں اس کا جواب ایک شعر کے ذریعہ دے سکتا ہوں۔

م:وہ شعر کیا ہے ؟فرمایئے

الف:وہ شعر یہ ہے ؎

  تمہاری اور ہماری دوستی تو نبھ نہیں سکتی

   بتوں کو پوجنے والے ہو تم اور ہم بت شکن ہیں

م:اچھا میں اب سمجھی۔ اچھا تو آپ میرا کوئی اسلامی نام رکھ دیجئے۔ اگر نام ہی سے مسلمان کی شناخت ہوتی ہے۔

الف:چلو اس موضوع پر پھر بات کریں گے۔ اب پانچ بج گئے۔ سوا پانچ بجے مجھے مسجد میں جماعت سے نماز ادا کرنا ہے۔ پھر ملیں گے۔

        منجو نے بھی کمرے پر آکر وضو کیا اور قرآن کی تلاوت کی۔ دراصل وہ غائبانہ طور پر اسلام قبول کر چکی تھی اور’’آداب زندگی‘‘سے اس نے بہت کچھ سیکھا تھا۔ اس نے سورۃ الانشقاق ۸۴؎کی تین آیتیں پڑھیں اور پھر ان کا ترجمہ اور تفسیر دیکھنے لگی۔ پھر اس کو شوق ہوا کہ اور دیکھے۔ وہ اس میں کھو گئی۔ جب وہ اس آیت پر آئی ’’یومئذتحدث اخبارھا‘‘’’اس روز اپنے (اوپر گزرے ہوئے)حالات بیان کرے گی‘‘۔ حالات کے بارے میں وہ غور کرنے لگی۔ زمین اپنے حالات کیسے بیان کرے گی؟آخر وہ تفسیر پڑھنے لگی۔ زمین پر عمل کرنے والا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے عمل کی زمین خبر نہ دے۔ خواہ اچھا عمل ہو یا برا۔ یہ بات آج علوم طبعی کے انکشافات سے یعنی سنیما، لاؤڈ اسپیکر،ٹیلی ویژن، ٹیپ ریکارڈ اور الکٹرانک وغیرہ ذرائع سے سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ وہ اپنے حالات کیسے بیان کرے گی؟انسان نے زمین پر جہاں جہاں جس حالت میں بھی جو کام کیا ہے۔ اس کی ایک ایک حرکت کا عکس اس کے ارد گرد کی تمام چیزوں پر پڑا ہے اور ان کی تصویریں ان پر نقش ہو چکی ہیں۔ خدا کی خدائی میں ایسی شعاعیں موجود ہیں جن کے لیے اندھیرا اور اجالاکوئی معنی نہیں رکھتا۔ وہ ہر حالت میں اس تصویر کا عکس لے سکتی ہیں اور لے رہی ہیں۔ ۔

یہ ساری تصوریں قیامت کے روز ایک متحرک فلم کی طرح انسان کے سامنے آجائیں گی اور وہ یہ دکھا دیں گی کہ انسان زندگی بھر کب، کیا اور کہاں افعال کرتا رہا۔ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔ عدالت میں مجرم انسان کے خلاف مقدمہ قائم کیا جائے گا۔ اور اس کو ایسی مکمل شہادتوں سے ثابت کر دیا جائے گا کہ مجرم ہونے میں کسی کلام کی گنجائش باقی نہ چھوڑی جائے گی۔ ۔ اور پھر منجو اس پر غورکرتے کرتے سو گئی۔

 ان دنوں احسن گھریلو کام سے سہارنپور آ گیا تھا اس لئے ملاقاتوں کاسلسلہ منقطع ہو گیاتھا۔ آج منجو خو د ہی احسن کے کمرے پر گئی تو وہ بھی اتفاق سے سورۃ الزلزال کا مطالعہ کر رہا تھا۔ منجو خاموشی سے سنتی رہی۔ ’’انسان کا جسم بھی گواہی دے گا اور اللہ کی عدالت میں اس کی زبان بھی شہادت دے گی،اس کے ہاتھ پاؤں شہادت دیں گے کہ ان سے اس نے کیا کام لیا؟۔ اس کی آنکھیں اور اس کے کان بھی شہادت دیں گے۔ اس وقت انسان حیران ہوگا اور اپنے اعضا سے کہنے لگے گا کہ تم بھی میرے خلاف گواہی دے رہے ہو؟جواب میں اس کے اعضا کہیں گے کہ آج جس خدا کے حکم سے ہر چیز بول رہی ہے، اسی کے حکم سے ہم بھی بول رہے ہیں۔ یہ بولنے کی آوازیں آدمی سنے گا اور اس طرح کی شہادتیں جو زمین اور کے ماحول سے پیش کی جائیں گی۔ جن میں آدمی اپنی آوازیں اپنے کانوں سے اوراپنے حرکات کی ہو بہو تصویریں خود اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ اور سونے پر سہاگہ یہ کہ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ ہوگا کہ انسان کے دل میں جو خیالات، ارادے اور مقاصد چھپے ہوئے تھے، اور جن نیتوں کے ساتھ اس نے وہ اعمال کئے تھے، وہ بھی نکال کر سامنے رکھ دئے جائیں گے۔ اتنے قطعی، صریح اورناقابل انکار ثبوت سامنے آجائیں گے کہ ان کے۔ ۔ ۔ انسان دم بخود رہے گا۔ اور اس کے لئے اپنی معذرت میں کچھ کہنے کا موقع باقی نہ رہے گا۔

منجو یہ سب غور سے سنتی رہی پھر کہنے لگی۔ ’’احسن صاحب !آپ نے میری آنکھیں کھول دیں۔ حالانکہ میں اپنے مذہب کی بے سرو پا کی انت کتھاؤں اور روایتوں سے اتفاق نہیں رکھتی پھر بھی اسلام کی حقانیت سے واقف نہ تھی۔ آپ کی ’’آداب زندگی‘‘اور قرآن کریم کو روز پڑھتی ضرور تھی۔ اور کوشش میں لگی ہوئی تھی کہ کچھ اور مطالعہ کروں تاکہ۔ ۔

الف:تاکہ سے مراد۔ ؟

م:یعنی یہ کہنے کے قابل ہو سکوں کہ میں بھی قرآن کی شیدائی ہوں۔ حالانکہ میں نے کچھ حافظوں کو بھی بہت قریب سے دیکھا ہے جن کے قول تو قرآن جیسے ہیں مگر افعال قرآن کے بر خلاف پاتی ہوں۔ ۔ احسن صاحب!یہاں مجھے نذیر بنارسی کا یہ شعر سناتے خوشی ہو رہی ہے اور غم بھی کہ   ؎

حافظ میاں نثار ہیں قرآں کے نام پر

لیکن عمل تو دیکھئے قرآں کے بر خلاف

شعر سن کر خود احسنؔکو بھی ہنسی آ گئی۔ منجو مسکراتے ہوئے بولی اچھا میں نے آپ کا قیمتی وقت ضائع کیا معافی چاہتی ہوں۔ اب میں ٹیوشن پڑھنے جاؤں گی۔ ’’خدا حافظ‘‘

سات آٹھ سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا۔ احسن اورا منجو کی ملاقاتیں پھر نہ ہو سکیں۔ احسنؔآگرہ اور منجو دہلی دونوں لکچرار ہو گئے۔

ایک دن احسن جیسے ہی کالج سے آیا تو کسی نے دستک دی فوراًباہر آیا تو پوسٹ مین کہنے لگا لیجئے یہ آپ کا رجسٹرڈ خط۔ اور اس پر دستخط کر دیجئے۔ اندر آکر بڑے شوق سے خط کھولااور پھر پڑھنے لگا۔ ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

   میں آپ کی منجو۔ آپ سے بذریعہ خط کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں۔ امید ہے آپ پورا خط پڑھ کر کچھ سوچ سمجھ کر فیصلہ فرمائیں گے۔ اور جو فیصلہ فرمائیں گے وہ میرے لیے قابل قبول ہوگا۔ چانکہ آٹھ سال کا عرصہ ہو گیا، ہو سکتا ہے آپ مجھے بھول گئے ہوں، مگر میں آپ کو کیسے بھول سکتی ہوں حالانکہ میں اب منجو صرف سرٹیفکٹ میں ضرور ہوں اور رہوں گی مگر ویسے میرا نام اب محسنہؔ ہے۔ آپ میرے احسنؔ ہیں۔ آپ نے میرے ساتھ اتنا بڑا احسان کیا ہے کہ آج میں فخر سے سر اٹھا کر یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں ایک مسلم خاتون ہوں۔ میں نے آپ سے آخری ملاقات آپ کی رہائش پر کی تھی۔ اس وقت بھی میں صاحب  ایمان تھی۔ مگر پھر کچھ ایسی مجبوریاں رہیں کہ میں آپ سے نہ مل سکی۔ آج میں اس خط کے ذریعہ آپ کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ میں آپ کی شریک حیات ہونے کا اور آپ کی کنیز بننے کا مصمم ارادہ کر چکی ہوں۔ کاش آپ مجھ کنیز کو قبول کر لیں۔ میں خود آپ کو دعوت محبت دے رہی ہوں، یہ بات آپ کے پاکیزہ ضمیر کو ممکن ہے ناگوار ہو، اس کے لیے پیشگی معافی چاہتی ہوں۔ لیکن اس کے ساتھی ہی میں یہ بھی کہنا چاہتی ہوں کہ یہ میرا فعل بے حیائی پر مبنی ہے نہیں۔ یہاں اس سلسلے میں آپ کو بتانا ضرور ی سمجھتی ہوں کہ تجارت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی شاندار کامیابیاں دیکھ کر اور۔ ۔ ۔ سے آپ کے عمدہ اخلاق وعادات کا تذکرہ سن کر حضرت خدیجہ ؓ  محمد ؐ کی گرویدہ ہو گئی تھیں۔ اس لئے انہوں نے خود آپ ؐ کے پاس اپنی لونڈی بھیج کر آپؐ سے نکاح کی درخواست کی تھی جسے آپؐ نے منظور فرمایا اور حضرت خدیجہؓ ہی سے آپ کا ’’پہلا نکاح‘‘ہوا۔ نکاح کے وقت حضرت خدیجہ ؓکی عمر۴۰ سال اور آپؐ کی عمر شریف ۲۵ سال کی تھی۔ جبکہ میں آپ کی کنیز منجو ۲۹؍سال کی اور ابھی کنواری ہوں۔ کاش اس کنیز کو آپ بھی قبول کرلیں از رہ نصیب۔ ۔ ۔ آپ کی محسنہؔ

خط پڑھ کر احسن کی آنکھیں نم ہو گئیں اور اس کا پاکیزہ کنورا دل اس سے کہہ رہا تھا کہدے قبول کیا۔

مزید دکھائیں

عبد الواحد وفاؔ کمایونی

F-42/A سیکنڈ فلور، ابو الفضل انکلیو، جامعہ نگر اوکھلا نئی، دہلی۔110025

متعلقہ

Back to top button
Close