افسانہ

گلابی چھتری

چھتری اسے پانی سے محفوظ کررہی تھی اور وہ چھتری کے تحفظ سے محظوظ ہورہی تھی۔

ناہید طاہر

سات سالہ پری، والدین کے ساتھ  چھٹیاں گزارنے انڈیا آئی تھی۔ برسات کا موسم تھا، بارش  اس کے لئے بالکل انجان تھی۔ کیونکہ اس کی پیدائش صحرائی ملک میں ہوئی تھی جہاں بارش کا تصور بھی ممکن نہیں۔ ہاں کبھی کبھار بادل جب آب کی تاب نہ لاتے ہوئے برس پڑتے، تب سارا ماحول، یومِ عید کی نوید سنا جاتا۔ پری کھڑکی کے قریب بیٹھی گھنٹوں  موسلا دھار بارش سے لطف اندوز ہوتی۔ اسے برسات کی بوندوں میں ایک عجیب سی رِم جِھم کی جھنکار سنائی دیتی اور بارش کا لگاتار گرنا بہت اچھا  لگتا خصوصاً جب لوگ اس سے بچنے کے لئے رنگ برنگی چھتریوں کو کھول کر چلتے پھرتے نظر آتے۔

وہ بڑے  ہی اشتیاق سے ان چھتریوں اور بارش کی بوندوں کو دیکھتی رہتی۔چھتری لوگوں کو بارش سے کیسے محفوظ رکھ سکتی ہے ؟ دادی ماں سے یہ راز  جاننے کی کوشش کی تو انھوں نے مسکراتے ہوئے  تفصیل سے  سمجھایا ۔پری کا دل آرزو کرنے لگا کہ اس کی بھی کوئی چھتری ہو جسے وہ رِم جِھم  برسات میں اٹھائے محلے بھر میں گھومتی رہے۔۔ وقت کسی کے لئے نہیں رکتا۔ چاہے وہ موسم ہو، غم ہو یا خوشیاں۔۔۔۔! سب کو اپنے ہمراہ چلنے پر مجبور کرتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔۔۔۔بارش کا موسم بھی وقت کا دامن تھامے آگے بڑھ گیا۔ اس کے ساتھ ہی چھٹیاں بھی ختم ہوئیں۔۔۔۔۔امی واپسی کی تیاری کررہی تھیں۔پری  اپنی دادی ماں کے قریب بیٹھی اداس تھی۔۔۔ دادی ماں نے اس سے کہا۔

"پری تم اپنی آنکھیں بند کرو۔ آج میں تمہارے لئے  ایک تحفہ لائی ہوں۔ "

"سچ۔۔۔۔! "

 وہ جھٹ سے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے خوشی سے مسکرانے لگی۔  دادی ماں نے اس کی گود میں تحفہ رکھا ۔پری نے دھیرے سے آنکھیں کھول دی، دیکھا گودی میں گلابی رنگ کی خوبصورت چھتری مسکرا رہی ہے۔ "چھتری۔۔۔۔!!!

"وہ خوشی سے کِھلکھلائی ۔ اس تحفے کو پاکر وہ بہت مسرور تھی۔۔۔۔لیکن بارش کا موسم گزر چکا تھا ،چھتری کو بارش  میں استعمال کرنے کی جو آرزو اور خواہش تھی وہ حسرت بن کر دل میں رہ گئی۔ اسی حسرت کو سینے میں دبائے، وہ اپنے والدین کے ساتھ واپس صحرائی ملک  لوٹ آئی۔

 چھتری تو آگئی لیکن بارش  نہیں آئی۔ ننھی پری مسلسل کئی دنوں تک بارش کا انتظار کرتی رہی۔ لیکن بارش نہیں آئی۔ اس ننھی سے جان کو پتہ نہیں تھا کہ ریگستان سے بارشوں کی کوئی دوستی نہیں ہوتی۔ آخر وہ انتظار سے تھک گئی۔ ایک دن وہ اپنی امی سے بارش کی ضد کرنے لگی۔

 "امی مجھے بارش چاہئے۔۔۔بس۔۔۔!”

"ارے یہ کیا ضد لیکر بیٹھی ہو۔”

امی بےاختیار ہنس پڑی۔

 ” امی پلیز بارش لادیں۔۔۔۔”

” بیٹی یہ تو اللہ تعالی کی دسترس میں ہے۔ "

"مجھے کچھ نہیں سننا۔۔۔۔!” وہ رونے لگی۔ "سنو میں تمہیں ایک ضدی بچے کی کہانی  سناتی ہوں ۔” پری کہانی کی بات سن کر جلدی سے آنسو صاف کی اور امی کی گودی میں چڑھ کر بیٹھ گئی۔

 "ایک معصوم سا بچہ جو بالکل تمھاری طرح ضدی تھا اسے آسمان پر چمکتا  چاند چاہئے تھا۔

"جیسے تمھیں بارش ۔۔۔۔۔۔! "

چمکیلے روشن چاند کو دیکھ کر وہ معصوم ضد کرنے لگا کے کسی طرح اسے چھونا ہے۔

اماں۔۔۔۔! بے چاری پریشان۔۔۔لاڈلے کو بہت سمجھایا ۔۔۔۔بہلایا۔۔۔۔۔لیکن ضدی بچے  نے اپنی ضد ترک نہ کی۔۔۔۔تب لاچار اماں نے بڑے سے آنگن کے قدیم حوض کو پانی سے بھر دیا۔۔۔کچھ ہی دیر میں پانی پر چاند  کا خوبصورت عکس  جھلملا اٹھا۔۔۔۔اماں بچے کو اس عکس کے قریب لائی اور چاند کا دیدار کروایا ۔۔۔۔اب چاند بچے کی دسترس میں تھا وہ معصوم خوشی سے کبھی آسمان پر چمکتے چاند کو دیکھتا اور کبھی پانی میں  ارتعاش کررہے چاند کو۔۔!

 اس طرح معصوم بچے کی ضد پوری ہوئی۔۔۔۔۔۔۔!”

” امی ۔۔۔۔۔ایک ترکیب ہے۔۔۔!”  کہانی کے اختتام پر پری نے خوشی سے چہک کر کہا۔

"کس بات کی۔۔۔؟ "

 "ایک منٹ۔۔۔۔۔۔!”وہ دوڑی اور اپنی چھتری اٹھا لائی۔ یہ دیکھ کر امی ماتھا پیٹ کر گویا ہوئیں

 ” پھر سے یہ چھتری  اٹھا لائی ہو۔۔۔۔!!!

دادی کا تحفہ مصیبت بن گیا۔ ”  پری ماں کی کسی بات کی پرواہ کیے بغیر وہاں سے دوڑی۔۔

 "کہاں جارہی ہو۔۔۔۔۔۔؟”

امی نے آواز لگائی۔ لیکن وہ رکی نہیں۔ کچھ دیر بعد امی پریشان اسے تلاش کرنے کی نیت سے اٹھیں۔۔۔۔ اس کے کمرے میں جھانکا وہ وہاں نہیں تھی۔

"کہاں گئی۔۔۔؟ "

جب تھک ہار کر امی ہانپنے لگیں تو اچانک کہیں قریب سے پری کی کھلکھلا ہٹ سنائی دی۔۔۔۔۔امی آواز کی جانب دوڑیں وہاں جو کچھ دیکھا۔ پری کی معصومیت بھری  دیوانگی پر حیران ہوئیں پھر وہ بےاختیار ہنستی چلی گئیں۔ پری، گلابی چھتری اور پانی کی تیز بوندوں سے لطف اٹھاتی تیز آواز میں گنگنا رہی تھی۔

چھتری اسے پانی سے محفوظ کررہی تھی اور وہ چھتری کے تحفظ سے محظوظ ہورہی تھی۔

وہ  چھتری کھول کر شاور کے نیچے کھڑی  معصومیت سے پُر مورنی کی طرح ناچ رہی تھی۔

رِم جِھم رِم جِھم رِم جِھم رِم جِھم

بارش برسا چھم چھم چھم چھم

سچ ہے بچے ہی  چاند اور بارش کی ضد کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔!

مزید دکھائیں

ناہید طاہر

ریاض، سعودی عرب

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close