افسانہ

ہاتھ جلے گھر کے چراغ سے

سیدہ تبسم منظور

موسم گرماجاری تھا اورگرمی اپنے شباب پر تھی۔۔۔۔ہر کوئی پسینے میں شرابور ہورہا تھا۔وقت کاٹے نہیں کٹ رہا تھا اور ہم اندر ہال میں بیٹھے بیٹھے بور ہورہے تھے۔۔۔ابھی ظہر کی اذان ہونے میں بھی  وقت تھا اس لیے اٹھ کر گیلری میں آکر کھڑے ہوئے کہ تھوڑی باہر کی ہوا میں سانسیں لے لیں۔ باہر کی چلچلاتی دھوپ میں نکلنے کے تصور سے ہی جھرجھری آگئی۔ باہر ہوا تو تھی لیکن وہ بھی گرم۔ ۔۔۔ہمیں وہاں کھڑےکچھ ہی وقفہ گزرا ہوگا کہ ہمارے کانوں میں ایک صدا سنائی دی، ’’ تکیے کے کور لے لو، گدے کے کور لے لو۔‘‘ ہم نے نیچے دیکھا تو ایک ضعیف اور کمزور آدمی ایک ہاتھ میں تکیے کے کور لیے اورکندھے پر گدے کے کور ڈالے کھڑے ہوئے تھے۔۔ ۔  ان کے دوسرے کندھے پر ایک آسمانی رنگ کا بڑا سا جھولا لٹک رہا تھا۔تھوڑی تھوڑی دیر میں وہ اپنی صدا لگاتے جارہے تھے۔ ہم نے انہیں آواز دی۔۔۔

’’چاچاجی !رکئے۔‘‘

ہم نیچے اترے اور ان کے پاس موجود کور دیکھنے لگے۔ ہم نے پوچھا، "چاچاجی ! کیسے دیئے تکیہ کور اور گدے کے کور۔‘‘ ہمیں وہ چیزیں پسند آگئیں تھیں اس لیے دام پوچھا تھا۔ انہوں نے تکیہ کور کے پچاس روپئے جوڑی اور ایک سو پچیس روپئےکا ایک گدے کا کور کا دام بتایا۔۔۔۔ سائز چھوٹی تھی مگر کوالیٹی بہتر تھی اس لیے ہم نے بغیر کسی قسم کی سودے بازی کیےدو جوڑی تکیہ کور لے لئے۔ ہمارے اس رویے سے ان کے چہرے پر اطمینان جھلکنے لگا۔ ہم نے ان سے پوچھا، "چاچاجی !پانی پئیں گے؟‘‘ انہوں نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلادیا۔ ہم اندر آئے اورفریج سے پانی کی ٹھنڈی بوتل نکالی۔۔۔۔۔گلاس کی ٹھنڈک محسوس کر انہوں نے جلدی سے اسے منہ سے لگالیا اور ایک ہی سانس میں پورا پانی پی گئے۔انہوں نےخالی گلاس بڑھایا اور دوبارہ پانی مانگا۔ ہم نے پانی دیا تو انہوں نے تھوڑے سے پانی اپنا منہ دھویا۔

جب ہم نے انہیں پہلی مرتبہ دیکھا تھا تو وہ ایک دم نڈھال سے تھے مگرایک گلاس ٹھنڈا پانی پی کر اور آدھے گلاس پانی سے منہ دھو کر لگا ان کے چہرے پر زندگی دوڑ گئی۔ ہم نے ان سے پوچھا، ’’چاچاجی! آپ اس عمر میں اور اتنی چلچلاتی دھوپ میں کیوں گھوم رہے ہیں؟؟؟ آپ کو اپنی حالت کا احساس بھی  ہے۔‘‘

ایک سرد سی آہ ان کے منہ سے نکلی اور بولے، ’’ بیٹی !اس پاپی پیٹ کے لئے کام تو کرنا پڑتا ہے نا!!!!‘‘ دھوپ میں نہیں نکلا تو کھاونگا کیا؟؟؟

’’ کیوں آپ کو بچے نہیں ہیں؟؟؟‘‘

یہ سن کر بولے، ’’ الحمدللہ! بچے بھی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ سب اپنے اپنے گھروں میں خوش ہیں۔‘‘

’’ اور آپ کی بیوی کہاں ہے؟؟؟‘‘

ان کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور دھیمے سے بولے، ’’

”وہ تو کب کی مجھے دنیا کے غم کھانے کے لئے اکیلا چھوڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملی۔ ‘‘

’’ چاچاجی !ایک بات پوچھیں آپ سے؟ ‘‘ ہمارا سوال سن کر ایک لمحہ رکے پھر بولے، ’’ ہاں بیٹا !پوچھو!!‘‘

’’آپ اپنے بچوں کے ساتھ نہیں رہتے؟؟‘‘  ’’ بیٹیاں تو اپنے اپنے سسرال کی ہوگئی ہیں۔ بیٹا ہےتو وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش ہے!!!‘‘

’’تو آپ اپنے بیٹے کے ساتھ نہیں رہتے کیا؟؟‘‘ ہمارا سوال جیسے ان کے دل میں زخم لگا گیا۔ اپنا سامان سنبھالتے ہوئے بولے،

’’ جانے دو بیٹی۔ چھوڑو ان باتوں کو۔ تم بتاؤ کچھ اور لینا ہے؟‘‘

محسوس ہوا کہ وہ اب اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتے تو ہم نے بھی موضوع بدل دیا اور بولے،

’’جی چاچاجی! آپ ہمیں اس سے تھوڑے بڑے گدے کے کور لادیجیے۔‘‘

 ’’ اچھا بیٹی !چار پانچ دن میں لا دوں گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے انہوں نے سلام کیا اور چلے گئے۔

ہم ان کی باتیں سن کر پریشان ہوگئے۔دماغ میں مسلسل ایک بات گھوم رہی تھی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کے بارے کچھ کیوں نہیں کہا؟

آخر کیا بات تھی؟؟؟

اندر آکر نماز ادا کی، کھانا کھایا اور تھوڑا آرام کرنے بستر پر آگئے۔اب آرام کہاں۔ رہ رہ کر چاچاجی کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آرہا تھا۔ ان کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہوئے جارہے تھے۔نیند بھی نہیں آرہی تھی۔

شام میں ہمیں ایک دوست سے ملنے جانا تھا۔ ملاقات شام چھ بجے ایک کافی شاپ میں طے ہوئی تھی۔یوں ہی پڑے پڑے عصر کا وقت ہوا۔ نماز ادا کی اور چائے پی کر جانے کے لئے تیار ہوگئے۔ گھر میں بچوں سے کہہ دیا کہ ہم آٹھ بجے سے پہلے ہی آجائیں گے۔ سڑک پر آئے، آٹو کیا اور کافی شاپ پہنچ گئے۔ ۔۔ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی مسزمدیحہ کامران وہاں پہنچ چکی تھی۔ہم دونوں کافی شاپ کے اندر جا بیٹھے۔ہم اپنی باتوں میں مصروف تھے کہ اچانک ہماری نظرایک بہت ہی پرانی سہیلی پر پڑی۔۔۔ہماری شادی کے فوراً بعد ہی ان کی بھی شادی ہوگئی تھی اور پھر ہم دونوں ایک دوسرے سے دور ہوگئے تھے۔ وہ اپنی ازدواجی زندگی میں مصروف ہوگئیں اور ہم اپنی۔آج کئی سالوں بعد انہیں دیکھ کر بہت مسرت ہوئی۔ ہم نے سوچا انہیں سرپرائز دیں۔۔۔۔ اس لیے ہم مدیحہ کامران سے پانچ منٹ میں آتے ہیں کہہ کر اٹھ گئےاور ہماری سہیلی کے پیچھے جاکر کھڑے ہوگئے۔ دھیرے سے آواز دی،

’’ شمع۔۔۔

کیسی ہیں؟

‘‘شمع چونک کر پیچھ مڑیں اور بے اختیار ان کے منہ سے نکلا، ’’ارے زویا! تم؟ یہاں؟۔ ۔۔۔ کیسی ہو؟

کہاں تھی یار اتنے سالوں تک ؟؟؟؟‘‘  ہنستے ہوئے ہم نے کہا، ’’ ہم اچھے ہیں یار۔ آپ کیسی ہیں اور آپ اتنے برسوں کہاں تھیں؟۔ ۔۔۔آپ بھی تو لاپتہ ہوگئی تھیں!!!!‘‘

 وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ تھیں۔ انہوں نے ہمیں اپنے بچوں سے ملایا تو ہم نے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھا اور دعائیں دیں۔

 ’’شمع! آپ یہاں آجائیں۔ ہماری ایک اور ساتھی وہاں بیٹھیں ہیں۔ ‘‘ ہم نے دونوں کا تعارف کرایا۔ خوب باتیں ہوئیں اور کچھ دیر بعد مدیحہ کامران نے ہم سے رخصت لی۔پھر ہم دونوں سہیلیاں برسوں کے گلے شکوے دور کرنے لگیں۔۔۔دونوں نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے فون نمبر دیئے۔۔۔۔۔ ایک دوسرے کو اپنے اپنے گھر پر آنے کے لئے مدعو کیا اور اللہ حافظ کہہ کر ہم کافی شاپ سے باہر نکل گئے۔۔۔

شام ڈھل چکی تھی۔ رات کی کالی چادر پھیل چکی تھی۔۔۔۔ہر کوئی اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ رہا تھا۔ ۔۔۔ہم آٹو میں بیٹھے اور اپنے گھر واپس آگئے۔

      کھانے پر ہمارا انتظار ہورہا تھا۔فریش ہوئے اور کھانے پر بیٹھے۔اس دوران ہم نے سب کو بتایا کہ ہماری ایک سہیلی سے بہت سالوں بعد ملاقات ہوئی ہے۔ کھانے سے فارغ ہو کر دن بھر کی مصروفیت ایک دوسرے سے شئیر کیں اور سب اپنی اپنی آرام گاہ میں چلے گئے۔

اب ہر روز ہماری شمع سے بات ہونے لگی۔ اپنے گھر پریوار کے بارے وہ ہمیں بتاتی ہم انھیں بتاتے۔وہ اپنے بچوں اور شوہر کے ساتھ رہتی تھی۔۔۔۔ ساس انتقال کر گئی تھی اور سسر کہیں باہر رہتےتھے۔ہم نے انہیں بتایا کہ الحمدللہ ہماری جوائنٹ فیملی ہے۔اس دن ہم فون پر باتیں کر ہی رہے تھے کہ نیچے سے کسی نے آواز دی۔شمع سے معذرت کرتے ہوئے ہم نے باہر آئے اورنیچے  دیکھا۔ وہی کور فروخت کرنے والے چاچا جی تھے۔ہم نے شمع سے کہا کہ فون رکھتے ہیں، انشاءاللہ  ہم کل دوپہر کے کھانے پر آپ کے گھر ضرور آئیں گے۔ ہم نے آپ کی دعوت قبول کر لی۔ لیکن ہم صرف اکیلے آئیں گے آپ کچھ تکلف نا کریں۔‘‘اور اللہ حافظ کہہ کر فون بند کردیا۔

’’  کیسے ہیں چاچاجی!! لائے آپ نے گدے کے کور؟؟؟‘‘

 ’’ ہاں بیٹی! تین لائے ہیں۔ سائز وہی ہے جو تم نے بتائی تھی۔‘‘

 ’’ جی ٹھیک ہے۔ لائیے!!!‘‘ اس مرتبہ کور کی کوالیٹی اور اچھی تھی۔ ہم نے پوچھا، ’’ آپ خود سیتے ہیں کیا؟؟؟‘‘ بولے، ’’ نہیں۔ ایک گارمینٹ والاہے۔ وہ کٹنگ کر کےبچے ہوئے کپڑوں سے تکیہ کے اور گدے کے کور بناتا ہے۔۔۔میں وہاں سے لے کر بیچتا ہوں۔‘‘

 ’’  آپ کو اس سے اچھا منافع ہوتا ہوگا؟؟؟‘‘

مسکرائے اور کہا، ’’ گدے کور میں پچیس روپے اور تکیہ کور میں بیس روپے ملتے ہیں !!!‘‘

’’ یا اللہ !اتنے پیسوں کے لئے آپ اس سخت گرمی میں گھوم رہے ہیں؟؟؟اس گرمی سے آپ کی تو حالت خراب ہوجاتی ہے۔‘‘

’’کیا کروں بیٹی۔ مجبوری ہے۔۔۔۔۔پیٹ کی بھوک کو تو مٹانا ہی ہے نا!!!‘‘

’’چاچاجی !آپ نے بتایا نہیں آپ کا بیٹا کہاں ہے؟ آپ کو اسطرح چھوڑ کر اس نےاچھا نہیں کیا۔‘‘

ٹھنڈی سانس لئے کر بولے، ’’ کیا اچھا۔۔۔کیا برا۔۔۔۔۔اگر لوگ سمجھ پاتے تو پھر یہ سب ہوتا ہی کیوں!!!‘‘

’’کیا انہیں اولاد نہیں ہے؟؟؟‘‘

 ’’ اللہ کے فضل سے بیٹی بیٹا دونوں ہیں!!!‘‘

’’ پھر بھی وہ آپ کے درر کو نہیں سمجھتے۔۔کیا ان کی بیوی ٹھیک نہیں ہے ؟؟؟‘‘

’’ اپنے چراغ سے ہاتھ جل جائیں تو اس میں اوروں کا کیا قصور۔میں نے اپنی ساری زندگی تگ ودو میں لگا دی۔۔۔۔شاید میری پرورش میں ہی کوئی کمی رہ گئی ہو!!!‘‘

چاچاجی کی بات سن کر ہمیں بہت دکھ ہوا۔ ۔۔۔ہم نے انہیں پیسے دیئے اور پلیٹ میں کھانا بھی لے آئے۔ پہلے تو کھانے کے لئے انکار کیا پر ہمارے بہت اسرار کرنے پر کھانا کھایا اور ہمیں ڈھیروں دعائیں دیتے ہوئے چلے گئے۔

ہمارے گھر والوں نے بھی ساری باتیں سنیں۔۔۔انھیں بھی بہت افسوس ہوا۔ سب نے ہی ایسی اولاد کو برا بھلا کہا۔

آج ہمیں اپنی سہیلی کے گھر جانا تھا اسلئے جلدی جلدی سارے کام نپٹا دیے۔ کھانا بھی تیار کرکے رکھ دیا تاکہ ہمارے پیچھے کوئی پریشانی نا ہو۔ جلدی سے تیار ہوکر باہر نکلے تو تیز دھوپ تھی۔ ایک منٹ بھی کھڑا ہونا مشکل ہو رہا تھا۔ ہم نے کیاب بک کی تھی جو وقت پر پہنچ گئی۔ شمع نےجو ایڈریس دیا تھا اس مطابق ہمارے گھر سے ان کا گھر کافی دور تھا۔ کیاب میں بیٹھے۔۔۔ کار کے شیشے اوپر چڑھا دیئے۔ اے سی کار راستے پر دوڑتی ہوئی ہماری منزل تک جاپہنچی۔پتہ ڈھونڈنا اب کوئی مشکل کام نہیں رہا ہے۔۔۔بس جی پی ایس لگا دو اپنے آپ راستہ مل جاتا ہے۔چھوٹا سا بنگلہ نما گھر تھا اوراسی کو لگ کر ایک باہر کی طرف چھوٹا سا روم بنا ہو تھا۔ شاید سرونٹ کوارٹر ہو۔ہم نے ڈوربیل بجائی تو ایک آدمی نے دروازہ کھولا۔ شاید شمع کے شوہر تھے۔ ہم نے سلام کیا اور شمع کو پوچھا۔

’’ جی اندر آجائیں۔۔۔۔شمع اندر ہے!!!!‘‘

 ’’ ہم زویا ہیں!!!‘‘

’’ جی !میں شمع کا شوہر شاہد ہوں!!!‘‘  ہم بیٹھ بھی نہیں پائے تھے کہ شمع ہاتھ میں پانی کا گلاس لے کر باہر آئی۔۔۔۔

’’آو !آو! زویا۔ ویل کم ٹو مائی ہوم !!! ‘‘

  ہم دونوں وہیں صوفے پر بیٹھے باتوں میں مشغول ہو گئے۔ شاہد اندر روم میں چلے گئےاور بچے بھی اندر ہی تھے!!!

’’کیا کرتے ہیں شمع آپ کے شوہر؟؟؟؟‘‘  ’’ان کا اپنا کنسٹرکشن کا بزنس ہیں۔۔۔اس لئے تو اتنا اچھا گھر بنا پائے۔‘‘

  ’’اچھا انہوں نے خود بنایا۔۔۔۔آپ کےساس سسر کا کوئی گھر نہیں تھا۔ ‘‘

’’یہ ان لوگوں کا ہی گھر تھا۔ اس کو واپس نئے طریقے سے بنایا ہے۔‘‘

’’ ماشاللہ! نجانے اس وقت اتنی بڑی جگہ کیسے لی ہوگی!!!‘‘

’’اب گھر پر بھی آپ کا نام ہے، شمع منزل۔ ‘‘

’’ جی زویا !گھر میرے شوہر کے نام پر ہے تو انہوں نے گھر پر میرا نام ڈالا!!!‘‘

  ’’ اور آپکے سسر کہاں رہتے ہیں؟؟؟‘‘  "وہ۔۔۔وہ دبئی میں ہیں!!!!‘‘

’’ماشاءاللہ سب کچھ اچھا ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے۔۔۔۔۔آپ کے بیٹے کیا کر رہے ہیں ؟‘‘

’’ وہ ابھی انجینئرنگ کر رہا ہے۔ آخری سال ہے۔ بیٹی بی ایڈ کررہی ہے۔ ‘‘

’’زویا !تمارے بچے کیا کرتے ہیں ؟‘‘

 ’’ ہمارے بیٹے ڈاکٹر ہیں۔ بیٹی نے ایم اے کیا ہے۔ وہ جاب کرتی ہیں۔ ان شاءاللہ اب چار پانچ ماہ بعد شادی ہے دونوں بچوں کی!!!‘‘

اتنے میں خادمہ نے آکر اطلاع دی کہ کھانا لگ چکا ہے اور ہم ڈائننگ روم کی جانب چل پڑے۔ سبھی نے ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔ تھوڑی بہت ہنسی مذاق بھی ہو رہی تھی۔ہم نے ان کے بچوں کو بتایا ہم دونوں بہت ہی اچھے دوست تھے پر شادی کے بعد ایسے بچھڑے کہ اب جاکر ملے۔۔۔۔ شکر ہے رب کا اس نے ملا تو دیا!! شمع نے جذباتی انداز میں کہا کہ زویا کئی سال کا وقفہ بیت گیا پر اب ہم کبھی جدا نہیں ہونگے !!!

انشاءاللہ شمع!!

کافی وقت ہوچکا تو ہم نے اجازت مانگی۔ شمع کو مع فیملی گھر آنے کی دعوت دی۔ ہم نے شمع کو گلے لگایا۔بچوں کو پیار کیا اور شاہد بھائی کو اللہ حافظ کہہ کر باہرنکلے۔

ٹیکسی بک کر لی تھی مگر پتہ نہیں کیوں وہ اب تک پہنچی نہیں تھی۔ہم وہیں کھڑے باتیں کرنے لگے کہ اچانک سرونٹ کوارٹر کا دروازہ کھلا۔ باہر آنے والے شخص کو دیکھ کر خوشی ہوئی کہ یہ وہی تکیہ کور والے چاچاجی تھے۔ ان کی نظر ہمارے اوپر پڑی تو وہ بھی خوش نظر آنے لگے۔ہمارے منہ سے بے اختیار نکلا، ’’چاچاجی آپ یہاں؟؟؟ ‘‘

اچانک جیسے ان کے چہرے پر تاریکی چھاگئی۔ بڑی مشکل سے ان کی آواز نکلی اور کہا، ’’ہاں بیٹی میں یہی رہتا ہوں۔ ‘‘ تھوڑا رک کر مجھے سے وہاں آنے کی وجہ پوچھی۔ ’’

 جی چاچا جی۔ آپ نے تو بتایا نہیں تھا کہ آپ یہاں بھی کام کرتے ہیں۔ یہ ہماری سہیلی کا گھر ہےجنہوں نے آپ کو رہنے کے لئے یہ روم دیا ہے۔‘‘

اتنا سننا تھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ ’’ اور وہ تڑپ کر رہ گئے۔۔۔کیا ہوا؟ کیا ہوا؟ چاچاجی ؟ ہم نے کچھ غلط کہہ دیا ہےکیا؟‘‘

’’نہیں بیٹی! کچھ نہیں اپنے ہی غلط ہوجائے تو کوئی کیا کرے۔۔۔بس اب اس درد کو بہہ جا نےدو۔ یہ آنسو نہیں یہ میری دل کے زخم ہیں۔۔۔۔جو ناسور بنے ہوئے تھے۔”

 ایسا لگ رہا ہے کہ ان کی آنکھوں سے خون بہہ رہا ہے۔‘‘

’’بتائیں کیا بات ہے؟ شاید ہم آپ کے لئے کچھ کرسکیں۔ تو یہ ہماری خوش نصیبی ہوگی۔‘‘

ایک سرد آہ بھر کر شدت غم سے لرزتی ہوئی آواز میں بولے، ’’ بیٹی کبھی یہ میرا گھر تھا۔۔۔جیسے میری بیوی اور میں نے سنجویا تھا۔ جو اب میرے بیٹے کا ہے۔ بہو کوئی بوجھ نہیں چاہتی۔۔۔ اس لیے میں خود کماتا ہوں۔۔۔ خود پکا کر کھاتا ہوں اور اس کمرے میں رہتا ہوں۔‘‘

جو انہوں نے اپنی داستان سنائی تو ہمارے پیروں نے بوجھ اٹھانے سے انکار کردیا اور ہم لڑکھڑاتے ہوئے ریلنگ سے جالگے۔ ایسا لگا کہ دماغ نے کام کرنے سے انکار کردیا ہو۔ہم نے پلٹ کردیکھا تو شمع اندر جاچکی تھی۔ چاچاجی نے لڑکھڑاتی زبان میں اور کچھ باتیں بتائیں۔ اس سے زیادہ سننے کی تاب ہم میں  بھی نہ تھی۔

اتنے میں ٹیکسی ہمارے پاس آرکی۔ ٹیکسی کی آواز سن شاہد بھائی باہر آئے۔ شاید شمع نے بدلتے حالات کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ چاچاجی کو ہمارے ساتھ دیکھ کر وہ بھی ٹھٹھک گئے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتے ہم نے کہا کہ ذرا شمع کو باہر بلائیں۔ کئی بار آوازیں دینے کے بعد شمع باہر آئیں۔ ان کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ ان کے بچے بھی باہر آگئے۔ہمارے اندر کا غصہ ابل پڑا

’’شاہد بھائی! آج معلوم پڑا کہ یہ آپ کے والد ہیں۔ شمع! تمہارے سسر سے ہم پہلے بھی مل چکے ہیں اور بچو! یہ جو تمہارے دادا ہیں نا انتہائی تیز دھوپ میں کافی دور دور کے علاقے میں گلی گلی گھوم کر چھوٹے چھوٹے سامان بیچ کر پچیس پچاس روپے کماتے ہیں۔ ہم نے ان سے بہت پوچھا مگر کبھی اصل بات نہیں بتائی۔ آج خودبخود معاملہ سامنے آگیا۔ شاہد بھائی! جس باپ نے اتنا کماکر، بنا کر آپ کو دیا، اس کا اچھا صلہ دیا۔ شمع! آپ ہی ہمیشہ کہتی تھیں نا کہ مکافات عمل سے بچنا ہوتو زندگی میں کبھی بھی خیر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔ آپ اتنی سنگ دل کیسے ہو سکتی ہیں۔۔۔واہ۔۔ اپنی تعلیم پر اچھا عمل کیا۔ اور آپ بھول جاؤ مگر وقت کی چکی کا انتظار کرنا۔ آپ لوگوں کو کیا لگتا ہے کہ آپ اپنے بڑوں کو در در کی ٹھوکر کھلا کر خود چین سے اپنی موت کو پالوگے۔آپ سب نے اپنا کام کرلیا۔ دکھی دل اپنا درد بہا چکا۔ اب ہم جیسے آپ لوگوں کا تماشہ دیکھیں گے۔ اور وہ تماشہ دیکھنے کا وقت بہت جلد آئے گا۔جو کیا ہے وہ بھرنا تو پڑے گا۔جو آپ نے کیا ہے وہ آپ کے بچوں نے دیکھ لیا ہے۔ کاش شمع آپ ہمیں کبھی ملی ہی نا ہوتی۔ہمارا بھرم تو قائم رہتا۔۔اور ہم تیزی سے مڑے۔

 آئیے چاچاجی! آپ کی یہ بیٹی آپ کو بلا رہی ہے۔‘‘

ٹیکسی کی کھڑکیاں بند کرتے ہوئے ہم نے شمع اور شاہد بھائی کے چہروں کو پیلا پڑتے اور بچوں کے چہروں کو غصے سے لال ہوتے دیکھا۔ جب ہم  اپنے بازو میں بیٹھے چاچاجی کو دیکھا تو ان کے چہرے پر کئی رنگ آجارہے تھے۔ ہم نے سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کرلیں۔۔۔۔۔۔اوہو میرے اللہ۔۔

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close