افسانہ

یہ آنکھ کیوں بھر آئی!

سیدہ تبسم منظور ناڈکر

 آج گرمی کی شدت کچھ زیادہ ہی تھی۔۔۔ایسا لگ رہا تھا شام تک رحمت باراں کی آمد ضرور ہوگی……گھر میں افطاری بنانے کا دل ہی نہیں ہورہا تھا۔۔۔۔۔سوچا آج باہر سے ہی افطاری لے آتے ہیں۔پھر دو دن بعد عید بھی ہے۔چار بجے ہی ہم افطاری لینے نکل گئے۔ اور کوئی تھا نہیں گھر پر جو باہر جاکر لاسکے سبھی آفس گئے ہوئے تھے ۔بازار پہنچے تو دیکھا بازار میں زیادہ ہی گہما گہمی مچی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ ہر کوئی خوشی سے جھوم رہا تھا۔ گلی محلے بازاروں کو خوب سجایا گیا تھا۔ ہم بھی  افطاری کی ساری چیزیں لینے لگے۔ سوچا آئے ہیں تو مسجد میں بھی بھیجنے کے لئے افطاری لے لیتے ہیں۔ دو الگ الگ تھیلیوں میں پیکنگ کی۔۔۔۔۔ کب سے ہم دیکھ رہے تھے ایک بارہ تیرہ سال کا لڑکا کھلونے اور غبارے بیچ رہا تھا ۔ہر آنے جانے والے سے کھلونے  لینے کے لئے اصرار کررہا تھا۔ ۔۔۔۔کھانے کی چیزوں کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھ رہا۔جب ہم اس بچے کے پاس سے گزر رہے تھے تو اس بچے نے آواز دی ۔

’’ آنٹی جی کھلونے لے لیجئے!‘‘

 ’’ بیٹے ہم کھلونے لے کر کیا کریں گے۔‘‘

’’تو غبارے لیجئے نا!!‘‘

  ’’نہیں بیٹے ہمارے گھر میں چھوٹے بچے نہیں ہیں۔‘‘

’’ لیجئے نا آنٹی جی ۔۔۔۔کوئی بھی نہیں خرید رہا ہے!!‘‘

  ’’ابھی کون خریدے گا کھلونے بیٹے ۔۔۔۔۔لوگ افطاری کا سامان خریدنے میں لگے ہیں !!!‘‘

 ’’ میرے پاس سے کوئی کھلونے خریدے گا تو میں بھی اپنے چھوٹے بہن بھائی اور ماں کے لئے افطار لے کر جا سکتا ہوں نا!!!!! ‘‘

’’کیا؟؟؟ ‘‘ اتنی زور سے ہمارے منہ سے کیا نکلا کہ آس پاس کے لوگ چونک کر دیکھنے لگے۔۔ ۔ ۔  بچے کے منہ سے یہ جملہ سن کر ہمیں بہت تکلیف ہوئی۔۔۔۔بے ساختہ ہمارے منہ سے نکلا ، ’’یا اللہ! ایسے معصوموں پر رحم کر میرے مالک!!!!‘‘

 ہم نے پوچھا ’’کیا نام ہے آپ کابیٹے؟؟؟‘‘ ’’ عارف!!‘‘

  ’’ کہاں رہتے ہو آپ؟‘‘ ’’ تھوڑی دوری پر میرا گھر ہے۔‘‘

’’آپ کے ابو کہاں ہیں؟‘‘

 ’’ میرے ابو نہیں ہیں۔ کچھ دن پہلے اللہ پاک کے پاس چلے گئے۔ ‘‘

 اس معصوم کی آنکھ بھر آئی۔ ’’ یا اللہ! کتنا درد لے کرگھوم رہا ہے یہ بچہ اپنے اندر۔‘‘

’’عارف آپ ان کھلونوں کے لئے پیسے کہاں سے لاتے ہو؟‘‘

 ’’ ایک کھلونے والے انکل کے پاس سے بیچنے کے لئے لے کر آتا ہوں۔یہ ہزار روپیےکے کھلونے بیچوں گاتو وہ مجھے دو سو روپیہ دیتے ہیں۔آج تو میرا ایک بھی کھلونا نہیں بکا۔۔۔۔ افطاری کے لئے دو گھنٹہ باقی ہے۔ کیا کروں میں۔‘‘

اور وہ معصوم سا بچہ ہچکیاں لے لے کر رونے لگا۔

’’عارف۔۔۔ عارف ۔دیکھو بیٹے رونا نہیں۔۔۔۔ آپ اپنے یہ سارے کھلونے ہمیں دے دیجئے ۔ ہم آپکو ہزار روپیہ دے دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اب تو ٹھیک ہے۔‘‘

’’آپ خریدوگے آنٹی میرے سب کھلونے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا۔ہم نے   اسے ہزار روپے دیے اور کہا۔۔۔’’ یہ پیسے آپ جا کر کھلونے والے انکل کو دیجیے۔۔۔۔۔ دو سو روپیے لے لینا۔۔۔اور یہ سارے کھلونے آپ اپنے پاس رکھئے۔۔۔۔۔ پرسوں عید ہے ۔ اسے آپ عید کے دن بیچیں گے تو آپکو ان ہزار کے بدلے دو ہزار مل جائیں گے۔‘‘

’’نہیں آنٹی۔ میں آپ سے ایسے ہی پیسے نہیں لے سکتا۔۔میری امی بھی ناراض ہوجائے گی۔‘‘

’’عارف !ہم نے یہ کھلونے خرید لئے اور آپ کو تحفے میں دیئے ہیں۔ ابھی افطاری کا وقت ہو رہا ہے آپ گھر جائیں۔۔۔۔ اوریہ افطاری بھی لے کر جائیں۔۔۔۔ جو افطاری ہم نے مسجد کےلئے لی تھی ۔۔۔۔ وہ عارف کو دے دی۔۔۔۔۔۔ عارف کو اس کی زیادہ ضرورت تھی۔ ہم نے عارف سے کہا ’’آپ ہمیں کل افطاری کے بعد اسی جگہ پر ملیں تاکہ ہم آپکے گھر چل کر آپ کی امی سے مل سکیں ۔۔۔۔ ٹھیک ہے بیٹے۔ ‘‘

اور وہ معصوم سا بچہ ہمارا شکریہ ادا کرتے ہوئے کھلونوں اور افطار کی تھیلی ہاتھ میں لیے آنکھوں میں مسرت کے آنسوؤں کے ساتھ کل ملنے کا وعدہ کرکے چلا گیا۔

 ہم نے بھی آٹو لیا اور گھر آ گئے۔سوچ رہے تھے لوگ کیسے بے حس ہوگئے ہیں۔کیوں اس معصوم بچے کے بے بسی کسی کو دکھائی نہیں دیتی؟؟؟ کیوں ہم اپنے اطراف نہیں دیکھتے؟؟؟ کتنے ایسے معصوم ۔۔۔۔بے بس۔۔۔ یتیم بچے ہیں جو اپنی خواہشات اور جذبات سے زخمی ہیں۔ جو اپنی خودداری کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں ۔

  دوسرے دن ہم وعدے کے مطابق بازار پہنچے۔عارف کو ہم نے اپنا منتظر پایا۔اس نے لپک کر سلام کیا ۔ ہم اس کے ساتھ اس کے گھر کی جانب چل پڑے۔ رکشا نے جلد ہی ہمیں اس کے گھر پہنچا دیا۔’’ آنٹی !میں نے امی سے کل کی ساری بات بتائی تو امی ناراض ہوئیں۔کہا اللہ نے ہاتھ پیر دیے ہیں محنت کی روٹی کھانے کے لئے۔۔۔۔ہاتھ پھیلانے کے لئے نہیں۔‘‘  اس کی بات سن ہم مسکرائے اور کہا، ’’ کوئی بات نہیں بیٹے ہم آپ کی امی کو سمجھا دینگے۔‘‘

ہم اور  آگے چلے تو ایک تنگ گلی تھی۔ اس سے گزرتے ہوئے دو تین موڑ کے بعد عارف نے ایک دروازے میں کھڑے ہو کر کہا آنٹی یہی گھر ہے میرا۔۔۔۔۔ دروازے پر پرانا مگر صاف ستھرا پردہ لٹکا ہواتھا۔۔۔ ہم نے اندر داخل ہوتے ہوئے سلام کیا۔ عارف کی امی جانماز پر تھیں۔ سات یا آٹھ سال کا معصوم سا بچہ اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ پاس ہی چٹائی پر بیٹھے ہاتھ اٹھا کر اللہ سے نا جانے کیا مانگ رہے تھے۔کپڑوں پر جگہ جگہ پیوندلگے تھے مگر بلکل صاف ستھرے تھے۔۔۔ان معصوم بچوں کے رخسار آنسوؤں سے تر تھے۔پورا گھر مفلسی کی منہ بولتی تصویر تھا۔ہمارے سلام کرنے پر وہ عورت وعلیکم السلام کہتے ہوئے اٹھیں اور ہمیں عزت سے بٹھایا۔دونوں بچوں نے بڑے ادب سے سلام کیا اور آکر مصافحہ کیا۔’’ ماشااللہ !بہت سمجھدار بچے ہیں ۔۔۔کیا نام ہے آپ کا؟‘‘ بچہ بولا ’’ میرا نام عاصف ہے اور یہ عابدہ ہے۔‘‘

 ” اچھا بچوں آپ نے اللہ سے کیا مانگا”

ہمارے ابو اللہ پاک کے پاس چلے گئے۔۔وہ عید کے لئے کپڑے لاتے تھے۔اب ابو نہیں ہے ہمیں نئے کپڑے کون دے گا۔۔۔ امی نے کہاں اللہ سے مانگو اللہ ہی دیتے ہیں۔ اتنے میں عارف کی امی پانی کا گلاس لے آئیں۔۔۔ہم نے گلاس ہاتھ سے لیا اور انہیں بھی پاس بیٹھنے کے لئے کہا۔ وہ بولیں، ’’ ہمارا نام صوفیہ ہے۔‘‘

گھر کا جائزہ لیتے ہوئے ہولے  ’’ جی ہمارا نام کائنات ہے۔‘‘

  ’’ کائنات جی! آپ نے عارف کو ا تنا سب کچھ کیوں دیا۔بچوں کو ایک بار مانگنے کی عادت لگ جائے تو وہی کرینگے۔‘‘

’’کوئی بات نہیں ۔یہ ہماری طرف سے بچوں کے لئے تحفہ ہے۔۔۔ وہ بچہ ہے اور اس نے نہیں مانگا۔‘‘ ہم پورے گھر کا جائزہ لے رہے تھے۔۔۔۔گھر کیا ایک کمرہ ہی تھا اسی میں ایک طرف کونے میں باورچی خانہ تھا۔۔۔۔۔ایک طرف حمام تھا۔۔۔۔۔وہیں پر تھوڑی سی اٹھنے بیٹھنے سونے کی جگہ تھی۔

’’صوفیہ جی !ہم آپ سے کچھ پوچھ سکتے ہیں؟‘‘

  ’’ جی پوچھئے۔‘‘ ’’ آپ کے شوہر کا انتقال کب اور کیسے ہوا؟ ‘‘

 ’’وہ ایک بیماری میں مبتلا تھے۔۔۔کافی علاج کیا پر افاقہ نہیں ہوا اور تین ماہ پہلے وہ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔‘‘  ’’تو ابھی آپ عدت میں ہیں ۔‘‘  ’’جی اس لئے تو عارف کو گھر دیکھنا پڑ رہا ہے۔ انشاءاللہ عدت پوری ہونے پر میں خود کام کرونگی۔ جو کچھ تھوڑا بہت تھا وہ علاج میں لگ گیا۔ اب یہ معصوم بچوں کو کیسے سمجھاؤں۔‘‘

 ’’آپ کے کوئی رشتے دار نہیں ہیں؟‘‘  ’’ہیں!!!‘‘  انہوں نےایک لمبی آہ بھری اور پھر کہنا شروع کیا۔ ان کےابو کے چلے جاتے ہی سب نے رشتہ توڑ دیا ۔سر سے سایہ اٹھ جائے تو کوئی نہیں پوچھتا۔پر اللہ بڑا رحیم ہے۔نیت اچھی ہو تو سکون ڈھونڈنا نہیں پڑتا۔ دل نکھری اجلی صبح کی طرح بالکل صاف ہوتے ہیں۔‘‘

’’صوفیہ جی! اللہ تعالی بندے کی مدد کرنے خود نہیں آتا۔۔۔وہ اپنے بندوں میں سے ہی کسی کوان لوگوں پر فائز کر دیتا ہے۔‘‘

اتنے میں عاصف نے کہا، ’’ آنٹی !جب ہمارے ابو تھے تب سب لوگ ہم کو پیار کرتے تھے ۔ابو کے جانے کے بعد اب کوئی نہیں آتا کوئی نہیں پوچھتا۔کیا جن کے ابو نہیں ہوتے ان کا کوئی نہیں ہوتا کیا؟‘‘

ہمارے پاس اس معصوم کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔

’’ صوفیہ جی !ہم بچوں کو بازار لے کر جاتے ہیں۔کل عید ہے ۔بچوں کے لئے کپڑے لے آتے ہیں۔ ان معصوموں کی دعا عرش بریں پر قبولیت کا شرف حاصل کرچکی ہے۔‘‘

انہوں نے بہت انکار کیا پر ہم نے ان کی ایک نہیں سنی۔اور بچوں کو بازار لے گئے۔ تینوں کے لئے کپڑے لئے اور ساتھ ہی صوفیہ کے لئے ایک سوٹ بھی لیا اور بچوں کو گھر چھوڑا۔  بچے بہت خوش تھے۔۔۔۔ان کی خوشی دیکھ کر ہمیں ایسے لگا کہ اب صحیح مانوں میں ہم اپنی عید منائیں گے ۔صوفیہ کے ہاتھ میں کچھ رقم بھی دی اور اپنا فون نمبر دیا۔یہ کہہ کر کہ جب بھی آپ کو ہماری ضرورت پڑے ہمیں فون کیجئے۔

صوفیہ نے رقم لینے سے انکار کیا۔۔۔ انہوں نے بہت روکا پر ان کے گھر کے حالات ہم جان گئے تھے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہوئے دوپٹے میں جذب ہونے لگے۔ ان کی یہ بے بسی یہ تڑپ دیکھ کر ہماری آنکھوں سے بھی اشک بہنے لگے۔۔۔۔ہمیں وہاں رکنا محال ہو رہا تھا ہم اللہ حافظ کہہ کر اورواپس ملنے کا وعدہ کر کے تیزی سے وہاں سے نکل آئے۔

اُس رات کے بعد کئی دنوں تک ہم بے چین رہے ، ہر لمحہ ہماری آ نکھوں کے سامنے صوفیہ کا درد سے بھرا چہرہ اور ان معصوم بچوں کی باتیں اور ان کے آنسو ہمیں تڑپا رہے تھے۔لیکن صوفیہ کا چھوٹا سا پریوار مفلسی میں بھی اللہ کا شکر گذار اور پُر سکون تھا۔ ان کے درد کی انتہا ان کے صبر کا دامن تو اس وقت ٹوٹا جب ہم نے ان کی مدد کی لیکن ہم نے تو تنہائی میں مدد کی تھی۔۔۔ پھر بھی انہیں اتنی تکلیف پہنچی کہ وہ اپنے آنسوؤں کو ضبط نہ کرپائیں۔۔۔۔۔تو ذرا سوچیں ان لوگوں پہ کیا گزرتی ہوگی جنہیں امداد کے نام پر سرعام رسوا ہونا پڑتا ہے ۔لمبی لمبی قطاروں میں روزہ کی حالت میں چلچلاتی ہوئی دھوپ میں کھڑے رہنا پڑتا ہے اور ہم لوگ ان کے ساتھ ان کی مجبوریوں اور اپنی دریا دلی کی تصویریں کھینچتے ہوئے بڑا فخر محسوس کرتے ہیں ۔شاید اس وقت تو وہ شرمندگی سے ٹوٹ کر بکھرجاتے ہونگے۔ پر وہ کر بھی کیا سکتے ہیں مجبوری جو ہے ان کی۔۔۔ ہمیں جب بھی کسی کی مدد کرنی ہے تو اس طرح کرنی چاہئے جیسے اللہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہیں ۔مدد کے نام پر کسی کی انا کو ٹھیس نہ پہنچائیں، ان کی عزت کو رسوا نہ کریں ، ایسے ضرورت مندوں کی مدد کریں جو اپنی مجبوری کو دکھا بھی نہیں سکتے۔۔۔ بتا بھی نہیں سکتے اور نہ ہی ہاتھ پھیلا کر مانگ سکتے ہیں۔

ایسے کتنے معصوم ہوں گے جو اپنی ننھی خواہشوں اور حسرتوں سے زخمﯽ ﮨﯿں۔بس تھوڑی سی ﮐوشش کیجیے اور اپنے اطراف ایسے ضرورت مند یتیموں اور بےسہارا لوگوں ﮐﯽ مددﻛریں ۔

رمضان کا ماہ مبارک ہے۔ جو بھی کریں اللہ تعالی کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کےلئے کریں ۔دنیا کو دکھانے کے لئے نہیں……دکھاوا اللہ تعالی کو پسند نہیں اس سے ہمارے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔یا اللہ پوری امت کو نیک ہدایت عطا فرما۔آمین۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close