افسانہ

وقت کا بہتا دریا

وقت تیزی سے گزررہاتھا۔
جاوید نے بچپن سے جوانی میں قدم رکھا،بیرون ملک میں اچھی نوکری ملی ،غزالہ جیسی خوبصورت اور تعلیم یافتہ بیوی ملی ،تین چار سال میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی کاوہ باپ بن گیا ۔۔۔۔۔۔اورپھروقت کو توجیسے پرلگ گئے ہوں ۔۔۔
صبح ہوتی تو، ایسالگتا جیسے گھر میں طوفان آگیا ۔۔۔وہ بذات خود ،غزالہ اوردونوں بچے بیڈروم سے واش روم واش روم سے لیونگ روم اور لونڈری روم سے لونڈری روم دوڑتے بھاگتے نظر آتے ،سبھوں کی نگاہیں دیوار پرلگی گھڑی کی ٹک ٹک کرتی سوئیوں پرہوتی ۔۔۔سب سے زیادہ پریشان غزالہ رہتی ۔۔۔ کبھی جاوید کودوڑتی ہوئی گارلک بریڈ دیتی ،کبھی بچوں کوجلدی تیار ہونے کی تاکید کرتی ،کبھی انہیں جلدی جلدی دودھ پینے اور کچھ کھانے کے لئے سمجھاتی جاتی اور اسی دوران وہ خود بھی تیزی سے تیار ہونے کی کوشش میں مصروف رہتی ۔گھڑی کاکانٹا سات پرپہنچتاتو یہ چاروں بھاگتے ہوئے تیزی سے گھر کے اندر سے باہر آتے ،جاوید اپنی گاری اسٹارٹ کرتا اور دفتر کے لئے روانہ ہوجاتا ،غزالہ اپنی گاڑی میں دونوں بچوں کوبیٹھاتی اور کار ڈرائیو کرتی ہوئی دونوں بچوں کوکیئر ٹیکر ہوم میں اتارتی اور پھراسی تیزرفتار سے وہ اپنے جاب کے لئے چل دیتی ۔
دونوں بچے کچھ دیر تک کیئر ٹیکر ہوم میں دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل کود کرتے اور ساڑھے آٹھ بجے دوسرے بہت سارے بچوں کے ساتھ لائن لگاکر اسکول کے لئے روانہ ہوجاتے ۔لنچ ٹائم میں روزانہ ہی دونوں اسکول کے کیفے ٹیریا میں پہنچ کراپنی بھوک مٹاتے ۔ دوبجے چھٹی ہوتی اور وہ دونوں پھرڈھیرسارے بچوں کے ساتھ لائن لگاکر کیئر ٹیکر ہوم پہنچتے ، یہاں ان کے لئے کھاناتیار ملتا ،لیکن کبھی دونوں کبھی کھاتے ،کبھی نہیں کھاتے دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل کود میں ان کازیادہ دل لگتا ۔
شام چھ بجے غزالہ اپنی جاب سے لوٹتی ہوئی کیئر ٹیکر آتی ،دونوں بچوں کوپِک کرتی اوراپنے گھر کی جانب چل دیتی ۔راستے بھردونوں بچوں سے دن بھر کی روداد پوچھتی لنچ لیا تھا یانہیں ،زیادہ شرارت تونہیں کیا ، کلاس ٹیچر کاریمارکس اچھاہے نہ ؟وغیرہ وغیرہ ۔
لیکن دونوں بچے بس ہاں ہوں میں جواب دیتے ،اس لئے کہ دن بھر کی بھاگ دوڑ اورکھیل کود کے ساتھ ساتھ پڑھائی انہیں بہت زیادہ تھکادیتی ۔
گھر پہنچ کردونوں بچے اپنے اپنے ہوم ورک جلدی جلدی کرنے میں مصروف ہوجاتے ، جاوید ایک گھنٹہ بعد آتا ۔وہ بھی تھک کرچور ہوتا ،غزالہ کاکبھی موڈ رہتا ،تو سبھوں کے لئے کھانابناتی اور موڈ نہیں رہایاتکان زیادہ رہتی تو پھرکسی رسٹورینٹ سے کھانا منگالیتی اور کھانا کھاکر چاروں دوسری صبح جلدی جاگنے کے لئے سوجاتے ۔
تقریباًیہی روز کامعمول تھا ،ویک اینڈ میں مصروفیت اور بڑھ جاتی کہ پورے ہفتہ بھر کی گھر کی صفائی ،کپڑے کی دھلائی ،جاب کی رپورٹ ،بچوں کاہوم ورک ۔۔۔ہاں ان ہی مصروف لمحوں میں وہ کبھی گھومنے کے لئے باہر نکل جاتے اور رات گئے ہوٹل سے کھاناکھاکر لوٹتے اور دوسرے دن کی صبح سے پھروہی بھاگ دوڑ ۔
جاوید کبھی جاب سے کچھ پہلے آجاتاتو دیکھتاگھر میں سناٹے کی حکمرانی ہے ۔۔۔اسے عجیب سالگتا اوروہ لیونگ روم کے صوفہ میں بیٹھا سوچنے لگتا ۔۔۔۔۔۔اس کی سوچ اسے بچین کی وادیوں میں لے جاتی ۔۔۔۔۔۔وہ بھی کیادن تھے ،پوراگھر بھراہوا۔دادا، دادی ،اماں ، ابا،خالہ دادی ،ڈھیرسارے بھائی بہن چچا ،چچی ان کے بچے نوکر چاکر ،دائی ماما۔۔۔گھر کے باہری حصہ میں تین چارگائے،گھر کے پچھواڑے میں بنے تالاب کے گرد ہنس بطخیں ،چھوٹی بطخیں ،کبوتروں کے کایک ۔مرغیوں کے ڈربے ۔۔۔۔۔۔ پنجڑوں میں طرح طرح کے خوبصورت طوطے ،چڑیاں ۔۔۔۔۔۔گھر کے چاروں طرف آم ،امرود ، شریفہ ،بیر ،جامن ، پپیتہ کے پیڑ ۔۔۔۔۔۔
کتنامزہ آتا تھا ،سارے بھائی بہن مل کر طرح طرح کے کھیل کھیلتے ،لکا چھپی کے کھیل میں تو اور مزہ آتاتھا ،کبھی وہ پیڑ کی ڈالیوں پرچڑھ کرچھپ جاتا ،کبھی گائے کے رکھے گئے پوال کے انبارمیں دبک جاتا ۔۔۔۔۔۔ سبھی مل کرکبھی آم توڑ کرکھاتے ،کبھی امرود ،کبھی بیر ،کبھی شریفہ ،کس قدر میٹھے اورمزیدار ہوتے تھے یہ پھل ۔ کھیل دوران گھر کے اندر سے کبھی دادا یا ابانکلتے تو انہیں دیکھتے جی سہم جاتے ،ایسے جیسے یہ لوگ کسی طرح کی شرارت نہیں کررہے ہیں ۔ اورانہیں اسطرح دیکھ کر دادا ،ابایاچچاجان اطمینان کی سانس لیتے ہوئے پھراپنے کام میں مصروف ہوجاتے ۔دادااباکے حقہ کی گڑگڑ اہٹ گونجتی رہتی ،اس کے تمباکو کی خوشبوفضامیں تیرتی رہتی ۔
شام میں مغرب بعد مولوی صاحب آجاتے اوربڑے ہال میں کئی چوکیوں کوملاکر، بچھے خوبصورت قالین پر سارے بھائی بہن بیٹھ جاتے اور مولوی صاحب باری باری سبھوں کودئے گئے سبق کوسنتے جاتے ،اس دوران دوسرے بھائی بہن آگے پیچھے جھوم جھوم کر اللہ ایک ہے ،پاک اور بے عیب ہے ۔۔۔اللہ ایک ہے پاک اور بے عیب ہے یا اردو پیاری ۔۔۔اردو پیاری ۔۔۔کی رٹ لگائے جاتا،کوئی الحمدیاد کرتا ،کوئی دوسرے سورہ سناتا جاتا ۔ کوئی بچہ خاموش ہوجاتاتو مولوی صاحب کی تیز نگاہیں اسے پکڑ لیتیں اورایک چھڑی سڑاپ سے پڑتی ۔ آموختہ کے بعد سبھوں کی چھٹی ہوجاتی ۔۔۔۔۔۔سارے بچے دوڑتے ہوئے گھر کے اندر جاتے ،دسترخوان پر کھاناچن دیاجاتا اور سبھی مزے لے لے کرکھاناکھاتے ، کچھ گپیں بھی ہوتیں کچھ شرارتیں بھی ہوتیں ۔۔۔۔۔۔
وقت کہاں سے کہاں نکل گیا۔۔۔جاوید ان خیالوں میں ایساڈوباکہ غزالہ اوردونوں بچوں کی آمد کااحساس ہی نہیں ہوا ۔ تینوں آکر سامنے کھڑے ہوگئے تو وہ چونک پڑا ۔اور پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔۔
ارے تم لوگ آگئے ؟ جواب میں غزالہ نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا ،اور پوچھا۔تم کہاں کھوئے ہوئے ہو؟
’’نہیں کچھ نہیں ۔۔۔بس یونہی ۔۔۔آج کچھ زیادہ ہی تھک گیاہوں‘‘جاوید نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ارے یہ توروز کامعمول ہے ،آج ویسے تم کچھ زیادہ اداس اورپریشان لگ رہے ہو؟ کوئی خاص بات ۔۔۔؟
غزالہ کے اس سوال کونظرانداز کرتا ہوا ،وہ اٹھ کھڑا ہوا اورپانی پی کر اپنے بیڈروم میں پہنچ کراپنے بیڈ پر لیٹ گیا ۔
کچھ دیر بعد دونوں بچوں کوسلاکر غزالہ بھی آگئی ۔۔۔خلاف توقع ضرور کچھ پریشان ہے ۔ اسلئے پھراس سے سوال کیا۔۔۔ کیابات ہے جاوید ،سچ سچ بتاؤ۔۔۔
’’ارے نہیں کوئی بات نہیں ،بس نیند نہیںآرہی ہے ‘‘۔۔۔
جاوید کی اس بات سے غزالہ مطمئن ہوئی اور جب اسنے بہت کرید اتو جاوید نے کہا۔۔۔
دراصل میں اس تیز اور بہت تیز دوڑتی بھاگتی زندگی سے گھبرا گیاہوں ۔ہم دونوں اتنے پیسے کس کے لئے کمارہے ہیں ؟ نہ آرام ہے ،نہ سکون واطمینان ہے ، اس بھاگ دوڑ میں دن بہ دن ہم دونوں ایک دوسرے سے یہاں تک کے اپنے بچوں سے بھی کتنے دور ہوگئے ہیں ۔ یہ بھی کوئی زندگی ہے ،کیا دولت کا حصول ہی سب کچھ ہے ؟
غزالہ نے چونک کرجاوید کوبہت غور سے دیکھا اورسوال کیا،تو کیاکیاجائے ،اس کا حل کیاہے ؟
حل ۔۔۔۔۔۔حل یہ نہیں ہوسکتاکہ ہم لوگ اپنے ملک واپس ہوجائیں ،جہاں اماں ، ابا، کی سونی نگاہیں ،ہم لوگوں کو ڈھونڈتی رہتی ہیں ،آج بھی وہاں سارا کچھ ہے ،صرف ہم لوگوں کے نہ رہنے کی وجہ کرویرانی ہے ،وہاں مجھے جاب بھی ضرور
مل جائیگی ، تم گھر کا،اماں ، ابا،کابچوں کاخیال رکھوگی ،تم اپنے خاندان والوں سے بھی قریب ہوجاؤ گی ،دائی نوکر تمہاری مددکیاکریں گے ،بچوں کواپناایک ماحول ملے گا ،اپنی تہذیب ۔اپنی قدریں ،اپنی زبان اور ۔۔۔اور۔۔۔
جاوید بولتارہا ،غزالہ غور سے سنتی رہی اور تھوڑی دیر بعد بولی ۔۔۔سنو جاوید ،آج کی زندگی کی یہی سچائی ہے اورہم ان سچائیوں سے منھ نہیں موڑ سکتے ۔ بس زندگی کے بہتے دھارے میں بہتے جاؤ ۔۔۔۔۔۔!
رات کافی ہوگئی ہے ،اب تم سوجاؤ اور مجھے بھی سونے دو ، ویسے بھی کل مجھے سویرے ہی نکلناہے ، یہ کہتی ہوئی غزالہ نے بیڈ سوئچ سے لائٹ آف کیا اور دوسری طرف کروٹ لے کرسوگئی ۔

مزید دکھائیں

سیّد احمد قادری

ڈاکٹرسیّد احمد قادری معروف کالم نویس ہیں۔

متعلقہ

Close