افسانہ

انجان رشتے

پروفیسرصغیر افراہیم ابّو سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے ہمیشہ دورے پر رہتے تھے۔ گھر میں ڈھیرسارے نوکر چاکر تھے جو مجھ پر جان چھڑ کتے تھے۔ اُن کے درمیان میں نے کبھی اکیلا محسوس نہیں کیا کیونکہ دیکھا گیا …

مزید پڑھیں >>

جرم

 تبسم فاطمہ چھت ٹپک رہی ہے۔ چھت سے ٹپکتی پانی کی بوندیں ایسے گرتی ہیں کہ دیپا اندر ہی اندر ایک پل کو سب کچھ بھول کر عجیب سی لذت میں ڈوب جاتی ہے… عجیب سی درد بھری لذت… جسے …

مزید پڑھیں >>

کفّارہ

نعیم کوثر،ؔ بھوپال اسے اپنے باپ چٹر جی وکیل سے بالکل محبت اور لگائو نہ تھا ،لیکن اس نے کبھی بھی نفرت اور اچاٹ پن کا اظہار نہیںکیا اور نہ کوئی گستاخی کی ۔چندر تین چار سال کا تھا جب …

مزید پڑھیں >>

باب الابواب

قیصر تمکین اس نے بڑے پھاٹک پر دستک دی اور اعلان کیا۔ میں اتنے گناہ کرچکا ہوں کہ اب معصوم ہو گیا ہوں۔ اگر اس کا کہا سچ ہوتا تو اس نئے باب کی دوسری طرف کی خموشیاں شکست ہو …

مزید پڑھیں >>

ممتا

یاسو کی روز روز کی شکایتوں سے تنگ آکر نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے والدین سے علاحدگی کا فیصلہ کرلیا۔ اس کا ذکر میں نے یاسو سے کیا تو و ہ کھل اٹھی۔ بالآخر ممتا کے آنگن میں خط …

مزید پڑھیں >>

وقت

کالج کو الوداع کہے ہوئے تقریباً تین سال ہوچکے تھے، آج نہ جانے کیوں مجھے اس کے در و دیوار کی یاد ستارہی تھی، پرانے دوستوں کی محفلیں اور گزرے ایام رہ رہ کر یاد آرہے تھے، میں نے سوچا، …

مزید پڑھیں >>

پردے کی آہ و زاری

خلوت ملی، شور شرابے سے فرصت ملی، بہت سوچ و فکر سے گذر کر سویا تو خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عجیب دنیا ہے ! کوئی نظر نہیں آرہا تھا! مگر ایک دھیمی سسکی کی آوازبہت دور سے …

مزید پڑھیں >>

وقت کا بہتا دریا

وقت تیزی سے گزررہاتھا۔ جاوید نے بچپن سے جوانی میں قدم رکھا،بیرون ملک میں اچھی نوکری ملی ،غزالہ جیسی خوبصورت اور تعلیم یافتہ بیوی ملی ،تین چار سال میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی کاوہ باپ بن گیا ۔۔۔۔۔۔اورپھروقت کو …

مزید پڑھیں >>