افسانہ

زندگی

محمد شاہ نواز ہاشمی سورج آج پورے شباب پر تھا چاروں  طرف اپنی کرنوں  کو پھیلائے ہوئے ہر بشرکواپنے وجود کا احساس کرا رہا تھا۔آج اتوار یعنی چھٹی کے دن بھی گرمی سے لوگوں  کی حالت ابتر تھی اور لوگ …

مزید پڑھیں >>

فرشتے زمین پر

یہی وہ لو گ ہیں جن کہ آنکھیں کسی ضرورت مند کو دیکھ کر بھیگ جا تی ہیں جو کسی کی ضرورت پر تڑپ جا تے ہیں جو دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دیتے ہیں ایسے ہی سخاوت کے علمبردار لوگ ہو تے ہیں جو جانتے ہیں کہ سخا وت سے اللہ کے نا م پر دینے سے ان کے کاروبار نے دن دگنی رات چوگنی تر قی کی ہ

مزید پڑھیں >>

بے بس انسان

میں بیدار نہیں ہوں پھر بھی لوگ مجھے بیدار کہتے ہیں ان لوگوں نے میرا نام بیدار کیوں رکھا مجھے اس کا علم نہیں اور نہ ہی کبھی اس راز کو میں نے جاننے کی کوشش کی۔ پہلے پہل مجھے بہت برا لگاتھا لیکن بار بار سنتے سنتے مجھے بھی یہ نام پسندآنے لگا۔ آخر کار میں نے اسے اپنے نام کے ساتھ جوڑا دیا اورگائوں کے سارے لوگ میرے اصل نام کو بھول گئے اس طرح میں بیدار بن گیا۔

مزید پڑھیں >>

اور مجاہد تیار ہو گیا !

تم دیکھ رہے ہو کی نام نہاد مسلم ممالک میں اسلامی تعلیمات کی پامالی ہو رہی ہیں ۔ بُڑھی ماؤوں کو سڑک پر کھینچا جا رہا ہے،بہنوں کے گریبانوں کو چاک کیا جا رہا ہے،ان کی عصمت کو تارتار کیا جا رہا ہے،ان کی عزت کی بولی لگائی جا رہی ہے،بیٹوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا جا رہا ہے،مردوں سے جیلوں کو بھر دیا جا رہا ہے،زندہ انسانوں کو جلا دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

تو بہ کے آنسو!

اُس کی آنکھیں بہت خو بصورت برائون چمکدار اُس کے جسم اور ریشمی زلفوں کو چھونے والی ہوا خو شبوئوں سے لبریز ہو کر جہاں جہاں جا تی وہاں وہاں خوشبوئوں کے ڈیرے ڈال دیتی اُس کے جسم کو چھو نے والے جھونکے خو شبوئوں کی خیرات لے کر دور دراز تک ما حو ل کو سحر انگیز بنا دیتے اُ سکے یا قوتی ہونٹوں سے الفاظ پھولوں کی طرح جھڑتے تو سریلے جھرنوں میں رقص کر تی مو جوں کا احساس ہو تا۔ اُس کی جا دو نگا ر زبان حرکت میں آتی سما عتیں عقیدت و احترام سے اپنی جھو لیاں پھیلا دیتیں ۔

مزید پڑھیں >>

قدرت کا انصاف!

بعد میں جب راضی خلیفہ بناتو اُس نے کسی وجہ سے نا راض ہو کر پہلے ابن مقلہ کو قیدی بنایا پھر اُس کا ہا تھ کا ٹ دیا جب متقی کا زما نہ آیا تو وہ ایک دن عجا ئب گھر میں گیا تو وہا ں ایک طبق دیکھا جس میں ایک سر اور ایک ہا تھ رکھا ہوا تھا اور پا س کی ایک کا غذ پر لکھا تھا یہ حسین بن قاسم کا سرہے دوسرے کاغذ پر لکھا تھا یہ وہ ہا تھ ہے جس نے یہ سر کاٹا تھا ۔

مزید پڑھیں >>

جنت کی خوشبو!

شرم و حیا کی پیکر آج پھر التجا لے کر وہ میرے پاس آئی ہو ئی تھی، اُس کے چہرے پر سیر ت و کردار کا گلا بی نو ر پھیلا ہوا تھا۔ نر م و نا زک جسم کی ما لک دھان پان سی لڑکی پچھلے کئی دنوں سے میرے پاس آرہی تھی، وہ ہر با ر آکر انتظار میں بیٹھ جا تی، میں جب اُس کو اشارہ کر تا تو وہ میرے پاس آکر اایک ہی سوا ل کر تی کہ آپ میرے ساتھ میرے گھر کب چلیں گے۔

مزید پڑھیں >>

  خواب کی الٹی تعبیر!

انکا جواب نئے انداز کا تھا ہزاروں سوالوں کا جواب ایک چپ وہ خاموشی سے سب کچھ سنتے رہے تھے اسکے برعکس میں کافی خوش تھی کہ جس شخص سے دنیا کبھی آنکھ نہ ملا سکی اسے میں نے اتنی جھاڑ پلائی اسکے بعد میں شیر بن گئی اور میرا سر فخر سے بلند ہو گیا تھا لیکن جب مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہوا تو مجھے انکے سامنے جانے سے بھی خوف لگنے لگا یہاں تک کہ معافی مانگنے میں بھی اور میں بھیگی بلی بن بیٹھی تھی۔

مزید پڑھیں >>

بھولے بسرے لمحے!

یہ کہتے ہوئے بابا نے اسکے سامنے ایک تصویر رکھ دیا اور بولا ’’یہ لو میرا ایک حقیر تحفہ‘‘ اس تصویر کو دیکھتے ہی عزمی تڑپ اٹھی یہ تو میرا فنکار ہے میرا فنکار یہ تمارے پاس کہاں سے آیا؟ بتاؤ بابا! تم اسے کہاں سے لائے ہو۔کیا تم فنکار کو جانتے ہو بتاؤ نا میرا فنکار کہاں ہے؟‘‘ اور اسکی نظر اسکے ہاتھ پر جا پڑی اسکی دی ہوئی انگوٹھی اسکے ہاتھوں میں چمک رہی تھی اور وہ انگوٹھی کو دیکھتے ہی اس پر برس پڑی ’’تم جھوٹے ہو تم نے مجھے اتنا کیوں تڑپایا میں بھی کتنی بدھو ہوں کہ اتنے دنوں سے میرا فنکار میرے پاس ہے اور میں نے زرا بھی اسے پہچاننے کی کوشش نہیں کی اور تم نے بھی مجھے نہیں کہا کہ تم ہی میرے فنکار ہو۔

مزید پڑھیں >>

سہاگن!

اگر طلاق کے ذریعے عورت کو ظالم شوہر سے چھٹکارا مل جائے ، جس کے بعد دوسری شادی کرکے اسے نئی زندگی شروع کرنے کا موقع مل جائے تو یہ اس کے حق میں ظلم ہے؟ یہ اور ایسے بہت سے سوالات میرے دماغ میں جوش مار رہے تھے ، لیکن شادی کی پُر مسرّت تقریب کے رنگ میں بھنگ ڈالنا مجھے اچھا نہیں لگا _اس لیے میں نے آخری سوال پر اکتفا کیا :" مرد عورت کو طلاق بھی نہ دے اور اس کے ساتھ بھی نہ رہے، یہ بہتر ہے، یا یہ کہ عورت کو طلاق دے دی جائے اور عورت کی دوسری جگہ شادی ہوجائے؟"

مزید پڑھیں >>