افسانہ

کوچہء فنا

میں حیرت سے اپنے سامنے بیٹھے ارب پتی جو ڑے کو دیکھ رہا تھا میاں بیوی نے سوال ہی ایسا کیا تھا میں پچھلے دو عشروں میں ہزاروں لوگوں سے مل چکا ہوں لیکن ایسا سوال آج تک کسی نے بھی نہیں کیا تھا جو اِس دولت مند جو ڑے نے کیا تھا اِس میں کو ئی شک نہیں کہ میرے ملنے والوں میں اکثریت خو فزدہ لوگوں کی ہو تی ہے مادیت پرستی میں غرق حضرت انسان نے مختلف قسم کے خوف پال رکھے ہیں خدا سے دوری نے انسان کو مختلف دنیا وی جھوٹے خدائوں کے سامنے ما تھے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے ۔

مزید پڑھیں >>

ٹھوکر نیازبیگ

امتیاز صاحب کی ملنساری اور شاہ خرچی کا علم اسٹوڈیو میں آنے والے ہرفرد کو تھا۔بنگلے میں چار پانچ ملازم ،امتیاز صاحب کی دوسری بیوی ہاجرہ کے ساتھ رہتے تھے…امتیاز صاحب اپنی بیوی کے ساتھ گلبرگ والے بنگلے سے سٹی گارڈن آرہے تھے انہوں نے شراب پی رکھی وہ خود ڈرائیو کررہے تھے کہ رائیونڈ روڈ کے چوک پر ان کی کار ٹرک سے ٹکراگئی(اب یہاں اوورہیڈ بن چکا ہے جو بائی پاس کی صورت میں ملتان روڈ سے منسک ہے)ہسپتال میں تین روز بعد جب انہیں ہوش آیا تو یوسف صدیقی نے اُن کی بیوی کے انتقال کی خبرسنائی ۔

مزید پڑھیں >>

غریب کی آہ

بوڑھے ماں با پ بد دعا دے کر چلے گئے وقت کا پہیہ چلتا رہا، مجھے ریٹا ئرڈ ہو نے سے پہلے الرجی اور خارش نے پکڑ لیا۔ میں دولت پا نی کی طرح بہا ئی آرام نہ آیا ریٹائرڈ ہو گیا میری بیما ری بڑھتی گئی۔ جب میں علا ج سے ما یوس ہوا، تو غریب کی بد دعا یا د آئی۔ تو دوڑ کر اُن کے گا ئوں معا فی مانگنے گیا، تو لوگوں نے بتا یا جیسے ہی اُن کا بیٹا جیل سے آیا وہ تمہا رے خو ف سے کسی نا معلوم جگہ پر چلے گئے۔ اُس کے بعد میں اُن سے معافی مانگنے در بدر گیا لیکن نہ مجھے وہ ملے اور نہ ہی خدا کو مجھ پر تر س آیا۔ یہ میری بیما ری نہیں بلکہ اُن غریبوں کی بد دعا ہے، آہ ہے جو عرش سے ٹکرائی اور میرے لیے رحمت کے سارے دروازے بند ہو گئے ۔

مزید پڑھیں >>

دستک

یکایک وہ بستر سے اٹھی اور ٹیبل پر رکھے کمپیوٹر کو آن کیا اور یوسف اور ذلیخا کی سیریل کے آخری اپیسوڈ کو چالا کر وہ اسکے قریب آکربیٹھ گئی دونوں اس سیریل کو غور سے دیکھنے لگے اسوقت یوسف کی عمر تقریبا چالیس کی رہی ہوگی اور وہ اپنے دوبچوں اور بیوی سے بہت خوش تھے جبکہ ذلیخاایک بیوہ عورت تھی اور اب بوڑھی ہوچلی تھی لیکن وہ یوسف کی دیدارکیلئے پاگل ہوئی جارہی تھی وہ یوسف کی صرف ایک جھلک پانے کیلئے بے قرارتھی اورسڑکوں پرماری ماری پھر رہی تھی بلکہ اسکی یاد میں اس نے اپنی بنائی تک گنوا چکی تھی لیکن جیسے ہی یوسف کو ذلیخا کے اس حالت کے بارے میں پتہ چلا توتو وہ بے چین ہو اٹھے اور سب کچھ جانتے ہوئے بھی انہوں نے ذلیخا کو معاف کراسے اپنانا ہی مناسب سمجھااور انہوں نے اس سے نکاح کرلیا۔

مزید پڑھیں >>

باغوں میں بہار ہے۔۔۔

تنویر احمد پتا نہیں کیوں وہ دو دن سے مجھے ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہی تھی، شاید ایک لمحہ کے لئے بھی اس کی نظروں نے خطا نہیں کی تھی، اور میں محو حیرت اپنی قطار میں کھڑا تھا، بھیڑ …

مزید پڑھیں >>

وہ (افسانہ)

حفاظتی فرائض پر مامور محافظوں کی نجی زندگی ، پیشہ ورانہ نشیب و فراز سے کیسے متاثر ہوتی ہے اور ایک عام آدمی کس طرح ان تمام حالات سے بے خبر ہوتا ہے، زیر نظر افسانہ انہی مشکلات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

مزید پڑھیں >>

لاچارگی

ننھی خوشیاں ہوں کہ روزمرہ کے لوازمات، لاچار انسان ان دونوں ہی کے لئے کیا کیا جتن کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ لیکن جب قسمت زورآوری پر اتر آئے تو ہاتھ میں کچھ باقی نہیں رہتا سوائے لاچارگی کے۔۔۔

مزید پڑھیں >>

افسوس

حناشکیل شام ہورہی تھی ۔ ہولے ہولے آسمان گھنے بادلوں میں لپٹتاچلاجارہاتھا ۔لوگ ایسے بھاگ رہے تھے کہ جیسے کوئی بدمست ہاتھی ان کا پیچھا کررہا ہو۔ہلکی ہلکی بوندیں بھی گرنے لگی تھیں۔پرندے بڑی تیزی سے اپنے گھونسلوں کی اور …

مزید پڑھیں >>