اردو سرگرمیاں

اردو ادب کی دو صدیاں: تاریخ، تہذیب اور ادب (2)

جاوید رحمانی

قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے اشتراک سے انجمن ترقی اردو(ہند) اورغالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام اردو ادب کی دوصدیاں: تاریخ، تہذیب اور ادب کے موضوع پر چار روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے دوسرے روز کے پہلے اجلاس میں ’ اردو ہے جس کانام‘ عنوان کے تحت پروگرام کا انعقاد ہوا، جس میں اے جے تھامس، حنا کوثر، آسیہ ظہوراور معاذ بن بلال نے شرکت کی۔ اس اجتماعی مکالمے میں اردو کے فروغ وارتقا پر ایک عمومی گفتگو کی گئی۔ جس میں غالب کے کلام کا انگزیری ترجمہ پڑھ کر سنایا گیا اور اردو کے فروغ کے بہتر امکانات پر غور وفکر کیا گیا۔ کانفرنس کے دوسرے روز کا دوسرا اجلاس’ ہندوستانی عوامی قصے:اردوادب اور ڈرامہ‘حبیب تنویرکی یاد میں کے عنوان کے تحت منعقد کیا گیا۔

اس پروگرام کومعروف ٹی وی اینکر نغمہ سحر نے موڈریٹ کیا، جس میں گفتگو کرتے ہوئے معروف داستان گو محمود فاروقی نے کہاکہ پیش کش کی صلاحیتوں کو ہم نے ختم کردیا۔ ہم نے بہت سی میراث کو برباد کردیا۔1857کی شکست کے بعد ہمارے رویوں میں تبدیلی آگئی۔ ستاون بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ میر باقر علی جب اپنا فن پیش کرتے تھے تو لوگ طاق میں روپے چھوڑ جاتے تھے۔ فنون کی ضرورت اسی طرح ہے جیسے آب و ہوا کی ضرورت ہے۔ ہمارے رجواڑوں اور نوابوں نے کلاسیکی موسیقی کو باقی رکھا۔ بٹولے بازی اور قصہ گوئی کی اہمیت ہنوز باقی ہے۔ ان فنون کو بھی اپنے بچوں کو پڑھائیں اور سکھائیں، اگر داستان گوئی فیشن ایبل بن رہی ہے تو یہ خوش آئند ہے۔ کوئی بھی داستان گوئی کرسکتا ہے۔ پہلے شوق ہونا چاہیے پھر ذوق پیدا ہوتاہے۔ زمانہ جس کو چڑھائے گا وہی آگے بڑھے گا۔ علم وتعلم سے زمانہ خالی ہوگیا ہے۔ اس لئے کوئی بھی کسی بھی فن کاماہر بن سکتا ہے، جو کچھ ہماری دادیاں اور نانیاں کرتی تھیں وہ سب بہت موقر ہیں۔ ان کی کہانیوں کو یقیناً قصہ گوئی کے دائرے میں ہی رکھا جائے گااور نانی دادی کا فن نقاد وں کے فن سے آگے کی چیز ہے۔ بہار میں بدیسیا آج بھی جاری ہے اسے باقی رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جدید و قدیم میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ قرآن میں بھی قصہ گوئی کی اہمیت پر گفتگو کی گئی ہے۔ ہندوستان کے ہندوؤں اور مسلمانوں کی سب سے بڑی پرابلم یہ ہے کہ انہوں نے انجینئر بہت پیدا کئے، ہم سب کا مستقبل، ماضی میں طے ہوچکا ہے۔ مرثیہ گوئی پیش کش کے اعتبار سے داستان سے زیادہ اہم ہے، جہاں جہاں کوئی فن مذہب سے متعلق ہے، وہ فنون زندہ ہیں اور پھل پھول رہے ہیں۔

شیکسپیئر کو پیش کرنے والے ہمارے مرثیہ خوانوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ آپ کے کیا عقیدے ہیں اور آپ مذہب کیا ہے اس کی تشہیر ضروری نہیں ہے آپ خود اپنے خالق سے تعلق پیدا کرسکتے ہیں۔ کانفرنس کے دوسرے روز کے تیسرے اجلاس کا عنوان تھا ’ادبی شعور اور اجتماعی زندگی ‘جس میں پروفیسر صغیر افراہیم نے کہا کہ زمانے کیساتھ ادب بھی بدلتا رہتا ہے۔فکشن تصورات کو توڑنے کا نام بھی ہے۔آج کاادیب کسی ازم کا پابند نہیں ۔ انیس ودبیر کی مشکل ترین زبان بھی عوامی فہم کا حصہ بن گئی ہے۔ آج کوئی تقسیم کو موضوع بناتاہے تو اس کا مذاق اڑتا ہے لیکن جب انتظار حسین اسی موضوع کو اختیار کرتے ہیں تو لوگ اسے قبول کرلیتے ہیں۔

اردو ادب والوں کی بڑی خامی یہ بھی ہے کہ وہ کھل کر تنقید وتعریف نہیں کرتے۔پروفیسر رضوان قیصر نے کہا کہ زبان وادب کے شعبے میں تاریخ پڑھائی جانی چاہیے اور تاریخ کے شعبے میں زبان وادب ضرور پڑھائے جانے چاہئیں ۔ زبان وادب کے طلبہ میں تاریخی فہم ہونی چاہیے۔ ادب کے مطالعے کے بغیر تاریخ کا درست ادراک نہیں ہوسکتا۔انہوں نے مزید کہاکہ نئی نسل کی ذہنیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ آج کی نسل بھی دو زندگی جینے پر مجبور ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جنریشن گیپ کی اصطلاح کو ختم کرکے کمیونی کیشن گیپ کی اصطلاح رائج کرنی چاہیے۔ ہم سب یہ سمجھتے ہیں کہ عہد گزشتہ سنہری عہد تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی عہد اچھا نہیں ہوتا۔ ہر اچھاکام پچھلے عہد میں نہیں ہوا۔ ہر عہد کے لوگ اچھے اور برے کو اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں اور ہر عہد میں اچھے برے کام ہوتے ہیں ۔ یہ دور بھی اتنا ہی تخلیقی ہے جتنا پچھلا عہد تھا۔

21 ویں صدی کی نسل اپنے عہد کو اچھی طرح سمجھتی ہے۔ ان کے پاس اطلاعات کا سرمایہ ہے ان کی تربیت کی ضرورت ہے۔ وقت کو سمجھنا بھی تاریخی شعور ہے۔ اجتماعی زندگی کی عکاسی تک ہم نہیں پہنچ پارہے ہیں ۔ ڈاکٹر عرفان اللہ فاروقی نے کہا کہ کسی بھی تعریف کا ایک سیاسی پس منظر ہوتا ہے۔ اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ آخر کیوں مختلف عہد میں ادب کی مختلف تعریف کی گئی ہے۔ ادیب اپنے عہد سے آگے کی بات کرتا ہے، فن آج بڑے پیمانے پر کمر شیلائز ہوچکا ہے۔ اس اجلاس کو موڈریٹ کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد کاظم نے کہا کہ آخر کیوں ہمارا ادب اجتماعی زندگی کا حصہ نہیں بن رہاہے۔ میں کے تصور نے بہت سارے فرق پیدا کئے ہیں اور اس فرق کا خاتمہ ضروری ہے۔

دوسرے روز کے چوتھے اجلاس کا عنوان تھا، ’امیر وکبیر کا ہندوستان‘جسے موڈریٹ کرتے ہوئے معروف قلم کار فاروق ارگلی نے حضرت امیرخسرو کبیر کی شاعری اور اس میں پائے جانے والے مشترکہ تہذیب وتمدن کی خواہشات پرروشنی ڈالی اور کہاکہ کبیر رواج زمانہ کے مطابق زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے مگر سماج کو اعتدال اورتوازن پر وہ دیکھنا چاہتے تھے۔ تصدق حسین نے کہا کہ ہندوستان نے کبھی کسی کو مسترد نہیں کیا۔ جتنے لوگ یہاں آئے وہ یہاں کے ہوکر رہ گئے۔ یہ ہندوستان امیروکبیر کے ہندوستان سے پہلے گوتم اور جین کا بھی ہندوستان رہاہے۔ صوفیا نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ تحمل پر مشتمل معاشرہ تشکیل دیں ۔ صوفیا نے کبھی اپنی تبلیغ کے لئے کسی بادشاہ سے مدد نہیں لی۔ ڈاکٹر حسین رضا خان نے کہا کہ امیر وکبیر سے جس مشترکہ معاشرے کا تصور منسلک ہے۔اس دور کی اس معاشرے کو کا فی ضرورت ہے۔

 ڈاکٹر نریش نے کہا کہ ہندوی کو ہندوؤں نے اپنی گرامر اور مسلمانوں نے عربی، فارسی اور ترکی کے الفاظ دیے۔ یہی ہندوی آج اردو زبان ہے۔ انگریزوں نے ہندی کو ہندوؤں کیساتھ اور اردو کو مسلمانوں کیساتھ مخصوص کردیا۔ قلم کار ہندی کا ہو یا اردو کا اس کے سروکار ایک ہی رہے ہیں ۔ کسی بھی زبان سے اس کی رسم الخط چھیننا اس کی تجہیز وتکفین کا انتظام کرنا ہے۔ میں رسم الخط کی تبدیلی کا سخت مخالف ہوں ۔ بہت سے اردو شعرا کے کلام دیوناگری میں شائع ہوچکے ہیں ۔ اردو وہندی علاقائی زبانیں نہیں ہیں دونوں ہی ملک گیر زبانیں ہیں ۔ کوئی ادارہ ایسا ہونا چاہیے، جو اردو کو ہندی اور ہندی کو اردو میں ترجمہ کرے اور اس کے قارئین تک پہنچائے۔ پانچواں اجلاس ’اردومیں تانیثی ادب‘ کے عنوان کے تحت منعقد ہوا،جس میں باراں فاروقی، ثنا فاطمہ اور رحمن عباس نے شرکت کی۔

اس اجلاس میں تانیثیت کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی گئی اور اس کے امکانات پر غور کیا گیا۔ شام شہریاراں کے تحت سعید عالم اور دانش اقبال نے ’سراقبال‘ کے نام سے ڈرامہ پیش کیا۔ جسے سامعین نے سراہا۔کانفرس کے دوسرے روز دہلی کی تمام یونیورسٹیوں کے اساتذہ وطلبہ اور طالبات نے شرکت کی۔ جس میں قابل ذکر ڈاکٹر سید رضا حیدر ڈائریکٹر غالب انسٹی ٹیوٹ،انجمن ترقی اردو (ہند) کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی،انجمن ترقی اردو بہار کے سکریٹری عبدالقیوم انصاری، انجمن ترقی اردو (ہند) کے میڈیا کورڈی نیٹر جاوید رحمانی، سید نورین علی حق، ڈاکٹر ادریس احمد وغیرہ نے تمام پروگراموں میں پوری دلچسپی کے ساتھ شرکت کی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close