اردو سرگرمیاں

المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایک روزہ قومی ریسرچ اسکالر سمینار اختتام پذیر

اسکول، کالج اور یونیورسٹی سے ہی اردو کا مستقبل وابستہ ہے، اردو کے فروغ اور تحفظ کے لیے ہمیں اس کی بنیاد کو مضبوط کرنا ہوگا

کامران غنی صبا

قومی اور بین الاقوامی سطح پر بڑے بڑے سمینار اور مشاعرے بظاہر اردو کی مقبولیت کا ثبوت پیش کرتے ہیں لیکن زمینی سطح پر اردو کی صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ اردو کی ایک بڑی آبادی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کی مادری زبان اردو ہے۔ اردو کے سرکاری اداروں کو ملنے والے فنڈ اردو کی بنیاد کو مضبوط کرنے پر نہیں خرچ ہو رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی نے المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام ملت کالج کے سمینار ہال میں منعقد ایک روزہ قومی ریسرچ اسکالر سمینار کے موقع پر کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ،دربھنگہ کے زیر اہتمام ملت کالج کے کانفرنس ہال میں یک روزہ قومی ریسرچ اسکالر سیمیناربعنوان ’’اسکول، کالج اور یونیورسیٹی میں اردو کے مسائل اور حل‘‘،’’رسم اجرا‘‘اور’’الوداعیہ تقریب‘‘کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے دانشوران اور ریسرچ اسکالرزنے حصہ لیا۔

پروگرام کی صدارت پروفیسر عبدالمنان طرزی نے فرمائی جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر مشتاق احمد، پرنسپل سی ایم کالج، دربھنگہ، مہمانان ذی وقارکے طور پروفیسر احمد حسن دانش، سابق صدر اردو پورنیہ کالج، پورنیہ،پروفیسرفاراں شکوہ یزدانی، شعبۂ اردو، ایل این ایم یو دربھنگہ،ڈاکٹر رحمت اللہ، پرنسپل ملت کالج دربھنگہ شریک ہوئے۔ٹرسٹ کے سکریٹری اور سہ ماہی دربھنگہ ٹائمز کے مدیر ڈاکٹر منصور خوشتر نے تمام مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے ٹرسٹ کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ ٹرسٹ کے زیر اہتمام پابندی کے ساتھ دو رسائل دربھنگہ ٹائمز، اور تحقیق کی اشاعت ہو رہی ہے۔ اب تک درجنوں سمینار، مشاعرے اور ادبی محفلوں کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔ ضلع سطح پر اردو کے مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ افسران سے وفد بنا کر ملاقات بھی کی جاتی رہی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر حافظ انیس صدری، سابق صدر شعبۂ اردو، ایل این ایم یو، دربھنگہ کو الواداعیہ پیش کیا گیا۔

نظامت کے فرائض ڈاکٹر مجیر احمد آزادنے انجام دیئے۔اس موقع پر تین کتابوں ’’منصور خوشتر کی انفرادی صلاحیت‘‘ ڈاکٹر نذیر فتح پوری، ’’پروفیسر طرزی :ذات سے شعری کائنات تک‘‘، مرتب ڈاکٹر احسان عالم،’’طرزی اور اجتہاد شعری ‘‘ڈاکٹر منصور خوشترکا رسم اجراء عمل میں آیا۔ کتاب کا تعارف انور آفاقی، معروف شاعر و افسانہ نگار، متحدہ عرب امارات، ڈاکٹر محمد آفتاب اشرف، ایسوی سی ایٹ پروفیسر ایم ایل ایس ایم کالج دربھنگہ اورڈاکٹر احسان عالم، پرنسپل، الحراء پبلک اسکول، دربھنگہ پیش نے پیش کیا۔ تکنیکی سیشن کے صدور پروفیسر ایم کمال الدین، سابق صدر شعبۂ اردو، ایل این ایم یو، دربھنگہ،پروفیسر شاکر خلیق، سابق صدر شعبۂ اردو، ایل این ایم یو، دربھنگہ،پروفیسر محمد ظفیر الدین انصاری، صدر شعبۂ اردو، ایل این ایم یو، دربھنگہ،ڈاکٹر محمد آفتاب اشرف،صدر شعبۂ اردو، ایم ایل ایس ایم، کالج، دربھنگہ،ڈاکٹر قیام نیر، سابق صدر شعبۂ اردو، ناگندر جھا مہیلا کالج، دربھنگہ رہے۔

مندوبین میں شکیل احمد سلفی، ایڈیٹر ’’الہدیٰ‘‘اورڈاکٹرمبین صدیقی شامل رہے۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر مشتاق احمد نے کہا کہ المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ نے بہت ہی اہم اور سنجیدہ موضوع پر سمینار کا انعقاد کیا ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر یونیورسٹیوں اور اردو کے بڑے اداروں کو بھی سمینار کرانے چاہئیں اور اردو کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے عملی پیش رفت کی جانی چاہیے۔ ڈاکٹر احمد حسن دانش نے کہا کہ بلاک اور ضلع سطح پر اگر چند لوگ بھی اردو کے لیے متحرک ہو جائیں تو اردو کے اکثر مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ پروفیسر ظفر حبیب نے اپنے خطاب میں کہاکہ نئی نسل کو اردو زبان سے قریب کیے بغیر اردو کی ترقی کا سبھی خواب ادھورا ہے۔ودیاناتھ جھا پرنسپل ایم ایل ایس ایم کالج دربھنگہ نے پروگرام کے کامیاب انعقاد پر المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے سکریٹری ڈاکٹر منصور خوشتر کو مبارکباد پیش کی۔

اس موقع پر ڈاکٹر حافظ محمد انیس صدری کے سبکدوشی کے موقع پر انہیں الوادعیہ پیش کیا گیا ہے۔ الواداعیہ کے فوراً بعد تکنیکی سیشن کا آغاز ہوا۔ تکنیکی سیشن کی نظامت کے فرائض کامران غنی صبااورڈاکٹرابرار احمداجراوی نے انجام دیئے۔ا س سیشن کے صدور پروفیسر ایم کمال الدین، پروفیسر شاکر خلیق، پروفیسر محمد ظفیر الدین انصاری، ڈاکٹر محمد آفتاب اشرف، ڈاکٹر قیام نیراور پروفیسر ظفر حبیب رہے۔ بیرونی ریاست کے مقالہ نگاروں میں غلام نبی کمار، جموں و کشمیر،ڈاکٹر عبدالرافع، جے این یو، دہلی،فہام الدین، دہلی یونیورسٹی، دہلی،شاہد حبیب فلاحی، مانو کیمپس لکھنؤ،جاوید اختر، دہلی یونیورسٹی نے اپنا اپنا مقالہ پیش کیا۔

مقامی مقالہ نگاروں میں احتشام الحق، فردوس علی، جنید عالم آروی، مستفیض احد عارفی،صبیحہ پروین، جہاں آرا، شہناز بیگم، چاندنی بے بی، فرحانہ خاتون، رخسانہ جمیل، ریحان قادری، فرزانہ جمیل، کہکشاں صدف، عظمتی پروین، بصریٰ بیگم، مہہ جبیں، رضیہ پروین، نعمت خاتون، کہکشاں خاتون، ذکیہ ناز، نوشابہ کوثر، زیبا پروین، عروبہ صفات، جمیل اصغر، محمد فخر الہدیٰ، درخشاں تخسیب، شگفتہ ناز، مسرت پروین، عرصی ناز، صبیحہ زہرہ، بے نظیر فرحین، محمد رضوان خاں، زریں خاتون، شگفتہ پروین، تاجدار، فرحین آرا، مہہ جبیں پروین، تسکین، شبنم، مریم تقدیس، محمد ارشاد انور، عارفہ گوہر، شمیم احمد، صدام حسین، غزالہ پروین، رفعت جہاں، نفاست کمالی، ترنم پروین، محمد نصر الہدی، محمد سلیم، نصرت بانو عظیم، محمد رضوان، سائرہ بانو، شائقہ آفرین، وسیع اعظم، محمد علیم الدین وغیرہ شامل تھے۔

ڈاکٹر منصور خوشتر کے شکریہ کے ساتھ ایک روزہ قومی ریسرچ اسکالر سمینار اختتام پذیر ہوا۔پروگرام میں نسیم رفعت مکی، علائو الدین حیدر وارثی، واصف جمال، ڈاکٹر عقیل صدیقی، دیدار حسین چاند، حامد انصاری، مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظر عالم، مہدی رضا روشن القادری، انصاف منچ کے نیاز عالم، منور عالم راہی، منظر الحق منظر صدیقی، علی حسن انصاری، اظہر نیر، رفیق انجم، پروفیسر نسیم احمد، پروفیسر رضوان اللہ، شمشاد احمد، محمد عامر سمیت دانشورانِ شہر اور کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات موجود تھے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close