اردو سرگرمیاں

بزمِ صدف قطر

رپورٹ: ڈاکٹر تسلیم عارف
قطر میں بزمِ صدف کے بین الاقوامی انعامات جاوید دانش اور واحد نظیرکو دیے گئے
قومی اردو کونسل ہندستان سے باہر اردو کی نئی بستیوں میں عالمی اردو کانفرنس کرانے کا ارادہ رکھتی ہے: ارتضیٰ کریم
مہجری ادب کی ادبی خصوصیات پر غور و فکر کرنا وقت کا تقاضہ ہے: باصر سلطان کاظمی(برطانیہ)
دوحہ(قطر) یہ صحیح ہے کہ ہجرت کرتے وقت مہاجرین خوش نہیں تھے لیکن گذشتہ دہائیوں میں ان مہاجرین نے اردو ادب میں جو وقیع سرمایہ یادگار چھوڑا ہے، اُس سے اردو بہت خوش ہے۔ اگر ہجرت نہ ہوئی ہوتی تو مہجری ادب کا ایسا قیمتی سرمایہ سامنے نہیں آتا۔ اس میں روایت کی آمیزش اور برِّ صغیر کی ادبی سمت و رفتار کی آمیزش بھی ہے لیکن حالات اور وقت کی ضرورت کے اعتبار سے برِّصغیر کے ادب سے آویزشیں بھی نظر آتی ہیں۔ اِنھی دونوں کیفیات سے اردو کی نئی بستیوں کا نیا ادب فروغ پاتاہے۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے بزمِ صدف انٹرنیشنل کے بین الاقوامی سے می نار بہ عنوان’’اردو میں مہجری ادب‘‘ اور تقسیمِ انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی اعلان کیا کہ ان شا ء اللہ آیندہ سال وہ عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد خلیج کے کسی ملک میں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیوں کہ ان نئی بستیوں کے وقار اورعظمت کے عین مطابق ہمیں نئے منصوبے بھی بنانے ہوں گے۔پروفیسر ارتضیٰ کریم اس عالمی سے می نار کی صدارت کرتے ہوئے مذکورہ باتیں پیش کر رہے تھے۔
مشہور برطانوی شاعر جناب باصر سلطان کاظمی جو معتبر جدید شاعر ناصر کاظمی کے صاحب زادے بھی ہوئے، نے سے می نار کا کلیدی خطبہ پیش کیا۔ انھوں نے اپنی بات اس شکایت سے شروع کی کہ برِّ صغیر کی ادبی تنقید اردو کی عالمی بستیوں کے ادبی سرماے سے بالعموم اغماض برتتی ہے۔انھوں نے مثال دے کر موسموں کا تذکرہ چھیڑا اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ یوروپ میں بادل اور برسات مصائب کے پیمانے نہیں مگر ہندستا ن کی کیفیت بالکل بدلی ہوئی ہے۔ دفتری زندگی اور کام کے انداز و اطوار برِّ صغیر سے بدلے ہوئے نظر آتے ہیں ، ایسے میں دونوں جگہ کے ادب کی کیفیت کیوں کر ایک جیسی ہو سکتی ہے۔ انسان کے مشین بننے کی باتیں یوروپ اور امریکہ کے اردو ادبیوں کو برِّ صغیر کے لوگوں سے پہلے سمجھ میں آگئیں۔ انھوں نے اپنا ہی شعر پیش کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی کہ کس طرح ان نئی بستیوں کے افراد نے اپنی زندگی بسر کی۔
دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل ،وطن کوئی بھی ہو پھول کو کھلنے سے مطلب ہے ، چمن کوئی بھی ہو
وہیں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو یہاں کی تہذیب کو اپنے لیے مضر مانتا ہے اور اس معاشرے کی خرایبوں سے پناہ مانگتا ہے۔انھوں نے اپنی تقریر میں یہ واضح کر دیا کہ اب ادب کو Mainstream یا اس طرح کی اصطلاحات سے الگ کرکے دیکھنا چاہیے کیوں کہ ادب سمندر ہے جو ہر طرح کی تخلیقات کو اپنے اندر سمیٹنے کا مادّہ رکھتا ہے۔جناب باصر سلطان نے اپنے خطبے کے آخر میں یہ بات صاف طور پر کہی کہ یہ نیا ادب ہے اور اس کی اپنی اہمیت ہے ۔ جو ناقد آج اس پر توجہ نہیں دے رہے ہیں، انھیں کل اس پر توجہ دینی ہو گی ۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی سے تشریف لائے ڈاکٹر واحد نظیر جنھیں بزمِ صدف کا اکیاون ہزار روپے کا انعام دیا گیا،انھوں نے اپنے مضمون ’’مہجری ادب: چند بنیادی باتیں‘‘ میں مہجری ادب کے سلسلے سے بعض بنیادی باتیں پیش کیں جن سے اس صنف کے دائرۂ کار کا تعین ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ انھوں نے اس سلسلے سے چند سوالات بھی قائم کیے۔ مہجری ادب کی تعریف ، کس ادب کو اس صنف کے دائرے میں رکھا جائے اور کسے اس کے دائرے سے خارج کر دیا جائے ؟ انھوں نے اپنی گفتگو کا دائرہ اسی موضوع کے آس پاس محدود رکھا۔ انھوں نے نہایت شگفتہ اور رواں زبان میں اپنی باتیں پُر اثر انداز میں پیش کیں۔
کینیڈا سے تشریف لائے جناب جاوید دانش جنھیں بزمِ صدف کا ایک لاکھ روپے کا ایک لاکھ روپے کا بین الاقوامی انعام پیش کیا گیا، انھوں نے اپنے مضمون ’’مہجری ڈراموں میں شفا بخش عناصر‘‘ میں ڈراموں کے حوالے سے جدید طرز پر نفسیاتی علاج میں کس طرح ڈرامے کارگر ہو رہے ہیں، ان امور کی وضاحت فرمائی۔ اس میں ہجرت کے منفی اثرات سے لوگوں کو کس طرح نکالا جاسکتا ہے اور بچوں اور بڑوں دونوں پر کس طرح ڈرامے مثبت اثرات پیدا کرتے ہیں ، اس کی بھی تفصیل بتائی۔ابو ظہبی سے تشریف لائے ظہورالاسلام جاوید صاحب نے مہجری ادب کے سلسلے سے گفتگو کرتے ہوئے کئی بنیادی معلومات فراہم کیں اور خلیج میں منعقدہ عوامی مشاعر وں اوردیگر ادبی تقریبات کی تفصیلات پیش کیں۔
سے می نار سے مخاطب ہوتے ہوئے جرمنی سے تشریف فرما انور ظہیر رہبر نے مہجری ادب کی ایک نئی جہت پیش کرتے ہوئے یہ شعر پیش کیا:
صحرا ہے ، تری یاد ہے، فکرِ معاش ہے ان سے ملے نجات تو پھر میں غزل کہوں
انور ظہیر رہبر نے یہ واضح کیا کہ انسان صرف اکیلے ہجرت نہیں کر تا بلکہ اپنی تہذیب ، اپنی زبان کو بھی اپنے ساتھ لے جاتاہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جرمنی میں اردو سیکھنے کے سلسلے سے کئی تجربے ہو رہے ہیں۔ وہاں’’ ایک چھت کے نیچے‘‘ کے عنوان سے اردو جاننے والے دوسروں سے جرمنی سیکھتے ہیں اور جرمن جاننے والے ان سے اردو سیکھتے ہیں۔ اس طرح برلِن اور فرینک فرٹ میں لوگ بڑی دلچسپی سے اردو سیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ہم کسی زبان کو نہیں سیکھیں گے تو اس میں ادب کس طرح تخلیق کر سکیں گے۔حیدرآباد سے آئے ہوئے جناب ملک العزیز کاتب نے عالمی منظر نامے میں اردو کے سلسلے سے ہونے والی کارکردگیوں کی طرف توجہ مبذول کرائی۔
پروگرام میں سے می نار بہ عنوان ’’اردو میں مہجری ادب ‘‘بھی شامل تھاجس کی نظامت ناقد و شاعر پروفیسر صفدر امام قادری نے کی۔انھوں نے مہجری ادب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سے می نار کے اغراض و مقاصد متعین کیے۔ انھوں نے بتایا کہ رسالہ صدف اردو کی بین الاقوامی آبادی کا ترجمان بننے کے لیے کوشاں ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اردو کے مختلف دبستانوں کی طرح نئی بستیوں کے ادبی سمت و رفتار اور کیفیت کی شناخت کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔انھوں نے ناقدینِ ادب کو اس موضوع پر غور کرنے کے لیے سامنے آنے کی وکالت کی۔
قطر میں ہندستانی سفیر عزّت مآب پی۔ کمارن کے ہاتھوں سے بزمِ صدف بین الاقوامی ایوارڈ کا مومنٹو،شال اور ایک لاکھ روپے کی رقم ممتاز ڈراما نگار اور شاعر جناب جاوید دانش کو پیش کی گئی۔ ڈاکٹر واحد نظیر کو بزمِ صدف نئی نسل ایوارڈ مومنٹو، شال اور اکیاون ہزار روپے کے ساتھ پیش کیا گیا۔ تقسیمِ ایوارڈ کے موقعے سے خطاب کرتے ہوئے بزمِ صدف کے چیرمین جناب شہاب الدین احمد نے بزمِ صدف کو ایک مشن کے طور پر لیتے ہوئے آیندہ کاموں کی تفصیل بتائی اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ بزمِ صدف کی کن کن کاموں کے لیے خصوصی توجہ ہے۔انھوں نے رسالہ صدف کے ایک برس پورا ہونے پر اس سے جڑے لوگوں کے تعاون کے لیے مبارک باد دی۔ اس کے علاوہ انھوں نے بزمِ صدف کے بینر کے تحت کتابوں کی اشاعت کے پروگرام کے بارے میں بھی بتایاجس کا مقصد مستند اور معروف شعرا کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے لوگوں کی کتابوں کو شایع کرنا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر مکتبۂ صدف نے پندرہ کتابیں پہلے سِٹ کے طور پر شایع کی ہیں لیکن آیندہ برس بڑی تعداد میں کتابوں کی اشاعت کا نشانہ مقرّر کیا گیا ہے۔ انھوں نے بزمِ صدف کے پروگراموں کی تفصیل بتاتے ہوئے یہ واضح کیا کہ خلیج ، ہندستان اور دوسرے ممالک میں بزمِ صدف نے ادبی اور علمی سے می نار اور ادبی مشاعروں کے انعقاد کا ایک بھر پور سلسلہ قائم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ تعلیم اور اعلا ملازمت کے لیے کوچنگ جیسے معاملات کو بزمِ صدف نے اپنے کاموں میں اوّلیت دی ہے۔ ایوارڈ تقریب سے بزمِ صدف کے سرپرستِ اعلا جناب محمد صبیح بخاری اور ہندستان کے سفیر جناب پی کمارن نے بھی خطاب کیا اور اردو زبان کے فروغ عالمی راستوں کی شناخت کی۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن سے ہوا ۔ اس موقعے سے جناب جاوید دانش نے داستان گوئی کا ایک شو پیش کیا۔ جاوید دانش کی ادبی خدمات اور داستان گوئی کی اہمیت کے سلسلے سے جناب احمد اشفاق نے تعارفی کلمات پیش کیے۔ انھوں نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ جاوید دانش ایک خاص تجربہ کر رہے ہیں اور قدیم صنفِ ادب کو نئے عہد کے مسائل سے جوڑ کر ایک ایسا محلول تیار کر رہے ہیں جس کی جاذبیت اور اثر آفرینی میں کوئی کلام نہیں۔جاوید دانش نے ’’داستان ہجرتوں کی‘‘ کے عنوان سے ایک پورا ڈرامائی سلسلہ پیش کیاجس میں عصری مسائل کی گونج نے سب کو اپنے حصار میں رکھ لیا۔
تقریب کا آخری حصہ بین الاقوامی مشاعرے پر مشتمل تھا جس میں ہندستان ، پاکستان، برطانیہ، کینیڈا، قطر اور ابو ظہبی کے شعراے کرام شامل تھے۔ نظامت جناب انجم بارہ بنکوی ،بھوپال نے فرمائی اور صدارت جناب محمد صبیح بخاری نے کی۔ دیگر شعرا جنھوں نے اپنے کلام سے شرکاکو محظوظ کیا ان کے اسماے گرامی ہیں: انجم بارہ بنکوی ،وجے تیورای ، ملک العزیز کاتب، صفدر امام قادری، واحد نظیر(ہندستان)جاوید دانش(کینیڈا) ، انور ظہیر رہبر(جرمنی)، ظہور الاسلام جاوید(ابو ظہبی) اور باصر سلطان کاظمی (برطانیہ)۔ چند منتخب اشعار ملاحظہ کریں:
علم و ادب کے سارے خزانے گزر گئے کیا خوب تھے وہ لوگ پُرانے گُزر گئے
اجنبیت کا بھرم ہے اس قدر پردیس میں آئینے سے پوچھنا پڑتا ہے ، پہچانا مجھے وجے تیواری
چاند جب دیکھے گا تم کو،دیکھتا رہ جائے گا کیا زمیں پر آئنہ ہے؟ سوچتا رہ جائے گا
سب معانی خاک بن کر بے کراں اُڑ جائیں گے کھوکھلے الفاظ کا اک سلسلہ رہ جائے گا ملک العزیز کاتب
دن بھی سیاہ ہے، رات بھی کالی ہے دوستو اس شہر کی کچھ بات نرالی ہے دوستو انور ظہیر رہبر
اس بوریا نشین کا اعجاز ہے یہی پہچانتا نہیں کسی مسند نشین کو
ہجرت نہیں ہے اب یہ ضرورت کی بات ہے ورنہ کہاں چھوڑا ہے کسی نے زمین کو
میں یہ سمجھا کہ کوئی نرم زمیں آ پہنچی غور سے دیکھا تو وہ پانو کے چھالے نکلے ظہور الاسلام
رات رانی ہے وہ راجاؤں میں گھر جاتی ہے دن تو مزدور ہے کس طرح گزارا ہوگا
کئی یُگوں کے فسانے تھے میری آنکھوں میں یہ اور بات کہ خاموش و بے صدا میں تھا
ہر ایک سمت سے یلغار ہے رفیقوں کی فراتِ وقت پہ سالارِ کربلا میں تھا صفدر امام قادری
دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل، وطن کوئی بھی ہو پھول کو کھلنے سے مطلب ہے، چمن کوئی بھی ہو
عادتیں اور حاجتیں بدلتی ہیں کہاں رقص بِن رہتا نہیں طاؤس، بَن کوئی بھی ہو
اس قدر ہجر میں کی بزم شماری ہم نے جان لیتے ہیں کہاں کوئی سِتا را کم ہے
دوستی میں تو کوئی شک نہیں اُس کی، پر وہ دوست دشمن کا زیادہ ہے، ہمارا کم ہے
باغ اک ہم کو مِلا تھا، مگراس کو افسوس ہم نے جی بھر کے بِگاڑا ہے، سنواراکم ہے
آج تک اپنی سمجھ میں نہیں آیا باصر کون سا کام ہے وہ، جس میں خسارا کم ہے باصرسلطان کاظمی
اب نظیر اس کو مِٹا دے گی رعونت اس کی اب تو وہ حکم بہ اندازِ خدا دیتاہے
کتنی امیدیں لیے گھر سے نکلیں گے صبح کتنی مایوسی لیے پھر شام کو گھر آئیں گے
رات آنکھوں آنکھوں میں کٹنے والی ہے پیڑ کی ایک اک شاخ جو چھنٹنے والی ہے
بیٹوں کی آنکھوں میں صاف جھلکتاہے ماں کتنے حصوں میں بٹنے والی ہے واحد نظیر
فقیری آج تک فطرت ہے میری حویلی میں اگرچہ رہ رہا ہوں
لباسِ فاخرہ کو تم نہ دیکھو یہ دیکھو دل پہ کیا کچھ سہہ رہا ہوں
نسب کیا پوچھتے ہو تم ہمارا میں دانش ہوں، سُنو جو کہہ رہا ہوں جاوید دانش
انعام یافتہ شعرا نے غزلیہ اشعار کے ساتھ نظمیں بھی پیش کیں۔ جناب واحد نظیر نے ’’حصار‘‘اور’’اک نئی روشنی کی امید‘‘اور جاوید دانش نے نظم ’’درشن‘‘ اور’’ابابیلیں نہیں آتیں‘‘ عنوان سے بہترین نظمیں پیش کیں۔ مشاعرے کے بعد تمام شرکا کی پُر تکلّف ضیافت کا اہتمام تھا۔قطر کی دیگر ادبی تنظیموں کو بزمِ صدف کی طرف سے یادگاری تحفے پیش کیے گئے اور نمایندہ شخصیات کو بھی اعزاز سے نوازاگیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close