اردو سرگرمیاں

بزم اردو قطر کے زیر اہتمام مشاعرہ کا انعقاد

بزم اردو قطر دوحہ کی قدیم ترین تنظیموں میں سے ایک ہے یا یہ کہیں یہ سب سے قدیم تنظیم ہے، قطر میں اردو شاعری کی داغ بیل اسی تنظیم کی تاسیس کے ساتھ شروع ہوئی، یوں تو یہ تنظیم مختلف طرح کے پروگرام کا انعقاد کراتی رہتی ہے لیکن اس کا اختصاص طرحی مشاعرہ ہے، شعراء اپنے اپنے طور پر بساط بھر کوششیں کرتے رہتے ہیں واضح رہے  اس طرح  کے سینکڑوں پروگرامس بزم نے کئے ہیں اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے اس سے فائدہ یہ ہوا کہ بہت سے مبتدی حضرات جن کی اردو سے خاطر خواہ واقفیت نہیں بھی تھی وہ بھی اپنے بہتر ذوق کی بنیا د پر بہترین شاعر بن کر منظر عام پر آئے، تنظیم مختلف طرح کے تجربات کرتی رہتی ہے لہذا اس بار ایک نئی پیش رفت یوں ہوئی کہ باری باری سے تنظیم سے وابستہ  ان شعراء کی پذیرائی کیا جانا طے پایا جو عرصہ دراز سے گیسوئے اردو سنوارنے میں ہمہ تن مصروف ہیں  لہذا اس بار ایک ایسے شاعر کے نام کا انتخاب کیا گیا جو بزم کے تئیں ہمدرد ہی نہیں بلکہ بزم کی بہتر کارکردگی کے لئے کوشاں رہتے ہیں نئے شعراء کی رہنمائی بھی کرتے ہیں ساتھ ہی انکی حوصلہ افزائی میں بھی کوئی کسر نہیں باقی رکھتے ان کے نام یہ پروگرام منسوب کیا  اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ بزم کے نائب چئیر مین تھے جناب منصور اعظمی جنہیں دوحہ قطر کے ادبی حلقہ میں احسان دانش بھی کہا جاتا ہے۔

یہ پروگرام دوحہ کے وسط سلاطہ جدید میں واقع اسکل ڈیولوپ منٹ سنٹر میں بتاریخ ۲۱ مارچ ہوا جسکی صدارت  قطر کی معروف سماجی، ملی و ادبی شخصیت بزم اردو قطر کے سرپرست اعلی جناب صبیح بخاری نے فرمائی، مہمان خصوصی کی حیثیت سے جناب اشتیاق احمد مشتاق نے اسیٹج کو منور کیا، صاحب اعزاز منصور اعظمی رہے  اور نظامت بزم کے جنرل سکریٹری احمد اشفاق نے کی۔

حسب روایت بزم نے  طبع آزمائی کے لئے مصرع طرح بھی طے کیا جو معروف شاعر افتخار عارف کی

 غزل سے ماخوذ تھا  اور وہ یوں تھا کہ ،

یہ التزام بھی عرض ہنر میں رکھا جائے

گرچہ مصرع آسان نہیں تھا تاہم بیشتر شعراء نے حسب توقع بڑے عمدہ ہی اشعار پیش کئے یہاں ایک گنجائش یہ بھی رکھی گئی تھی کہ جو لوگ مصرع طرح پر نہ لکھ سکیں وہ اپناغیر طرحی کلام بھی پیش کر سکتے ہیں۔

پروگرام کی ابتدا عبد الکریم صاحب  نے تلاوت کلام پاک سے کی، استقبالیہ کلمات بزم کے صدر جناب اعجاز حیدر نے ادا کئے اور اس کے بعد صاحب اعزاز منصور اعظمی کی خدمت میں صدر تقریب کے ہاتھوں لوح سپاس دیا گیا اس موقع پر اسٹیج پر ناظم مشاعرہ نے بزم کے چئیرمین شوکت علی ناز، صدر بزم اعجاز حیدر اور خازن و رابطہ سکریٹری راقم اعظمی کو بھی اسٹیج پر آنے کی دعوت دی، منصور اعظمی کے لوح سپاس دینے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ بہار سے تعلق رکھنے والے قطر میں مقیم انجینئر و محقق  جناب اشتیاق احمد مشتاق کی نئی کتاب  سرسید احمد خان کی حیات و خدمات کا اجراء عمل میں آیا۔

صاحب اعزاز منصور اعظمی نے اراکین بزم کا  شکریہ اداکرتے ہوئے اپنی شاعری کے ابتدائی ایام کا بطور خاص ذکر کیا اور پھر دوحہ قطر میں قیام کے دوران شاعری کے پروان چڑھنے اور اس سلسلے میں اپنے استاد امجد علی سرور اور حیدر اعظمی کا ذکر کیا ساتھ ہی سامعین کی حوصلہ افزائیوں کو بھی معاون سمجھا، واضح رہے کہ منصور اعظمی کی دوکتابیں آہنی دیوار اور ضو بار سحر تو چھپ کر مقبول ہو ہی چکی ہیں اور تیسری کتاب  کی عنقریب ہی اشاعت ہونے والی ہے جس کا نام انہوں نے خیالوں کی صلیب رکھا ہے۔

مہمان خصوصی نے اپنی گفتگو میں سرسید کی تعلیمات کو عملی جامہ پہنانے پر زور دیا اور کہا کہ مسلمانوں میں تعلیمی بیداری لانا بہت ضروری ہے اور اس کے لئے جگہ جگہ اسکولوں کا قیام کر نے کی ضرورت ہے۔مسلمانوں میں تعلیم کی اشد ضرورت ہے خاص طور پر عصری تعلیم تاکہ دنیا کی آنکھوں میں آنکھ ملا کر ہم دیکھ سکیں یہی سرسید کا خواب تھا جسکی ہمیں تکمیل کرنی ہے۔

بزم اردو قطر کے سرپرست اعلی اور اس تقریب کے صدر نے اپنے صدارتی خطبہ میں سب سے پہلے تو منصور اعظمی کو مبارک باد پیش کیا اور اس کے بعد بزم اردو قطر کے ساٹھ سال مکمل ہونے پر سال رواں میں ایک عظیم الشان جشن اردو کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے اس کی تمام ذمہ داری اپنے سر لی اور اس سلسلے میں اراکین و سرپرستان کو مشورہ کی دعوت دی، یہ اعلان اہل بزم اردو قطر کے لئے یقینا باعث مسرت ہے جسے عملی جامہ پہنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

اس طرح یہ مشاعرہ تقریبا گیارہ بجے بحسن وخوبی اپنے اختتام کو پہنچا جس میں تقریبا بیس شعراء نے اپنے اشعار سنائے لیجئے منتخب اشعار مندرجہ ذیل ہیں۔

تمہیں زندگی اپنی آساں لگے

نمازوں میں دل کو لگا کر تو دیکھو

مسائل کے حل اس میں لکھے ہوئے ہیں

کلام االہی اٹھا کر تو دیکھو

(اشفاق دیشمکھ)

سمندر کے کناروں کو سسکتا چھوڑ آیا ہوں

تری آنکھوں میں آنسو کی میں دھارا چھوڑ آیا ہوں

(اجمل عارف)

بلا سے آندھیاں نفرت کی چل رہی ہوں مگر

محبتوں کا دیا بام و در میں رکھا جائے

( احمد اشفاق)

حسن اخلاق سے نفرت کو مٹانا سیکھو

اپنے سینے سے بھی دشمن کو لگانا سیکھو

(اجمل بسمہی)

دل ہے بے حال یار فرقت میں

کیسے آئے قرار فرقت میں

دیا جلا کے اگر رہگزر میں رکھا جائے

پھر اس کے آنے کا امکاں نظر میں رکھا جائے

(ظریف مہر بلوچ)

بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں قوم کے بچے

دیا جلا کے انہی کی ڈگر میں رکھا جائے

(راقم اعظمی)

ہے اس کا غم سو اسے خاص گھر میں رکھا جائے

جو تنگ پڑتا ہے تو دل جگر میں رکھا جائے

(روئیس ممتاز)

جس آئینے میں دکھائی دے سب کا عکس دل

اس آئینے کو ہر اک رہگزر میں رکھا جائے

(اطہر اعظمی)

محبتوں کا فسوں توڑنے سے بہتر ہے

امید وصل کو دام سحر میں رکھا جائے

(مشرف کمال شاہد)

یہ فیصلہ ہے تو یہ بھی نظر میں رکھا جائے

مری خطا کو حدود بشر میں رکھا جائے

(راشد عالم راشد)

کسی کے حسن کا پر تو نظر میں رکھ اجائے

یہ التزام بھی عرض ہنر میں رکھا جائے

(ڈاکٹر ندیم جیلانی دانش)

نہ کیجئے اسے رسوا وفا کے کوچے میں

میاں یہ عشق ہے سودا ہے سر میں رکھا جائے

(آصف شفیع)

بنائے جائیں جوئے شیر یہ بھی خوب مگر

یہ حسن ہے اسے حسن نظر میں رکھا جائے

(اعجاز حیدر)

لہوجلتا نہیں ہے عاشقی ہوتی نہیں ہے

مری جاں اس طرح تو شاعری ہوتی نہیں ہے

(عزیز نبیل)

من کے آنگن میں کبھی چشم تصور سے کبھی

عکس جب اس کا اترتا ہے غزل ہوتی ہے

(شوکت علی ناز)

مرے اپنے ہی اب میرے مقابل ہوگئے ہیں

صلے میری وفائوں کے یہ حاصل ہو گئے ہیں

(شفیق اختر)

ہمیشہ اپنے بزرگوں کا جو رکھے ہے خیال

اس آدمی کو صف معتبر میں رکھا جائے

(منصور اعظمی)

عرش سے ہم زمیں پہ پھینکے گئے

تم بھی نظروں سے کیوں گراتے ہو

( یوسف کمال)

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. بہت عمدہ رپورٹ ہے ۔ کامیاب نشست کے انعقاد پر بزم کی ٹیم کو مبارک باد

متعلقہ

Back to top button
Close