اردو سرگرمیاں

بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم کی جانب سےعالمی مشاعرے کا انعقاد

ملک بھرسے خواتین ادیب، شاعرات اورافسانہ نگاروں نے تقریب کوتاریخ سازاوریادگاربنایا

جان محمد

 بہت شکوے ہیں بس، ساتھ چلنے دیجیے!

صلاحیتوں کا اعتراف مت کیجئے بس قدر کیجئے

خواتین قلمکاروں کے ابھرتے پلیٹفارم "بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم” (بنات) کارواں ادے پورپہنچاجہاں بنات نے اپنایوم تاسیس منایا۔ تاریخی سلسلے کو ایک عالمی مشاعرے کی خوبصورت شام نے سمیٹا۔ تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم(بنات) اوراسکی راجستھان شاخ کے زیراہتمام جشن یوم تاسیس اکتیس اکتوبردوہزاراٹھارہ ادےپورراجستھان میں منعقدہوا۔ تقریب کااہتمام راجستھان شاخ کی سربراہ ڈاکٹر ثروت خان نے انتہائی خوش اسلوبی کیساتھ کیا۔ تقریب میں ملک بھرسے بنات کی اراکین نے شرکت کی۔ اس تاریخ ساز تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے ادے پورکی زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اوماشنکر شریک ہوئے۔ تقریب میں بنات کی صدرڈاکٹرنگار عظیم کے علاوہ اہم ارکان وعہدیداران ومہمانوں میں محترمہ قمر جمالی۔ ثروت خان۔ عزرا نقوی۔ افشاں ملک۔ آمنہ تحسین۔ تسنیم کوثر۔ شبینہ فرشوری۔ رفیعہ نوشین۔ تسنیم جوہر۔ شمشاد جلیل۔ صبیحہ سنبل۔ آصف اظہار۔ سیدہ تبسم منظورناڈکر، رضیہ حیدر خان، ثریا جبیں، شفقت نوری، نسترن فتیحی۔ نعیمہ جعفری پاشا۔ انجم قدوائی۔ سفینہ، عزہ معین۔ زہرا، فرخندہ ضمیر، طلعت جہان سروہااورشہناز رحمت قابل ذکرہیں۔ بنات کی نائب صدر عزرا نقوی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ انکاکہناتھاکہ میں ایک بات یہاں بتاناچاہتی ہوں اس تنظیم کے قیام کامقصد نسائی ادب کاایک پلیٹ فارم مہیاکراناتھا۔ بنات جسطرح وجود میں آئی دوہزار سترہ میں ایک سیمینار کے بعد نسائی ادب کی تنظیم کے قیام کی ضرورت محسوس کی گئی۔ تاکہ خواتین کے کام کااعتراف ہو۔ ہم عصرلکھنے والیوں کی حوصلہ افزائی ہو۔

سستی شہرت بٹورنے کاذریعہ نہ بنے۔ انہوں نے بتایاکہ پٹنہ میں دوہزار سترہ میں سیمینار میں بنات کے قیام کاعمل شروع ہوا۔ تسنیم کوثرنے دہلی پہنچ کرایک بنات کے نام سے وائٹس ایپ گروپ شروع کیا۔

انہوں نے کہاکہ ہماری تنظیم مردوں کیخلاف نہیں نایہ ڈیڑھ انچ کی الگ مسجد ہے۔ بلکہ ہم بنات کی صلاحیتوں کونکھارناچاہتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خاموشی سے ہماری ساتھی بناتی بہنیں کام کررہی ہیں۔ ہمارابنات کے قیام پراوریقین کامل ہوگیا۔ یہ مقام بنانے میں دیرلگی۔ بنات کاقیام بہت پہلے ہوناچاہئے تھا۔ ذاتی مفادات، حسدوں اور نفرتوں سے پاک ہوکرکام کرناہے۔

بنات کی جنرل سیکریٹری تسنیم کوثر نے بنات کی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے کہاکہ وہ بنات کی جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے آپکا سب کااستقبال کرتی ہیں۔ اورآپ کی موجودگی ہمارے لئے حوصلہ افزاہے۔ انہوں نے کہاکہ مشترکہ تہذہب سب زبانوں سے جڑنے کی ترغیب دیتی ہے۔ انہوں نے تین حصوں میں(تکنیکی، انتظامی اورمالی) رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیاہمارے لئے کارگرثابت ہوا، وائٹس گروپ سے آغاز ہوا۔

فیس بک پربنات آغاز اور پھرویڈیوپیج بنات لائیو نام سے پیج بنایاہے وہاں تمام سرگرمیوں کی ویڈیوز اپ لوڈکرتے ہیں۔ انتظامی امور پرروشنی ڈالتے ہوئے تسنیم کوثر نے کہاکہ ووٹنگ سے نگارعظیم صدربنیں۔ اس کے علاوہ دہلی کیبنٹ بنی جو صدرکی مددکرتی ہیں۔ پھرریاستی سربراہان منتخب ہوئیں۔ تنظیم کے مالی معاملات پرروشنی ڈالتے ہوئے تسنیم کوثر نے کہاکہ داخلہ فیس پانچ سوروپے، رکنیت ماہانہ دوسوروپے مقرر کی گئی ہے جن سے ٹرسٹ کے اخراجات جٹائے جاتے ہیں۔ ایک سو چھبیس ارکان ہیں سب نے فیس اداکردی۔ انہوں نے اعلان کیاکہ ہرسال مارچ میں آڈٹ رپورٹ پیش کی جائیگی۔ اس کے علاوہ اشاعتی کمیٹی

اور پروگرام کمیٹی بھی قائم کی گئی ہیں۔ لٹریری فنڈز مہیاکرانے والے سرکاری اداروں سے رابطہ کرنے کیلئے باضابطہ ایک کمیٹی کام کررہی ہے۔ دس مارچ کوہم نے عالمی یوم خواتین منانے کافیصلہ کیا۔ سال میں چار پروگرام کرچکیں۔ پنجاب، کشمیر میں تیس تیس ارکان شامل ہوئیں۔ بھوپال میں مدعو کیاگیا۔ بنات بااثر اورمقبول ہوتی جارہی ہے۔ لکھنے والی خواتین آگے آئیں۔ ہم آپ کی امیدوں پرکھرااتریں گی۔ آپکاتعاون چاہئے۔ اس موقع پر ممبئی سے تشریف لائیں مصنفہ سیدہ تبسم منظور ناڈکرکی تازہ تصنیف "مہندی لہوکی”کے ساتھ بنات کی دودیگراراکین کی تصانیف کاتعارفی اجراہوا۔

دودیگر کتابیں جنکا اجرا ھواان میں آن  لائن رسالہ نمبر دید بان نسترن فتیحی اور انکی ٹیم اردو کا بہترین ادبی رسالہ ترتیب دیتی ہیں جو آن لائن ہے۔ دوسری کتاب ھے حاصل تفہیم۔ پٹنہ سے تشریف لائیں شفقت نوری کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ شامل ہیں۔

معروف ادیب عابد عدیم نے اس موقع پربولتے ہوئے کہاک بہت مبارک دن ادے پورکیلئے یادگار دن حوصلہ افزائی کادن ہے، بہنیں بیٹیاں مائیں آگے بڑھ رہی ہیں اورہمیں خوشی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سماج کے اندرونی حالات نے اس صنف کوتکلیف دی۔ آج یہ سامنے آئی ہیں ہمیں انہیں حوصلہ دیناچاہئے۔ انہوں نے کہاکہ کتابیں پڑھنے سے ہماری زبان زندہ رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ مطالعے کے کم ہوتے رجحان سےتحریریں کمزور ہوتی ہیں، بچے موبائل میں وقت ضائع کرتے ہیں لیکن لکھتے نہیں، جبکہ لکھنےبسےزبان پختہ ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ادے پور کی سرزمین پرآئی ہستیوں کوہم سلام کرتے ہیں۔ ہم آپکے پیچھے پیچھے چلنے کوتیار ہیں۔ ادب کوزندہ رکھنے کیلئے چلنےوالوں کیساتھ ہم شانہ بشانہ چلنے کوتیارہیں۔

اس موقعہ پرڈاکٹر رجنی کش نے اپنے تاثرات رکھتے ہوئے کہا”بنات ایک بہت بڑا سنگٹھن ہے۔ اوماشنکر۔ عابدعدیم۔ آپ سب کاسواگت”۔ انہوں نے مزیدکہا”پہلی بار اردوادیبوں سے بھراہال دیکھ کرخوشی ہورہی ہے”۔ انہوں نے کہاکہ یہ شاعرہ میراکی دھرتی ہے میواڑ۔ ۔ ۔ میراکی دھرتی آج پھرسے شآداب ہوئی ہے۔ انہوں نے ابھرتی قلمکاروں کومشورہ دیتے ہوئے کہا”ماحول اتناگندا ہے۔ ۔ ۔ گہرائی میں جائیے۔ لکھئے جلدبازی نہ کیجئے۔ کسی راستے سے ناجائیں۔ ۔ گاڈفادر کسی کونہ بنائیں گاڈکوہی فادر بنائیں”۔

مہمان خصوصی کی حیثیت سے اودھے پور زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اوماشنکرنے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے بنات کی ادبی سرگرمیوں کوسراہااورادے پور میں شاندارتقریب کے انعقاداور انہیں میزبانی کاموقعہ دینے پراطمینان کااظہارکیا۔

تین نشستوں میں منعقد تقریب کی دوسری نشست میں بنات ارکان نے مقالات، انشائے، مزاحیہ کہانیاں وتاثرات پیش کئے۔ یہ نشست ڈاکٹر ترانہ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ ممبئی سے آئی معروف مصنفہ سیدہ تبسم منظور ناڈکر نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے بنات کو ابھرتی قلمکاروں کیلئے ایک بہترین اور بے مثال پلیٹ فارم ہے جس نے نئی امیدیں جگائی ہیں۔ تیسری نشست بنات پیٹرن وحیدرآبادسے تشریف فرمامعروف قلمکارہ ڈاکٹرقمرجمالی نے کی۔

انہوں نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ محبت کے شہرسے آئی ہیں محبت کاپیغام لیکر۔ انہوں نے اودھے پورکی مہمان نوازی سے متاثرہوتے ہوئے کہاکہ وہاں(حیدرآباد)میں سر دکھتے ہیں انسان نہیں اودھے پور میں انسان بستے ہیں۔ ہم پانچ خواتین یہاں آئے ہیں۔ ڈرائیور نے اپنے پیسوں سے چائے پلائی۔ ادے پور انسانوں کا اورمحبت کاشہر ہے۔ انہوں نے کہاکہ حیدرآباد اردوکاگہوارہ ہے۔ اردوزبان ہندوستان کی زبان ہے۔ اردوزبان کبھی مٹ نہیں سکتی انشااللہ۔ ۔ ۔ اردو ہمیشہ قائم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرد ہمارے کام کی تعریف نہ کریں مگرقدر کریں انہوں نے خواتین اور آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہاکہ جن آنکھوں نے خواب نہیں دیکھے وہ کنگال ہیں۔ خواب ہماری ترقی کیلئے بنیادی ڈھانچہ ہیں۔ بے چینی زندگی کی علامت ہے۔ بنات پوری دنیا میں اپنانام کمائے۔ میری دعا ہے۔

دن بھر تین نشستوں پرکمبھاہال میں چلنے والی یوم تاسیس کی تقریب کے بعد زرعی یونیورسٹی میں غزل اکیڈمی ادے پور کے زیراہتمام اور بنات کے اشتراک سے ایک عالمی مشاعرہ منعقدہوا جس میں محبان ادب کی بھاری تعدادشریک ہوئی اورشاعرات نے اپنی سریلی آوازاوربہترین کلام سےشرکاکوخوب محظوظ کیا۔ غزل اکیڈمی ادے پورمیں اردوخواتین ادیبوں کی بین الاقوامی تنظیم بنات اورمہارانا پرتاپ ایگریکلچراینڈٹیکنیکل یونیورسٹی کایہ آل انڈیامشاعرہ راجستھان ایگریکلچرل کالج میں منعقد ہوا۔ جس میں پچاس شاعرات وادیبوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر علی گڑھ کی شاعرہ آصف اظہار علی نے اپنا کلام پیش کرتے ہوئے کہاکہ

حال ہمارا پوچھنے آئے گھبرائے۔ گھبرائے لوگ

ان سے دکھڑے کیاکیاروتے دکھ توہمارے اسکے تھے

بنات کی صدرڈاکٹرنگار عظیم نے اپناکلام پیش کیا۔

دل کے نگر میں قید ہیں چاہت کی بلبلیں

وہ موسم بہار کے منظر نہیں رہے

دہلی کی شاعرہ سفینہ نے شعر پڑھا: یہیں راہ میں ملی تھی کیسی عجب پری تھی۔

وہ رنگ اسکا سونا، سونے کی پری تھی

اگلے جنم موہے بیٹیاہی دیجئے

دہلی کی شاعرہ عزرہ نقوی کاشعر:

وہ اپنے من کی سیاہی سے روشن دن کووہ نورکریں

ہم کالی راتوں میں خوابوں کے دریچے کھولتے ہیں

کولکتہ سے آئی شاعرہ شہناز رحمت کی غزل کاشعر:

گمنام راتوں پہ کھوئی تھی میں مستقل

چادرپہ میری دیکھئے گردسفرکارنگ

پوناسے آئیں شاعرہ شمشاد جلالی شاہ نے کہا

گلابوں سی تمہاری یادہرجانب مہکتی ہے

تمہاری جستجو میں اب ہواراستہ بھٹکتی ہے

پٹنہ کی سریاجبیں نے کہا

تومیری جست کاسہاراتھا

مشکلوں میں سنواراتھا

سہارنپور سے تعلق رکھنے والی شاعرہ طلعت جہاں سروہا نے کہا

ہم جب اردو میں بات کرتے ہیں تولفظوں سے ایک مہک آتی ہے

ہے یہ اردو جہاں میں، گود میں لے کے ہمیں گیت گنگناتی ہے

نعیمہ جعفری نے کہا

تجھے سلام ہے میرا اے میرے راجستھان

واہ تیرے باغ، تیرے ستھان

ممبئی کی سیدہ تبسم منظور ناڈکرنے کہا

تیری ہستی، تیراوجود، توپیچان ہے میری ماں

میری زندگی کی خوشی تجھ ہی پہ قربان ہے میری ماں

گنگناکرواہ واہی لوٹی۔ حیدرآبادکی رفعیہ نوشین نے اپنی نظم کوترنم میں پیش کرتے ہوئے لڑکے کوتودیتے جان لڑکی سے کیوں ہوانجان۔ آگے بڑھنے دوانکو، دونوں کی ہے ایک پہچان۔ ادے پور کی شاعرہ جوہرہ خان نے موسم گل کا بھروسہ ہی نہیں کب لوٹے، گھرکے گلدان کے کانٹوں سے سجایاجائے۔ کولوگوں نے خوب پسندکیا۔ مشاعرے میں پروفیسر جے پی شرما، پروفیسر اوماشنکرشرما، کالج ڈین ارنبھ جوشی اور بنات کی صدر نگار عظیم، غزل اکیڈمی کے منتظم محترم کنچن سنگھ ہرن موجود تھے۔ اودے پورمیں اس تاریخی تقریب یوم تاسیس اور مشاعرے کی کامیابی میں بنات راجستھان اکائی کی صدر ثروت خان اور ان کی ٹیم میں شامل زہرا خان۔ شیبا۔ شہناز۔ اور فرخندہ ضمیر کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

ادے پور کے گرمجوش مہمان نواز سامعین نے  بنات کے اس پروگرام کو اپنی بھرپور شرکت سے چار چاند لگا دئے۔ یہ پہلا موقع تھا جہاں ہندی نے اردو کی میزبانی کی اور ہندوستان کی کثرت میں وحدت کی رنگا رنگ گنگا جمنی تہذیب کو زندہ جاوید کر دیا جسکی ھمارے ملک کو آج بہت ضرورت ھے۔ اقدار کی شکست و ریخت۔ درکتے سماجی رشتوں کے اس دور میں اسطرح کے عوامی پروگرام تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ھیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close