اردو سرگرمیاں

’تحریک آزادی میں اردو کا کردار‘ کے موضوع پر سمینار کا انعقاد

فروغ اردوکے عملی اقدامات اور دیگر زبانوں میں اردو کے سرمائے کی پیشکشی وقت کی اہم ضرورت

ہندوستان کی تحریک آزادی میں اردو زبان اور اس سے وابستہ ادیبوں‘شعرا اور صحافیوں نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اردو ہی وہ واحد زبان تھی جس نے تحریک آزادی کی روح کو ابتداءسے آخر تک غذا پہونچائی۔ اس وقت کے شعرا نے اپنی جذباتی شاعری سے‘صحافیوں نے اپنے زور قلم سے اورادیبوں نے اپنی تخلیقات سے اور قائدین نے اردو زبان کی بے مثال اظہار قوت سے تحریک آزادی مین جان ڈالی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ نہ صرف تحریک آزادی میں اردو کے کردار کی بلکہ ہمارے اردو ادب کے گراں قدر سرمایے کو دیگر ابنائے وطن تک دیگر زبانوں میں اور خود ہماری نئی نسل کو اردو زبان میں اس کی اہمیت سے واقف کرانا اور اس عظیم سرمائے کو ان تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ اردو کے شاندار ماضی کا احیاءہو اور اردو زبان و ادب اپنے تعمیری کردار کو برقرار رکھے۔

ان خیالات کا اظہار مختلف دانشوروں نے قمرالدین صابری اردو فاﺅنڈیشن کے زیر اہتمام شاداب ہال میں منعقدہ ایک روزہ قومی اردو سمینار ” تحریک آزادی میں اردو کا کردار“ عنوان سے خطاب کے دوران کیا۔ اس سمینار کے صدارت پروفیسر عقیل ہاشمی سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی نے کی۔مہمانان خصوصی میں ڈاکٹر مسعود جعفری نامور مورخ‘پروفیسر مجید بیدارسابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی اور جناب اسلم فرشوری تھے۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے نظامت کے فرائض انجام دئے اور جدوجہد آزادی میں اردو شعرا کا کردار کے عنوان پر اپنا مقالہ پیش کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ابھی مکمل آزادی کے ثمرات ملنا باقی ہیں اور ہمارے شعر و ادب کو زندگی کے ہر شعبے میں حقیقی آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کرنی چاہئے۔ ڈاکٹر محامد ہلال اعظمی مدیر ماہنامہ صدائے شبلی حیدرآباد اور صدر شبلی انٹرنیشنل ٹرسٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری جدوجہد آزادی کی تحریک علمائے کرام کی عظیم قربانیوں اور اردو شعر وادب کے مثالی کردار سے معمور ہے۔ جس کی یاد اور مستقبل میں اس سے روشنی حاصل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

نظام آباد سے ذریعے فون اس موضوع پر خطاب کرتے ہوئے نامور محقق جناب وسیم احمد نے کہا کہ ہمارے قائدین نے حصول آزادی کی خاطر جیل کی صعوبتیں برداشت کیں اور جیل میں رہ کر اردو میں آزادی کے جذبے کو پروان چڑھایا انہوں نے کہا کہ جان نثار اختر نے” ہندوستان ہمارا “کے نام سے جد وجہد آزادی میں اردو کی قومی شاعری کا جو انتخاب دو جلدوں میں مرتب کیا ہے اسے دوسری زبانوں میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اردو میں سمینار اور جلسے تو کرتے ہیں لیکن ہماری بات دیگر ابنائے وطن تک نہیں پہونچتی اس کے لیے انہوں نے اردو محققین پر زور دیا کہ وہ ہمارے ادب اور ہمارے افکار کو دیگر زبانوں میں ابنائے وطن تک پیش کریں۔ نامور شاعر ادیب اور مورخ ڈاکٹر مسعود جعفری نے بہ طور مہمان خصوصی اس سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی ایک جذبے کا نام ہے جسے ہمارے قائدین‘عوام‘ادیبوں اور شعراءنے پروان چڑھایا اور اردو زبان نے تحریک آزادی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ انقلاب زندہ بادجیسا نعرہ اور ترک موالات جیسی اصطلاحات اردو نے ہی دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سبھی قائدین اردو میں بات کرتے تھے اور کسی اور زبان میں تحریک آزادی نہیں چلی۔ انہوں نے اقبال۔حسرت۔چکبست۔جوش اور دیگر شعرا کے کلام سے اشعار سناتے ہوئے کہا کہ ہمارا شعری سرمایہ تحریک آزادی کے لٹریچر سے بھرا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں انگریزوں سے تو غلامی سے نجات ملی ہے لیکن ابھی بھی تہذیبی و ثقافتی‘علمی و ادبی اور زندگی کے دیگر شعبوں میں حقیقی آزادی کا انتظار ہے جس کے لیے اردو اور اہل اردو کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ جناب اسلم فرشوری نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں عملی طور پر اردو کے چراغ کو روشن رکھیں اور اپنے بچوں کو اردو سکھائیں اس کے لیے انہوں نے بیرون ملک اپنے خاندان کے بچوں کو عملی طور پر اردو سکھانے کے اقدامات بیان کئے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کی طاقت کو اردو کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔ڈاکٹر مجید بیدار صاحب سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا کہ یہ اچھی تجویز ہے کہ تحریک آزادی اور اردو سے وابستہ اردو کے سرمایے کو دیگر زبانوں میں منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ابوالکلام آزاد ہوں یا دیگر قائدین ان کے بارے میں انگریزی کے علاوہ دیگر زبانوں میں مواد نہیں ملتا ۔جس کی جانب توجہ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اردو کے نئے محققین اور اسکالرس کو اس جانب توجہ پر زور دیا۔ جناب محمد ایم انور صاحب سرپرست قمر الدین صابری اردو فاﺅنڈیشن نے کہا کہ آزادی کی جدوجہد جاری ہے۔ ماضی میں تو اردو نے حصول آزادی کے لیے بہت کام کیا اب اس سلسلے کو آگے بڑھانا ہے اور قمر الدین صابری اردو فاﺅنڈیشن کے ماہانہ اجلاسوں کے انعقاد کا مرکز یہی ہے کہ اردو کے شاندار سرمایے سے استفادہ ہو اور نئی نسل تک اردو کے ورثہ منتقل ہو۔ انہوں نے نچلی سطح پر اردو کی تعلیم کو عام کرنے محبان اردو سے عملی اقدامات کی اپیل کی اور اعلان کیا کہ نئے تعمیر شدہ شاداب ہال میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عالمی سطح کے اردو دانشوروں کے براہ راست خطابات رکھے جائیں گے جس کے لیے تکنیکی مدد ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کر رہے ہیں اور آج انہوں نے نظام آباد سے ذریعے فون نامور اسکالر وسیم احمد کی علمی گفتگو سمینار میں کرائی۔

ڈاکٹر عقیل ہاشمی صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ آج کا سمینار ہر لحاظ سے کامیاب رہا کہ اس میں تحریک آزادی کی تاریخ کے اہم گوشے سامنے آئے اور حصول آزادی میں اردو شعرو ادب کے شاندار کردار کا اعادہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں عملی اقدامات کرنے ہیں اردو کو نئی نسل تک پہونچانا ہے۔ انہوں نے تجویز رکھی کہ ہم اپنے بچوں سے اردو میں گفتگو کریں اور دن کے کسی ایک وقفے میں ان سے اردو کے حوالے سے گفتگو کریں۔ کتابیں تو بہت ہیں لیکن اب جدید وسائل استعمال کرتے ہوئے اردو زبان اور اس کے رسم الخط کو نئی نسل تک منتقل کیا جائے۔ انہوں نے قمرالدین صابری اردو فاﺅنڈیشن کو کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد دی اور کہا کہ وہ فروغ اردو کے اس طرح کے پروگراموں میں ہر لحاظ سے ساتھ دیں گے۔اس سمینار کے اختتام پر نامور شاعر جناب مومن خاں شوق کے شعری مجموعے” متاع سخن“ کی اشاعت کے موقع پر انہوں تہنیت پیش کی گئی اور گلپوشی کی گئی۔پروفیسر محمد عبدالرحمن صاحب نے شکریہ ادا کیا۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close