اردو سرگرمیاں

تلنگانہ میں اردو مترجمین کے تقررات: امیدواروں کے لئے سنہری موقع

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

مثالی ریاست تلنگانہ میں وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر رائو کی شخصی دلچسپی سے بہت جلد سرکاری دفاتر میں 66 اردو آفیسرس (مترجمین) کے تقررات عمل میں لائے جانے والے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے 9 نومبر کو اسمبلی میں 66 اردو آفیسرس (مترجمین) کی جائیدادوں پر 60 دن میں تقررات کا اعلان کیا تھا۔تقررات  کے سلسلہ میں اس وقت اہم پیشرفت ہوئی جب محکمہ فینانس نے محکمہ اقلیتی بہبود میں 66 جائیدادوں کے قیام کو منظوری دے دی ہے۔ جی اے ڈی اور لا ڈپارٹمنٹ سے منظوری حاصل ہوچکی ہے۔ جس کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود ان جائیدادوں پر تقررات کا اعلامیہ جاری کرے گا۔ اردو اکیڈیمی تلنگانہ اسٹیٹ کے سکریٹری پروفیسر ایس اے شکور نے ای ٹی وی اردو پر دکن نامہ کے خصوصی فون ان پروگرام میں ان جائیدادوں کی تقرری کے سلسلے میں اہم پیشرفت کے اعلانات کئے اور کہا کہ چیف منسٹر نے چوں کہ ہدایت دی ہے کہ اندرون دو ماہ ان تقررات کو یقینی بنایا جائے اس لئے حکومت نے اردو اکیڈیمی کو ان تقررات کے عمل کی تکمیل کے لئے نوڈل ایجنسی کے طور پر ذمہ داری ہے ۔ اور اردو اکیڈیمی اعلامیہ کی اجرائی کے اندرون ایک ماہ اعلامیہ کی اجرائی ‘ امتحان اور انٹرویو کے انعقاد اور تقررات کی تکمیل کرے گی۔ انہوں نے ان جائیدادوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 66 کے منجملہ 6 جائیدادیں اسسٹنٹ ڈائرکٹر اردو جبکہ باقی 60 جائیدادیں اردو آفیسرس کی ہوںگی۔ن جائیدادوں پر تقررات کا مقصد تمام اہم سرکاری دفاتر میں اردو مترجمین کی موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔

اردو میں موصول ہونے والی درخواستوں کو تیلگو یا انگریزی میں ترجمہ کرتے ہوئے وزراء اور ضلع کلکٹرس کو پیش کرنا ہوگا۔ ان جائیدادوں میں ترقی کو شامل رکھا گیا ہے اور تمام سرکاری ملازمین اور عہدیداروں کی طرح ان عہدوں پر فائز افراد کو مراعات حاصل رہیں گی۔ تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے سکریٹری ڈائرکٹر پروفیسر ایس اے شکور کے مطابق ماہرین پر مشتمل سیلکشن کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو امتحان کے طریقہ کار کو طے کرے گی۔ چیف منسٹر کے دفتر کے علاوہ اسپیکر اسمبلی، صدرنشین قانون ساز کونسل، ڈائرکٹر جنرل پولیس، تمام ریاستی وزراء، کمشنر پولیس اور تمام ضلع کلکٹرس کے دفاتر میں اردو آفیسرس کا تقرر کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر اور دیگر 5 اہم دفاتر میں کام کرنے والوں کو اسسٹنٹ ڈائرکٹر کا رینک دیا جائے گا جبکہ مابقی اردو آفیسرس کو سپرنٹنڈنٹ رینک دیا جاسکتا ہے۔ اسسٹنٹ ڈائرکٹر کی 6جائیدادوں پر تقررات کے لئے امیدواروں کی اہلیت میں کسی بھی مضمون میں پوسٹ گرائجویشن کے علاوہ ایس ایس سی میں اردو کے ساتھ تلگو زبان دوم لازمی ہوں گے۔ اسی طرح اردو افسروں کی 60جائیدادوں کے لئے ڈگری کامیاب ہونے کے ساتھ ساتھ ایس ایس سی میں اردو اور تلگو مضامین لازمی ہیں۔

چونکہ یہ جائیدادیں بنیادی طور پر ترجمے کے ضمن میں ہیں اس لئے امیدواروں کو ریاست تلنگانہ کی سرکاری زبان تلگو کے ساتھ زبان دوم اردو پر مہارت ضروری ہے اسی طرح سرکاری حکمناموں کے ترجموں کے لئے انگریزی میں مہارت بھی ضروری ہے۔ امتحان کے نصاب کے بارے میں پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ پرچہ امتحان 200نشانات کا ہوگا ۔100نشانات عام معلومات سے متعلق ہوں گے جس میں تاریخ تلنگانہ بھی اہمیت رکھے گی ۔ باقی 100نشانات میں امیدواروں کو مختلف طرح سے اردو سے تلگو۔ تلگو سے اردو انگریزی سے اردو ترجمے کی صلاحیت کی جانچ کی جائے گی۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ چیف منسٹر سے روسٹر سسٹم سے استثنیٰ کی اپیل کی گئی ہے تاکہ ایس سی ایس ٹی امیدواروں کی عدم دستیابی کے ضمن میں عام زمرے سے تمام جائیدادوں پر بھرتی ہو۔ اور خالص اردو داں امیدواروں کے تقررات ممکن ہو پائیں گے۔ امتحانات اور امیدواروں کے انتخاب میں شفافیت کے ضمن میں عوام کی جانب سے پیش کئے گئے خدشات کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ پبلک سرویس کمیشن، بورڈ آف سیکنڈری اور دیگر اداروں سے ماہرین اسٹاف کو حاصل کرتے ہوئے امتحانی پرچہ کی تیاری اور امتحانی مراکز کا انتخاب کیا جائے گا۔ اور پبلک سرویس کمیشن کے رہنمایانہ اصولوں کی روشنی میں امیدواروں کا تقرر ہوگا صرف اسسٹنٹ ڈائرکٹر امیدواروں کے لئے امتحان کے ساتھ انٹرویو ہوں گے ۔

 اردو افسروں کو راست امتحان میں ملنے والے نشانات اور تحفظات کے روشنی میں تقرر کیا جائے گا۔پروفیسر ایس اے شکور نے امیدواروں کی حد عمر کے بارے میں کہا کہ 44سال کی عمر تک تمام گرائجویٹ اور پوسٹ گرائجویٹ اردو داں امیدوار ان تقررات کے اہل ہوں گے۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے 66 جائیدادوں کی منظوری کے ذریعہ تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے ہر محکمہ میں نہ صرف اردو آفیسرس کا تقرر ہوگا بلکہ ریاست بھر میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے عمل آوری میں مدد ملے گی۔ حکومت نے ریاست کے 31 اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیتے ہوئے اسمبلی میں بل منظور کیا ہے۔ سابق میں تلنگانہ کے 10 کے منجملہ 9 اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل تھا۔ ضلع کھمم میں یہ موقف نہیں دیا گیا تھا۔ اردو افسروں کی جائیدادوں پر تقررات کے سلسلے میں عوام کی جانب سے مختلف سوالات اٹھائے گئے کہ کیا ٹی آر ایس حکومت تک ہی یہ ملازمتیں رہیں گی یا آگے بھی ان سے یہی کام یا دوسرا کام لیا جائے گا۔ جس کے جواب میں پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ یہ نئی تشکیل شدہ سرکاری ملازمتیں ہیں اور امید ہے کہ ریاست تلنگانہ میں اردو کو دوسری زبان بنانے کے حکومت کے تاریخی فیصلے اور ان جائیدادوں کی تشکیل کے بعد یہ جائیدادیں مستقل طور پر سرکاری دفاتر میں ترجمے کے کام کے لئے ہی استعمال کی جائیں گی۔

ایک زمانے سے سابقہ ریاست اور موجودہ ریاست میں سرکاری دفاتر میں اردو میں درخواستوں کی قبولی اور حکومت تک اردو اخبارات میں پیش کردہ مسائل کو حکومت تک پہونچانے کے لئے دفاتر اور سکریٹریٹ میں اردو مترجمین کے تقررات کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے اب چونکہ یہ مطالبہ عملی جامع پہننے جارہا ہے اس ضمن میں اردو عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ سنجیدگی سے تقررات کے عمل کو انجام ہونے دیں۔ تلنگانہ کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے امیدواروںکے لئے یہ تقررات سنہری موقع ثابت ہوسکتے ہیں۔خاص طور سے محبوب نگر۔ کریم نگر۔ عادل آباد۔ میدک۔ نلگنڈہ اور دیگر اضلاع میں تلگو بولنے والے اردو میڈیم امیدواروںکی کثرت ہے چونکہ یہ جائیدادیں سرکاری دفاتر میں مترجمین کی ہیں تو امیدواروں کو تلگو پر عبور لازمی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جن کی انگریزی اچھی ہو ان کے لئے سنہری موقع ہے اس کے علاوہ شہر کے بڑے اردو اخبارات میں جو نوجوان سب ایڈیٹر ترجمے کا کام کر رہے ہیں ان کے لئے بھی ان جائیدادوں پر تقرری کا سنہری موقع ہے۔

اب چونکہ صرف اعلامیہ کا انتظار ہے اور حکومت کی جانب سے تمام مراحل مکمل کردئے گئے ہیں اور امتحان کے طریقہ کار کا بھی اعلان کردیا گیا ہے اس لئے امیدواروں کو چاہئے کہ وہ اعلامیہ کا انتظار کئے بغیر مجوزہ امتحان کی تیاری میں لگ جائیں۔ اس خدشے کو نظر انداز کردیں کہ چونکہ یہ جائیدادیں اردو دانوں کے لئے ہیں تو تقررات میں شفافیت نہیں ہوگی۔واضح کردیا گیا ہے کہ بالکل تحریری امتحان اور قابلیت کی چانچ کی بنیاد پر ہی تقررات عمل میں آئیں گے۔ امیدواروں کو چاہئے کہ وہ مطالعہ ہند۔ مطالعہ تلنگانہ۔ عام معلومات ۔ اور دیگر ضروری کتابوں کا مطالعہ کریں۔ چونکہ یہ امتحان پہلی مرتبہ ہورہا ہے تو اس کے نمونے کا پرچہ دستیاب نہیں ہے لیکن جونیر لیکچرر یا ایس جی ٹی یااسکول اسسٹنٹ کی جائیداد کے لئے پوچھے جانے والی عام معلومات اور کرنٹ افیر حالات حاضرہ کا مطالعہ ضروری ہوگا۔

امیدواروں کو چاہئے کہ وہ تحریک تلنگانہ کے بارے میں بھی خصوصی معلومات رکھیں اس کے لئے موجودہ انٹرمیڈیٹ کی تاریخ‘شہریت اور معاشیات کی کتابوں اور دسویں جماعت کی اردو انگریزی اور سائنس و سماجی علوم کی کتابوں کا گہرائی سے مطالعہ کریں۔ اس کے علاوہ ترجمے کی مشق کریں۔ ترجمے میں لفظی ترجمے کے ساتھ بامحاورہ ترجمے کی مشق کریں۔ امیدوار انٹرنیٹ پر ماڈل انگریزی پیراگراف سرچ کرتے ہوئے ان کے ترجمے کی مشق کریں۔ روزمرہ زندگی سے متعلق جو درخواستیں حکومت کو پیش ہوسکتی ہیں ان کی معلومات رکھیں اور ان کے ترجمے کی مشق کرتے رہیں۔ اردو سے تلگو یا انگریزی ترجمہ ہی مشقت طلب ہے اور اس موقع پر ان امیدواروں کو فائدہ ہوسکتا ہے جن کو تلگو پر عبور ہے اور اردو اچھی جانتے ہیں۔ تلگو زبان پر مہارت کے لئے امیدوار اردو سے تلگو سیکھیں کتاب۔ اور تلگو کی ابتدا تا دسویں جماعت کی تلگو ریڈر کا مطالعہ رکھیں۔ اور تلگو ادب کے بارے میں بھی معلومات رکھیں۔ تلگو بول چال کے لئے انٹرنیٹ پر تلگو کے ڈبیٹ پروگرام دیکھیں۔ اسی طرح عام معلومات کی تیاری کے لئے ساکشی ایجوکیشن ویب سائٹ۔ ادیوگا سوپانم ۔ کامپی ٹیٹیو سکسیس اور تازہ ترین ہو از ہو اور ہندوستان کی تاریخ کے تازہ ترین واقعات کے بارے میں معلومات رکھیں۔ اکثر طلبا دوران تعلیم زبان کی مہارت پر اہمیت نہیں دیتے آج یہ جائیدادیں ثابت کررہی ہیں کہ زبان پر مہارت سے بھی سرکاری ملازمت حاصل کی جاسکتی ہے۔

 امید کی جاتی ہے کہ قابل اور اہل امیدوار منتخب ہوں۔ اس کے علاوہ تلنگانہ میں اب چونکہ اردو سرکاری زبان قرار دی جاچکی ہے عوام کو چاہئے کہ وہ سرکاری دفاتر میں اردو میں درخواستیں دیں اور افسران کو مجبور کریں کہ ان درخواستوں کو اردو میں قبول کیا جائے اور ان کی شنوائی ہو۔ جب تک اردو داں طبقہ اردو استعمال نہیں کرے گا اردو کا چلن عام نہیں ہوگا۔ فون میں اردو مسیجنگ کو عام کیا جائے۔و اٹس اپ اور فیس بک پر اردو میں پیغامات ارسال کئے جائیں اور سرکاری تقاریب میں غیر اردو دانوں کے سامنے اردو میں تقاریر کی جائیں۔

موجودہ حالات تلنگانہ میں اردو کے فروغ کے لئے سازگار ہیں اور ان اردو افسران کے تقررات سے حکومتی سطح اور ضلعی دفاتر میں اردو کا چلن عام ہوگا۔ اردو والے ہر سرکاردی دفتر میں تلگو اردو سیکھیں بورڑ شروع کریں ار سائن بورڈ اور بسوں اور ریل گاڑی اسٹیشنوں پر اردو کو عام کریں تب ہی ریاست میں سابقہ ریاست حیدرآباد کی طرح اردو ماحول فروغ پائے گا جس کے لئے ریاست کے سبھی اردو دانوں کو سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی سینیئر صحافی اور صدر شعبہ اردو گری راج کالج نظام آباد ہیں ۔اس سے پہلے روزنامہ سیاست حیدرآباد میں بحیثیت سب ایڈیٹر اپنی خدمات دے چکے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close