اردو سرگرمیاں

تنظیم ’ادب سرائے‘ کے زیر اہتمام  شعر ی نشست کا انعقاد

چند لمحوں کی رفاقت مجھے منظور نہ تھی 

  عمر بھر اس کا نبھانے کا ارادہ بھی نہیں تھا

معتبر ادبی تنظیم ’ادب سرائے ‘ کے زیر اہتمام اوکھلا مین مارکٹ، الفلاح یونی ورسٹی کے احاطے میں واقع ابولفیض عزم سہریاوی کے دولت کدے پر ان کی ہی صدارت اور معین قریشی کی نظامت میں شعر ی نشست کا انعقاد کیا گیا اس پروگرام کے مہمانِ خصوصی استاد شاعر قاضی ظہیر احمد گوہر کرتپوری تھے۔ نشست کے آغاز میں مہمانِ خصوصی گوہر کرتپوری،مہمان اعزازی رئیس اعظم خاں رئیس مظفرنگری،مہمان ذی وقار احمد علی برقی اعظمی اور حفیظ الرحمٰن ایڈیٹر جرائم کا استقبال کیا گیا۔ نشست میں پسند کئے گئے چند اشعار قارئین کی نذر ہیں۔

مفلس کی آہِ سرد کا کچھ اور ہے مقام

دل سے اٹھی تو جاکے فلک سے لپٹ گئی

   ابولفیض عزم سہریاوی

یہ شہرِعلم یہ دلّی وطن ہے غالب کا

یہاں پرندے بھی اردو زبان بولتے ہیں

 قاضی ظہیر احمد گوہر کرتپوری

گردشِ وقت کی زدپر ہے یہ میخانہ ٔ دل

ٹوٹ جائے نہ کہیں ایسے میں پیمانہ ٔ دل

   احمد علی برقی اعظمی

کیسے قسمت کے یہ اجالے ہیں ،کیسے کیسے ہمارے سائے ہیں

جن کو سورج سمجھ کے لائے تھے اپنے پیچھے اندھیرے لائے ہیں

 رئیس اعظم خاں رئیس مظفر نگری

میں جھلس جاؤں کہ جل جائیں مری دنیائیں

تیری آنکھوں میں دھواں تک نہیں آنے دوں گا

 معین قریشی

چند لمحوں کی رفاقت مجھے منظور نہ تھی

عمربھر اس کا نبھانے کا ارادہ بھی نہیں تھا

  مینا خان ایڈوکیٹ

تم سے بچھڑا تو یہ محسوس ہوا ہے مجھ کو

شاخ سے ٹوٹے گلابوں کی طرح زندہ ہوں

ارشد ندیم

تباہ کرکے نہایت حسین شہروں کو

سلامتی کے پرندے اڑائے جاتے ہیں

   اسرار رازی

زندگی گزری مگر سنگین طوفانوں کے ساتھ

جیسے کوئی شیشہ گر رہتا ہ ہو دیوانوں کے ساتھ

 فرحین اقبال

سرکا بھی اھترام ہماری نظر میں تھا

تعظیم بھی ضروری ہے عزت مآب کی

دزد دہلوی

کوئی کچھ بھی کہے درہردہ کوئی اور بھی ہے

اصل کردار کہانی میں کہاں ہوتا ہے

جمیل سرور

انہیں بچانا پڑتا ہے تعبیروں سے

خوابوں کی نگرانی کرنی پڑتی ہے

خالد اخلاق سہسوانی

مجھ کو بس ایک ہی غم ہے مری قسمت میں

سنکڑوں غم ہیں مگر ایک بھی میرانہیں ہے

 سفیر صدیقی

میر ی آنکھوں میں بسے خوابوں کی تعبیر نہیں

جیسے مچھلی ہو کسی ظرف میں اور نیر نہیں

فرمان چودھری

نشست دیر رات تک جاری رہی اس نشست میں بہت سے ادبی ذوق رکھنے والے حضرات موجود تھے آخر تمام شرکاء و شعرا کا صاحبِ نے شکریہ ادا کیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close