اردو سرگرمیاں

دہلی ایک تہذیب وتمدن و تاریخ کانام ہے!

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی

گزشتہ روز غالب اکیڈمی دہلی میں مرزا اسد اللہ خاں غالب کے دوسو بیسویں یوم پیدائش کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں پروفیسرشریف حسین قاسمی نے’’ غالبؔ اوردلی‘‘ کے عنوان سے خصوصی لیکچر دیا۔انھوں نے اپنے لیکچر میں کہا کہ دہلی ایک عجیب وغریب شہر ہے۔ یہ درحقیقت محض ایک شہر اور آبادی ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب ایک تمدن اور ایک تاریخ کا نام ہے۔ جب سے ہندستان کی باقاعدہ تاریخ لکھی جانی شروع ہوئی اور یہ عمل بیشتر فارسی میں انجام دیا گیا۔دہلی کی ہر لحاظ سے اہمیت اور عظمت کا ذکر کیا جاتا رہا ہے۔ یہ چوں کہ بیشتر دارالخلافہ رہی ہے اسے حضرت دہلی کہا گیا۔ یہاں علما فضلا کا مجمع رہا ہے اسے قبلۃ الاسلام،بغدادہند اور خرد مکہ کے محترم القاب و خطابات سے یاد کیا گیا۔امیر خسرو نے دہلی کی اسی ہمہ گیر عظمت کے ترانے گائے ہیں۔

1757کے دوران پے درپے حملوں نے دہلی کو برباد کیا۔پھر1857میں انگریزوں کے ہاتھوں دلی کی موت ہوگئی۔ غالب1857کے بعد کی دہلی کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ آگرہ سے جو عادات واطوار لے کر آئے تھے وہ دہلی میں بھی برقرار رہے۔ غالب کس وقت کیا کہہ دیں کچھ بھروسہ نہیں۔ وہ حالات سے بہت جلد متاثر ہوجاتے تھے اور ایسی باتیں کہہ دیتے تھے جو وقتی ہوتی تھیں دہلی کے بارے میں بھی انھوں نے بہت کچھ کہا ہے۔ غالب کہتے ہیں دہلی میں میرا قیام ایسا ہی باعث تکلیف ہے جیسے قمر منحوس برج عقرب میں ہو۔

پروفیسر شریف حسین قاسمی نے کہا کہ غالب نے اپنی کتاب دستنبو، فارسی خطوط میں کم اور اردو خطوط میں زیادہ اس دور کے دہلی کے حالات نسبتاً تفصیل سے لکھے ہیں۔ غالب نے اپنے ان آثار میں دہلی کی بربادی کی جوتصویر دکھائی وہ حالی داغ یا ظہیر دہلوی وغیرہ کے مرثیوں پر بھاری ہے۔

پروفیسر شریف حسین نے کہا کہ دہلی کی بربادی پر غالب کی افسردگی اور ایمانداری بھی ہے جس کے بغیر کوئی ادیب اپنے عہد کے مصائب کا چشم دید گواہ بننے کا دعوا نہیں کرسکتا ہے۔غالب اپنے زمانے کے اچھے برے دن دیکھ کر چل بسے اور دہلی میں ان کے بعد کیا ہوگا کہہ گئے کہ غالب کے مرنے کے بعد دہلی کی آب و ہوا کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا عالم یہ ہوگا کہ لوگوں کے آنسو بہانے سے یہاں کی زمین دلدل میں تبدیل ہوجائے گی اور ہوا کیا،لو کے تھپڑے ہوں گے۔

تقریب کی صدارت ڈاکٹر جی آر کنول نے کی انھوں نے کہا کہ غالب کو دلی سے کم دلی والوں سے پیار زیادہ تھا، بنارس ان کو بہت پسند تھا اس پرانھوں نے چراغ دیر مثنوی لکھی،کلکتہ سے وہ بہت متاثر تھے۔

محفل کلام غالب میں مدھو میتا بوس اور انوشکا نے غالب کی غزلیں موسیقی کے ساتھ پیش کیں۔ مزار غالب پر گل پوشی کی گئی۔ ڈاکٹر احمد علی برقی نے مزار غالب پر منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر دہلی کے ادیب و شاعر اور بڑی تعداد میں با ذوق سامعین موجود تھے جن میں ظہیر برنی، سید محمد نظامی،وسیم احمد سعید، ریاض قدوائی،مظہر محمود،خالد علوی، فضل بن اخلاق،اسد رضا،عزیز احمد، نگار عظیم، منیر ہمدم،وقار مانوی، منوج بیتاب، سیماب سلطان پوری،ظفر مراد آبادی، ترنم جہاں،چشمہ فاروقی، تسنیم کوثر،شیام سندھرا،تاج الدین انصاری،شہلا نواب، انیس صدیقی،سرفراز فراز،کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close