اردو سرگرمیاں

دیا ادبی فورم کے 172ویں آن لائن فی البدیہہ مشاعرے کے لئے میری کاوش

احمد علی برقی اعظمی

رسول ِ پاک ﷺ نے مُژدے سنائے ہیں کیا کیا
ہمارے واسطے سوغات لائے ہیں کیا کیا
تمام عالمِ امکاں ہے ضوفشاں جن سے
چراغ ر‘شد و ہدایت جلائے ہیں کیا کیا
جہاں میں رشد و ہدایت کا ہیں جو سرچشمہ
پیامِ عدل و مساوات لائے ہیں کیا کیا
رہا نہ عربی و عجمی میں امتیاز کوئی
وہ رنگ و نسل کے فتنے مٹائے ہیں کیا کیا
بنا کے محرمَ اسرار اہلِ صفہ کو
حجاب تھے جو دلوں پر اٹھائے ہیں کیا کیا
جو جانتے نہ تھے آداب زندگی کیا ہیں
طریقے جینے کے ان کو بتائے ہیں کیا کیا
دعا جو دیتے تھے دشنام سن کے بھی برقی
جہادِ نفس کے جوہر دکھائے ہیں کیا کیا

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close