اردو سرگرمیاں

ریختہ: ای بک لائبریری میں داستان امیر حمزہ  کاخصوصی گوشہ

داستان امیر حمزہ وہ داستان ہے جسے ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ پورے بر صغیر میں ایک نمایاں  مقام حاصل ہے۔

حیدر علی

اردو داستان کی روایت رزم و بزم اور طلسم و عیاری کی عجیب و غریب کہانیوں سے مزین ہے۔ داستان امیر حمزہ وہ داستان ہے جسے ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ پورے بر صغیر میں ایک نمایاں  مقام حاصل ہے۔ اس کے ہیرو کے کارنامے تفصیل کے ساتھ اکبر اعظم کے حمزہ نامہ میں درج ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ اکبر خود بھی ان داستانوں کو پسند کرتا تھا اور حرم میں بیگمات کو سنایا کرتا تھا۔ یہ داستانیں ہند فارسی سے اردو میں داخل ہوئیں اور ان کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ سترہویں صدی کے اواخر میں داستان گوئی کی روایت کوعوام وخواص اور امرائ میں بے حد مقبولیت حاصل ہو چکی تھی۔

لکھنؤ کے منشی نول کشور پریس نے اپنے عہد کے معتبر داستان گویوں کو داستان امیر حمزہ کو قلمبند کرنے کی ترغیب دی جس کے نتیجے میں اسے زبردست شہرت حاصل ہوئی اور داستان امیر حمزہ کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ یہان تک کہ اس کی ٦٤ جلدیں شائع ہوئیں جو کافی ضخیم تھیں ۔ یہ تمام جلدیں 1810  کے آس پاس سے لے کر 1900  تک منظر عام پر آئیں اور اردو کے بیانیہ ادب میں ایک ایسی نظیر قائم ہوئی جس کی چمک دمک نے پورے اردو فکشن کی کائنات بدل دی۔ ہوش و حواس کو خیرہ کر دینے والی ان داستانوں میں قارئین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے خدا بخش لائبریری نے 1998  میں اس کی دوبارہ اشاعت کا فیصلہ کیا۔ خدا بخش لائبریری سے مطبوعہ جلدیں اصل سے بہترحالت میں ہیں اور انھیں پڑھنے میں بھی کوئی دشواری نہیں ہوتی۔مسحور کن شاہکار طلسم ہوش ربا کی تمام جلدیں ریختہ پر نمایاں طور پر شائع کی گئی ہیں اس کے ساتھ ہی ہم نے ان مقالوں کو بھی ریختہ پر شائع کیا ہے جنھیں خدا بخش لائبریری نے طلسم ہوش ربا کے تعارف کے ذیل میں شائع کیا ہے۔

معروف نقاد محمد حسن عسکری کی مرتب کردہ طلسم ہوش ربا کی وہ ایک جلد بھی آپ کے لئے حاضر ہے جس میں انھوں نے طلسم ہوش ربا سے اپنے پسندیدہ اقتباسات یکجا کر دےے ہیں ۔ کم و بیش ایک صدی بعدآج پھرزبانی داستان گوئی کی روایت کا بھی احیائ ہو رہا ہے جس میں محمود فاروقی، دانش حسین اور ان کا گروپ جس میں کبھی کبھی اداکار نصیرالدین شاہ کی بھی موجودگی ہوتی ہے، پیش پیش ہیں۔

اس انٹرویو میں میں محمود فاروقی اور دانش حسین داستانوں کی زبانی پیش کش کے اپنے فن سے متعلق گفتگو فرما رہے ہیں ۔ تحریری شکل میں بھی طلسم ہوش رباکی پہلی جلد کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے اور مکمل طلسم ہوش ربا کی تلخیص بھی چھپ چکی ہے۔ اس کے پس منظر سے مکمل واقفیت کے لئے پیش ہے یہ انٹرویو جس میں داستان امیر حمزہ اور داستان گوئی کی روایت کے حوالے سے ایک دلچسپ اور معلوماتی گفتگو کی گئی ہے۔

ہماری کوشش ہے کہ طلسم ہوش ربا کی مکمل جلدیں من و عن ریختہ کی زینت بن سکیں جو جلد ہی شکل میں ویب سائٹ پر موجود ہوں گی۔ ان نایاب نسخوں کے صفحات بالکل خستہ حالت میں ہیں جس کے سبب اسکیننگ میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت پیش آ رہی ہے اس لئے ہم اپنے ناظرین سے دست بستہ تحمل اور تعاون کی درخواست کرتے ہیں ۔ اس کی بیشتر جلدیں جناب شمس الرحمٰن فاروقی کی ذاتی لائبریری میں جا کر ریختہ ٹیم کے ذریعہ اسکین کی گئی ہیں باقی ماندہ جلدیں خود فرانسس پریچٹ نے نہ صرف مہیا کرائیں بلکہ اپنی ذاتی نگرانی میں ان کی اشاعت میں آنے والی دشواریوں کا حل بھی تلاش کیا۔ ان حضرات کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی مسرت ہے کہ ہم داستان امیر حمزہ کو نئے قارئین تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔

https://www.rekhta.org/Dastan-e-Amir-Hamza?lang=ur

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close