اردو سرگرمیاں

ساہتیہ اکادمی دہلی کے زیر اہتمام علی جواد زیدی کے فن اور شخصیت پر سمپوزیم

ڈاکٹر ہارون رشید
لکھنؤ23؍جولائی۔اردو شاعری ،ادب ،تحقیق ،تنقید اور تدوین کے میدان میں چالیس سے زیادہ اہم اور علم افروز کتابیں تصنیف کرنے والے علی جواد زیدی کے فن اور شخصیت پر ساہتیہ اکادمی دہلی کے زیر اہتمام مقامی جے شنکر پرساد ہال قیصر باغ میں تین اجلاس پر مشتمل ایک صدی سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا۔واضح رہے کہ علی جواد زیدی کا سال ولادت 1916ء ہے۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر شارب ردولوی نے کی ۔ممتاز ناقدپروفیسر انیس اشفاق (سابق صدر شعبہ اردو لکھنؤ یونیورسٹی لکھنؤ) نے اپنے کلیدی خطبہ میں علی جواد زیدی کی شخصیت ان کے عہد اور ان کی کتابوںکا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ان عناصر کابھی ذکر کیا جنھوں نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔انھوں نے بتایا کہ علی جواد زیدی نے چالیس سے زیادہ اہم اور علم افروز کتابیں تصنیف کیں جو اپنے میدان میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔پروفیسر انیس اشفاق نے علی جواد زیدی کی کتاب ’’دو ادبی اسکول‘‘پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے کہا یہ وہ پہلی کتاب ہے جس نے اردو میں دبستانوں کے مفروضے کو منطقی دلائل کے ساتھ رد کیا اور جس طرح کی شاعری کا الزام لکھنؤ دبستان پر تھا اسی طرح کے اشعار دہلوی شعرا کے یہاں نکال کر ثابت کیا کہ یہ دبستانوں کی تقسیم غلط ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ دبستان کی تقسیم کرنے والوں نے صرف غزل کو سامنے رکھ کر یہ تقسیم کی تھی اور دوسرے اصناف کو نظر انداز کیا ۔انھوں نے کہا کہ علی جواد زیدی نے خاکے بھی لکھے لیکن ان کے بعض خاکوں میں خاکائیت سے زیادہ مضمونیت حاوی نظر آتی ہے۔پروفیسر شارب ردولوی نے صدارتی خطاب میںسمپوزیم کے انعقاد کے لئے ساہتیہ اکادمی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ علی جواد زیدی پر اتر پردیش اردو اکادمی کو کوئی پروگرام منعقد کرنا چاہئے جس کو بنانے میں ان کا ایک اہم کردا ررہا ہے۔انھوں نے کہا کہ علی جواد زیدی ایک ممتاز محقق ،ناقد اور ادبی مؤرخ تھے۔جو کارنامے انھوں نے انجام دئے ہیں وہ نسلوںکے لئے ایک مشعل راہ ہیں۔پروفیسر شارب ردولوی نے کہا کہ علی جواد زیدی تعمیری ادب کا ایک نظریہ رکھتے تھے۔ ان کی کتاب ’’دو ادبی اسکول‘‘ در اصل ان کا ایک نظریہ ہے جس کی تائید بعد میںلوگوں نے کی۔ان کی کتابوں کے مطالعے سے بہت سی چیزوںسے ہم آگاہ ہوتے ہیں۔ علی جواد زیدی نے ہماری ادبی تاریخ مرتب کرنے کے لئے بنیادی مواد فراہم کیا۔

Ali Jawwad Zaidi Symposium-1 (1)
اس سے پہلے ڈاکٹر وسیم بیگم نے جملہ مہمانوں مقالہ نگاروںاور سامعین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ علی جواد زیدی کی شخصیت ہشت پہلو ہے ان جیسی شخصیات کم ہی پیدا ہوتی ہیں۔ دوسرا اجلاس پروفیسر شافع قدوائی کی صدارت میں ہوا جس میں علی جواد زیدی کی شخصیت اور ان کے فن پر مقالات پیش کئے گئے۔ڈاکٹر پروین شجاعت نے علی جواد زیدی کی سوانح کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے تاریخ وار ان کے اہم واقعات کتابوں کی اشاعت اور ایوارڈ کی تفصیل بیان کی اور یہ بھی تبایا کہ علی جواز زیدی نے پہلی باراردو ادبیات کو انگریزی میں متعارف کرایا۔ڈاکٹر وضاحت رضوی(ایڈیٹر نیادور لکھنؤ) نے ا ردو صحافت میں علی جواد زیدی کی قدر و قیمت کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔انھوں نے کہا کہ علی جواد زیدی جب محکمہ اطلاعات میں آئے تو انھوں نے پندرہ روزہ ’’اطلاعات‘نامی رسالے کا اجرا کیا جس میں صرف سرکاری کام کاج کی ہی اطلاعات ہوا کرتی تھیں لیکن انھوں نے اسے نیا دور کے نام سے ادبی رسالے میں بدل دیا اور بجائے پندرہ روزہ کے اسے ماہنامہ کے طور پر جاری کیا۔اس کے علاوہ وہ بہت سے جرائد اور اخبارات سے وابستہ رہے۔انھوں نے جو ادارئے لکھے اگر ان کو جمع کر کے شائع کر دیا جائے تو وہ نئی نسل کے لئے بہت مفید اور کار آمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹر رضا حیدر(دہلی) نے ’‘علی جواد زیدی کی انیس شناسی‘‘عنوان سے مقالہ پیش کیا۔اور کہا کہ علی جواد زیدی نے ادب اور مذہب کے حوالے سے بہت با مقصدگفتگو کی ہے۔اور لکھا ہے کہ مذہب کے زیر اثر جو ادب لکھا گیا ہے وہ سب کا سب اعلی درجے کا نہیں ہے۔پروفیسر شافع قدوائی نے تمام مقالہ نگاروں کے مقالات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ادب کا کوئی مکانی حوالہ نہیں ہوتا۔انھوں نے کہا کہ’’ دو ادبی اسکول‘‘میں بلا شبہ علی جواد زیدی نے دبستانوں کی تقسیم کو رد کیا لیکن یہ ایک مناظرے کے طور پر لکھی گئی کتاب ہے جو بہت زیادہ اہم نہیں ہے۔مناظرے میں بعض چیزوںکو ہم احتراماً مان لیتے ہیں اور خاموش ہو جاتے ہیں۔ سمپوزیم کا تیسرا اجلاس روزنامہ اودھنامہ کے چیف ایڈیٹر فیاض رفعت کی صدارت میں ہوا اس اجلاس میں شاہنواز قریشی،عنبر بہرائچی اور سمپوزیم کی معاون مہتمم اور ناظم ڈاکٹر وسیم بیگم نے مقالات پیش کئے۔اپنے صدارتی خطاب میں تمام مقالوںکا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام مقالے اور تقاریرعلی جواد زید ی کی شخصیت اور ان کے فن کی تفہیم کی راہ میں بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ علی جواد زیدی ایک نابغہ روزگارشخصیت کا نام ہے جو ہمہ صفت خوبیوںکے مالک تھے وہ بیک وقت غیر معمولی ادیب،ممتاز شاعر اور عہد ساز صحافی تھے۔ ان کی خدمات کے لئے ان کانام تاریخ ادب میں زریں حروف میں لکھا جانا چاہئے۔
اس موقع پروقار رضوی،ڈاکٹر عمیر منظر، ڈاکٹر عشرت ناہید، ڈاکٹر ثمامہ فیصل، ڈاکٹر طارق قمر، ڈاکٹر مسیح الدین خاں مسیح، ڈاکٹر ہما یعقوب، ڈاکٹر نصرت ناہید، ڈاکٹر شفیق حسین شفق، ڈاکٹرفائز، ڈاکٹر سرفراز احمد خاں، ڈاکٹر مجاہد الاسلام، سہیل کاکوروی، محمد جمیل صدیقی، آفتاب اثر ٹانڈوی، شہر یار جلال پوری، راجیو پرکاش ساحرؔ، محمد حنیف، ریاض علوی، موسی رضا، غزالہ انوراور نکنج مشرا وغیرہ موجود تھے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close