اردو سرگرمیاں

شامِ غزل: بیاد تنویر سپرا

شاعر، مشاعرے میں اپنے مقام سے نہیں اپنے کلام سے جانا جاتا ہے۔

رپورٹ: فیضان شاہد

قلم قافلہ کے زیر اہتمام جہلم کے عوامی شاعر تنویر سپرا کی یاد میں گجرات کے پروفیسر اشفاق شاہین کی زیر صدارت شامِ غزل میں جہلم کے امجد میر اور سرائے عالمگیر کے قمر صدیقی صاحبانِ شام  جبکہ ممتاز غزل گو شاعر قمر رضا شہزاد بحیثیت مہمانِ خاص شریکِ شام تھے۔ مزدور عوامی شاعر تنویر سپرا کی مزدور زندگی، شخصیت اور عوامی شاعری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے شامِ غزل کی پہلی نشست میں قمر رضا شہزاد، قمر صدیقی اور پروفیسر اشفاق شاہین نے کہا کہ تنویر سپرا جہلم میں اپنے دور کے عظیم اور بے باک شاعر تھے۔ تنویر سپرا نے اپنی شاعری میں عوام کے بنیادی حقوق پر قابض حکمرانِ وقت اور زرداروں کی زرداری پر فکر وخیال کے تیر برسا کر اپنی لازوال شاعری میں حق وصداقت کی آواز بلند کی۔ آج تنویر سپرا ہم میں نہیں لیکن وہ اپنے کلام میں آج بھی ہمارے دلوں میں دھڑک رہے ہیں۔  وہ آج بھی ہم میں موجود ہیں۔  شاعر کبھی نہیں مرتا وہ اپنے کلام میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کریں گے کہ وقت کے عظیم اہل قلم سخنورانِ ادب اور قومی ہیرو کو اُن کی زندگی میں احترام نہیں دیا جاتا لیکن اُن کے مرنے کے بعد اُن کی قبروں پر پھول   چڑھاتے ہیں اُن کی یاد میں تقریبات کا اہتمام ضرور کرتے ہیں۔  قلم قافلہ کھاریاں کے روحِ رواں گل بخشالوی نے تنویر سپرا کی شاعری اور شخصیت پر تنویر سپرااہل قلم کی نظر میں شائع کرکے تنویر سپرا کو امر کر دیا۔ تنویر سپرا پراُس وقت کے عظیم اہل قلم کے مضامین لکھ کر بڑے قابل تعظیم الفاظ میں تنویر سپرا کوخراجِ تحسین پیش کیا اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ تنویر سپرا آج اپنی شاعری اور اپنے عوام دوست کردار میں زندہ ہیں۔

شامِ غزل کی دوسری نشست میں قمر رضا شہزاد، غلام مجتبیٰ، عتیق الرحمان صفی، محمد امین عاصم، ساجد علی ساجد، شکیل کاسی، پروفیسر کلیم ضیاء، امجد میر، ڈاکٹر قمر صدیقی اور پروفیسر اشفاق شاہین نے اپنے کلام سے شامِ غزل میں رنگ بھر دئیے شامِ غزل کے میزبان گل بخشالوی نے کاشانہ علم وادب میں شعراء دوستوں کی تشریف آوری پر اُن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قلم قافلہ کا ادبی گلشن آپ شعراء دوستون کے رحم وکرم پر ہے آپ کی حوصلہ افزائی سے انشاء اللہ ادبی محفلوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ قلم قافلہ کے زیر اہتمام مشاعروں میں شعراء کو اُن کے مقام سے نوازا جاتا ہے۔ 1982ء سے جاری ادبی تقریبات اور مشاعروں میں کبھی بھی کسی شاعر دوست نے یہ شکوہ نہیں کیا کہ مشاعرے  میں اُن کے ادبی مقام اور احترام کو نظر انداز کیا گیا اس لیے  کہ کاشانہ ادب بخشالی منزل میں مشاعرے کے میزبان گل بخشالوی بخوبی جانتے ہیں کہ قلم قافلہ کارواں میں شامل کون شاعر کس  مقام پر ہے اور دنیائے اُردو ادب میں اُن کا مقام کیا ہے۔ قلم قافلہ کے مشاعروں میں شریک شعراء شاعر کم اور ادب دوست زیادہ ہوتے ہیں وہ اپنے حسن ظرف کے مثالی مظاہرے میں اپنے سے سینئر اور جونیئر شعراء کو احترام دیتے ہیں اُن کی صدارت میں مشاعرہ پڑھ کر اپنے ادبی حسن کردار پر فخر کرتے ہیں۔  وہ چاہتے ہیں کہ اُن کے جونیئرکو احترام دے کر اُن کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

14اپریل کی شام غزل میں دنیائے اُردو ادب کے ممتاز شاعر قمر رضا شہزاد نے کہا کہ تقریبات میں احترام کی نمائش شاعر کی توہین ہے شاعرکا ادبی مقام شعراء اور ناظم تقریب کے دل میں ہوتا ہے ہم شعراء اپنے فکر وفن اور عمر کے حوالے سے چھوٹے بڑے ضرور ہیں لیکن خود کو بڑا شاعر جان کر جونیئر کے مقام کو نظر انداز کیا جانا کم ظرفی ہے۔ ہم شاعر ادب دوست ہیں اگر ہم انا کے آسمان پر بیٹھ کر خود کو سوچیں گے تو اہل نظر میں مقامِ احترام کھودیں گے۔ اعلیٰ ظرفی کا تقاضہ ہے کہ احترام دینے والوں کا احترام کریں۔  شاعر، مشاعرے میں اپنے مقام سے نہیں اپنے کلام سے جانا جاتا ہے۔ قابل صد احترام ہیں وہ شعراء جو اپنے سے جونیئر شعراء کی صدارت میں مشاعرہ پڑھتے ہیں۔

کھاریاں شہر میں قلم قافلہ دنیائے اُردو ادب کی نمائندہ تنظیم ہے تین دہائیوں سے گل بخشالوی غزل گو شعراء کو اپنی محفلوں میں عزت اور احترام دیتے ہیں ہم گل بخشالوی کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔  عرصہ دراز سے ہم کاشانہ علم وادب میں مشاعرے پڑھ رہے ہیں۔  سینئر شعراء کا مقام اور احترام اپنی جگہ لیکن ادب دوستی میں احترام ِآدمیت ہم اہل قلم کی پہچان ہے اس لیے اپنی اس پہچان کا احترام ہم پر لازم ہے ادب دوستی کی مہکتی محفلوں میں ہم ادب دوست مل بیٹھ کر ایک دوسرے کو سنتے ہیں یہ ہی ہم ادب دوستوں کی ادب دوستی کا حسن ہے۔

ناظم محفل گل بخشالوی نے قمر رضا شہزاد کی ادب دوستی کو سلام کرتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ میں بخشالوی منزل میں آپ شعراء دوستوں کی ادبی محبت میں زندگی کے آخری لمحات تک ادب سفر جاری رکھوں گا۔ شامِ غزل میں شعراء کو مدینہ کی کھجور اور خالص آبِ زم زم پیش کیا گیا اور کھانے کی میز پر خوش گپیوں میں شامِ غزل اختتام کو پہنچی۔

٭٭٭

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close