اردو سرگرمیاں

شعبہ اردو بنارس ہندو یونیور سٹی میں رسالہ ’دستک‘ پر مذاکرہ 

رپورٹ: شمشیر علی

(ریسرچ اسکالر شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی) 

دستک ادبی فورم، شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی کے زیر اہتمام ، مؤرخہ 16 اپریل 2019 کو شعبہ اردو کے سمینار ہال میں ششماہی ریسرچ جرنل "دستک” کے دوسرے شمارے پر مذاکرہ منعقد ہوا۔ اپنے صدارتی خطبہ میں پروفیسرآفتاب احمد آفاقی (صدر شعبہ اردو) نے کہا کہ ہماری یہ کوشش رہی ہے کہ شعبے کا رسالہ "دستک” نہ صرف ادب کے معیار پر کھرا اترے بلکہ طلبہ و طالبات اور دیگر قارئین کے لیے بھی سود مند ثابت ہو۔ آج ایسے ادبی رسائل و جرائد کی تعداد بہت کم ہے جنھیں پڑھ کر قاری کے علم و بصیرت میں اضافہ ہوسکے۔ رسالے کی ترتیب و تدوین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "دستک ” کے اگلے شمارے کی ترتیب میں طلبہ و طالبات کی شمولیت کو بھی ترجیح دی جائے گی۔ رسالے میں اردو کے علاوہ دوسری زبانوں کے مضامین کو شامل کرنے کی غرض سے انہوں نے یہ اطلاع بھی دی کہ آئندہ یہ رسالہ Bilingual شائع ہوگا اور ہر شمارہ ایک خاص گوشے پر مشتمل ہوگا۔ رسالے کی شہرت اور ہمہ گیری پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے اطلاع دی کہ "دستک” کے دونوں شماروں کا ترجمہ ایران میں فارسی زبان میں ہو چکا ہے،جسے مختلف ویب سائٹ پر سرچ کیا جا سکتا ہے۔”

پروگرام کی ابتدا میں دستک ادبی فورم کے نگراں ڈاکٹر مشرف علی نے "دستک ادبی فورم” اور رسالہ "دستک” کے اغراض و مقاصد و اہمیت پر روشنی ڈالی۔

 شعبہ فارسی کے صدر ڈاکٹر محمد عقیل صاحب نے رسالے کی اشاعت کے لیے شعبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ اس شمارے میں برگزیدہ نقاد اور محققین کے مضامین شامل ہونے کی وجہ سے جہاں اس کا معیار بلند ہوا ہے وہیں یہ ادبی دنیا کے تمام بڑے اور معیاری رسالوں کی صف میں شامل ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔

 شعبہ عربی کے صدر پروفیسر اشفاق احمد صاحب نے رسائل کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ علم کو دو طرح سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ ایک تحریری شکل میں اور دوسرے تقریری شکل میں۔  چونکہ دور حاضر میں تحریر کو زیادہ اہمیت حاصل ہے اس لیے کتابوں اور رسالوں کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ رسائل و جرائد  میں میں مشاہیر اور معروف ادیبوں کے افکار کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں یہ تجویز بھی پیش کی کہ رسالہ دستک میں طلبہ و طلبات کو لکھنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔ جس سے ان میں تحریری صلاحیت میں اضافہ ہو اور ان میں ایک قسم کی خوداعتمادی پیدا کی جاسکے۔

 شبلی نیشنل کالج اعظم گڑھ سے تشریف لائے ڈاکٹر محمد طاہر صاحب نے مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا جدید ٹیکنالوجی، موبائل اور کمپیوٹر کے دور میں کتابوں اور رسالوں کے قارئین کی گھٹتی ہوئی تعداد افسوس ناک ہے۔ مگر بے توجہی کے اس دور میں بھی "دستک” جیسے معیاری رسائل شائع ہو ریے ہیں تو لائق تحسین بات ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے تشریف لائے ڈاکٹر محمد کاظم صاحب نے کہا کہ ہندوستان میں اردو کے ایسے شعبے بہت کم ہیں جن کا اپنا رسالہ ہو یا جہاں سے اس طرح کے معیاری رسالے شائع ہوتے ہیں۔ بی۔ ایچ۔  یو۔ میں شعبہ اردو کے قیام کے تقریباً سو سال کے بعد کسی رسالے کا شائع ہونا اپنے آپ میں بڑی بات ہے۔ یہ رسالہ حوالہ جاتی بھی ہے اور اس میں ادب کا مقصد بھی شامل ہے۔

شعبہ اردو، جامیہ ملیہ اسلامیہ(دہلی) سے تشریف لائے ڈاکٹر ندیم احمد صاحب نے شعبہ اردو بی۔ ایچ۔ یو۔ کے طلبہ و طالبات کو جنہوں نے رسالہ ‘دستک’ کے حوالے سے اپنے اپنے تبصرے پیش کیے، مبارکبا دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کا اعتماد اور پیپر کی پیش کش کا طریقہ خوداعتمادی سے پُر تھا۔ طالب علموں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں جامعہ میں بھی سمینار یا پروگرام میں طلبہ مقالے پڑھتے ہیں مگر درست تلفظ کے ساتھ ایسی خود اعتمادی اور کم نظر آتی ہے۔انھوں نےاردو زبان اور اس کے مستقبل کو لے کر طالب علموں سے کہا کہ اس میں امکانات اور مواقع کی کمی نہیں ہے اس لیے انھیں مایوس ہونے  کی ضرورت نہیں ہے۔

رسالہ "دستک” پر شعبہ کے ایم۔  اے۔  کے 2 طلبہ (عبید الرحمن محی الدین، ایک اے سال آخر) اور 3 طالبات (امیمہ بی بی، ماہین عالیہ اور نسرین ایم اے سال آخر) نے بھی اپنے اپنے تبصرے پیش کیے۔ پروگرام میں شعبہ اردو کے دیگر اساتذہ، رسرچ اسکالر کے ساتھ ساتھ طالبہ و طالبات کثیر تعداد موجود تھی۔

نظامت کا فریضہ شعبہ کے استاد جناب عبداسمیع نے ادا کیا اور اظہار تشکر کی رسم ڈاکٹر مشرف علی نے ادا کی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close