اردو سرگرمیاں

علامہ اقبالؒ پر اردو مرکز میں مذاکرہ اور گمنام شاعر صمد انصاری کی بازیافت

علامہ اقبال حرکت و عمل کے شاعر ہیں انہوں نے مسلمانوں کو فکری غلامی سے نکالنے کی سعی کی 

اردو مرکز امام باڑہ میونسپل اسکول سے نکل کر مدنپورہ کی تنگ و تاریک گلی لوہے کی چال میں آکر جہاں جگہ انتہائی محدود ہے کے باووجود اپنی ملی و تہذیبی سرگرمیوں سے غافل نہیں ہے۔ یکم جنوری ۲۰۱۹ کو اردو مرکز نے اپنے قیام کی دودہائی پوری کرلی یعنی اس کے قیام اور تہذیبی سرگرمیوں کو پورے بیس سال ہو گئے۔ اس موقع پر اردو مرکز لوہے کی چال مدنپورہ میں علامہ اقبال کی شاعری اور نظریہ پر ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ علامہ اقبال پر گفتگو سے قبل سہیل وارثی نے اردو کے ایک گمنام شاعر صمد انصاری سے بھی واقف کروایا۔ ان کے کلام میں غالب کی جھلک دکھتی ہے۔ ان کا تعارف پیش کرتے ہوئے سہیل وارثی نے کہا کہ ایک بار فراق گورکھپوری نے کہا تھا کہ اگر کسی کو اپنی شاعری خراب کرنی ہو تو وہ غالب کی زمین اختیار کرے لیکن صمد انصاری کے کلام سے ان کا یہ قول غلط ثابت ہو تا ہے۔ انہوں نے شاندار شاعری کی جس میں نیا انداز نئے تیور نظر آتے ہیں۔ ہمیں ایسے شعرا کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہی ان کے لئے بہترین خراج عقیدت ہے۔

علامہ اقابل کی شاعری پر اپنی بات پیش کرتے ہوئے غلام عارف نے چند ادیبوں کے ان الزامات کو مسترد کردیا جنہوں نے چھوٹا منھ بڑی بات کرتے ہوئے علامہ پر سرقہ کا الزام عائد کیا ہے۔ حالانکہ معاملہ اتنا ہی ہے کہ بچوں کیلئے لکھی چند نظموں کی بنیاد انگریزی کے چند شعرا سے لی گئی ہے۔ لیکن ان انگریزی کے شعرا اور اقبال کے کلام میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ علامہ پر اس طرح کے بیہودہ الزامات اور انتہائی غیر مہذب انداز عائد کرنے پر سہیل وارثی اور چند دیگر شرکائے مذاکرہ نے قدیم اور معتبر شعرا کے کلام پیش کرکے بتایا عہد گذشتہ کی شاعری میں خود اردو کا یا حافظ شیرازی کے فارسی کلام کو اردو میں من و عن پیش کرنے کی روایت رہی ہے جبکہ علامہ اقبال نے تو صرف نظم کا نام یا اس کی بنیاد سے استنباط کیا ہے لیکن علامہ کا پیغام زیادہ معتبر اور پراثر ہے۔ غلام عارف خان (کمیونٹی ٹاکنگ پلیٹ فارم) نے کہا اقبال کے شروع کے دور کی نظموں ایک پہاڑ اور گلہری، ہمدردی اور عشق اور موت کا موازنہ ایمر سن، ولیم کو پر اور ٹینی سن کی اصل نظموں سے کرتے ہوۓ اقبال کے کلام کی خوبصورتی کو واضح کیا۔ اقبال کی شاعری میں جذب و مستی کی کیفیت ملتی ہے وہ ان انگریز شعرا میں کہا حالانکہ ان کی شاعری بھی انگریزی ادب کا شاہکار ہیں لیکن وہ اقبال والی کیفیت سے عاری ہیں۔ غلام عارف نے کہا کہ اقبال کا پیغام حرکت ہے۔ وہ شاعری کے ذریعہ متحرک رہنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔ وہ ہم کو آفاقی اقدار کی پاسبانی کا درس دیتے ہیں۔ یہی ان کی مقبولیت اور عروج کا سبب بھی ہے۔ اگر علامہ کا پیغام اتنا بلند اور آفاقی نہیں ہوتا تو انکی مقبولیت اتنی نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر سلیم خان نے کہا کہ اقبال نے قوم کو فکری غلامی سے نکالنے کی کوشش کی ان کی یہ کوشش اپنی آفاقی شاعری کے ذریعہ سے تھی۔ وہ حرکت و عمل کے شاعر تھے۔ وہ خاموش ہو کر بیٹھ جانے کا درس نہیں دیتے۔ سلیم خان نے کہا علامہ نے اس جانب سفر کیا جہاں سے قوم مسلم پر فکری غلامی مسلط کی جارہی تھی۔ انہوں نے یوروپ جاکر وہاں کی تہذیب کا بنظر خود جائزہ لیا اور پھر اپنی شاعری میں وہ نظریہ پیش کیا جو رہتی دنیا تک رہے گا۔ ڈاکٹر سلیم خان نے یہ بھی کہا کہ علامہ اقبال چونکہ حرکت و عمل کے شاعر ہیں اس لئے وہ قوم کو مایوسی میں نہیں چھوڑتے وہ آگے بڑھنے اور متحرک رہنے کا درس دیتے ہیں۔ گمنام شاعر صمد انصاری مرحوم کے تعلق سے ڈاکٹر سلیم خان نے کہا کہ ان کی شاعری بھی لازوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کے جتنے بھی کلام دیکھے اس میں سبھی میں قرآنی آیات کے حوالے دیکھے۔ ایسے شاعروں کو یاد رکھنا اور ان کا پیغام عام لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے۔

اردو مرکز کے ڈائریکٹر ایڈووکیٹ زبیر اعظمی نے کہا کہ دہلی یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر نے علامہ اقبال کی ازدواجی زندگی پر کا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا دہلی یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر صالحہ صدیقی نے جو کتاب لکھی وہ دراصل علامہ کی ازدواجی زندگی پر ڈرامہ ہے۔ اس پر لوگوں کی رائے بھی ہے کہ اسے اسٹیج پر بھی پیش کیاجانا چاہئے۔ علامہ کی شخصیت پر کسی نے پہلی مرتبہ اس نظریہ سے کام کیا ہے جس کی پذیرائی ضروری ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close