اردو سرگرمیاں

غالب اکیڈمی میں ماہانہ ادبی نشست کا اہتمام

ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی

گزشتہ روز غالب اکیڈمی نئی دہلی میں ایک ادبی نشست کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت ڈاکٹر جی آر کنول نے فرمائی ۔انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ادبی نشستوں سے کچھ نہ کچھ حاصل ہوتا ہے۔آج کی نشست میں مضامین پڑھے گئے، افسانہ بھی پڑھا گیا،ڈرامہ بھی پڑھا گیا اور شاعری بھی سننے کو ملی،اس طرح کی نشستیں ہوتی رہنی چاہئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر عقیل احمد نے غالب کی آزادی کے عنوان سے اپنے پرچے میں کہا کہ غالب کے یہاں آزادی کا تصور بہت وسیع ہے۔ وہ ایسی آزادی چاہتے ہیں جس سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔اسی لئے ایسی جگہ گھر بنانے کی بات کرتے ہیں جہاں کوئی اور نہ ایسا گھر ہو جس میں نہ در ہو نہ دروازہ ہو۔ ڈاکٹر شہلا احمد نے غالب کی سوانح پر ایک مضمون پڑھا۔ترنم جہاں نے روٹی اور وہ کے عنوان سے ایک افسانہ سنایا۔چشمہ فاروقی نے پردیس ڈرامہ پڑھ کر سنایا۔اس موقع پر شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا منتخب اشعار پیش خدمت ہیں۔

اس پر تمھارا نام ہی لکھ دیتے ہیں چلو

سادہ ورق پڑا ہے جو دل کی کتاب کا

بشیر چراغ کشمیری

مجروح کر رہے ہیں کردار جو ہمارا

اب کیسے دیں صفائی لوگوں کے بیچ جا کے

 احمد علی برقیؔ اعظمی

شفق دیکھی تو قاتل میں یہ سمجھا

ترادامن نچوڑا ہے کسی نے

ظہیر برنی

ہم تو بقول میر ہیں یارو خوار جہاں کی نظروں میں

 نا حق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

متین امروہوی

آدمی نے بھر دیا ہے زہر جب ماحول میں

غیر ممکن  ہے چلے شام و سحر تازہ ہوا

جی آر کنول

آخر میں سکریٹری غالب اکیڈمی  نے  غالب کے یوم ولادت 27دسمبر اور اگلی نشست 13جنوری کو ہونے کا اعلان کیا۔

مزید دکھائیں

احمد علی برقی اعظمی

ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی اعظم گڑھ کے ایک ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے والد ماجد جناب رحمت الہی برقؔ دبستان داغ دہلوی سے وابستہ تھے اور ایک باکمال استاد شاعر تھے۔ برقیؔ اعظمی ان دنوں آل آنڈیا ریڈیو میں شعبہ فارسی کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد اب بھی عارضی طور سے اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔۔ فی البدیہہ اور موضوعاتی شاعری میں آپ کو ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی خاص دل چسپیاں جدید سائنس اور ٹکنالوجی خصوصاً اردو کی ویب سائٹس میں ہے۔ اردو و فارسی میں یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ روحِ سخن آپ کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔

متعلقہ

Close