اردو سرگرمیاں

محفلِ جشنِ ادارہ (دوسرا حصہ)

رپورٹ: ایڈوکیٹ متین طالب

(ناندورہ بھارت)

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری* دورِ حاضر میں دنیا کا واحد ادارہ ہے جو اِس برقی ترقی یافتہ دَور میں شعراء, ادباء و مُصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسّانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے۔ ادارۂ ھٰذا میں تمام تر پروگرامز برائے تنقید کئے جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر کامیابی کے ساتھ ادبی تنقیدی پروگرامز کا انعقاد یقیناً ادارۂ ھٰذا کی انفرادیت, مقبولیت نیز کامیابی کی ضمانت ہے۔

بانئ ادارہ جناب محترم توصیف ترنل صاحب کی زیرِ سرپرستی، کامیابی کے اس منفرد سفر کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ادارے کی جانب سے 21َ جولائی 2018 بروز ہفتہ, شام سات بجے 162 واں پروگرام بہ عنوان *”جشنِ ادارہ” (کچھ اپنے بارے میں کچھ ادارے کے بارے میں)Part2*، منعقد کیا گیا۔اس یادگار محفل کی صدارت بھارت سے تعلق رکھنے والے   محترم المقام احمد علی برقی اعظمی صاحب نے فرمائی ہیں۔ محترم احمد علی برقی اعظمی صاحب دنیائے ادب کی مقبول ترین شخص ہیں جنہیں ان کی ادب خدمات کے اعتراف میں اردو اکادمی دہلی ایوارڈ کتاب، فخر اردو ایوارڈ، توصیفی سند، خواجہ الطاف حسین حالی ایوارڈ، مولانا محمد علی جوہر ایوارڈ، اور لوح تقدیر، جیسے کئی ایوارڈ اور اسناد سے نوازا گیا ہے۔اس محفل محترم مسعود حسّاس صاحب نے انھیں *عبقری* نے لقب سے نوازا ہیں۔ اس محفل کے مہمانانِ خصوصی محترم ڈاکٹر نبیل احمد نبیل لاہور پاکستان   محترم مائل پالدھوی بھارت محترم احمد کاشف، بھارت اور محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی۔مراداباد۔ بھارت مہمانانِ اعزازی محترم ڈاکٹر فرحت عباس اسلام آباد پاکستان

محترم ادیب ظہیر عباس ہنگری۔ اس پروگرام میں خاص طور پر محترم ڈاکٹر نبیل احمد نبیل صاحب کی کتاب  "کلّیاتِ بانی: تحقیق و تدوین” کی رونمائی انجام دی گئ ہے۔ اس کتاب کا ملنے کا پتہ   دارالنوارد/کتاب سرائے، الحمد مارکیٹ، غزنی اسٹریٹ، اُردو بازار، لاہور ہے۔

پہلے حصے کی  نظامت کے فرائض *محترمہ ثمینہ ابڑو صاحبہ (پاکستان)*  نے انجام دی اوراپنے منفرد لب ولہجہ سے اِس جشنِ بہاراں میں چار چاند لگائی۔ اور دوسرے حصے کی نظامت کے فرائض *محترم علیم طاہر صاحب بھارت* نے انجام دیئے۔ اور محترم علیم طاہر صاحب نے ہمیشہ کی طرح سبھی شرکاء محفل کو اپنے منفرد لب و لہجے سے اپنی طرف متوجہ کیا۔ بطور آرگنائزر پروگرام کا نظم ونسق بندۂ ناچیز ایڈوکیٹ متین طالب ناندورہ بھارت کے ذمّہ رہا۔۔۔

محفلِ جشنِ بہاراں (دوسرا حصہ) کا باقائدہ آغاز ربِّ ذوالجَلال کی حَمد وثنا کے ساتھ ہوا۔ محترم فانی ایاز احمد جمو کشمیر نے حمد پاک پیش کرکے محفل کو بابرکت بنایا۔ اور اپنی حمد میں ایک جگہ یوں فرمایا۔

بڑا کرم ہم پر ہ تیرا ہے خدایا

 ہمیں بھی تو نے ایک انساں بنایا 

صدرِ محترم احمد علی برقی اعظمی صاحب کی کلامِ بلاغت سمجھنے کے لئے یہی شعر کافی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ

جھگڑا ہے کہیں رنگ کہیں نسل کا برقیؔ 

اک یورشِ آفات اِدھر بھی ہے اُدھر بھی

 مہمانِ خصوصی محترم ڈاکٹر نبیل احمد نبیل صاحب کا نمونۂ کلام

دل مرا جس کے لیے نغمہ سرائی مانگے

مجھ سے وہ شخص محبت میں خُدائی مانگے

کبھی جنّت کو بھی تقسیم کیا جاتا ہے

ماں کی خدمت سے بھی حصّہ مرا بھائی مانگے

مہمانِ خصوصی محترم مائل پالدھوی صاحب  کا نمونۂ کلام۔۔۔کہ

ہر ایک خواب سے بےدار کر دے بانگِ درا

خدا کرے تجھے ضربِ کلیم کم نہ پڑے

مہمانِ خصوصی محترم  احمد کاشف صاحب  کا نمونۂ کلام۔۔۔کہ

زباں سے نکلا ہر ایک جملہ، تمھارا ہے ترجمان بابا

سنبھل کے بولو پھسل نہ جائے، زبان پھر ہے زبان بابا

مہمانِ اعزازی محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ کا نمونۂ کلام۔۔۔کہ

توریت کی ہیں مثل نہ انجیل کی طرح

ہم علم میں ہیں سوکھی ہوئی جھیل کی طرح

مہمانِ اعزازی محترم ڈاکٹر فرحت عباس  صاحب کا نمونۂ کلام۔۔۔کہ

ہجر کی دھوپ اور دھواں دل کا

جل  گیا  ہے  رُواں  رُواں دل کا 

مہمانِ اعزازی محترم ظہیر کاظمی صاحب کا نمونۂ کلام۔۔۔کہ

اندھے غلام

اٹھو اے غلامو کہ زنجیر توڑو

اسیری کے زندان میں رہنا چھوڑو

جہالت کے طوفان کو اب تو موڑو

یہ حق ہے تمھارا، چلو،اٹھو،دوڑو

قارئین اکرام دیگر معزز شعرائے عالم کا نمونۂ کلام پیشِ خدمت ہیں۔۔۔

یہ زمیں تو رسولوں کی نبیوں کی تھی،یہ زمیں دیوتاؤں کی جنّت بھی تھی

اُن پہ نازل صحیفے کہاں کھو گئے،آگ نفرت کی ہر سوٗ بھڑکنے لگی

امین جس پوری (بھارت)

اسے  خوشی  ہو یا چاہے ملال، جو بھی ہو 

مجھےتو رکھنا ہے اس کا خیال جو بھی ہو

نصیر حشمت گرواہ چنیوٹ (پاکستان)

ادھڑی ادھڑی نیندوں میں ہیں  بکھرے بکھرے خواب

ملبے   جیسے   ادھر  ادھر   ہیں  سہمے   سہمے   خواب

علیم طاہر (بھارت)

ہم نے اتنی شائستہ زندگی گزاری ہے

گر لکھیں سوانح تو ادبیات ہو جائے

عقیل احمد رضی (ممبئی انڈیا)

انکے دامن میں بھی چھینٹے کئی آئیں گے وسیؔم

آبرو کا ہے یہ سکہ نہ اچھالا جائے

وسیم احسن  بِہار (بھارت)

جو بھی چاہا وہ مل گیا اصغر

پھر بھی لگتا ہے کچھ کمی ہے ابھی

اصغر شمیم (کولکاتا،بھارت)

اشک بن کر بھی ڈھلتا نہیں ہے 

درد  دل  سے نکلتا  نہیں  ہے

عاقب فردوس (واحد بھدروہی)

====================================

 ادارے عالمی اردو بیسٹ پوئیٹری کی طرف سے پیش ہے۔

تنقید و تبصرہ

شاعر : محترم ایاز فانی احمد صاحب

 اچھا مطلع کہا ہے۔  لیکن کرم کی بجائے "کَرْمْ” باندھ دیا ہیں۔  جس کی بنیاد پر مصرع بحر سے خارج ہو گیا ہے۔  ایسی صورت میں انہیں نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔  اگلے شعر میں  دوسرے مصرعے کے اندر "نہ” اضافی ہوگیا۔  ایسی صورت میں یہ مصرع بھی بحر سے خارج ہوگیا ہے۔  ان کے بقیہ اشعار موزوں ہیں لیکن یہاں محسوس ہو رہا ہے کہ یہ غزل نہیں بلکہ حمدیہ نظم ہے۔  ایک شعر میں منظر کشی بہت اچھی ہے اور بیانیہ بھی بہت اچھا ہے۔  کچھ جگہوں پر واحد جمع کے صیغے کا بھی مسئلہ ہے۔  اگر اسے نظم کی شکل میں تصور کیا جائے تو یقینی طور پر ابتدا سے لے کر  جو بقیہ اشعار ہیں  وہ تمام ہی ایک دوسرے سے مربوط نظر آتے ہیں۔   اور آخر میں انہوں نے نتیجہ واضح کیا ہیں۔   بہترین بات یہ نظر آئی کہ یہ نظمیہ کے طور پر  ایک مکمل حمد ہوگئی ہے۔  اور اگر اس کو غزلیات کے انداز سے دو دو مصرعے کے ذریعے اپنی بات کی تکمیل والا سلسلہ سمجھا جائے تو یقینی طور پر بات  درست  نظر نہیں آتی۔

مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ یہ ابتدائی مرحلے میں ہیں۔  انہیں چاہیے کہ کسی استاد سے ملاقات کریں اور ان سے الفاظ کو برتنے کا سلیقہ سیکھیں۔

تنقید نگار : حترم استاد مسعود حسّاس

=========

 شاعر اصغر شمیم  (کلکتہ)

 اپنے حصے کی روشنی ہے ابھی  

دھوپ آنگن میں بچی ہے ابھی

 ماشااللہ چھوٹی بحر بڑی بات۔ عمدہ مطلع۔

عیب تیرا میں ڈھونڈتا کیسے 

 مرے اندر بھی کچھ کمی ہے ابھی 

 بہت خوب اس معنی میں بھی کہ اس کے اندر عیب جوئی نہیں بلکہ خود بینی کا مادہ  پایا جاتا ہے۔

 سانس لینے کی بھی نہیں فرصت  

 اتنی مصروف زندگی ہے ابھی 

 دورے جدید کے اندر اس طریقے کے اشعار بڑی کثرت سے ملتے ہیں۔  اور اس کو دور جدید کے اندر پچھلے پانچ سات سال  میں اتنا زیادہ برتا گیا ہے کہ دور جدید کے اندر اسے فرسودگی کا  تمغہ  مل چکا ہے۔  اس لیے اس  اس شعر کو  دوسرے انگل سے کہہ لیتے تو اور جدت طرازی پیدا ہوجاتی۔  باقی اشعار بہت عمدہ ہیں۔

تنقید نگار: محترم استاد مسعود حسّاس

====

شاعر: مائل پالدھوی

 خیال و فکر کہانی کی تھیم کم نہ پڑے 

 کوئی بھی چیز کو رب کریم کم نہ پڑے 

مطلع اچھا فرمایا۔   رب کریم کا قافیہ  تھیم ایسا لگ رہا ہے کہ یہ اینگلو انڈین غزل ہو گئ۔  تیسرے شعر میں بانگ درا اور ضرب کلیم کی مدد سے  علامہ اقبال کی روح کو تسکین  پہنچائی ہیں۔ اچھی غزل ہے  لیکن یہ اینگلو

 انڈین غزل ہو گئ ہے واہ واہ  بہت خوب۔

تنقید نگار: محترم استاد ضیاء شادانی

======

 شاعر: علیم طاہر

علیم طاہر صاحب کی غزل ہے جو محاکاتی ہے انہوں نے  بذات خود لکھا ہیں۔  اول  سب سے پہلے غزل کو سمجھنے کے لیے تین چیزوں میں نظر دوڑانی پڑتی ہے۔  آیا غزل کے اندر جو مطلع میں بحر کو ظاہر کیا گیا ہے۔  بحر کے ساتھ میں ایک دوسری چیز کا علائقہ ہے ہونا چاہیے  جسے ہم قافیہ اور ردیف کہتے ہیں۔  بحر، قافیہ اور ردیف کا مطلع میں جو میں اعلان کیا گیا  آیا بقیہ اشعار کے اندر ان کا التزام برتا  ہے یا نہیں ہے۔  اگر  التزام  نہیں  برتا  گیا تو یقینی طور پر  ان اشعار کو درست نہیں کہا جائے گا۔

 اور مجھے اس غزل میں  یہ بات واضح نظر آئی  کہ اس کے اندر   دعوٰی  سمجھ میں ہی نہیں آیا  کہ دعویٰ کا معیار کیا ہے۔  لیکن یہ غزل بڑی حد تک "فعلن فعلن فعلن فع فعلن فعلن فعلن فع”  کے اوزان پر نظر آرہی ہے  لیکن جب میں نے اس کو تقطیع کرنے کی کوشش کی تو  میرے یہ سمجھ میں آیا کہ یہ اس کے معیار پر بھی پوری نہیں اتر رہی ہے۔  غزل کا جو پہلا مسئلہ ہے کہ وہ  اپنے مروّجہ وزن پر پوری اترتی ہے یا نہیں  تو میرے نزدیک یہ غزل اس کے اوپر پورے نہیں اتر رہی ہے  یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ علیم طاہر صاحب ایک کہنہ مشق انسان ہیں۔ علیم طاہر صاحب ایک کہنہ مشق شاعر ہیں اور ان کے تعلق سے یہ بات واضح ہے کہ ان کے استعارے، علائم، علامتیں اور اس کے علاوہ شعری لوازمات بہت ہی پختہ انداز میں موجود ہوتے ہیں۔ اور ان کی تعریف نہ کرنا ہمارے جانب سے بخیلی ہوگی۔ بسا اوقات ان کے شعروں کے اندر ایسی باتیں نظر آتی ہے جس محسوس ہوتا ہے کہ تجسس کا اور بیانیہ کا ایک نیا زاویہ انھوں وا کردیا ہے۔ بہرحال میں علیم طاہر صاحب کو میری جانب سے بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔  ہو سکتا ہے انہوں نے کوئی ایسی بحر کو  لیا ہو گا  جس میں انہیں چابک دستی حاصل ہو گی۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بحر ہمارے جیسے نو آموز لوگوں کی نگاہ سے گزری ہی نہ ہو۔

 ‎ ایسی صورت میں مَیں یہ کہوں گا کہ کسی صاحب  پتہ ہو یا  بذات خود علیم طاہر صاحب  اس کے اوپر روشنی ڈال دیتے کہ مطلع کے اندر انہوں نے کونسے وزن کا اعلان کیا ہیں۔  اور کس اصول کی بنیاد پر مع بقیہ  اشعار اس کے  اوپر فٹ سمجھتے ہیں۔

 تنقید نگار : محترم استاد مسعود حسّاس

=====

شاعر: محترم احمد کاشف

 زباں سے نکلا ہر ایک جملہ تمہارا ہے ترجمان بابا 

  سنبھل کے بولو پھسل نہ جائے زبان پھر ہے زبان بابا 

  اچھی بات ہے مگر  سنبھل کے بولو پھسل نہ جائیں زبان پھر ہے زبان  بابا "زبان پھر ہے زبان بابا”   کی بجائے  زبان آخر زبان ہے بابا  ہونا چاہیے تھا۔

 سیاسی لوگوں کی انجمن سے نکل کے آئے ہو آج شاید 

 ہر  ایک  لحظہ  بدل  رہا  ہے تمہارا  ترجمان   بابا 

” لحظہ لکھ  دیا ہے آپ نے   یہ "لہجہ” ہونا چاہیے تھا۔  آپ نے اچھی غزل فرمائی ہیں۔  بابا ردیف نے  کچھ کام بھی کیا ہے مجموعی طور پر اچھی غزل ہے۔  بہت خوب۔

 تنقید نگار : محترم استاد ضیاء شادانی

 ‎======

شاعر: محترم نصیر حشمت

نصیر حشمت صاحب فرماتے ہیں کہ 2009 میں تک بندی شروع کی لیکن  2016  سے باقاعدہ شاعری سیکھنا اور لکھنا شروع کیا۔ کافی کچھ سیکھنے کو ملا۔ اس بات سے یہ انکشاف ہوا کہ کم وقت میں اگر کوئی شخص اتنے اچھے اشعار کہہ سکتا ہےتو مبارکباد کا مستحق ہے۔ خاص طور پر ان کا ایک شعر۔۔۔۔

تیرا کلام سحر طاری کرتا ہے

مجھے پسند ہے تیرا خیال جو بھی ہو 

اور بھی بہت سارے اشعار میں عمدہ تشبیہات کا استعمال کیا ہیں۔ اتنے کم عرصے میں اتنے اچھے اشعار کہنا یہ اچھے شاعر کی علامت ہے۔ اور واقعتاً مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اللہ انھیں اور کامیابی عطا فرمائے آمین۔

تنقید نگار: محترم استاد ضیاء شادانی

====

 شاعر: محترم عاقب فردوس

   عاقب فردوس صاحب کی غزل پیش نظر ہے

اشک بن کر بھی ڈھلتا نہیں ہے   

 درد   دل سے نکلتا نہیں ہے 

 جو مطلع ہے اس کی پختگی اور مضمون کے ساتھ اس کی آسودگی  یہ قابل دید ہے۔

جب سے دیکھا ہے ان کو ٹھہر کر

 تب سے دل یہ سنبھلتا نہیں ہے  

یہاں پر بتا دیا انہوں نے کہ واقعتاً یہ ابھی ابتدائی درجے کی شاعری کر رہے ہیں۔ اور  اور ابھی گھٹنوں کے بل چل رہے ہیں۔ بقیہ اشعار اچھے ہیں۔ لیکن مقطع میں

 اب محبت تو ہوتی ہے واحد

دل یہ لیکن دھڑکتا نہیں ہے 

 لفظ "اب” پہلے مصرعے کے اندر  اور "دل” کے بعد میں لفظ "یہ” کا آنا  یہ دونوں ایک حشو قبیح ہے اور دوسرا حشو عام ہے۔  اور دونوں چیزوں نے ملا کر کے شعر کو  مجروح کر دیا ہیں۔اس لئے بہتر یہ ہوگا کہ مشق بھی کی جائے  مطالعہ بھی کیا جائے  اور لوگوں سے مشورہ بھی کیا جائے۔

تنقید نگار: محترم استاد مسعود حسّاس

=====

 شاعر : محترم امین جس پوری صاحب

 امین جس پوری صاحب کی غزل پیش نظر ہے  امین جس پوری صاحب کہنہ مشق اور محنت کشیدہ   اور نجانے  کتنی ہی خوبیوں کے حامل شخص ہیں۔  ان کے شعروں کو پڑھ کر کے نئی نسل جوان ہوئی ہے۔  آئیے ان کی غزل بھی گفتگو کرتے ہیں۔

 میں کیا ٹھہرا دریچے تلے چاند کے شوخ حجلے کہ  چلمن سرکنے لگی

 ‎مجھ کو لگتا ہے کہ یہاں پر کتابت کی غلطی در آئی ہے۔  ورنہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک ایسا شخص   جسکی عمر 60  70 سال کے اریب قریب کے ہو۔ اور وہ آدمی  معمولی بات کے اوپر پھسل جائے۔  اس کی وجہ یہ ہے "میں کیا ٹھہرا”  لفظ "کیا” انھوں نے استعمال کیا ہے  لیکن صوتی آہنگی سے "کہ”  کی دلیل بن رہی ہیں۔  ایسی صورت میں انہیں کہنا چاہئے تھا۔

 "کیا میں ٹھہرا دریچے تلے چاند کے”

اس کے گجروں کی لہروں میںمدہوش کن، ایک خوشبو کا طوفان سا آگیا

میں دیکھا دھنک ٹوٹتے ٹوٹتے رہ گئی اور فضا بھی مہکنے لگی

اس غزل کا بیانیہ بڑا ہی خوبصورت ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں رومان پروری کی اعلی مثال ہے۔   یہ بحر ہی  رواں دواں ہے  اس بحر کے اندر جب کوئی ماہر علم فن اور  ماہر عروض  اور اردو زبان پر دسترس رکھنے والا  شخص کلام کرتا ہے تو واقعتا ایسا محسوس ہوتا ہے  جیسے کوئی دھن بجائی جارہی ہے اور اس کے  اوپر ناگن تھرکنے  لگی ہے۔  مجھے بھی ایسا آج محسوس ہو رہا ہے۔

تنقید نگار : محترم استاد مسعود حسّاس

 ======

شاعر: محترم وسیم احسن

جناب وسیم احسن کے مطلع میں کچھ مسئلہ ہے

پھر سے اے دوست کیا ہاتھ ملایا جائے 

اور سارے ہی گلے شکوے بھلایا جائے

یہ زبان نہیں ہے۔   گلے شکوے بھلایاجائے نہیں بلکہ گلے شکوے بھلائے جائیں۔  آگے بھی اسی طرح ایک آدھ شعر میں

 اب تو آ  کر کے ذرا دید کرادے

 "آ کر کے” شاید ہندوستان میں  اس طرح ہو لیکن معیاری اردو میں نہیں ہے۔  اسی طرح

ان کے رخسار سے زلفوں کو ہٹایا جائے 

 آج اس طرح میرا ہوش اڑایا جائے

 ایسا نہیں ہونا چاہیے بلکہ میرے ہوش اڑائے جائیں۔  مجھے لگتا ہے عجلت میں کہی ہوئی غزل ہے۔

تنقید نگار: محترم استاد شہزاد نیر

======

شاعر: محترم اصغر شمیم

 محترم اصغر شمیم صاحب کی غزل پیش نظر ہے۔

اپنے حصے کی روشنی ہے ابھی 

  دھوپ آنگن میں بچی ہے ابھی

 خوبصورت مطلع ہے۔

اے ہوا دیکھ شور مت کرنا 

میری بستی میں خاموشی ہے ابھی 

  بہت خوب ہے۔ غزل کے مصرعے اچھے ہیں۔ غزل کے مصرعے نپے تلے ہیں۔ الفاظ کا چناؤ، الفاظ کی ترتیب   قابل داد ہے۔  صرف ایک مصرع  ڈھیلا ہے

سہمی سہمی سی موت بھی ہے ابھی 

 "سی”  "بھی” "ابھی” یہاں بھی مجھے لگتا ہے  تھوڑا سا دیکھ لیں۔ غزل  اچھی ہے

 معنی کے اعتبار سے بھی۔مقطع بہت اچھا ہے

 جو بھی چاہا وہ مل گیا اصغر 

 پھر بھی لگتا ہے کچھ کمی ہے ابھی 

تنقید نگار: محترم استاد شہزاد نیر

======

 "جشنِ ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری” پارٹ ٹو کے اس مبارک موقع پر بحیثیتِ نقاد و مبصر  کویت سے کہنہ مشق شاعر و تنقید نگار  محترم المقام استادِ محترم مسعود حسّاس صاحب، پاکستان سے کہنہ مشق شاعر و نقّاد محترم شہزاد نیّر صاحب، بھارت سے کہنہ مشق شاعر و نقّاد محترم انور کیفی صاحب اور  بھارت سے کہنہ مشق شاعر و نقّاد محترم ضیاء شادانی صاحب پروگرام میں

شامل تھے۔ جنھوں نے اپنے کمالِ علم وفن، عروضی مہارت و ذہنی استعداد کے مطابق، بلا تفاوت شعراء کے کلام کا بغور مطالعہ کیا اور اپنی بیش قیمتی آراء سے شعرائے عالم کو مستفید فرمایا۔جسے تخلیق کارانِ کلام نے بہ شکریہ خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ اسطرح برقی ادبی دنیا کی تاریخ میں مزید ایک منفرد کامیاب پروگرام نے ادارۂ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی شان میں اضافہ کردیا۔

بین الاقوامی سطح پر حالیہ منعقد *”جشنِ ادارہ” (کچھ اپنے بارے میں کچھ ادارے کے بارے میں*  پارٹ ٹو، پروگرام کے ذریعہ بہترین ادبی کارنامہ سر انجام دیا گیا ہے جس نے ادب و ثقافت کو جلا بخشی اور طے پایا کہ ادب اس مُشک کی مانند ہے جس کی خوشبو بِلا تفاوت ہر سمت پھیلتی ہے۔۔۔ اس تاریخی پروگرام میں شریک معزّز خادمینِ اردو ادب اور تمامی رفقائے بزم کو ادارے کی جانب سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔۔۔ نیز ادارۂ ھٰذا کی  بے لوث ادبی خدمات کیلئے ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں۔ اور اللہ سے دعاگو ہوں کہ اللہ ادارے کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہمکنار کرے۔ آمین ثم آمین۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close