اردو سرگرمیاں

مرکز عالمی اردو مجلس کی ایک شام اردو یعنی شاہد علی خان کے ساتھ

اردو ادب میں شاہد علی خان کی شخصیت قطب مینار سے زیادہ بلند نظر آتی ہے(ڈاکٹر حنیف ترین)

جامعہ نگر، نئی دہلی میں کل مورخہ 25 / مارچ2018کومرکز عالمی اردو مجلس کے زیرِ اہتمام ایک عالی شان بزم سجائی گئی۔ اس بار ادارے کی یہ خوبصورت شام اردو زبان کے ایک خاموش خدمت گزارمکتبہ جامعہ لمیٹڈ کے سابق سربراہ، مشہور ناشر شاہد علی خان کے نام رکھی گئی۔ اس موقع پرکئی نامور ہستیوں ، دانشوروں ، خادمانِ اردو ادب اور شاہد علی خان سے قرب رکھنے والی شخصیات کی شرکت نے محفل کو رونق بخشی۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلام سے کیا گیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر حنیف ترین نے مہمانوں کاتعارف کرایا۔ واضح رہے کہ حنیف ترین اس ادارے کے صدر بھی ہیں جنھوں نے اس ادارے کی بنیاداردو زبان و ادب کے فروغ، اس کی بقا اور ترویج و اشاعت کے لیے ڈالی ہے۔ جس کے تحت پچھلی پانچ نشستوں میں مسلسل اردو کی پانچ اہم اورمعتبر شخصیات فاروق مضطر، بشیر چراغ، ڈاکٹر رفیق مسعودی اور اب شاہد علی خان وغیرہ کو ان کی خدمات کے عوض نوازا گیا۔

مرکز کی اس پُر وقار بزم میں شاہد علی خان(چیئر گیسٹ)پروفیسر خالد محمود(مہمان خصوصی)، سلطان محمد خان سنبھلی(صدرِ محفل)، شعیب رضا خان (مہمانِ اعزازی) اور پروفیسر توقیر احمد خان(مہمانِ ذی وقار) کے بطور جلوہ افروزہوئے۔ اس موقع پر شاہد علی خان صاحب کی خدمت میں مومنٹو، گلدستہ اور اعزازی سرٹفکیٹ پیش کیا گیا۔ مزید سنبھل سے آئے مہمان سلطان کلیم سنبھلی کو بھی مومنٹو اور گلدستہ دے کر عزت دی گئی۔ اس طرح پروگرام کے مہمانان اور مقررین کا مرکز کے صدر اورجنرل سکریٹری غلام نبی کمار نے پرتپاک استقبال کیا۔

سب سے پہلے حنیف ترین نے شاہد علی خان کے اعزاز میں کہا کہ شاہد علی خان کی شخصیت قطب مینار سے زیادہ بلند نظر آتی ہے اور جن کا قدادب میں ہمالیہ سے اونچا ہے۔ انھوں نے کہا اردو زبان کی نشوونما میں نول کشور پریس کے بعدسب سے بڑا ہاتھ مکتبہ جامعہ لمٹیڈ کا شاہد علی خان کی زیرِ سرپرستی رہا ہے۔ یہ ادارہ ان کی زندگی کا مشن تھا جو آج نئی کتاب پبلی کیشنزکی کرائے کی دوکان میں سمٹ گیا ہے۔ موصوف نے یہ بھی کہا کہ وہ نہ محقق، نہ نقاداور نہ تخلیق کارہیں لیکن انھوں نے تخلیق کار ضرور پیدا کیے۔ بزم کے ایک اہم مقررحقانی القاسمی نے شاہد علی خان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شاہد علی خان محبت کا جلی عنوان ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ وہ اردو کے ایک ایسے خاموش خدمت گزار ہیں جنھوں نے پوری زندگی ستائش کی تمنا اور صلّے کی پروا کیے بغیر اردو زبان و ادب اورتہذیب و ثقافت کے لیے وقف کردی۔ مکتبہ جامعہ ان کی محنت و جدو جہد کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

توقیر احمد خان نے شاہد علی خان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ موصوف ایک وسیع النظرادب نوازہیں جنھوں نے مکتبہ جامعہ کو پورے ہندوستان میں متعارف کرایا اور یہی وجہ ہے آج مکتبہ جامعہ کی شاخیں ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں ہیں ۔ پروفیسر خالد محمود نے شاہد علی خان کے بارے میں کہاکہ میں شاہد علی خان کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ مکتبہ جامعہ کے لمٹیڈ کے جنرل منیجر ہوا کرتے تھے۔ ان دنوں مکتبہ جامعہ قدیم طرز کی اس چھوٹی سی دو منزلہ عمارت کا نام تھا جو جامعہ ٹیچرس کالج اور ’’سیدین منزل‘‘کے درمیان جلوہ گہِ خاص و عام بنی ہوئی تھی۔

پروفیسر موصوف نے یہ بھی کہا کہ میں نے شاہد صاحب سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ انہیں ایمانداری، ایثار پسندی اور رزق و حلال پر اصرار جیسی نعمتیں وراثت میں ملی گئی تھیں ۔ مگر انھوں نے کام سے غیر معمولی رغبت، حوصلہ مندی اور ذاتی نفع و نقصان سے بے پراہ ہو کر مکتبے کی خدمت کی، ان کی لاتعداد صفات ہیں جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں ۔

شعیب رضاخان نے کہا کہ شاہد علی خان نے ہندوستان کو کئی استاذ دیے، کئی پروفیسر پیدا کیے اور کئی تخلیق کا و ناقدین کو آگے لائے۔ انھوں نے کہا شاہد علی خان ایک انجمن کا نام ہے۔ ادارے کے جنرل سکریٹری غلام نبی کمار نے کہا کہ شاہد علی خان بیک وقت کئی صفات کی حامل شخصیت ہیں ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ شاہد علی خان ایک ممتاز منتظم، دیدہ ور صحافی اور ایک بہترین ناشر ہی نہیں بلکہ وہ ایک مخلص انسان بھی ہیں جوعمر بھر اردو کی عبادت سمجھ کر خدمت کرتے رہے۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہوگا کہ اردو کے سچے خادموں میں ایک اہم نام شاہد علی خان کا ہے۔

 آخر میں اظہارِ تشکر کے طور پر شاہد علی خان نے تمام مہمانوں ، مقررین اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج کی محفل کسی شاعر‘ادیب‘نقاد کے لیے نہیں ہے یہ محفل ایک معمولی اردو کے خدمت گار کے لیے ہے۔ اردو کے جن ادیبوں اور شاعروں نے اس پروگرام میں شرکت کی ان میں عزم سہریاوی، بشیر چراغ، بسمل عارفی، امیر الحسن عارفی، ساز دہلوی، ارشید حسین آہنگر، محمد یوسف رامپوری، نصیر الدین اطہر، فرمان چودھری، ظفر کانپوری، درد دہلوی، معین قریشی، قاری فضل الرحمن انجم ہاپوڑی، قلم بجنوری، راجیو ریاض پرتاپ گڑھی، خالد اعظمی، شکیل بریلوی، سلیم سہانوی وغیرہ وغیرہ حضرات قابل ذکر ہیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close