اردو سرگرمیاں

معروف شاعر محترم بی ایس جین جوہر ؔ کی یاد میں مشاعرہ

شعبہء اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ کے منشی پریم چند سیمینار ہال میں میرٹھ کے معروف شاعر مرحوم بی ایس جین جوہرؔ کی یاد میں ایک مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت پروفیسر سید احمد شمیم نے کی اور مہمانان میں پروفیسر خالد حسین خاں، محترم نپن جین شریک ہوئے مہمانان کے لیے استقبالیہ کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے ادا کیے اور تعارف ڈاکٹر شاداب علیم، نظامت کے فرائض معروف نوجوان شاعر فرقان سنبھلی نے بحسن و خوبی ادا کیے۔

         اس موقع پر اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر سید احمد شمیم نے بی ایس جین جوہر ؔ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ داغؔ دہلوی کے علمی خانوادے کی روایت کے امین جوہرؔ نے اپنے استاد سیماب اکبر آبادی کے رنگ کو بخوبی نبھایا ۔ دنیا کی بے ثباتی ، قومی ہم آہنگی، انسانی شناخت ، حب الوطنی جیسے عناصر سے مملو کی شاعری ، میرٹھ ہی نہیں بلکہ ہم سب کے لیے ایک خزانے سے کم نہیں۔

        پروفیسر اسلم جمشید پوری نے محترم نپن جین کی پیش کش کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ایم فل اردو کے ٹاپر کو بی ایس جین جوہرؔ گولڈ میڈل اسپانسر کریں گے۔ واضح ہو کہ شعبہ ء اردو میں ایم اے کے ٹاپر کو مولانا امتیاز علی عرشی گولڈ میڈل سے نوازا جاتا ہے۔

        بی ایس جین جوہرؔ کی یا د میں مشاعرہ بے حد کامیاب رہا ہے اردو کے ساتھ ساتھ ہندی شعراء نے بھی شرکت کی شعراکا منتخب کلام پیش ِ خدمت ہے:

کمل اردو کے کھلتے ہیں یہا ں ہندی کی جھیلوں میں

غزل کو باندھنا مشکل ہے بھاشائی قبیلوں میں

(ڈاکٹر ایشور چند گمبھیر)

لکھ کے والد کی شان کا غذ پر     

رکھ دیا آسمان کا غذ پر

(جمیل مظہر سیانوی)

اپنے وطن پہ جان لٹا کر تو دیکھئے       

ماٹی میں اپنا خون ملاکر تو دیکھئے

(ڈاکٹر یونس خان) 

چراغ یوسف اُمیدوں کے جلاؤ تو سہی

ہے پوشیدہ اندھیروں میں بھی دیکھئے اُجالا بھی

(ڈاکٹر یوسف میرٹھی)

گھٹے گا دم جو ہمارا تو شکایت کیسی

ہمیں نے زہر فضاؤں میں ڈال رکھا ہے

     (ڈاکٹر رام گوپال بھارتیہ) 

غافل ہے روک تھام سے سرکار کس لیے

لٹتی ہے آبرو سرے بازار کس لیے

(ڈاکٹر فرقان سردھنوی)

ابھی تو ظلمتیں ہم کو بہت ڈرائیں گی

ابھی نہیں ہے ہمارے حساب کا سورج

(مقصود جالب)

بخشش کو کافی ہوتی ہے معمولی سی نیکی بھی

صابن کی چھوٹی کرچی بھی کر دیتی ہے دھبا صاف

(فخری میرٹھی)

وہ جو ظلمتوں کاحریف تھا وہ جو روشنی کا نقیب تھا

وہ چراغِ راہِ خولاس تھا اسے اندھیوں نے بجھا دیا

(یونس غازی)

ہوا کے رخ سے جلانے چراغ نکلے ہیں

ان اندھیوں کا ہمیں زور آزمانا ہے

( نظیر میرٹھی)

دیکھتے کچھ اور تھے لیکن سمجھتے تھے کچھ

مدتوں ہم اپنی بینائی سے چھل کرتے رہے

(اسرارالحق اسرار)

 پگھلتی نظر بھی تیری آمد کی منتظر کیوں ہے

تیرے وعدے پے مجھے یقین اس قدر کیوں ہے

 (سواتی شر ما)

اس موقع پر بھارت بھوشن شرما، رام اوتار بنسل ،محمد دانش ، آفاق احمد خان، معراج الدین انصاری، الکا وششٹھ،مکیش جین، ادت جین، اشونی گیرا، راجیو جی،منوج جی، پروین گرگ، آلوک شرما،فرح ناز، گل ناز، ڈاکٹر سیدہ،فیضان انصاری ، عبدالواحد،محمد شمشاد وغیرہ شریک ہوئے۔

٭٭٭

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close