اردو سرگرمیاں

مولانا احمد محمود کوثرؔ اعظمی کے انتقال سے بزم ادب سونی ہو گئی!

قرآن کریم کی عظیم درسگاہ مدرسۃ الاصلاح سرائے میر کے سابق نائب ناظم، صاحب طرز ادیب، بے مثال خطیب اوربچوں کے معروف شاعر کوثرؔ اعظمی کے انتقال پر ادارہ علوم القرآن علی گڑھ میں تعزیتی نششت منعقد ہوئی۔ جس میں صدر ادارہ پروفیسر اشتیاق احمد ظلی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر شخص معاشرہ کا ایک فرد ہوتا ہے اس لیے اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے سماج سے جتناکچھ حاصل کرے سماج کو اسی کے بقدر لوٹائے۔ ترقی یافتہ قوموں میں اس کا بڑا چلن ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرے، لوگوں کے کام آئے۔ مرحوم کے اندر یہ خوبی تھی کہ وہ دوسروں کے کام آتے تھے، انھوں نے لوگوں کی خدمت کی اور قومی و ملی اداروں کو فروغ دینے میں اپنا وقت صرف کیا۔ لیکن مدرسۃ الاصلاح کے فارغین کا ایک امتیاز یہ ہے کہ وہ نام وری کے خواہش مند نہیں رہتے، مولانا مرحوم کو بھی نام وری کے بجائے خلوت گزینی زیادہ پسند تھی اس لیے ان کی زندگی میں عام طور پر لوگوں کو ان کی اہمیت کا اندازہ نہ ہوسکا۔ پرفیسر ظلی نے مدرسۃالاصلاح میں اپنے زمانہ طالب علمی کی یادوں کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت مدرسۃ الاصلاح پرلوگ مرحوم کو ضرار محمود یا مولانا ضرار کے نام سے جانتے تھے۔ بعد میں احمد محمود کے نام سے پہچانے جانے لگے اورپھران کے شاعرانہ تخلص کوثر ؔاعظمی سے انہیں شہرت ملی۔ انھوں نے مزید فرمایا کہ ان کی نظمیں انہیں ادب اطفال میں ایک اہم مقام دلانے کے لیے کافی ہیں۔ اسی طرح انھوں نے خواتین کے تعلق سے جو نظمیں لکھی ہیں یا جو طویل شرگزشتیں کہی ہیں ضرورت ہے کہ ان کو بہت احتیاط سے جمع کر کے شایع کردیا جائے۔ پرفیسر ظلی نے مولانا کے قائم کردہ چھاپہ خانہ کوثر پریس کی خدمات پر بھی روشنی ڈالی اورمدرسۃ الاصلاح کے تعلق سے ان کی فکرمندی کوبھی بیان کیا۔

 پروفیسر ابو سفیان اصلاحی نے مرحوم سے اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ۱۹۷۵ء سے ۱۹۸۳ء تک وہ مولانا سے استفادہ کرتے رہے اورپندرہ، بیس مضامین ان کے اصلاح شدہ تھے جو مختلف رسائل میں شایع ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ مولانا کی تحریر جتنی عمدہ ہوتی تھی ان کی تقریر بھی اسی طرح سوز وگداز میں ڈوبی ہوئی ہوتی تھی لوگ ان کی تقریر سننے کے لیے دور دور سے تشریف لاتے تھے۔ جب وہ مدرسۃ الاصلاح کے نائب ناظم تھے تو انھوں نے انجمن طلبا کے سالانہ ترجمان’’ مجلہ‘‘ کا اجراء فرمایا تھا۔ اس کے ابتدائی شماروں کے اکثر مضامین کی اصلاح مولانا ہی فرماتے تھے۔ مدرسۃ الاصلاح کے تئیں مولانا کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انھوں نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ مرحوم کے لیے اصل خراج عقیدت یہ ہے کہ ان کی غیر مطبوعہ تحریروں کو زیور طبع سے آراستہ کر کے سامنے لایا جائے۔

 دارالمصنفین اعظم گڑھ کے رفیق مولانا کلیم صفات اصلاحی بھی اس تعزیتی نششت میں شریک تھے انھوں نے بھی مولانا کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ مولانا کی طبیعت میں انکسار تھا، اس لیے دنیا ان کی عظمتوں سے ناواقف رہی۔ وہ چھوٹوں خصوصا طلبہ پر شفقت کا معاملہ فرماتے تھے۔ علمی اعتبار سے ان کا قد بہت بلند تھا۔ فارسی اور عربی کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ دائرہ حمیدیہ کی کتابوں کی اشاعت میں کوثر پریس کا کردار بہت اہم ہے۔

اس پروگرام کے کنوینر سیف اللہ اصغر اصلاحی جو کہ مولانا کے ہم وطن ہیں انھوں نے بھی مولانا کی شخصیت کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ مولانا اپنے گاؤں طویٰ کے وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے مدرسۃالاصلاح جیسی عظیم قرآنی درس گاہ سے سند فضیلت حاصل کی اور اپنے زمانہ طالب علمی سے ہی علاقہ کی بہبودی تعلیمی ترقی کے لیے کوشاں رہے۔

 مولانا مرحوم سے تعلق خاطر رکھنے والے اور ان کی خلوتوں وجلوتوں کے رازدار وامین محمد اسمٰعیل اصلاحی نے اپنے احساسات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ کوثر اعظمی سے ان کو دور وقرب کا تقریبا ً دو دہائی تعلق رہا۔ اس تعلق کی نوعیت محض استاد وشاگرد کی نہیں تھی بلکہ ان کے مراسم گھریلو تھے۔ انھوں نے بتایا کہ کوثر اعظمی کے دو شعری مجموعے وہ مرتب کر چکے ہیں ان میں سے ایک مجموعہ پر مرحوم کوثر اعظمی نے نظر ثانی بھی فرمالیا تھا جبکہ دوسرا مجموعہ ابھی صرف کمپوز ہوا تھا۔ اسی طرح انھوں نے ان کی ان نگارشات کی فہرست بھی مرتب کرلیا ہے جو کہ گزشتہ ستر برسوں میں ہند وپاک کے مختلف رسائل وجرائد میں شایع ہوئی ہیں۔ انھوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ مولانا مرحوم کی تمام مطبوعہ تحریروں کو جمع کر یں گے اور آئندہ سالوں میں کوثرؔ اعظمی کی حیات و خدمات پر ایک معیاری سمینار بھی منعقد کریں گے۔ انھوں نے مرحوم سے اپنے دیرینہ تعلق کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ان کا ارادہ کوثر ؔاعظمی کی جامع سوانح عمری مرتب کرنے کا ہے۔ واضح رہے کہ کوثر اعظمی جماعت اسلامی ہند کے سرگرم رکن تھے اور تا دم واپسیں ان کا اس سے رسمی تعلق برقرار رہا۔ ادارہ الحسنات سے شائع ہونے والے تمام رسائل ماہنامہ الحسنات، ہلال، نوراور بتول میں ان کی نظمیں، غزلیں، افسانے اور ڈرامے پابندی سے شایع ہوتے تھے۔ اسی طرح اسلامی ادب کے ترجمان رسائل وجرائد میں ماہنامہ دوام، نئی نسلیں، ماہنامہ سیارہ وغیرہ میں ان کی نگارشات عالیہ مسلسل شائع ہوتی تھیں۔

مولانا احمد محمود کوثر اعظمی کے انتقال سے نہ صرف یہ کہ دینی و علمی حلقوں کا بڑا خسارہ ہوا ہے بلکہ بزم ادب بھی سونی ہو گئی ہے۔ اس تعزیتی اجلاس میں مدرسۃالاصلاح کے فارغین کے علاوہ مسلم یونیورسٹی کے اساتذہ، طلبہ اور ریسرچ اسکالر بھی شریک تھے جس میں مولانا اشہد جمال ندوی، ڈاکٹر محمد راشد اصلاحی، ڈاکٹر سادات سہیل، ابوسعد اعظمی اور محمد سہیل قاسمی کے نام قابل ذکر ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close